شاہی دربار کے مشیر اور کنگ سلمان ہیومنٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر (KSrelief) کے سپروائزر جنرل ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے ماسکو کے سرکاری دورے کے دوران روسی وزارت ہنگامی حالات کی اسٹیٹ سینٹرل ایئر موبائل ریسکیو ٹیم (سینٹروسپاس) کے ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 23 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، اس دورے میں ڈاکٹر الربیعہ کو ٹیم کی تیز رفتار ردعمل کارروائیوں اور ملکی و بین الاقوامی آفات کے لیے فوری تعیناتی صلاحیتوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ انہیں ٹیم کے ہنگامی انسانی امدادی مشنوں پر بھی تفصیلی معلومات فراہم کی گئیں۔
آپریشنل جائزے میں ٹیم کے خصوصی یونٹس کو نمایاں کیا گیا۔ ان میں ملبے سے متاثرین کو نکالنے کے لیے تربیت یافتہ سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں، جدید طبی خدمات شامل ہیں جن میں موقع پر ٹرائیج اور ایرو میڈیکل انخلا کے لیے ہوائی جہاز سے منتقل ہونے والا فیلڈ ہسپتال شامل ہے، اور مربوط نفسیاتی معاونت اور ہنگامی مواصلاتی یونٹس بھی شامل ہیں۔
روس کی ہنگامی ریسکیو ٹیم کی صلاحیتوں کا جائزہ
سینٹروسپاس روسی وزارت ہنگامی حالات کے تحت کام کرنے والی ایک سرکاری ایئر موبائل ریسکیو ٹیم ہے۔ یہ ٹیم ملکی اور بین الاقوامی دونوں سطحوں پر آفات کے وقت فوری تعیناتی کے لیے جانی جاتی ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ایسی ٹیمیں آفت کے پہلے چند گھنٹوں میں کتنی اہم کردار ادا کرتی ہیں؟
ڈاکٹر الربیعہ کو دی گئی بریفنگ میں ٹیم کی تیز رفتار ردعمل کی صلاحیتوں پر روشنی ڈالی گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ٹیم کسی بھی ہنگامی صورتحال میں مختصر وقت میں متحرک ہو کر متاثرہ علاقوں تک پہنچ سکتی ہے۔ کیا آفت زدہ علاقوں میں پہلا امدادی جہاز پہنچنے کی رفتار ہی امدادی مشن کی کامیابی کا تعین کرتی ہے؟
ٹیم کے خصوصی یونٹس میں سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں شامل ہیں جو ملبے تلے دبے متاثرین کو نکالنے کی تربیت رکھتی ہیں۔ یہ مہارت زلزلے، عمارت کے گرنے یا دیگر تباہیوں کے بعد انتہائی نازک لمحات میں استعمال ہوتی ہے۔ کیا ملبے تلے سے کسی کو زندہ نکالنا صرف تربیت کا نتیجہ ہوتا ہے یا اس میں وقت بھی فیصلہ کن ہوتا ہے؟
جدید طبی خدمات میں ایک ایئر ٹرانسپورٹ ایبل فیلڈ ہسپتال شامل ہے۔ یہ ہسپتال موقع پر ٹرائیج یعنی مریضوں کی ترجیحی درجہ بندی اور ایرو میڈیکل انخلا کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ شدید زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد کے بعد ہوائی راستے سے محفوظ مقامات تک منتقل کیا جا سکتا ہے۔ کیا آفت کے دوران ہوائی طبی انخلا کے بغیر امدادی کارروائیاں مکمل ہو سکتی ہیں؟
ٹیم کے پاس مربوط نفسیاتی معاونت کے یونٹس بھی موجود ہیں۔ آفات کے بعد متاثرین اور امدادی کارکنوں دونوں کو نفسیاتی مدد کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ تباہی کے بعد ذہنی سکون بحال کرنا جسمانی بحالی جتنا ضروری کیوں ہے؟
ہنگامی مواصلاتی یونٹس بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔ جب عام مواصلاتی نظام منہدم ہو جائیں تو ایسے یونٹس امدادی کارروائیوں کے درمیان رابطہ برقرار رکھنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ کیا آفت کے دوران رابطے کی کمی امدادی کارروائیوں کو مفلوج کر سکتی ہے؟
یہ دورہ ڈاکٹر الربیعہ کے ماسکو کے سرکاری دورے کا حصہ تھا۔ کنگ سلمان ہیومنٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر دنیا بھر میں انسانی امدادی کاموں میں سرگرم ہے اور مختلف ممالک کی امدادی ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کرتا ہے۔ کیا بین الاقوامی امدادی اداروں کے درمیان اس طرح کے دورے مشترکہ کارروائیوں کو بہتر بناتے ہیں؟
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق اس دورے میں ٹیم کی آپریشنل صلاحیتوں کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ اس دورے کے نتیجے میں کوئی معاہدہ یا تعاون کی نئی صورت طے پائی یا نہیں۔ نہ ہی یہ بتایا گیا کہ دورے کے دوران کسی مخصوص آپریشن یا مشن پر بات چیت ہوئی۔
رپورٹ میں ڈاکٹر الربیعہ کے ساتھ موجود دیگر وفد ارکان کے نام یا عہدے بھی درج نہیں ہیں۔ اسی طرح اس بات کا کوئی ذکر نہیں کہ یہ دورہ کتنے دن جاری رہے گا یا اس کے دوران کون سی دیگر ملاقاتیں طے ہیں۔
سینٹروسپاس کے ہیڈکوارٹر کے دورے کی تفصیلات میں یہ بھی شامل نہیں کہ بریفنگ کس عہدیدار نے دی یا اس میں کتنے افراد شریک ہوئے۔ رپورٹ صرف یہ بتاتی ہے کہ ڈاکٹر الربیعہ کو ٹیم کی صلاحیتوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔
یہ دورہ سعودی عرب اور روس کے درمیان انسانی امدادی شعبے میں رابطوں کا حصہ دکھائی دیتا ہے۔ تاہم ایس پی اے کی اس رپورٹ میں اس بات کی تصدیق نہیں کی گئی کہ دونوں فریقوں کے درمیان کوئی باقاعدہ تعاون معاہدہ ہوا ہے۔
انسانی امدادی کارروائیوں میں مختلف ممالک کی ٹیموں کی صلاحیتوں سے آگاہی اہم سمجھی جاتی ہے۔ اس سے آفت کے وقت مشترکہ کارروائیوں میں ہم آہنگی ممکن ہو سکتی ہے۔ کیا آپ کے خیال میں ایسی معلومات کا تبادلہ مستقبل کی امدادی کارروائیوں کو تیز کر سکتا ہے؟
ڈاکٹر الربیعہ کی قیادت میں KSrelief مختلف بین الاقوامی فورموں میں انسانی امداد کے شعبے میں سعودی عرب کی نمائندگی کرتا ہے۔ ماسکو کا یہ دورہ اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ رپورٹ میں اس دورے کے ایجنڈے کے دیگر نکات کا ذکر موجود نہیں۔
ایس پی اے نے اس خبر میں ٹیم کے یونٹس کی تفصیلات تو دی ہیں لیکن اس بات کا کوئی تذکرہ نہیں کہ سعودی عرب اور روسی ہنگامی وزارت کے درمیان پہلے کیا تعاون رہا ہے۔ نہ ہی اس دورے کے ممکنہ نتائج کے بارے میں کوئی پیش گوئی کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق بریفنگ میں ٹیم کی ملکی اور بین الاقوامی آفات کے لیے فوری تعیناتی کی صلاحیتوں پر زور دیا گیا۔ یہ صلاحیت آفت کی شدت اور محل وقوع سے قطع نظر تیز ردعمل کی نشاندہی کرتی ہے۔ کیا تیز ردعمل کی صلاحیت ہی بین الاقوامی امدادی ٹیموں کا سب سے بڑا امتحان ہے؟
ٹیم کے سرچ اینڈ ریسکیو یونٹس کی تربیت کا مقصد ملبے سے متاثرین کو نکالنا ہے۔ یہ کام انتہائی مہارت اور جسمانی صلاحیت کا تقاضا کرتا ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس تربیت کی مدت یا طریقہ کار کی تفصیل نہیں دی گئی۔
فیلڈ ہسپتال کی ہوائی منتقلی کی صلاحیت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ ٹیم دور دراز علاقوں میں بھی طبی سہولیات فراہم کر سکتی ہے۔ رپورٹ میں ہسپتال کی گنجائش یا طبی عملے کی تعداد کا ذکر نہیں ہے۔
نفسیاتی معاونت کے یونٹس کی موجودگی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ ٹیم صرف جسمانی ریسکیو تک محدود نہیں۔ آفات کے بعد ذہنی صحت کی بحالی بھی امدادی کارروائیوں کا حصہ سمجھی جاتی ہے۔ رپورٹ میں اس یونٹ کے کام کرنے کے طریقے کی تفصیل موجود نہیں۔
ہنگامی مواصلاتی یونٹس کا تذکرہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ٹیم رابطے کے منقطع ہونے کے حالات کے لیے تیار ہے۔ آفت زدہ علاقوں میں مواصلاتی ڈھانچہ اکثر متاثر ہوتا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ امدادی کارروائیوں میں مواصلات کا نظام کس حد تک فیصلہ کن ہوتا ہے؟
ڈاکٹر الربیعہ کا یہ دورہ ماسکو میں ان کے سرکاری دورے کے دوران ہوا۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس دورے کے دیگر مصروفیات یا ملاقاتوں کا ذکر نہیں ہے۔ رپورٹ کا دائرہ صرف سینٹروسپاس کے ہیڈکوارٹر کے دورے اور وہاں دی گئی بریفنگ تک محدود ہے۔
یہ خبر سعودی عرب اور روس کے درمیان انسانی ہمدردی کے شعبے میں رابطوں کی عکاسی کرتی ہے۔ تاہم رپورٹ میں اس بات کی کوئی وضاحت نہیں کہ اس دورے سے کوئی عملی نتیجہ برآمد ہوا یا نہیں۔ قارئین کے لیے یہ جاننا دلچسپ ہو سکتا ہے کہ ایسے دورے طویل مدتی تعاون کی بنیاد بنتے ہیں یا نہیں۔
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق بریفنگ میں ٹیم کے خصوصی یونٹس کی تفصیلات پیش کی گئیں۔ ان میں سرچ اینڈ ریسکیو، طبی خدمات، نفسیاتی معاونت اور مواصلات شامل ہیں۔ رپورٹ میں ان یونٹس کے باہمی تعاون کے طریقہ کار کی وضاحت نہیں کی گئی۔
کنگ سلمان ہیومنٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر دنیا کے مختلف حصوں میں امدادی سرگرمیاں انجام دیتا ہے۔ اس کے سپروائزر جنرل کا مختلف ممالک کے امدادی اداروں کے دورے اس سلسلے کی اہم کڑیاں سمجھے جاتے ہیں۔ رپورٹ میں اس دورے کے بعد کے منصوبوں کا ذکر نہیں ہے۔
سینٹروسپاس کی بین الاقوامی آفات میں تعیناتی کی صلاحیت اسے عالمی امدادی منظر نامے میں ایک اہم کردار دیتی ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس ٹیم کے ماضی کے مشنوں کا کوئی تذکرہ نہیں ہے۔ نہ ہی اس بات کا ذکر ہے کہ سعودی عرب نے ماضی میں اس ٹیم کے ساتھ کسی مشن میں تعاون کیا ہو۔
رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر الربیعہ کو ٹیم کی فوری تعیناتی کی صلاحیتوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ یہ صلاحیت آفت کے ابتدائی لمحات میں زندگی بچانے کے لیے اہم ہوتی ہے۔ کیا آپ کے خیال میں امدادی ٹیموں کی کارکردگی کا اندازہ ان کی تیز رفتار تعیناتی سے لگایا جا سکتا ہے؟
ایس پی اے کی اس رپورٹ میں کسی مالی معاونت، عطیات یا امدادی سامان کی فراہمی کا ذکر نہیں ہے۔ یہ خبر بنیادی طور پر ایک معلوماتی دورے اور آپریشنل بریفنگ تک محدود ہے۔ رپورٹ میں اس بات کی بھی تصدیق نہیں کہ اس دورے کے نتیجے میں کوئی نیا منصوبہ ترتیب دیا گیا ہے۔
مجموعی طور پر یہ دورہ سعودی عرب اور روس کے درمیان انسانی امدادی شعبے میں معلومات کے تبادلے کی ایک مثال ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس دورے کے دورانیے، شرکاء کی مکمل فہرست یا اس کے ممکنہ نتائج کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔ قارئین کو صرف ان حقائق پر انحصار کرنا ہوگا جو رپورٹ میں درج ہیں۔
ڈاکٹر عبداللہ الربیعہ نے ماسکو میں کس ادارے کا دورہ کیا؟ انہوں نے روسی وزارت ہنگامی حالات کی اسٹیٹ سینٹرل ایئر موبائل ریسکیو ٹیم (سینٹروسپاس) کے ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا۔ یہ دورہ ان کے ماسکو کے سرکاری دورے کے دوران ہوا۔ ایس پی اے کے مطابق انہیں ٹیم کی تیز رفتار ردعمل کارروائیوں اور ملکی و بین الاقوامی آفات کے لیے فوری تعیناتی کی صلاحیتوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔
سینٹروسپاس کے خصوصی یونٹس کون سے ہیں؟ ایس پی اے کے مطابق ٹیم کے خصوصی یونٹس میں سرچ اینڈ ریسکیو ٹیمیں شامل ہیں جو ملبے سے متاثرین کو نکالنے کی تربیت رکھتی ہیں۔ اس کے علاوہ جدید طبی خدمات بھی شامل ہیں جن میں ہوائی جہاز سے منتقل ہونے والا فیلڈ ہسپتال موقع پر ٹرائیج اور ایرو میڈیکل انخلا کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ مربوط نفسیاتی معاونت اور ہنگامی مواصلاتی یونٹس بھی ٹیم کا حصہ ہیں۔
فیلڈ ہسپتال کی کیا خصوصیت بتائی گئی؟ رپورٹ کے مطابق ٹیم کے پاس ایک ایئر ٹرانسپورٹ ایبل فیلڈ ہسپتال موجود ہے۔ یہ ہسپتال موقع پر ٹرائیج یعنی مریضوں کی ترجیحی درجہ بندی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کے ذریعے ایرو میڈیکل انخلا بھی ممکن ہے، جس کا مطلب ہے کہ شدید زخمیوں کو ہوائی راستے سے منتقل کیا جا سکتا ہے۔ ایس پی اے نے ہسپتال کی گنجائش یا عملے کی تعداد نہیں بتائی۔
اس دورے کا مقصد کیا بتایا گیا؟ ایس پی اے کے مطابق ڈاکٹر الربیعہ کو ٹیم کی تیز رفتار ردعمل کارروائیوں اور فوری تعیناتی کی صلاحیتوں کے بارے میں آگاہ کیا گیا۔ انہیں ٹیم کے ہنگامی انسانی امدادی مشنوں پر بھی بریفنگ دی گئی۔ آپریشنل جائزے میں ٹیم کے خصوصی یونٹس کو نمایاں کیا گیا۔ رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کہ دورے کے نتیجے میں کوئی معاہدہ ہوا۔
کیا رپورٹ میں تعاون کے کسی معاہدے کا ذکر ہے؟ نہیں، ایس پی اے کی رپورٹ میں کسی معاہدے یا نئی تعاون کی صورت کا ذکر نہیں ہے۔ رپورٹ صرف یہ بتاتی ہے کہ ڈاکٹر الربیعہ نے ہیڈکوارٹر کا دورہ کیا اور انہیں ٹیم کی صلاحیتوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ اس میں اس دورے کے دورانیے، شرکاء کی مکمل فہرست یا ممکنہ نتائج کے بارے میں بھی کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
ہنگامی مواصلاتی یونٹس کی کیا اہمیت ہے؟ رپورٹ کے مطابق ٹیم میں ہنگامی مواصلاتی یونٹس بھی شامل ہیں۔ آفت زدہ علاقوں میں عام مواصلاتی نظام اکثر متاثر ہو جاتا ہے، اس لیے ایسے یونٹس امدادی کارروائیوں کے دوران رابطہ برقرار رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔ ایس پی اے نے ان یونٹس کے کام کرنے کے طریقے یا ان کے سازوسامان کی تفصیل نہیں دی۔