Sunday, October 18, 2026
ثقافت

مکہ میں عمرہ پروگرام کے مہمانوں کے لیے ثقافتی دن کا انعقاد، سعودی روایات سے روشناس کرایا گیا

مکہ میں عمرہ پروگرام کے مہمانوں کے لیے ثقافتی دن کا انعقاد، سعودی روایات سے روشناس کرایا گیا

مکہ مکرمہ میں وزارت اسلامی امور، دعوت و ارشاد نے خادم الحرمین الشریفین پروگرام برائے عمرہ و زیارت کے چوتھے گروپ کے مہمانوں کے لیے ایک ثقافتی دن منعقد کیا، جس میں ثقافتی اور ورثہ کی نمائشیں شامل تھیں۔ یہ تقریب 1448 ہجری کے لیے ترتیب دیے گئے پروگرام کے تحت منعقد ہوئی اور اس کا مقصد شرکاء کو سعودی لوک روایات سے متعارف کرانا، مملکت کے متنوع تہذیبی ورثے کی جھلک دکھانا اور دنیا بھر کی مختلف قوموں کے نمائندہ مہمانوں کے درمیان بھائی چارے کے رشتے مضبوط کرنا تھا۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 16 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، اس موقع پر ایک ساتھی نمائش بھی منعقد کی گئی جس میں ورثہ کے پویلین بنائے گئے تھے۔ ان پویلینوں میں مہمانوں نے سعودی قہوہ کی تیاری اور پیشکش کی روایات کے بارے میں جانا، روایتی مقامی کھانوں کا ذائقہ چکھا اور سعودی مہمان نوازی کے اصل رسوم کا تجربہ کیا۔

پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر علی الزغیبی نے بتایا کہ وزارت ایک مربوط روحانی اور ثقافتی تجربہ فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ عمرہ کی رسومات اور مذہبی زیارتوں کی سہولت کے ساتھ ساتھ یہ پروگرام ثقافتی مکالمے کو وسیع کرنے اور مشترکہ اسلامی اقدار کو اجاگر کرنے کا بھی ہدف رکھتا ہے۔ علی الزغیبی نے سعودی قیادت کی مسلسل حمایت اور وزیر اسلامی امور، دعوت و ارشاد شیخ عبداللطیف آل الشیخ کی رہنمائی کو سراہا جو خدمات کو آگے بڑھانے اور مجموعی طور پر زیارت کے سفر کو بھرپور بنانے میں معاون ہے۔

یہ ثقافتی دن چوتھے گروپ کے لیے منعقد کی جانے والی وسیع سرگرمیوں کے سلسلے کا حصہ ہے، جس کا مقصد مہمانوں کے قیام کو بھرپور بنانا ہے تاکہ وہ مذہبی عبادت کو ثقافتی آمیزش کے ساتھ سکون کے ماحول میں گزار سکیں۔

کیا یہ حقیقت کہ یہ پروگرام دنیا بھر سے آنے والے مہمانوں کو ایک ہی چھت کے نیچے جمع کرتا ہے، اسلامی بھائی چارے کے تصور کو ایک عملی شکل نہیں دیتی؟ جب مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے زائرین ایک ساتھ سعودی قہوہ کی روایت سیکھتے ہیں اور روایتی کھانے شیئر کرتے ہیں تو کیا یہ تعلق محض رسمی نہیں رہتا بلکہ دلوں میں اتر جاتا ہے؟

وزارت اسلامی امور، دعوت و ارشاد کی جانب سے اس طرح کے ثقافتی دن کا انعقاد دراصل عمرہ کے سفر کو صرف عبادت تک محدود نہیں رکھتا بلکہ اسے ایک مکمل تجربے میں بدل دیتا ہے۔ مہمانوں کو نہ صرف خانہ کعبہ کی زیارت کا موقع ملتا ہے بلکہ وہ سعودی عرب کی ثقافت، اس کے ورثے اور اس کی مہمان نوازی کی روایات سے بھی روشناس ہوتے ہیں۔ یہ پہلو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مملکت کی میزبانی کا دائرہ کس طرح روحانی اور ثقافتی پہلوؤں کو یکجا کرتا ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ سعودی قہوہ کی تیاری اور پیشکش کے طریقے میں کئی نسلوں سے منتقل ہونے والی مہارت شامل ہے؟ نمائش میں مہمانوں کو اس عمل کے مختلف مراحل سے آگاہ کیا گیا، جس سے انہیں اندازہ ہوا کہ یہ محض ایک مشروب نہیں بلکہ مہمان نوازی اور احترام کی علامت ہے۔ اسی طرح روایتی مقامی کھانوں کی پیشکش نے بھی شرکاء کو سعودی معاشرے کی گرم جوشی اور کھلے پن کا احساس دلایا۔

علی الزغیبی کے مطابق وزارت کا ہدف ایک ایسا مربوط تجربہ فراہم کرنا ہے جس میں روحانی پہلو کے ساتھ ثقافتی پہلو بھی شامل ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ عمرہ کی رسومات اور مذہبی زیارتوں کی سہولت کے ساتھ ساتھ پروگرام کا مقصد ثقافتی مکالمے کو فروغ دینا اور مشترکہ اسلامی اقدار کو منانا بھی ہے۔ یہ بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ میزبانی کے اس پروگرام کو کس طرح ایک جامع نقطہ نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔

کیا یہ پروگرام دنیا بھر کے مسلمانوں کے درمیان ایک پل کا کردار ادا نہیں کرتا؟ جب مختلف زبانوں، رنگوں اور ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے افراد ایک ہی جگہ جمع ہو کر مشترکہ اقدار کا جشن مناتے ہیں تو یہ خود بخود اتحاد اور بھائی چارے کا پیغام دیتا ہے۔ وزارت کی کوشش ہے کہ یہ تجربہ مہمانوں کے لیے یادگار بن جائے اور وہ اپنے ساتھ اس مثبت تاثر کو لے کر جائیں۔

علی الزغیبی نے سعودی قیادت کی مسلسل حمایت اور وزیر اسلامی امور، دعوت و ارشاد شیخ عبداللطیف آل الشیخ کی رہنمائی کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ہدایات خدمات کو بہتر بنانے اور زیارت کے مجموعی سفر کو بھرپور بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہ اعتراف اس بات کا غماز ہے کہ اس نوعیت کے پروگراموں کی کامیابی ادارہ جاتی تعاون اور اعلیٰ سطحی توجہ کا نتیجہ ہوتی ہے۔

ثقافتی دن کا انعقاد چوتھے گروپ کے لیے ترتیب دی گئی سرگرمیوں کے ایک بڑے سلسلے کا حصہ ہے۔ ان سرگرمیوں کا مقصد مہمانوں کے قیام کو اس انداز میں بھرپور بنانا ہے کہ وہ مذہبی عبادت کے ساتھ ساتھ ثقافتی آمیزش کا تجربہ بھی سکون اور اطمینان کے ماحول میں حاصل کر سکیں۔ یہ توازن اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ زائرین اپنے سفر کے دوران نہ صرف روحانی سکون حاصل کریں بلکہ میزبان ملک کی ثقافت سے بھی جڑیں۔

کیا اس طرح کے ثقافتی تبادلے طویل مدتی میں عوام کے درمیان باہمی افہام و تفہیم کو مضبوط نہیں بناتے؟ جب ایک مہمان اپنے ملک واپس جاتا ہے اور وہاں سعودی مہمان نوازی، قہوہ کی روایت اور کھانوں کے بارے میں بتاتا ہے تو یہ ایک غیر رسمی سفارت کاری کا کردار ادا کرتا ہے جو کسی بھی سرکاری بیان سے زیادہ مؤثر ہو سکتی ہے۔

نمائش میں ورثہ کے پویلین مہمانوں کے لیے خاص کشش رکھتے تھے۔ انہیں سعودی قہوہ کی تیاری کے عمل، اس کی پیشکش کے آداب اور اس کے پیچھے چھپی مہمان نوازی کی روایت کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ روایتی مقامی کھانوں کی چکھنے کی سرگرمی نے بھی شرکاء کی دلچسپی کو بڑھایا، جس سے انہیں سعودی معاشرے کے روزمرہ کھانے اور اس کی ثقافتی اہمیت کا اندازہ ہوا۔

کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ مہمان نوازی کے یہ رسوم دراصل سعودی شناخت کا لازمی حصہ ہیں؟ قہوہ کی پیشکش سے لے کر کھانے کی ترتیب تک، ہر عمل میں احترام اور خلوص جھلکتا ہے۔ مہمانوں نے اس تجربے کو نہ صرف معلوماتی بلکہ جذباتی طور پر بھی بھرپور پایا، کیونکہ یہ انہیں ایک ایسے معاشرے سے جوڑتا ہے جس کی مہمان نوازی دنیا بھر میں مشہور ہے۔

وزارت اسلامی امور، دعوت و ارشاد کی جانب سے اس پروگرام کا انعقاد اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ عمرہ و زیارت کے فرائض کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ مہمانوں کی ثقافتی تربیت اور انہیں مملکت کے ورثے سے روشناس کرانا بھی اتنی ہی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ نقطہ نظر اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ زائرین کا تجربہ یک طرفہ نہ ہو بلکہ اس میں مختلف جہتیں شامل ہوں۔

علی الزغیبی کا یہ بیان کہ وزارت ایک مربوط روحانی اور ثقافتی تجربہ فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے، اس پالیسی کی وضاحت کرتا ہے جس کے تحت پروگرام کے شرکاء کو عمرہ کی رسومات کے علاوہ ثقافتی سرگرمیوں میں بھی شامل کیا جاتا ہے۔ انہوں نے مشترکہ اسلامی اقدار کو منانے اور ثقافتی مکالمے کو وسیع کرنے کو بھی اس پروگرام کا لازمی جزو قرار دیا۔

کیا یہ پروگرام آنے والے سالوں میں مزید وسعت اختیار کرے گا؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی کہ آئندہ گروپوں کے لیے کیا منصوبے ہیں یا ثقافتی دن کے انعقاد کا کوئی مقررہ شیڈول ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ چوتھے گروپ میں کتنے مہمان شامل تھے یا وہ کون کون سے ممالک سے تعلق رکھتے تھے۔

رپورٹ کے مطابق ثقافتی دن کا مقصد مہمانوں کو سعودی لوک روایات سے متعارف کرانا، مملکت کے متنوع تہذیبی ورثے کی جھلک دکھانا اور مختلف قوموں کے نمائندہ مہمانوں کے درمیان بھائی چارے کے رشتے مضبوط کرنا تھا۔ ان تینوں اہداف کا تذکرہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ پروگرام کے منتظمین ثقافتی پہلو کو کتنی اہمیت دیتے ہیں۔

کیا ثقافتی ورثے کی نمائش زائرین کے ذہنوں میں سعودی عرب کا کوئی خاص نقش چھوڑتی ہے؟ جب کوئی مہمان اپنے ملک میں اس تجربے کو بیان کرتا ہے تو وہ نہ صرف مذہبی سفر کی بات کرتا ہے بلکہ اس ثقافتی آمیزش کا بھی ذکر کرتا ہے جو اسے مکہ میں میسر آئی۔ یہی پہلو اس پروگرام کو ایک منفرد شناخت دیتا ہے۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ثقافتی دن کا انعقاد مکہ مکرمہ میں کس مخصوص مقام پر ہوا، نہ ہی اس کی مدت یا شرکاء کی تعداد کا ذکر ہے۔ رپورٹ میں صرف یہ بتایا گیا کہ یہ تقریب وزارت اسلامی امور، دعوت و ارشاد نے منعقد کی اور اس میں ثقافتی و ورثہ کی نمائشیں شامل تھیں۔

علی الزغیبی نے وزیر اسلامی امور، دعوت و ارشاد شیخ عبداللطیف آل الشیخ کی رہنمائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ہدایات خدمات کو آگے بڑھانے اور زیارت کے مجموعی سفر کو بھرپور بنانے میں معاون ہیں۔ یہ بیان اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ وزارت کی سطح پر اس پروگرام کو کس طرح ترجیح دی جاتی ہے۔

کیا آپ اس بات سے اتفاق کریں گے کہ مہمانوں کے لیے ثقافتی سرگرمیوں کا انعقاد ان کے روحانی سفر کو مزید گہرائی عطا کرتا ہے؟ جب ایک زائر عمرہ کی ادائیگی کے بعد سعودی روایات سے واقفیت حاصل کرتا ہے تو اس کا مجموعی تجربہ زیادہ جامع اور یادگار بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وزارت اس پہلو کو نظر انداز نہیں کرتی۔

رپورٹ کے مطابق چوتھے گروپ کے لیے منعقد کی جانے والی سرگرمیوں کا ایک وسیع سلسلہ ہے، جس کا مقصد مہمانوں کے قیام کو بھرپور بنانا ہے۔ ثقافتی دن اس سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس میں مذہبی عبادت اور ثقافتی آمیزش کو یکجا کیا گیا ہے تاکہ مہمان سکون کے ماحول میں اپنے وقت کا بہترین استعمال کر سکیں۔

کیا اس طرح کے پروگراموں سے سعودی عرب کی بین الاقوامی سطح پر نرم طاقت کا پیغام بھی جاتا ہے؟ جب دنیا بھر سے آنے والے مہمان مملکت کی مہمان نوازی، ثقافت اور ورثے کا تجربہ کرتے ہیں تو وہ اپنے ساتھ ایک مثبت تصویر لے کر جاتے ہیں جو کسی بھی رسمی تشہیری مہم سے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتی ہے۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں اس بارے میں کوئی معلومات نہیں دی گئیں کہ ثقافتی دن کے انعقاد پر کتنا خرچ آیا، کون سے ادارے یا افراد اس کے انعقاد میں شریک تھے، یا مہمانوں نے اس تجربے کے بارے میں کیا تاثرات دیے۔ رپورٹ میں صرف سرکاری بیان اور پروگرام کی تفصیلات پر توجہ دی گئی ہے۔

علی الزغیبی کے مطابق وزارت کا ہدف ایک ایسا تجربہ فراہم کرنا ہے جس میں روحانی اور ثقافتی پہلو یکجا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ عمرہ کی رسومات اور مذہبی زیارتوں کی سہولت کے ساتھ ساتھ پروگرام ثقافتی مکالمے کو وسیع کرنے اور مشترکہ اسلامی اقدار کو منانے کا بھی حامل ہے۔ یہ بیان پروگرام کے دوہرے مقصد کو واضح کرتا ہے۔

کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ ثقافتی دن کا انعقاد مہمانوں کے لیے ایک غیر متوقع اضافہ تھا؟ عمرہ کے سفر کے دوران زائرین عام طور پر عبادت اور زیارت پر توجہ مرکوز کرتے ہیں، لیکن اس طرح کی ثقافتی سرگرمیاں انہیں ایک مختلف اور افزودہ تجربہ فراہم کرتی ہیں جو ان کے سفر کو مزید معنی خیز بناتی ہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ثقافتی دن میں کتنے مہمانوں نے شرکت کی یا ان کی مجموعی تعداد کیا تھی۔ ایس پی اے نے صرف یہ ذکر کیا کہ یہ تقریب چوتھے گروپ کے مہمانوں کے لیے منعقد ہوئی، جن کا تعلق دنیا بھر کے مختلف ممالک سے ہے۔

وزارت اسلامی امور، دعوت و ارشاد کی جانب سے اس پروگرام کا انعقاد اس بات کا ثبوت ہے کہ مملکت عمرہ و زیارت کے فرائض کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ مہمانوں کی ثقافتی ضروریات کا بھی خیال رکھتی ہے۔ یہ جامع نقطہ نظر اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ زائرین کا تجربہ ہر لحاظ سے بھرپور اور یادگار ہو۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ سعودی قہوہ کو روایتی طور پر مہمانوں کے سامنے خاص انداز میں پیش کیا جاتا ہے؟ نمائش میں مہمانوں کو اس عمل کے مختلف مراحل سے آگاہ کیا گیا، جس سے انہیں اندازہ ہوا کہ یہ محض ایک مشروب نہیں بلکہ مہمان نوازی اور احترام کی علامت ہے۔ اسی طرح روایتی مقامی کھانوں کی پیشکش نے بھی شرکاء کو سعودی معاشرے کی گرم جوشی کا احساس دلایا۔

علی الزغیبی نے سعودی قیادت کی مسلسل حمایت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی توجہ خدمات کو بہتر بنانے اور زیارت کے مجموعی سفر کو بھرپور بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ یہ اعتراف اس بات کا غماز ہے کہ اس نوعیت کے پروگراموں کی کامیابی ادارہ جاتی تعاون اور اعلیٰ سطحی توجہ کا نتیجہ ہوتی ہے۔

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق ثقافتی دن کا انعقاد چوتھے گروپ کے لیے ترتیب دی گئی سرگرمیوں کے ایک بڑے سلسلے کا حصہ ہے۔ ان سرگرمیوں کا مقصد مہمانوں کے قیام کو اس انداز میں بھرپور بنانا ہے کہ وہ مذہبی عبادت کے ساتھ ساتھ ثقافتی آمیزش کا تجربہ بھی سکون اور اطمینان کے ماحول میں حاصل کر سکیں۔

کیا یہ توازن اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ زائرین اپنے سفر کے دوران نہ صرف روحانی سکون حاصل کریں بلکہ میزبان ملک کی ثقافت سے بھی جڑیں؟ یہی وجہ ہے کہ وزارت اس پہلو کو نظر انداز نہیں کرتی اور ثقافتی سرگرمیوں کو پروگرام کا لازمی حصہ قرار دیتی ہے۔

رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ثقافتی دن کا انعقاد مکہ مکرمہ میں کس مخصوص مقام پر ہوا، نہ ہی اس کی مدت یا شرکاء کی تعداد کا ذکر ہے۔ ایس پی اے نے صرف یہ بتایا کہ یہ تقریب وزارت اسلامی امور، دعوت و ارشاد نے منعقد کی اور اس میں ثقافتی و ورثہ کی نمائشیں شامل تھیں۔

ثقافتی دن کا انعقاد کس نے کیا اور کہاں ہوا؟ یہ ثقافتی دن وزارت اسلامی امور، دعوت و ارشاد نے مکہ مکرمہ میں منعقد کیا۔ یہ تقریب خادم الحرمین الشریفین پروگرام برائے عمرہ و زیارت کے چوتھے گروپ کے مہمانوں کے لیے تھی جو 1448 ہجری کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق اس دن ثقافتی اور ورثہ کی نمائشیں شامل تھیں جن کا مقصد شرکاء کو سعودی لوک روایات سے متعارف کرانا تھا۔

نمائش میں مہمانوں کو کیا کیا تجربات فراہم کیے گئے؟ نمائش میں ورثہ کے پویلین بنائے گئے تھے جہاں مہمانوں نے سعودی قہوہ کی تیاری اور پیشکش کی روایات کے بارے میں جانا۔ انہوں نے روایتی مقامی کھانوں کا ذائقہ بھی چکھا اور سعودی مہمان نوازی کے اصل رسوم کا تجربہ کیا۔ ایس پی اے کے مطابق ان سرگرمیوں کا مقصد مملکت کے متنوع تہذیبی ورثے کی جھلک دکھانا اور مختلف قوموں کے مہمانوں کے درمیان بھائی چارے کے رشتے مضبوط کرنا تھا۔

علی الزغیبی نے پروگرام کے بارے میں کیا کہا؟ پروگرام کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر علی الزغیبی نے کہا کہ وزارت ایک مربوط روحانی اور ثقافتی تجربہ فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ عمرہ کی رسومات اور مذہبی زیارتوں کی سہولت کے ساتھ ساتھ پروگرام ثقافتی مکالمے کو وسیع کرنے اور مشترکہ اسلامی اقدار کو منانے کا بھی ہدف رکھتا ہے۔ انہوں نے سعودی قیادت کی حمایت اور وزیر اسلامی امور شیخ عبداللطیف آل الشیخ کی رہنمائی کو بھی سراہا۔

ثقافتی دن کا مقصد کیا بتایا گیا ہے؟ ایس پی اے کے مطابق اس ثقافتی دن کا مقصد شرکاء کو سعودی لوک روایات سے متعارف کرانا، مملکت کے متنوع تہذیبی ورثے کی جھلک دکھانا اور دنیا بھر کی مختلف قوموں کے نمائندہ مہمانوں کے درمیان بھائی چارے کے رشتے مضبوط کرنا تھا۔ یہ تقریب چوتھے گروپ کے لیے منعقد کی جانے والی وسیع سرگرمیوں کے سلسلے کا حصہ ہے جس کا مقصد مہمانوں کے قیام کو بھرپور بنانا ہے۔

کیا رپورٹ میں شرکاء کی تعداد یا دیگر تفصیلات دی گئی ہیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ چوتھے گروپ میں کتنے مہمان شامل تھے یا وہ کون کون سے ممالک سے تعلق رکھتے تھے۔ رپورٹ میں ثقافتی دن کے انعقاد کے مخصوص مقام، اس کی مدت یا اس پر آنے والے اخراجات کا بھی ذکر نہیں ہے۔ رپورٹ میں صرف سرکاری بیان اور پروگرام کی عمومی تفصیلات پر توجہ دی گئی ہے۔

اس پروگرام کا عمرہ کے مجموعی تجربے پر کیا اثر پڑتا ہے؟ یہ ثقافتی دن چوتھے گروپ کے لیے منعقد کی جانے والی وسیع سرگرمیوں کا حصہ ہے جس کا مقصد مہمانوں کے قیام کو بھرپور بنانا ہے۔ اس سے زائرین کو مذہبی عبادت کے ساتھ ثقافتی آمیزش کا تجربہ بھی سکون کے ماحول میں حاصل ہوتا ہے۔ علی الزغیبی کے مطابق وزارت عمرہ کی رسومات کی سہولت کے ساتھ ساتھ ثقافتی مکالمے کو وسیع کرنے اور مشترکہ اسلامی اقدار کو منانے پر بھی توجہ دیتی ہے۔