Thursday, October 22, 2026
ثقافت

شاہ عبدالعزیز فیلکنری فیسٹیول 2026 کے لیے رجسٹریشن شروع، ملہم میں 17 سے 30 نومبر تک مقابلے

شاہ عبدالعزیز فیلکنری فیسٹیول 2026 کے لیے رجسٹریشن شروع، ملہم میں 17 سے 30 نومبر تک مقابلے

ریاض کے شمال میں واقع ملہم میں نیشنل سینٹر فار فالکنز کے ہیڈ کوارٹرز میں 17 سے 30 نومبر 2026 تک شاہ عبدالعزیز فیلکنری فیسٹیول 2026 منعقد ہوگا، اور مرکز نے فیسٹیول میں شرکت کرنے والے شہبازوں (فالکنز) کی رجسٹریشن کھول دی ہے۔ یہ اعلان 22 اکتوبر 2026 کو سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کی رپورٹ میں سامنے آیا، جس کے مطابق شہباز پالنے والوں (فالکنرز) سے کہا گیا ہے کہ وہ ہر مرحلے کے لیے مقرر کردہ آخری تاریخوں کے مطابق رجسٹریشن کے مراحل مکمل کریں۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، یہ رجسٹریشن مرکز کی فیسٹیول کے لیے تیاریوں کا حصہ ہے، اور اس فیسٹیول کو دنیا کا سب سے بڑا شہبازوں کا اجتماع اور فیلکنری ورثے کے تحفظ کے لیے وقف نمایاں بین الاقوامی ایونٹس میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ دنیا بھر سے شہباز پالنے والوں کو ایک ہی میدان میں جمع کرنے والا یہ ایونٹ اپنی شناخت کیسے برقرار رکھتا ہے؟

مرکز کے مطابق رجسٹریشن اور شہبازوں کی ایکٹیویشن اس کے الیکٹرانک پلیٹ فارم کے ذریعے 22 اکتوبر سے 2 نومبر تک کی جائے گی۔ یہ وہ پہلا مرحلہ ہے جس میں شرکاء آن لائن اپنی تفصیلات جمع کروائیں گے۔ کیا ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر رجسٹریشن کا یہ عمل ہر سال کی طرح اس بار بھی شرکاء کے لیے آسان ثابت ہوگا؟

مرکز نے بتایا کہ نئے بالغ شہبازوں (قرانیس) کی ذاتی طور پر رجسٹریشن اور ملکیت کی منتقلی (اوونرشپ ٹرانسفر) 29 سے 31 اکتوبر تک شام 4 بجے سے 7 بجے تک مرکز کے ہیڈ کوارٹرز میں کی جائے گی۔ یہ وہ سہولت ہے جو ان شرکاء کے لیے ہے جو نئے شہباز فیسٹیول میں شامل کرانا چاہتے ہیں یا ملکیت کی تبدیلی درج کرانا چاہتے ہیں۔ کیا ذاتی حاضری والا یہ مرحلہ ان شرکاء کے لیے کافی وقت فراہم کرتا ہے جو آن لائن عمل مکمل نہیں کر سکے؟

رپورٹ کے مطابق رجسٹریشن کے جائزے اور تصحیح کا دورانیہ 3 سے 5 نومبر تک الیکٹرانک طور پر ہوگا۔ اس مرحلے میں شرکاء کو موقع دیا جائے گا کہ وہ اپنی جمع کردہ معلومات میں ممکنہ خامیاں درست کر سکیں۔ کیا رجسٹریشن کے بعد تصحیح کا یہ مرحلہ شرکاء کے لیے غلطیوں کی اصلاح کا مؤثر ذریعہ بنے گا؟

بین الاقوامی شرکاء کے لیے ذاتی رجسٹریشن 17 سے 23 نومبر تک صبح 9 بجے سے دوپہر 1 بجے تک ہوگی، اور وہ مرکز کے پلیٹ فارم کے ذریعے اپنے اکاؤنٹس کی تصدیق بھی کر سکیں گے۔ یہ مرحلہ فیسٹیول کے آغاز کے ساتھ ہی شروع ہوتا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بیرون ملک سے آنے والے شرکاء کے لیے الگ شیڈول رکھا گیا ہے۔ کیا بین الاقوامی شرکاء کے لیے مختص یہ وقت ان کے سفر اور دستاویزات کی تیاری کے لیے کافی ہے؟

فیسٹیول کا انعقاد ملہم میں مرکز کے ہیڈ کوارٹرز میں ہوگا، جو ریاض کے شمال میں واقع ہے۔ یہ مقام پہلے بھی اس نوعیت کے ایونٹس کی میزبانی کرتا رہا ہے، اور مرکز کی جانب سے رجسٹریشن کے تمام مراحل اسی مقام اور اس کے الیکٹرانک پلیٹ فارم کے گرد ترتیب دیے گئے ہیں۔ کیا ملہم میں ہیڈ کوارٹرز کا یہ انتخاب شرکاء کی سہولت اور ایونٹ کے انتظام دونوں کے لیے موزوں ہے؟

مرکز نے واضح کیا کہ رجسٹریشن کے عمل کو مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے، اور ہر مرحلے کے لیے الگ آخری تاریخیں مقرر کی گئی ہیں۔ آن لائن رجسٹریشن اور ایکٹیویشن 22 اکتوبر سے 2 نومبر تک، ذاتی رجسٹریشن برائے نئے بالغ شہباز اور ملکیت کی منتقلی 29 سے 31 اکتوبر تک، جائزہ اور تصحیح 3 سے 5 نومبر تک، اور بین الاقوامی شرکاء کی ذاتی رجسٹریشن 17 سے 23 نومبر تک جاری رہے گی۔ کیا شرکاء کے لیے ان تاریخوں کو یاد رکھنا اور ان پر عمل کرنا آسان ہوگا؟

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق فیسٹیول 17 سے 30 نومبر تک جاری رہے گا، جس کا مطلب ہے کہ بین الاقوامی شرکاء کی ذاتی رجسٹریشن کا دورانیہ فیسٹیول کے ایام کے ساتھ ہی چلے گا۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مرکز نے مقامی اور بین الاقوامی شرکاء کے لیے مختلف شیڈولز رکھے ہیں تاکہ ہر گروپ اپنے وقت پر اپنی رجسٹریشن مکمل کر سکے۔ کیا اس قسم کی مرحلہ وار منصوبہ بندی سے رش اور تاخیر کو کم کیا جا سکتا ہے؟

فیسٹیول کو دنیا کا سب سے بڑا شہبازوں کا اجتماع قرار دیا گیا ہے، اور یہ فیلکنری ورثے کے تحفظ کے لیے وقف نمایاں بین الاقوامی ایونٹس میں شمار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مرکز کی تیاریاں رجسٹریشن کے عمل سے شروع ہوتی ہیں، جس میں شرکاء کی تعداد، ان کے شہبازوں کی تفصیلات اور ملکیت کے ریکارڈ کو منظم کیا جاتا ہے۔ کیا اس ورثے کو نسل در نسل منتقل کرنے میں اس طرح کے ایونٹس کا کردار سب سے اہم ہے؟

رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ رجسٹریشن کے لیے کوئی فیس یا شرائط عائد ہیں، نہ ہی شرکاء کی متوقع تعداد یا انعامات کا کوئی ذکر ہے۔ ایس پی اے کی خبر میں صرف رجسٹریشن کے مراحل، مقام اور تاریخوں کا تذکرہ ہے، جبکہ فیسٹیول کے مقابلہ جات کی تفصیلات، انعامات یا شرکت کی شرائط شامل نہیں۔ کیا شرکاء کو مکمل شرائط جاننے کے لیے مرکز کے الیکٹرانک پلیٹ فارم سے رجوع کرنا ہوگا؟

مرکز نے شرکاء کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہر مرحلے کے لیے مقرر کردہ آخری تاریخوں کے مطابق رجسٹریشن کے مراحل مکمل کریں۔ اس کا مطلب ہے کہ تاخیر کی صورت میں شرکت متاثر ہو سکتی ہے، اس لیے شرکاء کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنی رجسٹریشن بروقت مکمل کریں۔ کیا آخری تاریخوں کی پابندی شرکاء کے لیے سب سے بڑا چیلنج ثابت ہوگی؟

بین الاقوامی شرکاء کے لیے یہ سہولت بھی موجود ہے کہ وہ مرکز کے پلیٹ فارم کے ذریعے اپنے اکاؤنٹس کی تصدیق کر سکیں، جس سے ان کے لیے فیسٹیول میں شرکت کے عمل کو آسان بنایا گیا ہے۔ یہ تصدیق 17 سے 23 نومبر کے دوران ذاتی رجسٹریشن کے ساتھ ساتھ کی جا سکتی ہے۔ کیا آن لائن تصدیق اور ذاتی رجسٹریشن کا یہ امتزاج بین الاقوامی شرکاء کے لیے زیادہ سہولت فراہم کرتا ہے؟

ملہم میں مرکز کے ہیڈ کوارٹرز پر ہونے والی ذاتی رجسٹریشن کا دورانیہ 29 سے 31 اکتوبر تک شام 4 بجے سے 7 بجے تک ہے، جو کہ دفتری اوقات کے بعد کا وقت ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرکز نے شرکاء کی سہولت کے لیے شام کے اوقات کا انتخاب کیا تاکہ وہ دن کے مصروفیات کے بعد بھی رجسٹریشن مکمل کر سکیں۔ کیا شام کے اوقات میں رجسٹریشن کی سہولت شرکاء کی شرکت میں اضافے کا سبب بنے گی؟

ایس پی اے کے مطابق فیسٹیول کا آغاز 17 نومبر کو ہوگا اور یہ 30 نومبر تک جاری رہے گا، جس دوران مختلف مراحل اور مقابلے منعقد ہوں گے۔ رجسٹریشن کا عمل اس سے قبل اکتوبر اور نومبر کے اوائل میں مکمل ہو جائے گا، تاکہ فیسٹیول کے آغاز پر شرکاء کی فہرست تیار ہو سکے۔ کیا رجسٹریشن کے اس شیڈول سے فیسٹیول کے انتظامات کو حتمی شکل دینے میں مدد ملے گی؟

مرکز کی جانب سے یہ بھی بتایا گیا کہ رجسٹریشن اور ایکٹیویشن کا عمل اس کے الیکٹرانک پلیٹ فارم کے ذریعے ہوگا، جس سے شرکاء کو گھر بیٹھے اپنی تفصیلات جمع کروانے کی سہولت ملے گی۔ یہ ڈیجیٹل نظام شرکاء کے ریکارڈ کو منظم رکھنے اور بعد کے مراحل میں تصحیح کو آسان بنانے میں مدد دے گا۔ کیا ڈیجیٹل رجسٹریشن کا یہ نظام روایتی طریقوں سے زیادہ مؤثر ہے؟

فیسٹیول کے انعقاد کا مقام ملہم ہے، جو ریاض کے شمال میں واقع ہے اور مرکز کے ہیڈ کوارٹرز کا میزبان ہے۔ یہاں ہونے والی ذاتی رجسٹریشن اور بین الاقوامی شرکاء کی رجسٹریشن دونوں اسی مقام پر ہوں گی، جس سے شرکاء کو ایک ہی جگہ تمام مراحل مکمل کرنے کی سہولت ملے گی۔ کیا ایک ہی مقام پر تمام رجسٹریشن مراحل کا ہونا شرکاء کے لیے آسانی پیدا کرے گا؟

رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ فیسٹیول کے دوران کون سے مخصوص مقابلے ہوں گے یا کس قسم کے شہباز کس زمرے میں حصہ لیں گے۔ ایس پی اے کی خبر میں صرف رجسٹریشن کے مراحل، تاریخوں اور مقام کا ذکر ہے، جبکہ مقابلہ جات کی نوعیت، انعامات یا شرائط کے بارے میں کوئی تفصیل موجود نہیں۔ کیا شرکاء کو مکمل معلومات کے لیے مرکز کے پلیٹ فارم پر ہی انحصار کرنا ہوگا؟

شاہ عبدالعزیز فیلکنری فیسٹیول کو دنیا کا سب سے بڑا شہبازوں کا اجتماع کہا جاتا ہے، اور یہ فیلکنری ورثے کے تحفظ کے لیے وقف نمایاں بین الاقوامی ایونٹس میں سے ایک ہے۔ اس حیثیت کی وجہ سے مرکز کی تیاریاں اور رجسٹریشن کا عمل خاص اہمیت رکھتے ہیں، کیونکہ یہاں دنیا بھر سے شہباز پالنے والے شرکت کرتے ہیں۔ کیا اس عالمی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے ہر سال ایسی منظم تیاریاں ضروری ہیں؟

مرکز نے شرکاء کے لیے رجسٹریشن کے تمام مراحل کی تاریخیں جاری کر دی ہیں، جن میں آن لائن رجسٹریشن، ذاتی رجسٹریشن، تصحیح اور بین الاقوامی شرکاء کی رجسٹریشن شامل ہیں۔ شرکاء کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ان تاریخوں کا خیال رکھیں اور مقررہ وقت پر اپنے مراحل مکمل کریں۔ کیا ان تاریخوں کی بروقت پیروی فیسٹیول میں کامیاب شرکت کی ضمانت ہے؟

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق فیسٹیول 17 سے 30 نومبر 2026 تک ملہم میں ہوگا، اور رجسٹریشن کا عمل 22 اکتوبر سے شروع ہو چکا ہے۔ رپورٹ میں فیسٹیول کے شرکاء کی تعداد، انعامات، یا مقابلہ جات کی تفصیلات کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں، اور نہ ہی رجسٹریشن کی فیس یا شرائط کا ذکر ہے۔ یہ تفصیلات مرکز کے الیکٹرانک پلیٹ فارم یا بعد کی اطلاعات میں سامنے آ سکتی ہیں۔

فیسٹیول کب اور کہاں منعقد ہوگا؟ شاہ عبدالعزیز فیلکنری فیسٹیول 2026 ملہم میں نیشنل سینٹر فار فالکنز کے ہیڈ کوارٹرز میں 17 سے 30 نومبر تک منعقد ہوگا۔ ملہم ریاض کے شمال میں واقع ہے۔ ایس پی اے کے مطابق یہ فیسٹیول دنیا کا سب سے بڑا شہبازوں کا اجتماع اور فیلکنری ورثے کے تحفظ کے لیے وقف نمایاں بین الاقوامی ایونٹس میں سے ایک ہے۔ رپورٹ میں شرکاء کی تعداد یا انعامات کا ذکر نہیں۔

آن لائن رجسٹریشن کا دورانیہ کیا ہے؟ مرکز کے مطابق رجسٹریشن اور شہبازوں کی ایکٹیویشن اس کے الیکٹرانک پلیٹ فارم کے ذریعے 22 اکتوبر سے 2 نومبر تک کی جائے گی۔ اس کے بعد رجسٹریشن کے جائزے اور تصحیح کا دورانیہ 3 سے 5 نومبر تک الیکٹرانک طور پر ہوگا۔ شرکاء کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ ہر مرحلے کے لیے مقرر کردہ آخری تاریخوں کے مطابق اپنے مراحل مکمل کریں۔

نئے بالغ شہبازوں کی ذاتی رجسٹریشن کب ہوگی؟ مرکز نے بتایا کہ نئے بالغ شہبازوں (قرانیس) کی ذاتی رجسٹریشن اور ملکیت کی منتقلی 29 سے 31 اکتوبر تک شام 4 بجے سے 7 بجے تک مرکز کے ہیڈ کوارٹرز میں کی جائے گی۔ یہ سہولت ان شرکاء کے لیے ہے جو نئے شہباز فیسٹیول میں شامل کرانا چاہتے ہیں یا ملکیت کی تبدیلی درج کرانا چاہتے ہیں۔ رپورٹ میں اس مرحلے کی فیس یا شرائط کا ذکر نہیں۔

بین الاقوامی شرکاء کے لیے کیا انتظام ہے؟ ایس پی اے کے مطابق بین الاقوامی شرکاء 17 سے 23 نومبر تک صبح 9 بجے سے دوپہر 1 بجے تک ذاتی طور پر رجسٹریشن کروا سکیں گے اور مرکز کے پلیٹ فارم کے ذریعے اپنے اکاؤنٹس کی تصدیق کر سکیں گے۔ یہ دورانیہ فیسٹیول کے ایام کے ساتھ ہی چلتا ہے، جو 17 سے 30 نومبر تک جاری رہے گا۔ رپورٹ میں بین الاقوامی شرکاء کی تعداد یا ان کے لیے مخصوص شرائط کا ذکر نہیں۔

رجسٹریشن کے لیے کون ذمہ دار ہے؟ نیشنل سینٹر فار فالکنز نے فیسٹیول میں شرکت کرنے والے شہبازوں کی رجسٹریشن کھولی ہے اور شرکاء کو ہدایت دی ہے کہ وہ ہر مرحلے کے لیے مقرر کردہ آخری تاریخوں کے مطابق رجسٹریشن کے مراحل مکمل کریں۔ مرکز کے مطابق یہ رجسٹریشن اس کی فیسٹیول کے لیے تیاریوں کا حصہ ہے۔ رپورٹ میں رجسٹریشن فیس یا شرکاء کی متوقع تعداد کا ذکر نہیں۔

فیسٹیول کی اہمیت کیا ہے؟ ایس پی اے کے مطابق فیسٹیول کو دنیا کا سب سے بڑا شہبازوں کا اجتماع اور فیلکنری ورثے کے تحفظ کے لیے وقف نمایاں بین الاقوامی ایونٹس میں سے ایک قرار دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مرکز کی تیاریاں رجسٹریشن کے عمل سے شروع ہوتی ہیں، جس میں شرکاء کی تفصیلات اور ملکیت کے ریکارڈ کو منظم کیا جاتا ہے۔ رپورٹ میں مقابلہ جات کی تفصیلات یا انعامات شامل نہیں۔