مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام کے امام شیخ عبداللہ الجہنی نے جمعہ کے خطبے میں مسلمانوں کو تقویٰ اختیار کرنے اور نماز مقررہ اوقات میں ادا کرنے کی نصیحت کی، اور واضح کیا کہ نماز اسلام کا دوسرا رکن، اعمال کی درستی کا حتمی معیار اور مصیبت و پریشانی کے وقت مومنوں کے لیے روحانی پناہ گاہ ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 16 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، شیخ عبداللہ الجہنی نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے والی حوثی ملیشیا کی دہشت گردانہ کارروائی کی شدید مذمت کی، جس میں مسافروں، بے گناہ شہریوں اور پہنچنے والے عمرہ زائرین کو نشانہ بنایا گیا۔
امام نے اس جارحیت کو ایک گناہ بھرا جرم اور انسانی زندگی کی حرمت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا، اور زور دیا کہ دہشت گردی کی ایسی بزدلانہ کارروائیوں کو کسی عقیدے یا مقصد سے جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا، اور یہ زمین پر فساد ہے جو بنیادی طور پر قابل مذمت اور ناقابل قبول ہے۔
کیا نماز واقعی مشکل گھڑیوں میں انسان کے لیے سب سے مضبوط سہارا بن سکتی ہے؟ شیخ الجہنی کے مطابق نماز صرف ایک عبادت نہیں بلکہ وہ کسوٹی ہے جس پر انسان کے تمام اعمال پرکھے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسلام کا دوسرا رکن ہے اور مومن کے لیے ایسے وقت میں پناہ گاہ ہے جب دنیا کی تمام مشکلات اس پر ٹوٹ پڑیں۔
خطبے کا ایک بڑا حصہ ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حوثی ملیشیا کے حملے کے حوالے سے تھا۔ امام نے اس حملے کو نہ صرف ایک جرم قرار دیا بلکہ انسانی زندگی کی حرمت کی کھلی خلاف ورزی بھی کہا۔ ان کے مطابق اس حملے میں مسافر، بے گناہ شہری اور عمرہ ادا کرنے کے لیے پہنچنے والے زائرین نشانہ بنے۔
کیا کوئی عقیدہ یا کوئی مقصد ایسی کارروائی کو جائز قرار دے سکتا ہے جس میں بے گناہ لوگ نشانہ بنیں؟ امام نے اس سوال کا جواب واضح انداز میں دیا: ایسی بزدلانہ دہشت گردی کو کسی بھی عقیدے یا مقصد سے جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ انہوں نے اسے زمین پر فساد قرار دیا جو بنیادی طور پر قابل مذمت اور ناقابل قبول ہے۔
مسجد الحرام میں جمعہ کے خطبے کا یہ پیغام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حرمین شریفین میں آنے والے زائرین کی حفاظت اور ان کے سفر کی سلامتی ایک اہم موضوع ہے۔ عمرہ زائرین کی ریاض ایئرپورٹ پر آمد اور انہیں نشانہ بنایا جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حملے کا اثر صرف ایک ہوائی اڈے تک محدود نہیں رہتا بلکہ عبادت کے لیے آنے والے لوگوں تک پہنچتا ہے۔
امام نے خطبے کے اختتام پر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ مملکت سعودی عرب کی حفاظت فرمائے، اس کی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھے، خادم الحرمین الشریفین اور ولی عہد شہزادہ کی حفاظت فرمائے، سرحدوں پر تعینات مسلح افواج کو فتح عطا فرمائے اور زخمیوں کو شفا دے۔
یہ دعا اس بات کا عکاس ہے کہ خطبے کا مرکزی دھارا عبادت، تقویٰ اور قومی سلامتی کے گرد گھومتا رہا۔ نماز کو مصیبت کے وقت پناہ گاہ قرار دینا اور پھر سرحدوں پر تعینات افواج کے لیے فتح کی دعا کرنا، دونوں پہلو ایک ہی پیغام کی مختلف جہتیں ہیں۔
کیا مصیبت کے وقت انسان کو سب سے پہلے روحانی سہارے کی ضرورت ہوتی ہے یا عملی اقدامات کی؟ امام کے خطبے میں دونوں پہلو موجود تھے: ایک طرف نماز اور تقویٰ کی نصیحت، دوسری طرف دہشت گردی کے خلاف واضح اور غیر متزلزل موقف۔
شیخ عبداللہ الجہنی نے نماز کو اعمال کی درستی کا حتمی معیار قرار دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دیگر تمام عبادات اور معاملات کی صحت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ انسان نماز کے ساتھ کس طرح پیش آتا ہے۔ اگر نماز درست ہے تو باقی اعمال بھی درست سمت میں ہوں گے۔
کیا آج کے دور میں جب دنیا بھر میں مسلمان مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہے ہیں، نماز کو مرکزی حیثیت دینا کوئی نیا پیغام ہے؟ نہیں، یہ اسلام کی بنیادی تعلیم ہے، لیکن مسجد الحرام جیسے مقدس مقام سے اس کی یاد دہانی کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔
خطبے میں دہشت گردی کے خلاف جو زبان استعمال کی گئی وہ انتہائی سخت تھی۔ امام نے حملے کو ‘گناہ بھرا جرم’، ‘انسانی زندگی کی حرمت کی کھلی خلاف ورزی’، ‘بزدلانہ دہشت گردی’ اور ‘زمین پر فساد’ جیسے الفاظ میں بیان کیا۔ یہ الفاظ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حملے کو کسی بھی طور پر معمولی یا قابلِ جواز نہیں سمجھا جا رہا۔
کیا ایسے حملے جو عبادت کے لیے آنے والے زائرین کو نشانہ بناتے ہیں، ان کے اثرات صرف فوری جانی نقصان تک محدود رہتے ہیں؟ نہیں، ایسے واقعات زائرین کے تحفظ کے بارے میں اعتماد کو بھی متاثر کرتے ہیں اور حرمین شریفین کی طرف آنے والے لاکھوں لوگوں کے سفر کی فکر کو جنم دیتے ہیں۔
امام کی دعا میں خادم الحرمین الشریفین اور ولی عہد شہزادہ کی حفاظت کا ذکر اس بات کا اظہار ہے کہ مملکت کی قیادت کی سلامتی کو قومی سلامتی کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ اسی طرح سرحدوں پر تعینات مسلح افواج کے لیے فتح کی دعا اور زخمیوں کی شفا کی دعا بھی خطبے کا حصہ رہی۔
کیا جمعہ کا خطبہ صرف عبادت گزاروں کے لیے ہوتا ہے یا اس کا پیغام معاشرے کے تمام طبقات تک پہنچتا ہے؟ مسجد الحرام کا خطبہ دنیا بھر سے آنے والے زائرین اور مقامی نمازیوں سمیت ایک وسیع سامعین تک پہنچتا ہے، اور اس کے پیغامات مختلف ذرائع سے مزید پھیلتے ہیں۔
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق خطبے میں نماز کے موضوع پر زور دیتے ہوئے امام نے کہا کہ نماز مقررہ اوقات میں ادا کی جانی چاہیے۔ یہ تفصیل اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ نصیحت صرف نماز پڑھنے تک محدود نہیں بلکہ اس کے وقت کی پابندی پر بھی زور دیتی ہے۔
کیا وقت کی پابندی کا پیغام صرف عبادات تک محدود ہے؟ عام زندگی میں بھی وقت کی پابندی کو کامیابی کی شرط سمجھا جاتا ہے، اور خطبے میں نماز کے مقررہ اوقات کا ذکر اس اصول کی عبادتی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
خطبے میں تقویٰ کی نصیحت بھی شامل تھی۔ تقویٰ کا مطلب ہے اللہ کا خوف اور برائی سے بچنا۔ امام نے مسلمانوں کو تقویٰ اختیار کرنے کی تلقین کی اور ساتھ ہی نماز کے مقررہ اوقات کی پابندی کی تاکید کی۔ یہ دونوں پہلو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔
ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے کی مذمت کرتے ہوئے امام نے کہا کہ اس کارروائی میں مسافروں، بے گناہ شہریوں اور پہنچنے والے عمرہ زائرین کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ تفصیل بتاتی ہے کہ حملے کا نشانہ کئی طرح کے لوگ تھے، جن میں عبادت کے لیے آنے والے زائرین بھی شامل تھے۔
کیا عمرہ زائرین کو نشانہ بنانا اس حملے کو دیگر حملوں سے مختلف بناتا ہے؟ عمرہ زائرین کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ حملے کا تعلق عبادت اور مقدس سفر سے بھی جڑتا ہے، جسے امام نے انسانی زندگی کی حرمت کی خلاف ورزی قرار دیا۔
امام نے دہشت گردی کو ‘زمین پر فساد’ قرار دیا۔ یہ ایک ایسا تصور ہے جو اسلامی تعلیمات میں سنگین برائی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ ان کے مطابق ایسا فساد بنیادی طور پر قابل مذمت اور ناقابل قبول ہے، اور اسے کسی عقیدے یا مقصد سے جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔
خطبے کے اختتام پر کی گئی دعا میں مملکت کی سلامتی اور استحکام کی درخواست شامل تھی۔ امام نے اللہ سے دعا کی کہ وہ مملکت سعودی عرب کی حفاظت فرمائے اور اس کی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھے۔ یہ دعا قومی سطح کے اجتماعی احساس کی عکاسی کرتی ہے۔
کیا جمعہ کے خطبے میں قومی سلامتی کے موضوعات کا ذکر معمول کی بات ہے؟ مسجد الحرام جیسے مقام سے ایسے موضوعات پر بات اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عبادت اور قومی معاملات کو الگ الگ نہیں دیکھا جاتا، بلکہ دونوں ایک ہی معاشرتی اور روحانی فریم ورک کا حصہ سمجھے جاتے ہیں۔
امام نے سرحدوں پر تعینات مسلح افواج کے لیے فتح کی دعا کی۔ یہ دعا ان فوجیوں کے لیے تھی جو سرحدوں کی حفاظت پر مامور ہیں۔ اس کے ساتھ ہی زخمیوں کی شفا کے لیے بھی دعا کی گئی، جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ خطبے میں انسانی ہمدردی کا پہلو بھی موجود تھا۔
ایس پی اے کے مطابق یہ خطبہ 16 اکتوبر 2026 کو مکہ مکرمہ میں جمعہ کے موقع پر دیا گیا۔ رپورٹ میں خطبے کے مقام، امام کے نام اور خطبے کے اہم نکات کا ذکر کیا گیا، جس میں نماز کی اہمیت، دہشت گردی کی مذمت اور دعا کے موضوعات شامل تھے۔
کیا خطبے میں حملے کے نتیجے میں ہونے والے نقصان کی کوئی تفصیل دی گئی؟ رپورٹ میں اس حوالے سے کوئی تعداد یا تفصیل موجود نہیں ہے۔ اسی طرح حملے کے وقت یا اس کے بعد کی صورتحال کے بارے میں بھی کوئی اضافی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
خطبے کا ایک اہم پہلو یہ تھا کہ نماز کو ‘مصیبت اور پریشانی کے وقت روحانی پناہ گاہ’ قرار دیا گیا۔ یہ ایک ایسا بیان ہے جو مشکل حالات میں انسان کے لیے روحانی سہارے کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ امام کے مطابق نماز صرف ایک فرض نہیں بلکہ ایک پناہ بھی ہے۔
کیا مصیبت کے وقت نماز انسان کو عملی مسائل سے غافل کرتی ہے؟ نہیں، خطبے میں نماز کو پناہ گاہ قرار دینے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے خلاف واضح موقف بھی پیش کیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ روحانی سہارا اور عملی ذمہ داری ایک دوسرے کے متضاد نہیں۔
امام نے نماز کو اسلام کا دوسرا رکن قرار دیا۔ یہ اسلامی عقیدے میں ایک بنیادی حیثیت ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ نماز اعمال کی درستی کا حتمی معیار ہے، یعنی انسان کے دیگر تمام اعمال کی صحت کا اندازہ نماز کی کیفیت سے لگایا جا سکتا ہے۔
خطبے میں دہشت گردی کے خلاف جو موقف اختیار کیا گیا وہ کسی ابہام کے بغیر تھا۔ امام نے حملے کو نہ صرف مذموم قرار دیا بلکہ اسے کسی بھی عقیدے یا مقصد سے جائز ٹھہرانے کو مسترد کیا۔ ان کے مطابق ایسی کارروائیاں زمین پر فساد ہیں۔
کیا مسجد الحرام کے خطبے کے پیغامات کا اثر صرف حاضرین تک محدود ہوتا ہے؟ نہیں، ایسے خطبات کے پیغامات مختلف ذرائع سے پھیلتے ہیں اور دنیا بھر کے مسلمانوں تک پہنچتے ہیں، خاص طور پر جب ان میں عبادت اور قومی سلامتی جیسے اہم موضوعات شامل ہوں۔
رپورٹ کے مطابق خطبے میں عمرہ زائرین کا ذکر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ حملے کا نشانہ عبادت کے لیے آنے والے لوگ بھی تھے۔ یہ پہلو اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ حملے کا اثر صرف ایک ہوائی اڈے کی عمارت یا مسافروں تک محدود نہیں رہا بلکہ مقدس سفر سے جڑے لوگوں تک پہنچا۔
امام کی دعا میں ولی عہد شہزادہ کا ذکر بھی شامل تھا۔ انہوں نے اللہ سے دعا کی کہ وہ خادم الحرمین الشریفین اور ولی عہد شہزادہ کی حفاظت فرمائے۔ یہ دعا مملکت کی قیادت کے تسلسل اور استحکام کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔
کیا خطبے میں زخمیوں کی شفا کی دعا کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ حملے میں زخمی ہونے والے افراد موجود تھے؟ رپورٹ میں زخمیوں کی تعداد یا ان کی حالت کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی، البتہ دعا میں زخمیوں کا ذکر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایسے افراد موجود تھے جن کے لیے شفا کی درخواست کی گئی۔
خطبے کا اختتام دعا پر ہوا، جس میں مملکت کی حفاظت، سلامتی اور استحکام، قیادت کی حفاظت، سرحدوں پر تعینات افواج کی فتح اور زخمیوں کی شفا شامل تھی۔ یہ دعا خطبے کے مجموعی پیغام کا خلاصہ سمجھی جا سکتی ہے، جس میں عبادت، قومی سلامتی اور انسانی ہمدردی کے پہلو یکجا تھے۔
ایس پی اے کی رپورٹ میں خطبے کے متن کے علاوہ کوئی اضافی پس منظر فراہم نہیں کیا گیا۔ حملے کی تفصیلات، اس کے نتائج، یا اس سے جڑے دیگر پہلوؤں کے بارے میں رپورٹ میں کوئی معلومات موجود نہیں ہیں، اور نہ ہی خطبے کے بعد کی صورتحال کے بارے میں کچھ بتایا گیا ہے۔
امام شیخ عبداللہ الجہنی نے نماز کے بارے میں کیا کہا؟ انہوں نے نماز کو اسلام کا دوسرا رکن، اعمال کی درستی کا حتمی معیار اور مصیبت و پریشانی کے وقت مومنوں کے لیے روحانی پناہ گاہ قرار دیا۔ انہوں نے مسلمانوں کو تقویٰ اختیار کرنے اور نماز مقررہ اوقات میں ادا کرنے کی نصیحت کی۔ یہ خطبہ مکہ مکرمہ میں مسجد الحرام میں جمعہ کے موقع پر دیا گیا۔
خطبے میں کس حملے کی مذمت کی گئی؟ امام نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے والی حوثی ملیشیا کی دہشت گردانہ کارروائی کی شدید مذمت کی۔ ان کے مطابق اس حملے میں مسافر، بے گناہ شہری اور پہنچنے والے عمرہ زائرین نشانہ بنے۔ انہوں نے اسے گناہ بھرا جرم اور انسانی زندگی کی حرمت کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔
امام نے دہشت گردی کے بارے میں کیا موقف اپنایا؟ انہوں نے کہا کہ ایسی بزدلانہ دہشت گردی کو کسی عقیدے یا مقصد سے جائز نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ ان کے مطابق یہ زمین پر فساد ہے جو بنیادی طور پر قابل مذمت اور ناقابل قبول ہے۔ یہ موقف خطبے میں واضح اور غیر متزلزل انداز میں پیش کیا گیا۔
خطبے کے اختتام پر کون سی دعا کی گئی؟ امام نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ مملکت سعودی عرب کی حفاظت فرمائے، اس کی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھے، خادم الحرمین الشریفین اور ولی عہد شہزادہ کی حفاظت فرمائے، سرحدوں پر تعینات مسلح افواج کو فتح عطا فرمائے اور زخمیوں کو شفا دے۔ یہ دعا خطبے کے مجموعی پیغام کا خلاصہ ہے۔
خطبے میں عمرہ زائرین کا ذکر کیوں اہم ہے؟ رپورٹ کے مطابق حملے میں پہنچنے والے عمرہ زائرین بھی نشانہ بنے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حملے کا اثر صرف ایک ہوائی اڈے یا مسافروں تک محدود نہیں رہا بلکہ عبادت کے لیے آنے والے لوگوں تک بھی پہنچا۔ امام نے اسے انسانی زندگی کی حرمت کی خلاف ورزی قرار دیا۔
رپورٹ میں کن تفصیلات کا ذکر نہیں کیا گیا؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں حملے کے نتیجے میں ہونے والے نقصان، زخمیوں کی تعداد یا حالت، حملے کے وقت یا اس کے بعد کی صورتحال کے بارے میں کوئی تفصیل موجود نہیں ہے۔ خطبے کے متن اور اس کے اہم نکات کے علاوہ کوئی اضافی پس منظر بھی فراہم نہیں کیا گیا۔