ریاض میں 22 اکتوبر 2026 کو جاری ہونے والی جسمانی سرگرمی کی شماریات رپورٹ 2026 کے مطابق سعودی عرب کی 18 سال اور اس سے زائد عمر کی بالغ آبادی کا 59.9 فیصد ہفتے میں 150 منٹ یا اس سے زیادہ جسمانی سرگرمی کرتا ہے۔ یہ وہ شرح ہے جو عالمی صحت کے معیار کے مطابق بالغوں کے لیے تجویز کردہ کم از کم دورانیہ پورا کرتی ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، جنرل اتھارٹی فار سٹیٹسٹکس (GASTAT) نے یہ رپورٹ جاری کی، جس میں بالغ افراد، بچوں اور نوعمروں کی جسمانی سرگرمی اور بیٹھے رہنے والے معمولات کا جائزہ لیا گیا ہے۔
رپورٹ کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ مردوں میں یہ شرح 63.4 فیصد جبکہ خواتین میں 52.9 فیصد ہے۔ یعنی مرد اور خواتین کے درمیان تقریباً دس فیصد سے زیادہ کا فرق موجود ہے۔ کیا یہ فرق بتاتا ہے کہ خواتین کو جسمانی سرگرمی کے مواقع فراہم کرنے میں اب بھی خلا باقی ہے؟
عمر کے لحاظ سے دیکھا جائے تو 18 سے 29 سال کے نوجوانوں نے سب سے زیادہ شرح 63.0 فیصد ریکارڈ کی۔ دوسری طرف 80 سال اور اس سے زیادہ عمر کے افراد میں یہ شرح سب سے کم، یعنی 13.4 فیصد رہی۔ عمر بڑھنے کے ساتھ جسمانی سرگرمی میں کمی کا یہ رجحان کس حد تک صحت کی سہولیات اور روزمرہ معمولات سے جڑا ہوا ہے؟
رپورٹ میں بچوں اور نوعمروں کے بارے میں بھی اہم معلومات دی گئی ہیں۔ 5 سے 17 سال کی عمر کے بچوں اور نوعمروں کا 20.3 فیصد روزانہ 60 منٹ یا اس سے زیادہ جسمانی سرگرمی کرتا ہے۔ یہ وہ معیار ہے جو اس عمر کے گروپ کے لیے تجویز کیا جاتا ہے۔
اس گروپ میں بھی صنفی فرق نمایاں ہے۔ لڑکوں میں یہ شرح 27.1 فیصد جبکہ لڑکیوں میں 13.3 فیصد ہے۔ یعنی لڑکوں کی شرح لڑکیوں سے تقریباً دوگنی ہے۔ کیا اس فرق کی وجہ کھیلوں کی سرگرمیوں تک رسائی میں عدم مساوات ہے؟
رپورٹ کے نتائج یہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ بچوں اور نوعمروں کا 33.8 فیصد روزانہ ایک گھنٹے سے لے کر دو گھنٹے سے کم وقت بیٹھے رہنے والی یا غیر جسمانی سرگرمیوں میں گزارتا ہے، جیسے ٹیلی ویژن دیکھنا یا الیکٹرانک آلات استعمال کرنا۔ اس حساب میں اسکول میں گزارا جانے والا وقت شامل نہیں ہے۔
یہ اعداد و شمار اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ ایک تہائی سے زیادہ بچے اور نوعمر اپنے دن کا ایک سے دو گھنٹے اسکرین یا بیٹھے رہنے والے معمولات میں صرف کرتے ہیں۔ اسکول کے اوقات کو شامل نہ کرنے کے باوجود یہ تعداد کتنی تشویشناک ہے؟
بالغوں کے لیے 150 منٹ ہفتہ وار جسمانی سرگرمی کا معیار بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہے، اور رپورٹ یہ دکھاتی ہے کہ 59.9 فیصد بالغ افراد اس معیار کو پورا کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تقریباً 40 فیصد بالغ آبادی اس حد تک نہیں پہنچ پاتی۔ کیا یہ خلا صحت عامہ کی پالیسیوں کے لیے ایک واضح پیغام ہے؟
18 سے 29 سال کے گروپ کی 63.0 فیصد شرح سب سے زیادہ ہے، جو ظاہر کرتی ہے کہ نوجوان بالغ افراد جسمانی سرگرمی میں سب سے آگے ہیں۔ لیکن 80 سال اور اس سے زیادہ عمر کے افراد کی 13.4 فیصد شرح اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ بڑھتی عمر کے ساتھ سرگرمی کی سطح تیزی سے گرتی ہے۔ بزرگ شہریوں کے لیے محفوظ اور قابل رسائی ورزش کے مواقع کی فراہمی کتنی ضروری ہے؟
مردوں کی 63.4 فیصد اور خواتین کی 52.9 فیصد شرح کے درمیان فرق پر غور کریں تو یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا خواتین کے لیے مخصوص کھیلوں کی سہولیات، وقت اور سماجی قبولیت میں بہتری کی ضرورت ہے؟ اسی طرح بچوں میں لڑکوں کی 27.1 فیصد اور لڑکیوں کی 13.3 فیصد شرح کا فرق بھی اسی سمت اشارہ کرتا ہے۔
بچوں اور نوعمروں میں روزانہ 60 منٹ کی جسمانی سرگرمی کا معیار صرف 20.3 فیصد پورا کرتا ہے، جبکہ 33.8 فیصد ایک سے دو گھنٹے بیٹھے رہنے والی سرگرمیوں میں گزارتا ہے۔ یہ دونوں اعداد و شمار مل کر اسکول کے بعد کے معمولات اور گھریلو ماحول کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہیں۔ کیا اسکرین کے استعمال کو محدود کرنے کے لیے خاندانی سطح پر اقدامات کی ضرورت ہے؟
رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ جسمانی سرگرمی کی پیمائش کس طریقے سے کی گئی، یا یہ اعداد و شمار کس سروے کے ذریعے جمع کیے گئے۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں رقم، نمونے کے حجم یا تفصیلی طریقہ کار کا ذکر نہیں ہے۔
اسی طرح یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ یہ اعداد و شمار پچھلے سالوں کے مقابلے میں بہتر ہیں یا بدتر، کیونکہ رپورٹ میں موازنہ کے اعداد و شمار شامل نہیں ہیں۔ کیا رجحان کو سمجھنے کے لیے سال بہ سال موازنہ ضروری نہیں؟
رپورٹ میں بالغ افراد کی تعریف 18 سال اور اس سے زیادہ عمر کے طور پر کی گئی ہے، جبکہ بچوں اور نوعمروں کی عمر 5 سے 17 سال بتائی گئی ہے۔ یہ عمر کی حد بندی اس بات کی وضاحت کرتی ہے کہ اعداد و شمار کن گروپوں پر لاگو ہوتے ہیں۔
بیٹھے رہنے والی سرگرمیوں کی مثالوں میں ٹیلی ویژن دیکھنا اور الیکٹرانک آلات کا استعمال شامل ہے، اور اسکول میں گزارا جانے والا وقت اس حساب سے خارج رکھا گیا ہے۔ اس تفصیل سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ رپورٹ گھر اور فرصت کے وقت کے معمولات پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔
مجموعی طور پر یہ اعداد و شمار سعودی عرب میں جسمانی سرگرمی کے رجحانات کا ایک جامع خاکہ پیش کرتے ہیں، جس میں صنفی فرق، عمر کے لحاظ سے فرق اور بچوں کے بیٹھے رہنے والے معمولات نمایاں ہیں۔ 59.9 فیصد بالغ افراد کا ہفتہ وار 150 منٹ کی سرگرمی کرنا ایک اہم اشارہ ہے، لیکن 40 فیصد سے زیادہ بالغ افراد کا اس معیار سے نیچے رہنا بھی اسی رپورٹ کا حصہ ہے۔
بچوں اور نوعمروں کے حوالے سے 20.3 فیصد کی شرح اور 33.8 فیصد کا بیٹھے رہنے والا وقت ایک ساتھ پڑھنے سے یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کیا آنے والی نسلوں کی صحت کے لیے فوری اقدامات درکار ہیں؟
رپورٹ کے مطابق 18 سے 29 سال کے 63.0 فیصد افراد جسمانی سرگرمی کرتے ہیں، جو کہ تمام عمر کے گروپوں میں سب سے زیادہ ہے۔ اس کے برعکس 80 سال اور اس سے زیادہ عمر کے صرف 13.4 فیصد افراد اس معیار کو پورا کرتے ہیں۔ یہ فرق عمر کے ساتھ سرگرمی میں کمی کا واضح ثبوت ہے۔
مردوں اور خواتین کے درمیان فرق بالغوں میں 63.4 فیصد بمقابلہ 52.9 فیصد اور بچوں میں 27.1 فیصد بمقابلہ 13.3 فیصد ہے۔ یہ اعداد و شمار صنفی تفاوت کو دو مختلف عمر کے گروپوں میں دکھاتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ جسمانی سرگرمی کی حوصلہ افزائی کے لیے کوئی مخصوص پروگرام یا مہم چلائی جا رہی ہے، اور نہ ہی یہ کہ ان اعداد و شمار کے پیچھے کون سے عوامل کارفرما ہیں۔ ایس پی اے کی رپورٹ صرف اعداد و شمار تک محدود ہے۔
یہ رپورٹ جنرل اتھارٹی فار سٹیٹسٹکس نے جاری کی ہے، جو سعودی عرب میں سرکاری اعداد و شمار کی ذمہ دار ادارہ ہے۔ رپورٹ کا عنوان جسمانی سرگرمی کی شماریات 2026 ہے اور یہ 22 اکتوبر 2026 کو جاری ہوئی۔
رپورٹ کے اعداد و شمار میں بالغ افراد کے لیے ہفتہ وار 150 منٹ اور بچوں کے لیے روزانہ 60 منٹ کے معیار کا استعمال کیا گیا ہے، جو بین الاقوامی صحت کے رہنما اصولوں سے مطابقت رکھتا ہے۔
بیٹھے رہنے والی سرگرمیوں کے حوالے سے 33.8 فیصد کا اعداد و شمار صرف ان بچوں اور نوعمروں پر لاگو ہے جو روزانہ ایک سے دو گھنٹے سے کم وقت اس طرح کی سرگرمیوں میں گزارتے ہیں، اور اسکول کا وقت اس میں شامل نہیں۔
یہ واضح نہیں کہ باقی بچے کتنے وقت بیٹھے رہنے والی سرگرمیوں میں گزارتے ہیں، کیونکہ رپورٹ میں صرف ایک سے دو گھنٹے کے زمرے کا ذکر ہے۔ اسی طرح یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ جسمانی سرگرمی کی اقسام کیا ہیں یا اس کی شدت کا کوئی پیمانہ استعمال ہوا۔
رپورٹ میں دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق بالغ آبادی کا 59.9 فیصد، مرد 63.4 فیصد، خواتین 52.9 فیصد، 18 سے 29 سال کے 63.0 فیصد، 80 سال اور اس سے زیادہ کے 13.4 فیصد، بچے اور نوعمر 20.3 فیصد، لڑکے 27.1 فیصد، لڑکیاں 13.3 فیصد، اور بیٹھے رہنے والی سرگرمیوں میں 33.8 فیصد شامل ہیں۔
یہ تمام اعداد و شمار ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق ہیں، اور اس میں کوئی اضافی تشریح یا پس منظر شامل نہیں کیا گیا۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ یہ سروے کب اور کس طریقے سے کیا گیا۔
بالغ افراد میں جسمانی سرگرمی کی شرح کیا ہے؟ رپورٹ کے مطابق 18 سال اور اس سے زیادہ عمر کی بالغ آبادی کا 59.9 فیصد ہفتے میں 150 منٹ یا اس سے زیادہ جسمانی سرگرمی کرتا ہے۔ مردوں میں یہ شرح 63.4 فیصد اور خواتین میں 52.9 فیصد ہے۔ عمر کے لحاظ سے 18 سے 29 سال کے گروپ میں سب سے زیادہ 63.0 فیصد شرح ریکارڈ کی گئی، جبکہ 80 سال اور اس سے زیادہ عمر کے افراد میں سب سے کم 13.4 فیصد شرح رہی۔
بچوں اور نوعمروں کے اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں؟ 5 سے 17 سال کے بچوں اور نوعمروں کا 20.3 فیصد روزانہ 60 منٹ یا اس سے زیادہ جسمانی سرگرمی کرتا ہے۔ اس گروپ میں لڑکوں کی شرح 27.1 فیصد اور لڑکیوں کی 13.3 فیصد ہے۔ رپورٹ کے مطابق 33.8 فیصد بچے اور نوعمر روزانہ ایک گھنٹے سے لے کر دو گھنٹے سے کم وقت بیٹھے رہنے والی سرگرمیوں میں گزارتے ہیں، جیسے ٹیلی ویژن دیکھنا یا الیکٹرانک آلات استعمال کرنا، اور اسکول کا وقت اس میں شامل نہیں۔
مردوں اور خواتین کے درمیان کتنا فرق ہے؟ بالغوں میں مردوں کی شرح 63.4 فیصد اور خواتین کی 52.9 فیصد ہے، یعنی تقریباً دس فیصد سے زیادہ کا فرق۔ بچوں اور نوعمروں میں یہ فرق زیادہ نمایاں ہے، جہاں لڑکوں کی شرح 27.1 فیصد اور لڑکیوں کی 13.3 فیصد ہے۔ رپورٹ میں اس فرق کی وجوہات بیان نہیں کی گئیں، نہ ہی یہ بتایا گیا کہ کس عمر یا علاقے میں یہ فرق سب سے زیادہ ہے۔
عمر کے لحاظ سے کون سے گروپ سب سے آگے اور پیچھے ہیں؟ 18 سے 29 سال کے گروپ نے سب سے زیادہ شرح 63.0 فیصد ریکارڈ کی، جو ظاہر کرتی ہے کہ نوجوان بالغ افراد جسمانی سرگرمی میں سب سے زیادہ حصہ لیتے ہیں۔ دوسری طرف 80 سال اور اس سے زیادہ عمر کے افراد میں یہ شرح سب سے کم، یعنی 13.4 فیصد رہی۔ رپورٹ میں درمیانی عمر کے گروپوں کے الگ الگ اعداد و شمار نہیں دیے گئے، صرف سب سے زیادہ اور سب سے کم شرح کا ذکر ہے۔
بیٹھے رہنے والی سرگرمیوں کے اعداد و شمار کیا ہیں؟ رپورٹ کے مطابق 33.8 فیصد بچے اور نوعمر روزانہ ایک گھنٹے سے لے کر دو گھنٹے سے کم وقت بیٹھے رہنے والی یا غیر جسمانی سرگرمیوں میں گزارتے ہیں۔ ان سرگرمیوں کی مثالوں میں ٹیلی ویژن دیکھنا اور الیکٹرانک آلات کا استعمال شامل ہے۔ اس حساب میں اسکول میں گزارا جانے والا وقت شامل نہیں ہے۔ رپورٹ میں باقی بچوں کے بیٹھے رہنے کے وقت کا کوئی الگ ذکر نہیں۔
رپورٹ کس ادارے نے جاری کی اور کب؟ یہ رپورٹ جنرل اتھارٹی فار سٹیٹسٹکس (GASTAT) نے جسمانی سرگرمی کی شماریات 2026 کے عنوان سے جاری کی۔ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق یہ 22 اکتوبر 2026 کو جاری ہوئی۔ رپورٹ میں بالغ افراد کے لیے ہفتہ وار 150 منٹ اور بچوں کے لیے روزانہ 60 منٹ کے معیار کا استعمال کیا گیا، جو بین الاقوامی صحت کے رہنما اصولوں سے مطابقت رکھتا ہے۔