ریاض میں قومی سوسائٹی برائے انسانی حقوق (این ایس ایچ آر) نے اقوام متحدہ کے دن کے موقع پر اقوام متحدہ کے چارٹر کے مقاصد کے لیے عزم کی تجدید پر زور دیتے ہوئے حوثی ملیشیا کی خلاف ورزیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 25 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، یہ مطالبہ اقوام متحدہ کے دن کے موقع پر سامنے آیا جو ہر سال 24 اکتوبر کو منایا جاتا ہے۔
این ایس ایچ آر کے چیئرمین خالد بن عبدالرحمٰن الفخری نے کہا کہ یمن میں حوثی ملیشیا کی خلاف ورزیوں میں شہریوں کو نشانہ بنانا، بچوں کی بھرتی، بارودی سرنگیں بچھانا اور انسانی امداد کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالنا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ سعودی عرب پر حملے اور شہری تنصیبات اور مقدس مقامات پر حملے بھی ان خلاف ورزیوں کا حصہ ہیں جو لوگوں کی جان اور سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔
کیا اقوام متحدہ کے دن کا اصل پیغام صرف تقریبات اور بیانات تک محدود رہ گیا ہے؟ الفخری کے مطابق یہ خلاف ورزیاں فوری اور مؤثر بین الاقوامی کارروائی کا تقاضا کرتی ہیں تاکہ ان کا خاتمہ ہو، جانوں کا تحفظ ہو اور مزید حملوں کو روکا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کا دن محض اس ادارے کی بنیاد رکھنے والے اصولوں کی یاد دلانے کا موقع نہیں بلکہ ان اصولوں پر عمل کے اثرات کا جائزہ لینے کا موقع بھی ہے۔ ان کے بقول بین الاقوامی کارروائی کی افادیت کا حقیقی پیمانہ قراردادوں اور مذمتوں کی تعداد نہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ جانوں کے تحفظ، خلاف ورزیوں کی روک تھام اور متاثرین کو انصاف کی فراہمی میں کیا حاصل کرتی ہیں۔
کیا قراردادوں کی تعداد اور مذمتوں کے بیان بین الاقوامی کارروائی کی حقیقی کامیابی کی پیمائش کر سکتے ہیں؟ الفخری نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، اپنی قراردادوں کو نافذ کرے، حوثی ملیشیا کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کی افادیت کا جائزہ لے اور جوابدہی کے طریقہ کار کو مضبوط بنائے۔
انہوں نے ہتھیاروں اور فوجی اجزاء کی دہشت گرد ملیشیا تک اسمگلنگ سے نمٹنے کے لیے کارروائی کی بھی اپیل کی اور کہا کہ بین الاقوامی پابندیوں کی خلاف ورزی میں ملوث ثابت ہونے والے افراد اور اداروں کو جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔
کیا بین الاقوامی پابندیوں کے باوجود ہتھیاروں کی اسمگلنگ روکی جا سکی ہے؟ انہوں نے زور دیا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے لیے عزم کی تجدید کی قدر اس وقت ہے جب اس کے اصولوں کو ٹھوس اقدامات میں ڈھالا جائے جو لوگوں کا تحفظ کریں، ان کے وقار کو برقرار رکھیں اور امن و استحکام کے امکانات کو بہتر بنائیں۔
الفخری نے کہا کہ یمن میں حوثی ملیشیا کی جانب سے بچوں کی بھرتی ایک ایسی خلاف ورزی ہے جو نہ صرف یمن بلکہ پورے خطے کے مستقبل کو متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بارودی سرنگیں بچھانا شہریوں کی روزمرہ زندگی کو خطرے میں ڈالتا ہے اور انسانی امداد کی ترسیل میں رکاوٹ ضرورت مندوں تک مدد پہنچنے سے روکتی ہے۔
کیا انسانی امداد کی ترسیل میں رکاوٹ ڈالنا انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی نہیں؟ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب پر حملے اور شہری تنصیبات اور مقدس مقامات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے اور اسے روکنے کے لیے بین الاقوامی برادری کو متحد ہونا چاہیے۔
این ایس ایچ آر کے چیئرمین نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کی تجدید کی اصل قدر انہیں ٹھوس اقدامات میں ڈھالنے سے وابستہ ہے۔ ان کے مطابق اصولوں کا اعلان کافی نہیں بلکہ ان پر عمل درآمد ہی بین الاقوامی ادارے کی ساکھ کا تعین کرتا ہے۔
کیا اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصول آج کے چیلنجوں کا سامنا کرنے کے لیے کافی ہیں؟ انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کو اپنی قراردادوں کے نفاذ کو یقینی بنانا ہوگا اور حوثی ملیشیا کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کی وقتاً فوقتاً افادیت کا جائزہ لینا ہوگا تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ یہ اقدامات مؤثر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ جوابدہی کے طریقہ کار کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ خلاف ورزیوں کے مرتکب افراد اور ادارے قانون کے کٹہرے میں آئیں۔ ان کے بقول بین الاقوامی پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مؤثر کارروائی کے بغیر ان پابندیوں کا کوئی مطلب نہیں رہتا۔
کیا بین الاقوامی برادری حوثی ملیشیا کے خلاف اپنے وعدوں پر پورا اتر رہی ہے؟ الفخری نے کہا کہ ہتھیاروں اور فوجی اجزاء کی اسمگلنگ دہشت گرد ملیشیا کی طاقت کا ایک بڑا ذریعہ ہے اور اسے روکنا بین الاقوامی امن و سلامتی کے لیے ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہریوں کا تحفظ ہر بین الاقوامی کارروائی کا مرکز ہونا چاہیے اور کسی بھی سیاسی یا فوجی مفاد کو انسانی جانوں پر ترجیح نہیں دی جا سکتی۔ ان کے مطابق متاثرین کو انصاف کی فراہمی بین الاقوامی نظام کی اخلاقی بنیاد ہے۔
کیا متاثرین کو انصاف کی فراہمی کے بغیر دیرپا امن ممکن ہے؟ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے قیام کے مقاصد میں بین الاقوامی امن و سلامتی کا تحفظ اور انسانی حقوق کا احترام شامل ہے اور ان مقاصد کے لیے عزم کی تجدید ہر سال اس دن کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔
این ایس ایچ آر نے اس موقع پر بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ حوثی ملیشیا کی خلاف ورزیوں کے خاتمے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کرے۔ سوسائٹی نے کہا کہ ان خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رہنے سے خطے میں عدم استحکام بڑھتا ہے اور عام شہریوں کی زندگیاں خطرے میں پڑتی ہیں۔
کیا خطے میں امن کے لیے حوثی حملوں کا خاتمہ لازمی شرط ہے؟ الفخری نے کہا کہ بین الاقوامی کارروائی کی کامیابی کا اندازہ اس بات سے لگایا جانا چاہیے کہ اس سے جانوں کا تحفظ ہوا، خلاف ورزیاں رکیں اور متاثرین کو انصاف ملا۔
انہوں نے کہا کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کا نفاذ اور ان کے اثرات کا جائزہ بین الاقوامی نظام کی credibility کا امتحان ہے۔ ان کے مطابق اگر قراردادیں کاغذی کارروائی بن کر رہ جائیں تو بین الاقوامی ادارے کی ساکھ متاثر ہوتی ہے۔
این ایس ایچ آر کے چیئرمین نے کہا کہ انسانی حقوق کا تحفظ اور انسانی وقار کا احترام اقوام متحدہ کے چارٹر کی بنیاد ہے اور اس بنیاد کو مضبوط کرنے کے لیے ٹھوس اقدامات درکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امن و استحکام کے امکانات اسی وقت بہتر ہو سکتے ہیں جب اصولوں کو عملی جامہ پہنایا جائے۔
کیا بین الاقوامی ادارے اپنے قیام کے مقاصد کو پورا کر رہے ہیں؟ الفخری نے کہا کہ اقوام متحدہ کے دن پر عزم کی تجدید کا مطلب یہ ہے کہ ماضی کے تجربات سے سبق سیکھا جائے اور آئندہ کے لیے مؤثر حکمت عملی اپنائی جائے۔
انہوں نے کہا کہ یمن میں حوثی ملیشیا کی خلاف ورزیوں میں شہریوں کو نشانہ بنانا، بچوں کی بھرتی، بارودی سرنگیں بچھانا اور انسانی امداد کی ترسیل میں رکاوٹ شامل ہیں اور ان سب کا خاتمہ ضروری ہے۔ ان کے مطابق ان خلاف ورزیوں کے تسلسل سے انسانی بحران مزید گہرا ہو سکتا ہے۔
کیا انسانی بحران کے گہرے ہونے کے باوجود بین الاقوامی توجہ کم ہو رہی ہے؟ این ایس ایچ آر نے کہا کہ سعودی عرب پر حملے اور شہری تنصیبات اور مقدس مقامات کو نشانہ بنانا نہ صرف سعودی عرب بلکہ پوری بین الاقوامی برادری کے لیے تشویش کا باعث ہے۔
الفخری نے کہا کہ بین الاقوامی پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والے افراد اور اداروں کے خلاف کارروائی کے بغیر پابندیوں کا نظام کمزور پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہتھیاروں اور فوجی اجزاء کی اسمگلنگ روکنے کے لیے بین الاقوامی تعاون ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ جوابدہی کے مضبوط طریقہ کار سے ہی خلاف ورزیوں کا سلسلہ روکا جا سکتا ہے اور متاثرین کو انصاف مل سکتا ہے۔ ان کے مطابق یہی اقوام متحدہ کے چارٹر کے اصولوں کی حقیقی تجدید ہے۔
رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ این ایس ایچ آر نے اقوام متحدہ کے اداروں یا رکن ممالک سے کوئی مخصوص مطالبہ کیا یا کوئی وقت کی حد مقرر کی۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ان خلاف ورزیوں کے حوالے سے کوئی نیا اعداد و شمار پیش کیا گیا یا کوئی بین الاقوامی ردعمل سامنے آیا۔
این ایس ایچ آر نے اقوام متحدہ کے دن پر کیا پیغام دیا؟ قومی سوسائٹی برائے انسانی حقوق کے چیئرمین خالد بن عبدالرحمٰن الفخری نے کہا کہ اقوام متحدہ کے دن پر چارٹر کے مقاصد کے لیے عزم کی تجدید ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن محض اصولوں کی یاد دلانے کا موقع نہیں بلکہ ان پر عمل کے اثرات کا جائزہ لینے کا موقع بھی ہے۔ ان کے مطابق بین الاقوامی کارروائی کی افادیت کا پیمانہ قراردادوں کی تعداد نہیں بلکہ جانوں کا تحفظ اور متاثرین کو انصاف کی فراہمی ہے۔
حوثی ملیشیا پر کون سی خلاف ورزیوں کا الزام لگایا گیا؟ الفخری نے کہا کہ یمن میں حوثی ملیشیا کی خلاف ورزیوں میں شہریوں کو نشانہ بنانا، بچوں کی بھرتی، بارودی سرنگیں بچھانا اور انسانی امداد کی ترسیل میں رکاوٹ شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کے علاوہ سعودی عرب پر حملے اور شہری تنصیبات اور مقدس مقامات پر حملے بھی ان خلاف ورزیوں کا حصہ ہیں جو لوگوں کی جان اور سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان خلاف ورزیوں کا خاتمہ فوری بین الاقوامی کارروائی کا تقاضا کرتا ہے۔
سلامتی کونسل سے کیا مطالبہ کیا گیا؟ الفخری نے سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے، اپنی قراردادوں کو نافذ کرے، حوثی ملیشیا کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات کی افادیت کا جائزہ لے اور جوابدہی کے طریقہ کار کو مضبوط بنائے۔ انہوں نے ہتھیاروں اور فوجی اجزاء کی اسمگلنگ سے نمٹنے اور بین الاقوامی پابندیوں کی خلاف ورزی میں ملوث ثابت ہونے والے افراد اور اداروں کو جوابدہ ٹھہرانے کی بھی اپیل کی۔
بین الاقوامی کارروائی کی افادیت کا پیمانہ کیا ہے؟ الفخری کے مطابق بین الاقوامی کارروائی کی افادیت کا حقیقی پیمانہ قراردادوں اور مذمتوں کی تعداد نہیں بلکہ یہ ہے کہ وہ جانوں کے تحفظ، خلاف ورزیوں کی روک تھام اور متاثرین کو انصاف کی فراہمی میں کیا حاصل کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے لیے عزم کی تجدید کی قدر اس وقت ہے جب اس کے اصولوں کو ٹھوس اقدامات میں ڈھالا جائے جو لوگوں کا تحفظ کریں اور امن و استحکام کے امکانات بہتر بنائیں۔
رپورٹ میں کون سی معلومات شامل نہیں تھیں؟ رپورٹ میں یہ ذکر نہیں کیا گیا کہ این ایس ایچ آر نے اقوام متحدہ کے اداروں یا رکن ممالک سے کوئی مخصوص مطالبہ کیا یا کوئی وقت کی حد مقرر کی۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ان خلاف ورزیوں کے حوالے سے کوئی نیا اعداد و شمار پیش کیا گیا یا کوئی بین الاقوامی ردعمل سامنے آیا۔ ایس پی اے نے یہ بھی نہیں بتایا کہ اس بیان پر کسی بین الاقوامی ادارے کی جانب سے کوئی جواب آیا۔