Monday, October 19, 2026
ثقافت

ریاض آرٹ نے طویق مجسمہ سازی سمپوزیم 2027 کے لیے درخواستیں کھول دیں، کیوریٹرز کا اعلان

ریاض آرٹ نے طویق مجسمہ سازی سمپوزیم 2027 کے لیے درخواستیں کھول دیں، کیوریٹرز کا اعلان

ریاض آرٹ نے طویق مجسمہ سازی سمپوزیم کے آٹھویں ایڈیشن کے لیے درخواستیں وصول کرنا شروع کر دی ہیں، جو 2027 کے اوائل میں ریاض میں منعقد ہوگا۔ درخواستوں کا دورانیہ 18 اکتوبر سے 8 نومبر 2026 تک ہے، اور اس میں سعودی عرب اور دنیا بھر کے فنکار حصہ لے سکتے ہیں۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 18 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، ریاض آرٹ رائل کمیشن فار ریاض سٹی کے منصوبوں میں سے ایک ہے۔ سمپوزیم کے آٹھویں ایڈیشن میں کل 20 فنکاروں کو کیوریٹرز منتخب کریں گے، جو ریاض میں مجسمہ سازی کے کام تخلیق کریں گے۔

درخواست دہندگان کے لیے شرط ہے کہ ان کے پاس مجسمہ سازی، فن پاروں کی نمائش اور پبلک آرٹ کمیشن کے اجرا میں کم از کم تین سال کا پیشہ ورانہ تجربہ ہو۔ یہ شرط اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سمپوزیم صرف تجربہ کار فنکاروں کو موقع دے رہا ہے، جن کے کام عوامی مقامات پر نصب کیے جا سکیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ اس سمپوزیم کا نام طویق کے نام پر کیوں رکھا گیا ہے؟ طویق ریاض کے قریب واقع ایک پہاڑی سلسلے کا نام ہے، اور یہی نام اس مجسمہ سازی کے پروگرام کی شناخت بن گیا ہے۔

ریاض آرٹ نے سمپوزیم کے آٹھویں ایڈیشن کے کیوریٹوریل ٹیم کا بھی اعلان کیا ہے۔ اس ٹیم میں برطانوی آرٹ کیوریٹر اور پروڈیوسر ایلڈو رینالڈی، برطانوی-اطالوی کیوریٹر، آرٹسٹک ڈائریکٹر اور کلچرل اسٹریٹجسٹ ارونڈا سکالیرا، اور سعودی فنکار، محقق، ماہر تعلیم اور آرٹ کیوریٹر ڈاکٹر سہا الزید شامل ہیں۔

یہ تینوں سمپوزیم کے فنی وژن کی رہنمائی کریں گے اور شرکاء کا انتخاب کریں گے۔ کیا یہ دلچسپ نہیں کہ ایک ہی ٹیم میں تین مختلف ثقافتی پس منظر رکھنے والے ماہرین شامل ہیں؟ یہ تنوع اس بات کا اشارہ ہے کہ سمپوزیم عالمی سطح پر فنکاروں کو راغب کرنا چاہتا ہے۔

سمپوزیم کا آٹھواں ایڈیشن زمین، یادداشت اور ثقافت کی ان تہوں کو تلاش کرتا ہے جو کسی جگہ کی تعریف کرتی ہیں، اور ان کا اس جگہ کی تبدیلیوں سے تعلق کیا ہے۔ اس تصور میں جڑوں کو صرف ماضی سے وابستگی کے طور پر نہیں دیکھا جاتا، بلکہ اسے ترقی کے ایک ذریعے اور کسی جگہ کو نئے سرے سے تشکیل دینے اور اس کے مستقبل کا تصور کرنے کی صلاحیت کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔

کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ایک مجسمہ کسی شہر کی یادداشت کا حصہ کیسے بن جاتا ہے؟ ریاض میں یہ سمپوزیم اسی سوال کا عملی جواب تلاش کرنے کی کوشش ہے، جہاں فن پارے عوامی جگہوں کا حصہ بنتے ہیں۔

آٹھویں ایڈیشن میں مختلف قسم کے مواد استعمال کیے جائیں گے، جن میں گرینائٹ، دھاتیں، آرائشی بریز بلاکس، موزیک اور سیمنٹ شامل ہیں۔ یہ مواد سمپوزیم کے منظور شدہ فنی اور پیداواری فریم ورک کے مطابق ہیں۔

پتھر پر کام کرنے والے منتخب فنکار سعودی عرب سے حاصل کردہ تین نمایاں رنگوں کی اقسام استعمال کر سکیں گے: رائل گولڈ، گرین اور رائل پنک، اس کے ساتھ بلیک بیسالٹ بھی شامل ہے۔ اس سے ان روایتی وسائل کے لیے جدت آمیز طریقوں کے مواقع کھلتے ہیں۔

کیا سعودی عرب کے پتھر عالمی مجسمہ سازی میں نئی شناخت بنا سکتے ہیں؟ رائل گولڈ، گرین اور رائل پنک جیسے نام اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مقامی مواد کو ایک منفرد فنی شناخت کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

سمپوزیم میں شرکت کے لیے مزید معلومات ریاض آرٹ کی ویب سائٹ اور سمپوزیم کے مخصوص صفحے پر دستیاب ہیں۔ درخواست دینے کا عمل 18 اکتوبر سے 8 نومبر 2026 تک جاری رہے گا، اور اس کے بعد کیوریٹرز شرکاء کا انتخاب کریں گے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ اس ایڈیشن میں کتنے فنکار منتخب کیے جائیں گے؟ کل 20 فنکاروں کو منتخب کیا جائے گا، جو ریاض میں اپنے مجسمے تخلیق کریں گے۔ یہ تعداد اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سمپوزیم کس حد تک منتخب اور مرکوز پروگرام ہے۔

ریاض آرٹ کا یہ منصوبہ رائل کمیشن فار ریاض سٹی کے تحت آتا ہے، جو شہر میں فن اور ثقافت کے فروغ کے لیے کام کر رہا ہے۔ سمپوزیم کا انعقاد 2027 کے اوائل میں ریاض میں ہوگا، جس کی مخصوص تاریخ کا اعلان ابھی نہیں کیا گیا۔

کیوریٹوریل ٹیم کے انتخاب میں تین مختلف ممالک اور تخصصات کا امتزاج ہے۔ ایلڈو رینالڈی برطانیہ سے تعلق رکھتے ہیں اور آرٹ کیوریٹر اور پروڈیوسر ہیں۔ ارونڈا سکالیرا برطانوی-اطالوی کیوریٹر، آرٹسٹک ڈائریکٹر اور کلچرل اسٹریٹجسٹ ہیں۔ ڈاکٹر سہا الزید سعودی فنکارہ، محققہ، ماہر تعلیم اور آرٹ کیوریٹر ہیں۔

کیا یہ ٹیم سمپوزیم کے فنی وژن کو نئی جہت دے سکے گی؟ تینوں کیوریٹرز کی ذمہ داری ہے کہ وہ سمپوزیم کے فنی وژن کی رہنمائی کریں اور شرکاء کا انتخاب کریں، جس کا مطلب ہے کہ ان کا کردار فیصلہ کن ہے۔

سمپوزیم کا موضوع زمین، یادداشت اور ثقافت کی تہوں کے گرد گھومتا ہے۔ یہ تصور جڑوں کو ماضی سے وابستگی کے ساتھ ساتھ ترقی کے ذریعے کے طور پر دیکھتا ہے، اور کسی جگہ کو نئے سرے سے تشکیل دینے اور اس کے مستقبل کا تصور کرنے کی صلاحیت پر زور دیتا ہے۔

کیا مجسمہ سازی عوامی جگہوں کی شناخت بدل سکتی ہے؟ ریاض میں یہ سمپوزیم اسی سوال کے گرد گھومتا ہے، جہاں فن پارے شہر کے منظر نامے کا حصہ بنتے ہیں۔

مواد کے انتخاب میں گرینائٹ، دھاتیں، آرائشی بریز بلاکس، موزیک اور سیمنٹ شامل ہیں۔ یہ تنوع فنکاروں کو مختلف تکنیکوں کے استعمال کا موقع دیتا ہے، جبکہ سعودی پتھر کے تین رنگوں اور بلیک بیسالٹ کی دستیابی مقامی وسائل کو نمایاں کرتی ہے۔

درخواست دہندگان کے لیے کم از کم تین سال کا پیشہ ورانہ تجربہ شرط ہے، جو مجسمہ سازی، فن پاروں کی نمائش اور پبلک آرٹ کمیشن کے اجرا پر مشتمل ہونا چاہیے۔ یہ شرط اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ منتخب فنکار عوامی مقامات کے لیے کام کرنے کے قابل ہوں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ درخواستوں کی آخری تاریخ کب ہے؟ درخواستیں 8 نومبر 2026 تک جمع کرائی جا سکتی ہیں، جبکہ آغاز 18 اکتوبر 2026 سے ہو چکا ہے۔ اس کے بعد کیوریٹرز 20 فنکاروں کا انتخاب کریں گے۔

سمپوزیم کے آٹھویں ایڈیشن کا انعقاد 2027 کے اوائل میں ریاض میں ہوگا۔ مزید معلومات کے لیے ریاض آرٹ کی ویب سائٹ اور سمپوزیم کے مخصوص صفحے کا رخ کیا جا سکتا ہے۔

رپورٹ میں سمپوزیم کے مقام، انعامات، یا منتخب فنکاروں کے ناموں کا ذکر نہیں کیا گیا۔ اسی طرح درخواستوں کی منظوری کے بعد کے مراحل یا فن پاروں کی تنصیب کے بارے میں تفصیلات بھی فراہم نہیں کی گئیں۔

طویق مجسمہ سازی سمپوزیم 2027 کے لیے درخواستیں کب تک جمع کرائی جا سکتی ہیں؟ درخواستیں 18 اکتوبر سے 8 نومبر 2026 تک وصول کی جائیں گی۔ سعودی عرب اور دنیا بھر کے فنکار اس میں حصہ لے سکتے ہیں۔ سمپوزیم کا انعقاد 2027 کے اوائل میں ریاض میں ہوگا۔ ایس پی اے کے مطابق کل 20 فنکاروں کو کیوریٹرز منتخب کریں گے۔

شرکاء کے لیے کیا شرائط مقرر کی گئی ہیں؟ درخواست دہندگان کے پاس مجسمہ سازی، فن پاروں کی نمائش اور پبلک آرٹ کمیشن کے اجرا میں کم از کم تین سال کا پیشہ ورانہ تجربہ ہونا چاہیے۔ یہ شرط اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ منتخب فنکار عوامی مقامات کے لیے کام کر سکیں۔ ایس پی اے کے مطابق انتخاب کیوریٹرز کریں گے۔

کیوریٹوریل ٹیم میں کون شامل ہیں؟ ٹیم میں برطانوی آرٹ کیوریٹر اور پروڈیوسر ایلڈو رینالڈی، برطانوی-اطالوی کیوریٹر، آرٹسٹک ڈائریکٹر اور کلچرل اسٹریٹجسٹ ارونڈا سکالیرا، اور سعودی فنکارہ، محققہ، ماہر تعلیم اور آرٹ کیوریٹر ڈاکٹر سہا الزید شامل ہیں۔ یہ تینوں سمپوزیم کے فنی وژن کی رہنمائی کریں گے اور شرکاء کا انتخاب کریں گے۔

آٹھویں ایڈیشن کا موضوع کیا ہے؟ آٹھواں ایڈیشن زمین، یادداشت اور ثقافت کی ان تہوں کو تلاش کرتا ہے جو کسی جگہ کی تعریف کرتی ہیں، اور ان کا اس جگہ کی تبدیلیوں سے تعلق کیا ہے۔ اس تصور میں جڑوں کو صرف ماضی سے وابستگی نہیں بلکہ ترقی کے ذریعے اور کسی جگہ کو نئے سرے سے تشکیل دینے اور اس کے مستقبل کا تصور کرنے کی صلاحیت کے طور پر بھی دیکھا جاتا ہے۔

سمپوزیم میں کون سے مواد استعمال کیے جائیں گے؟ آٹھویں ایڈیشن میں گرینائٹ، دھاتیں، آرائشی بریز بلاکس، موزیک اور سیمنٹ شامل ہیں، جو سمپوزیم کے منظور شدہ فنی اور پیداواری فریم ورک کے مطابق ہیں۔ پتھر پر کام کرنے والے منتخب فنکار سعودی عرب سے حاصل کردہ تین رنگوں رائل گولڈ، گرین اور رائل پنک کے ساتھ بلیک بیسالٹ بھی استعمال کر سکیں گے۔

مزید معلومات کہاں سے حاصل کی جا سکتی ہیں؟ سمپوزیم میں شرکت کے لیے مزید معلومات ریاض آرٹ کی ویب سائٹ اور سمپوزیم کے مخصوص صفحے پر دستیاب ہیں۔ ریاض آرٹ رائل کمیشن فار ریاض سٹی کے منصوبوں میں سے ایک ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں سمپوزیم کے مقام، انعامات یا منتخب فنکاروں کے ناموں کا ذکر نہیں کیا گیا۔