جنیوا میں سوڈان کے حوالے سے ہونے والی چھٹی مشاورتی ملاقات کے موقع پر سعودی عرب کے نائب وزیر خارجہ ولید الخریجی اور ناروے کی وزارت خارجہ کے اسٹیٹ سیکرٹری اینڈریاس کراوک آمنے سامنے آئے۔ یہ ملاقات سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں منعقد ہوئی، جہاں سوڈان میں امن کے لیے کی جانے والی کوششوں اور اقدامات کے لیے ہم آہنگی بڑھانے کے موضوع پر چھٹی مشاورتی نشست جاری تھی۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، ملاقات 21 اکتوبر 2026 کو ہوئی۔ ایس پی اے کے مطابق دونوں فریقوں نے اس موقع پر دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لیا، تعاون کے امکانات پر بات کی اور سوڈان میں سلامتی اور امن کو فروغ دینے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔
یہ ملاقات کسی الگ تھلگ دو طرفہ دورے کا حصہ نہیں بلکہ ایک کثیرالجہتی مشاورتی عمل کے دوران ہوئی، جس کا موضوع سوڈان میں امن کے لیے کی جانے والی کوششوں میں ہم آہنگی بڑھانا ہے۔ سوڈان کا بحران برسوں سے خطے کی توجہ کا مرکز رہا ہے، اور اس کے حل کے لیے متعدد فریق مختلف سطحوں پر کوششیں کر رہے ہیں۔ ایسے میں جب مختلف ممالک اور ادارے الگ الگ پٹریوں پر کام کر رہے ہوں، ان کوششوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا ایک اہم سوال بن جاتا ہے۔ کیا امن کی کوششیں تب زیادہ مؤثر ہوتی ہیں جب وہ ایک ہی میز پر جمع ہوں؟
سعودی عرب کی شرکت اس مشاورتی عمل میں ایک واضح پیغام رکھتی ہے۔ مملکت نے ہمیشہ خطے میں استحکام اور امن کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھی ہیں، اور سوڈان کے مسئلے پر بھی اس کی دلچسپی صرف بیان بازی تک محدود نہیں رہی۔ نائب وزیر خارجہ ولید الخریجی کی اس نشست میں موجودگی اور ان کی ناروے کے اسٹیٹ سیکرٹری اینڈریاس کراوک سے ملاقات اس بات کا اشارہ ہے کہ سعودی عرب دو طرفہ اور کثیرالجہتی دونوں سطحوں پر اپنے روابط کو فعال رکھے ہوئے ہے۔
ناروے کے ساتھ تعلقات کا پہلو بھی اس ملاقات میں سامنے آیا۔ ایس پی اے کے مطابق دونوں فریقوں نے دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور تعاون کے امکانات پر بات کی۔ یہ ایک ایسا نکتہ ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ سعودی عرب کی خارجہ پالیسی صرف خطے تک محدود نہیں بلکہ یورپی ممالک کے ساتھ بھی اس کے روابط کا دائرہ وسیع ہے۔ ناروے، جو امن اور ثالثی کی کوششوں میں اپنی الگ شناخت رکھتا ہے، کے ساتھ بات چیت کا مطلب یہ ہے کہ سعودی عرب مختلف نقطہ نظر رکھنے والے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کو اہمیت دیتا ہے۔
سوڈان میں امن کے لیے کی جانے والی کوششوں میں ہم آہنگی بڑھانے کی ضرورت کیوں محسوس کی جا رہی ہے؟ اس کا سیدھا سا جواب یہ ہے کہ جب ایک ہی بحران پر کئی فریق کام کر رہے ہوں اور ان کے درمیان رابطہ مضبوط نہ ہو، تو وسائل اور کوششیں بکھر جاتی ہیں۔ مشاورتی ملاقاتوں کا مقصد یہی ہے کہ مختلف ممالک اور ادارے اپنی کوششوں کو ایک دوسرے سے جوڑ سکیں اور دہرائی سے بچ سکیں۔ چھٹی مشاورتی ملاقات کا انعقاد خود اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ عمل ایک تسلسل کے ساتھ جاری ہے، اور اس میں سعودی عرب اور ناروے جیسے ممالک کی شرکت اسے مزید وزن دیتی ہے۔
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق اس ملاقات میں سوڈان میں سلامتی اور امن کو فروغ دینے کی کوششوں پر بات ہوئی۔ یہاں یہ سوال اہم ہے کہ امن کو فروغ دینے سے مراد کیا ہے؟ عام طور پر اس میں جنگ بندی، مذاکرات، انسانی ہمدردی کی رسائی اور فریقین کے درمیان اعتماد کی بحالی جیسے پہلو شامل ہوتے ہیں۔ تاہم ایس پی اے کی اس رپورٹ میں اس بات کی تفصیل نہیں دی گئی کہ ان کوششوں کے لیے کوئی خاص اقدام یا منصوبہ طے ہوا۔ رپورٹ میں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ دونوں فریقوں نے ان کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔
دو طرفہ تعلقات کے حوالے سے بھی رپورٹ مختصر ہے۔ ایس پی اے کے مطابق دونوں فریقوں نے تعلقات کا جائزہ لیا اور تعاون کے امکانات پر بات کی، لیکن اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ کون سے شعبوں میں تعاون کے امکانات زیر بحث آئے۔ کیا یہ اقتصادی، سیاسی، ثقافتی یا انسانی ہمدردی کے شعبے تھے؟ رپورٹ اس سوال کا جواب نہیں دیتی۔ یہی وجہ ہے کہ اس خبر کو پڑھتے ہوئے قاری کو یہ سمجھنا چاہیے کہ یہ ایک سفارتی ملاقات کی اطلاع ہے، نہ کہ کسی معاہدے یا فیصلے کا اعلان۔
جنیوا کا انتخاب بھی اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے۔ سوئٹزرلینڈ کا یہ شہر طویل عرصے سے بین الاقوامی سفارت کاری اور امن مذاکرات کا مرکز رہا ہے۔ مختلف ممالک کے سفارت کار اور بین الاقوامی ادارے یہاں جمع ہوتے ہیں، اور اسی تناظر میں سوڈان سے متعلق مشاورتی ملاقات کا انعقاد ہوا۔ ایسے ماحول میں ہونے والی ملاقاتیں اکثر باہمی رابطوں کو آسان بناتی ہیں، کیونکہ ایک ہی جگہ پر مختلف فریقوں سے ملاقات کا موقع ملتا ہے۔ کیا اسی وجہ سے ایسی ملاقاتوں کو الگ سے دو طرفہ دوروں پر ترجیح دی جاتی ہے؟
سعودی عرب کی خارجہ پالیسی میں سوڈان کا مقام کیا ہے؟ یہ سوال بھی اس خبر کے پس منظر میں اہم ہے۔ مملکت نے خطے کے دیگر بحرانوں کی طرح سوڈان کے معاملے پر بھی استحکام کی بحالی کو اہمیت دی ہے، اور اس کے لیے مختلف فورمز پر اپنی شرکت جاری رکھی ہے۔ چھٹی مشاورتی ملاقات میں نائب وزیر خارجہ کی سطح پر شرکت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ سعودی عرب اس عمل کو معمولی نہیں سمجھتا۔
ناروے کے ساتھ ملاقات کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ یہ ملک امن اور ثالثی کے معاملات میں اپنی کوششوں کے لیے جانا جاتا ہے۔ ایسے میں جب سعودی عرب اور ناروے کے نمائندے ایک ہی میز پر سوڈان کے مسئلے پر بات کریں، تو یہ دونوں ممالک کے مشترکہ مفاد کا اشارہ ہے۔ ایس پی اے کے مطابق دونوں فریقوں نے سوڈان میں سلامتی اور امن کو فروغ دینے کی کوششوں پر بات کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ موضوع دونوں کے لیے اہم ہے۔
تاہم یہاں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ ایسی ملاقاتوں کے نتائج فوری طور پر سامنے نہیں آتے۔ سفارتی عمل میں بات چیت، رابطے اور اعتماد کی بحالی ایک طویل سفر ہے۔ ایک ملاقات کا انعقاد خود کسی بڑی پیش رفت کا ثبوت نہیں ہوتا، لیکن یہ اس عمل کا حصہ ضرور ہوتا ہے۔ کیا امن کے لیے کی جانے والی کوششوں کا اصل امتحان ان کے تسلسل میں ہے؟
ایس پی اے کی رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کہ ملاقات میں کسی معاہدے پر دستخط ہوئے یا کوئی مشترکہ بیان جاری کیا گیا۔ رپورٹ میں صرف ملاقات، اس کے مقام، تاریخ اور زیر بحث موضوعات کا ذکر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس خبر سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی ٹھوس فیصلہ ہوا ہے۔ قاری کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ دستیاب معلومات کا دائرہ کیا ہے۔
سوڈان کے حوالے سے مشاورتی ملاقاتوں کا سلسلہ چھٹی نشست تک پہنچ چکا ہے، جو اس بات کا مظاہرہ ہے کہ یہ عمل ایک طویل المدتی کوشش ہے۔ ہر نشست میں مختلف ممالک کے نمائندے شریک ہوتے ہیں اور اپنے نقطہ نظر پیش کرتے ہیں۔ اس سلسلے میں سعودی عرب اور ناروے کے نمائندوں کی ملاقات کو اسی وسیع تر عمل کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔
کیا دو طرفہ ملاقاتیں کثیرالجہتی کوششوں کو مضبوط بناتی ہیں؟ عام طور پر ایسا ہی ہوتا ہے، کیونکہ بڑی نشستوں کے دوران ہونے والی الگ ملاقاتیں فریقوں کو ایک دوسرے کے موقف کو سمجھنے اور قریب آنے کا موقع دیتی ہیں۔ جنیوا میں ہونے والی یہ ملاقات بھی اسی نوعیت کی تھی، جہاں دونوں فریقوں نے دو طرفہ تعلقات اور سوڈان کے مسئلے پر بات کی۔
سعودی عرب کی جانب سے نائب وزیر خارجہ ولید الخریجی کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مملکت سفارتی سطح پر فعال ہے۔ ناروے کی وزارت خارجہ کے اسٹیٹ سیکرٹری اینڈریاس کراوک کی موجودگی بھی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ ناروے اس موضوع کو اہمیت دیتا ہے۔ دونوں فریقوں کے درمیان بات چیت کا موضوع سوڈان میں امن اور سلامتی کے ساتھ ساتھ دو طرفہ تعاون کے امکانات تھے۔
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ ملاقات آج ہوئی، یعنی 21 اکتوبر 2026 کو، اور اس کا مقام جنیوا تھا۔ رپورٹ میں وقت کا ذکر بھی موجود ہے، جو مقامی وقت کے مطابق 23:45 اور جی ایم ٹی کے مطابق 20:45 ہے۔ یہ تفصیلات اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ خبر اسی دن کی ہے اور اس میں کوئی تاخیر نہیں ہوئی۔
سوڈان میں امن کے لیے کی جانے والی کوششوں میں ہم آہنگی بڑھانے کی چھٹی مشاورتی ملاقات کا انعقاد خود ایک اہم عمل ہے، لیکن اس کے نتائج کا انحصار اس بات پر ہے کہ مختلف فریق کس حد تک اپنی کوششوں کو یکجا کر پاتے ہیں۔ سعودی عرب اور ناروے جیسے ممالک کی شرکت اس عمل کو تقویت دیتی ہے، کیونکہ دونوں کے پاس مختلف تجربات اور نقطہ نظر ہیں۔ کیا مختلف نقطہ نظر رکھنے والے ممالک کا ایک ہی میز پر بیٹھنا ہی آدھا حل نہیں ہوتا؟
اس ملاقات کی ایک اور خاص بات یہ ہے کہ یہ دو طرفہ تعلقات اور علاقائی مسئلے، دونوں کو ایک ہی نشست میں زیر بحث لاتی ہے۔ ایس پی اے کے مطابق دونوں فریقوں نے دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لیا، تعاون کے امکانات پر بات کی اور سوڈان میں سلامتی اور امن کو فروغ دینے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔ یہ تینوں موضوعات ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، کیونکہ دو طرفہ تعاون کا مضبوط ہونا علاقائی مسائل پر مشترکہ کوششوں کو آسان بناتا ہے۔
تاہم رپورٹ میں اس بات کی کوئی تفصیل نہیں کہ دونوں فریقوں نے کن مخصوص اقدامات پر اتفاق کیا یا کون سے نکات پر زور دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اس خبر کو ایک اطلاع کے طور پر پڑھا جانا چاہیے، نہ کہ کسی نتیجے کے اعلان کے طور پر۔ قاری کے لیے یہ فرق سمجھنا ضروری ہے۔
کیا سفارتی ملاقاتوں کی خبروں میں تفصیلات کی کمی ان کی اہمیت کو کم کرتی ہے؟ نہیں، کیونکہ اکثر ایسی ملاقاتیں طویل المدتی عمل کا حصہ ہوتی ہیں اور ان کے نتائج بعد میں سامنے آتے ہیں۔ جنیوا میں ہونے والی یہ ملاقات بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس میں سعودی عرب اور ناروے کے نمائندوں نے سوڈان کے مسئلے پر بات کی۔
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق اس ملاقات کا کوئی مشترکہ بیان جاری نہیں ہوا اور نہ ہی کسی معاہدے کا ذکر ہے۔ رپورٹ میں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ دونوں فریقوں نے تعلقات کا جائزہ لیا، تعاون کے امکانات پر بات کی اور سوڈان میں امن و سلامتی کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔ یہی دستیاب معلومات کا مکمل دائرہ ہے۔
سعودی عرب کی خارجہ پالیسی میں اس نوعیت کی ملاقاتیں اس بات کو ظاہر کرتی ہیں کہ مملکت مختلف فورمز اور ممالک کے ساتھ اپنے رابطے برقرار رکھتی ہے۔ نائب وزیر خارجہ کی سطح پر شرکت اس بات کا اشارہ ہے کہ ان رابطوں کو اہمیت دی جاتی ہے۔ ناروے کے ساتھ ملاقات اس بات کی مثال ہے کہ سعودی عرب یورپی ممالک کے ساتھ بھی خطے کے مسائل پر بات چیت کرتا ہے۔
سوڈان میں امن کے لیے کی جانے والی کوششوں میں ہم آہنگی بڑھانے کی ضرورت اس وقت مزید اہم ہو جاتی ہے جب مختلف فریق مختلف طریقوں سے کام کر رہے ہوں۔ مشاورتی ملاقاتوں کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ ان کوششوں کو ایک سمت میں لایا جا سکے۔ چھٹی مشاورتی ملاقات کا انعقاد اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ عمل جاری ہے اور اس میں مختلف ممالک شریک ہو رہے ہیں۔
اس ملاقات کے حوالے سے ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ یہ سوڈان کے مسئلے پر ہونے والی ایک بڑی نشست کے موقع پر ہوئی۔ ایسے مواقع پر ہونے والی دو طرفہ ملاقاتیں اکثر اس بات کا موقع فراہم کرتی ہیں کہ فریقین اپنے موقف کو واضح کر سکیں اور آئندہ کے لیے راستے تلاش کر سکیں۔ ایس پی اے کے مطابق اس ملاقات میں دونوں فریقوں نے سوڈان میں سلامتی اور امن کو فروغ دینے کی کوششوں پر بات کی۔
کیا ایسی ملاقاتوں کا کوئی فوری نتیجہ نکلتا ہے؟ عام طور پر نہیں، لیکن یہ عمل کا لازمی حصہ ہوتی ہیں۔ سفارتی کوششیں ایک طویل سفر ہیں، اور ہر ملاقات اس سفر کی ایک منزل ہوتی ہے۔ جنیوا میں ہونے والی یہ ملاقات بھی اسی سفر کا حصہ ہے، جس میں سعودی عرب اور ناروے کے نمائندوں نے اپنے خیالات کا تبادلہ کیا۔
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق اس ملاقات میں کسی تیسرے فریق کا ذکر نہیں، اور نہ ہی کسی بین الاقوامی ادارے کی جانب سے کوئی بیان سامنے آیا۔ رپورٹ صرف دونوں فریقوں کی ملاقات اور زیر بحث موضوعات تک محدود ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس خبر سے مزید کسی نتیجے تک پہنچنا ممکن نہیں۔
سعودی عرب اور ناروے کے درمیان تعلقات کا جائزہ لینا اور تعاون کے امکانات پر بات کرنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ممالک اپنے روابط کو مضبوط بنانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔ سوڈان کے مسئلے پر بات چیت اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ تعلقات صرف دو طرفہ معاملات تک محدود نہیں بلکہ علاقائی مسائل پر بھی محیط ہیں۔
کیا علاقائی مسائل پر مشترکہ کوششیں دو طرفہ تعلقات کو مضبوط بناتی ہیں؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس کا جواب تجربے سے ملتا ہے۔ جب دو ممالک ایک ہی مسئلے پر مل کر کام کرتے ہیں تو ان کے درمیان اعتماد بڑھتا ہے۔ جنیوا میں ہونے والی یہ ملاقات اسی سمت میں ایک قدم ہے، جس میں دونوں فریقوں نے سوڈان میں امن و سلامتی کی کوششوں پر بات کی۔
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق ملاقات کے بعد کوئی مشترکہ پریس کانفرنس یا بیان سامنے نہیں آیا۔ یہ بات اس خبر کی نوعیت کو واضح کرتی ہے کہ یہ ایک معمول کی سفارتی ملاقات کی اطلاع ہے۔ اس میں دی گئی معلومات محدود ہیں اور انہی کی بنیاد پر اسے سمجھا جانا چاہیے۔
سوڈان میں امن کے لیے کی جانے والی کوششوں میں ہم آہنگی بڑھانے کی چھٹی مشاورتی ملاقات کا انعقاد اور اس میں سعودی عرب کی شرکت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ مملکت اس مسئلے کو اہمیت دیتی ہے۔ ناروے کے ساتھ نائب وزیر خارجہ کی سطح پر ملاقات اس بات کا اشارہ ہے کہ سعودی عرب مختلف ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔
آخر میں، یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایس پی اے کی اس رپورٹ میں ملاقات کی جگہ، تاریخ، شرکا اور زیر بحث موضوعات کا ذکر ہے، لیکن اس میں کسی معاہدے، فیصلے یا مشترکہ بیان کا ذکر نہیں۔ رپورٹ کے مطابق دونوں فریقوں نے دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لیا، تعاون کے امکانات پر بات کی اور سوڈان میں سلامتی اور امن کو فروغ دینے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔ اس سے آگے کی کوئی تفصیل دستیاب نہیں۔
ملاقات کہاں اور کب ہوئی؟ ایس پی اے کے مطابق یہ ملاقات سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں 21 اکتوبر 2026 کو ہوئی۔ یہ سوڈان میں امن کے لیے کی جانے والی کوششوں میں ہم آہنگی بڑھانے کی چھٹی مشاورتی ملاقات کے موقع پر ہوئی۔ رپورٹ میں مقامی وقت کے مطابق 23:45 اور جی ایم ٹی کے مطابق 20:45 کا ذکر ہے۔ ملاقات کے مقام اور تاریخ کے علاوہ کوئی اضافی تفصیل رپورٹ میں موجود نہیں۔
ملاقات میں کون کون شریک ہوا؟ ایس پی اے کے مطابق سعودی عرب کی جانب سے نائب وزیر خارجہ ولید الخریجی نے شرکت کی۔ ناروے کی جانب سے وزارت خارجہ کے اسٹیٹ سیکرٹری اینڈریاس کراوک موجود تھے۔ رپورٹ میں کسی تیسرے فریق یا کسی بین الاقوامی ادارے کے نمائندے کا ذکر نہیں۔ دونوں فریقوں کے درمیان یہ ملاقات چھٹی مشاورتی نشست کے موقع پر ہوئی، جس کا موضوع سوڈان میں امن کی کوششوں میں ہم آہنگی بڑھانا تھا۔
ملاقات میں کون سے موضوعات زیر بحث آئے؟ ایس پی اے کے مطابق دونوں فریقوں نے دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لیا اور تعاون کے امکانات پر بات کی۔ اس کے علاوہ سوڈان میں سلامتی اور امن کو فروغ دینے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ رپورٹ میں اس بات کی تفصیل نہیں کہ کون سے شعبوں میں تعاون کے امکانات زیر بحث آئے یا کون سے مخصوص اقدامات پر بات ہوئی۔ یہی دستیاب معلومات کا دائرہ ہے۔
کیا ملاقات میں کوئی معاہدہ یا مشترکہ بیان جاری ہوا؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق اس ملاقات میں کسی معاہدے پر دستخط یا کسی مشترکہ بیان کے اجرا کا ذکر نہیں۔ رپورٹ میں صرف ملاقات، اس کے شرکا، مقام، تاریخ اور زیر بحث موضوعات کی اطلاع دی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس خبر سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ کوئی ٹھوس فیصلہ ہوا ہے۔ قاری کے لیے دستیاب معلومات کے دائرے کو سمجھنا ضروری ہے۔
چھٹی مشاورتی ملاقات کا مقصد کیا تھا؟ ایس پی اے کے مطابق یہ ملاقات سوڈان میں امن کے لیے کی جانے والی کوششوں اور اقدامات میں ہم آہنگی بڑھانے کے موضوع پر منعقد ہوئی۔ یہ چھٹی مشاورتی نشست تھی، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ عمل ایک تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔ رپورٹ میں اس نشست کے ایجنڈے یا اس کے نتائج کی مزید تفصیل نہیں دی گئی۔ نشست کا انعقاد جنیوا، سوئٹزرلینڈ میں ہوا۔
اس ملاقات کی اہمیت کیا ہے؟ ایس پی اے کے مطابق یہ ملاقات سوڈان سے متعلق ایک کثیرالجہتی مشاورتی نشست کے موقع پر ہوئی، جس میں سعودی عرب اور ناروے کے نمائندوں نے حصہ لیا۔ دونوں فریقوں نے دو طرفہ تعلقات، تعاون کے امکانات اور سوڈان میں امن کی کوششوں پر بات کی۔ رپورٹ میں اس ملاقات کے کسی مخصوص نتیجے کا ذکر نہیں، اس لیے اسے سفارتی رابطوں کے تسلسل کا حصہ سمجھا جانا چاہیے۔