خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے والے حوثی ملیشیا کے دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت اور واضح الفاظ میں مذمت کی ہے، جس کے نتیجے میں متعدد جانی نقصانات ہوئے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 9 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، البدیوی نے اس بات پر زور دیا کہ شہری ہوائی اڈوں اور مسافروں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا فوری بین الاقوامی کارروائی اور فیصلہ کن بازدارندگی کا تقاضا کرتا ہے تاکہ ایسے حملوں کی تکرار کو روکا جا سکے، جو بنیادی انسانی اصولوں اور بین الاقوامی کنونشنوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
سیکرٹری جنرل نے دوبارہ اعادہ کیا کہ مملکت سعودی عرب کی سلامتی جی سی سی کی اجتماعی سلامتی کا اٹوٹ حصہ ہے، اور انہوں نے کونسل کی مکمل یکجہتی اور مملکت کی جانب سے اپنے شہریوں، رہائشیوں، اہم بنیادی ڈھانچے اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے تمام اقدامات کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔
البدیوی نے متاثرین کے خاندانوں سے گہری تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کی۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں شہری ہوائی اڈوں کو نشانہ بنانے کے واقعات پر بین الاقوامی تشویش بڑھ رہی ہے۔ کیا شہری ہوائی اڈے، جہاں روزانہ ہزاروں مسافر سفر کرتے ہیں، کبھی بھی فوجی تنازعات کا جائز ہدف ہو سکتے ہیں؟ بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت شہری اہداف کو نشانہ بنانا واضح طور پر ممنوع ہے، اور ایسے حملے نہ صرف مسافروں بلکہ ایئرپورٹ پر کام کرنے والے ہزاروں ملازمین کی جان کو بھی خطرے میں ڈالتے ہیں۔
جی سی سی سیکرٹری جنرل کا یہ بیان خلیجی ممالک کے مشترکہ سیکیورٹی فریم ورک کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ کیا خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک کی اجتماعی سلامتی کا تصور اس وقت مزید مضبوط ہو جاتا ہے جب کسی ایک رکن ریاست کو اس نوعیت کے حملے کا سامنا ہو؟ البدیوی کا یہ واضح موقف کہ مملکت کی سلامتی جی سی سی کی اجتماعی سلامتی کا اٹوٹ حصہ ہے، اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خلیجی ممالک اپنی سیکیورٹی کو ایک مشترکہ ذمہ داری کے طور پر دیکھتے ہیں۔
حوثی ملیشیا کی جانب سے شہری ہوائی اڈے کو نشانہ بنانا بین الاقوامی کنونشنوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ کیا اس طرح کے حملوں کے مرتکب افراد اور گروہوں کے خلاف بین الاقوامی سطح پر فیصلہ کن کارروائی کا وقت نہیں آ گیا؟ البدیوی نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے حملوں کی تکرار کو روکنے کے لیے فوری بین الاقوامی کارروائی اور فیصلہ کن بازدارندگی ضروری ہے، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ خلیجی ممالک صرف مذمت پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ عملی اقدامات کے خواہاں ہیں۔
کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ ریاض کا اہم ترین ہوائی اڈہ ہے اور مملکت کی اقتصادی اور سماجی زندگی کی شریان ہے۔ کیا اس طرح کے حملے مملکت کی معیشت اور عوام کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں؟ ہوائی اڈے بین الاقوامی تجارت، سیاحت اور کاروباری سرگرمیوں کے لیے مرکزی دروازے کی حیثیت رکھتے ہیں، اور ان پر حملہ نہ صرف سیکیورٹی بلکہ اقتصادی استحکام کو بھی نشانہ بناتا ہے۔
سیکرٹری جنرل نے مملکت کی جانب سے اپنے شہریوں، رہائشیوں، اہم بنیادی ڈھانچے اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے تمام اقدامات کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ کیا یہ موقف خلیجی تعاون کونسل کے رکن ممالک کے درمیان دفاعی اور سیکیورٹی تعاون کو مزید گہرا کرنے کا باعث بنے گا؟ جی سی سی کا یہ مؤقف اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ خلیجی ممالک اپنی سیکیورٹی کو ایک مربوط نظام کے تحت دیکھتے ہیں جس میں کسی ایک رکن کی حفاظت سب کی حفاظت سمجھی جاتی ہے۔
البدیوی نے متاثرین کے خاندانوں سے گہری تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کی۔ کیا اس طرح کے المناک واقعات کے بعد متاثرین کے خاندانوں کی مدد اور زخمیوں کے علاج کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کیے جائیں گے؟ انسانی ہمدردی کے پہلو کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، اور ایسے حملوں کے بعد متاثرین کی دیکھ بھال اور ان کے خاندانوں کی معاونت اولین ترجیح ہونی چاہیے۔
یہ حملہ اس وقت سامنے آیا جب خطے میں کشیدگی کے متعدد محاذ موجود ہیں۔ کیا بین الاقوامی برادری اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تیار ہے کہ شہری اہداف کو نشانہ بنانے والے حملوں کے خلاف مؤثر اور متفقہ ردعمل سامنے آئے؟ بین الاقوامی برادری کی جانب سے فیصلہ کن ردعمل کی عدم موجودگی میں ایسے حملوں کی تکرار کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، جس کا براہ راست اثر عام شہریوں پر پڑتا ہے۔
سعودی عرب نے ہمیشہ اپنی سرزمین اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام اٹھانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ کیا خلیجی تعاون کونسل کے ساتھ یکجہتی کا یہ اظہار مملکت کی سیکیورٹی حکمت عملی کو مزید تقویت دے گا؟ جی سی سی کا مؤقف اس بات کا غماز ہے کہ خلیجی ممالک اپنے مشترکہ مفادات اور سلامتی کے تحفظ کے لیے متحد ہیں، اور کسی ایک رکن کے خلاف حملہ سب کے خلاف حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
ایس پی اے کی رپورٹ میں حملے کی تفصیلات، اس کے طریقہ کار یا اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات کی مقدار کے بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ حملے کے بعد ہوائی اڈے کی کارروائیوں پر کیا اثرات مرتب ہوئے یا متاثرین کی تعداد کتنی ہے۔
کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر حملے کی مذمت کس نے کی؟ خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے ریاض کے کنگ خالد انٹرنیشنل ایئرپورٹ کو نشانہ بنانے والے حوثی ملیشیا کے دہشت گردانہ حملے کی شدید مذمت اور واضح الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے اسے بنیادی انسانی اصولوں اور بین الاقوامی کنونشنوں کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ یہ بیان سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق 9 اکتوبر 2026 کو سامنے آیا۔
حملے کے نتیجے میں کیا نقصان ہوا؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق حوثی ملیشیا کے اس حملے کے نتیجے میں متعدد جانی نقصانات ہوئے۔ تاہم رپورٹ میں متاثرین کی صحیح تعداد، ان کی شناخت یا زخمیوں کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔ رپورٹ میں ہوائی اڈے کی عمارت یا بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کی مقدار کے بارے میں بھی کوئی معلومات نہیں دی گئیں۔
جی سی سی سیکرٹری جنرل نے بین الاقوامی برادری سے کیا مطالبہ کیا؟ جاسم البدیوی نے اس بات پر زور دیا کہ شہری ہوائی اڈوں اور مسافروں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانا فوری بین الاقوامی کارروائی اور فیصلہ کن بازدارندگی کا تقاضا کرتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حملوں کی تکرار کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں، کیونکہ یہ حملے بنیادی انسانی اصولوں اور بین الاقوامی کنونشنوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں جی سی سی کا موقف کیا ہے؟ البدیوی نے دوبارہ اعادہ کیا کہ مملکت سعودی عرب کی سلامتی جی سی سی کی اجتماعی سلامتی کا اٹوٹ حصہ ہے۔ انہوں نے کونسل کی مکمل یکجہتی اور مملکت کی جانب سے اپنے شہریوں، رہائشیوں، اہم بنیادی ڈھانچے اور علاقائی سالمیت کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے تمام اقدامات کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔
البدیوی نے متاثرین کے بارے میں کیا کہا؟ جی سی سی سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے متاثرین کے خاندانوں سے گہری تعزیت کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی خواہش کی۔ یہ بیان انسانی ہمدردی کے پہلو کو اجاگر کرتا ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ایسے حملوں کے بعد متاثرین اور ان کے اہل خانہ کی دیکھ بھال کو ترجیح دی جانی چاہیے۔