Monday, October 26, 2026
سعودی خبریں

خادم الحرمین الشریفین پروگرام کے مہمانوں نے مسجد نبوی میں جمعہ کی نماز ادا کی

خادم الحرمین الشریفین پروگرام کے مہمانوں نے مسجد نبوی میں جمعہ کی نماز ادا کی

مدینہ منورہ میں خادم الحرمین الشریفین پروگرام برائے عمرہ و زیارت کے چوتھے گروپ کے 250 مہمانوں نے مسجد نبوی میں جمعہ کی نماز ادا کی، اور نماز کے بعد شیخ خالد المہنا کا خطبہ سنا۔ یہ پروگرام وزارت اسلامی امور، دعوت و ارشاد کی نگرانی میں 1448 ہجری کے لیے جاری ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 9 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، نماز اور خطبے کے بعد مہمانوں نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے زائرین کو دی گئی بہترین نگہداشت اور سہولیات پر اپنی قدردانی کا اظہار کیا۔

کیا یہ منظر کسی کے دل کو نہیں چھو لیتا کہ دنیا کے مختلف کونوں سے آئے زائرین ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر ایک ہی قبلہ کی طرف رخ کرتے ہیں؟

مہمانوں نے وزارت کی بے مثال ہم آہنگی، پرخلوص مہمان نوازی اور ان کے قیام کے دوران فراہم کیے گئے ثقافتی و مذہبی پروگراموں کی بھی تعریف کی۔ ایس پی اے کے مطابق یہ گروپ 21 ممالک سے تعلق رکھنے والے 250 زائرین پر مشتمل ہے۔

ان ممالک میں ازبکستان، پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت، سری لنکا، نیپال، مالدیپ، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان، آذربائیجان، ترکی، جارجیا، روس، بھوٹان، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، وانواتو، سولومن آئی لینڈز اور فجی شامل ہیں۔

کیا یہ حیرت انگیز نہیں کہ ایک ہی پروگرام میں وسطی ایشیا کے پہاڑوں سے لے کر بحر الکاہل کے جزیروں تک کے مسلمان شامل ہیں؟

یہ گروپ خادم الحرمین الشریفین پروگرام برائے عمرہ و زیارت کے چوتھے مرحلے کا حصہ ہے، جو 1448 ہجری کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ وزارت اسلامی امور، دعوت و ارشاد اس پروگرام کی نگرانی کرتی ہے، جس کا مقصد مختلف ممالک کے مسلمانوں کو عمرہ اور زیارت کی سہولت فراہم کرنا ہے۔

مسجد نبوی میں جمعہ کی نماز میں شرکت زائرین کے لیے ایک خاص روحانی تجربہ ہوتا ہے، جہاں دنیا بھر سے آنے والے مسلمان ایک ساتھ عبادت کرتے ہیں۔ نماز کے بعد شیخ خالد المہنا کے خطبے نے زائرین کو مزید روحانی سکون فراہم کیا۔

کیا ایسے لمحات زائرین کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے نقش نہیں ہو جاتے؟

مہمانوں نے اپنے بیان میں کہا کہ انہیں دوران قیام بہترین مہمان نوازی اور بہترین انتظامات کا تجربہ ہوا۔ انہوں نے وزارت اسلامی امور، دعوت و ارشاد کی کوششوں کو سراہا، جس نے ان کے قیام کے دوران ہم آہنگی، مہمان نوازی اور ثقافتی و مذہبی پروگراموں کو یقینی بنایا۔

یہ پروگرام سعودی عرب کی قیادت کی جانب سے دنیا بھر کے مسلمانوں کی خدمت کے عزم کا مظہر ہے۔ زائرین نے اس موقع پر خادم الحرمین الشریفین اور ولی عہد کا شکریہ ادا کیا، جن کی ہدایات پر یہ پروگرام کامیابی سے جاری ہے۔

کیا یہ پروگرام مختلف ممالک کے مسلمانوں کے درمیان بھائی چارے کو مضبوط نہیں کرتا؟

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، مہمانوں نے وزارت کی جانب سے فراہم کردہ سہولیات اور پروگراموں کو بھی سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ان کے قیام کے دوران انہیں ثقافتی اور مذہبی مقامات کی زیارت کروائی گئی، جس سے ان کے تجربے میں اضافہ ہوا۔

یہ گروپ 21 ممالک کی نمائندگی کرتا ہے، جس میں مختلف ثقافتوں اور زبانوں کے مسلمان شامل ہیں۔ ان کی موجودگی مسجد نبوی میں جمعہ کے موقع پر ایک منفرد رنگ پیش کرتی ہے۔

کیا دنیا بھر سے آنے والے یہ زائرین اپنے ساتھ اپنے ملکوں کی دعائیں اور امیدیں نہیں لاتے؟

خادم الحرمین الشریفین پروگرام برائے عمرہ و زیارت کے تحت ہر سال مختلف ممالک کے مسلمانوں کو عمرہ اور زیارت کا موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ یہ پروگرام وزارت اسلامی امور، دعوت و ارشاد کی نگرانی میں چلتا ہے، جو زائرین کی رہائش، آمد و رفت اور دیگر سہولیات کا انتظام کرتی ہے۔

مسجد نبوی میں جمعہ کی نماز ادا کرنا زائرین کے لیے ایک اعزاز ہے، جہاں وہ شیخ خالد المہنا جیسے معروف خطیب کا خطبہ سن سکتے ہیں۔ نماز کے بعد زائرین نے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے سعودی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔

کیا یہ سہولیات سعودی عرب کی مہمان نوازی کی عکاسی نہیں کرتیں؟

ایس پی اے کے مطابق، مہمانوں نے وزارت کی ہم آہنگی کو بے مثال قرار دیا اور کہا کہ ان کے قیام کے دوران کوئی کمی محسوس نہیں ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ وزارت نے ان کے لیے ثقافتی اور مذہبی پروگرام ترتیب دیے، جن سے انہیں سعودی عرب کی تاریخ اور ثقافت کو سمجھنے کا موقع ملا۔

یہ پروگرام نہ صرف عمرہ اور زیارت کی سہولت فراہم کرتا ہے بلکہ مختلف ممالک کے مسلمانوں کے درمیان رابطے کا ذریعہ بھی ہے۔ ایک ہی جگہ پر 21 ممالک کے مسلمانوں کا جمع ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام کی تعلیمات عالمگیر ہیں۔

کیا ایسے مواقع پر مسلمانوں کے درمیان اختلافات ختم نہیں ہو جاتے؟

خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی قیادت میں سعودی عرب دنیا بھر کے مسلمانوں کی خدمت کے لیے کوشاں ہے۔ یہ پروگرام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس کے تحت ہر سال ہزاروں زائرین کو عمرہ اور زیارت کا موقع ملتا ہے۔

مہمانوں نے اپنے بیان میں کہا کہ وہ اس موقع پر سعودی قیادت کے لیے دعائیں کرتے ہیں اور ان کی کوششوں کو سراہتے ہیں۔ انہوں نے وزارت اسلامی امور، دعوت و ارشاد کے عملے کی محنت کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔

کیا یہ پروگرام سعودی عرب کے عالمی کردار کو اجاگر نہیں کرتا؟

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، جمعہ کی نماز کے بعد مہمانوں نے اپنے تاثرات کا اظہار کیا اور کہا کہ انہیں مسجد نبوی میں نماز ادا کرنے کا موقع ملا، جو ان کے لیے ایک خواب کی تعبیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اس تجربے کو اپنے ساتھ لے کر جائیں گے۔

یہ گروپ 21 ممالک سے تعلق رکھتا ہے، جن میں ازبکستان، پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت، سری لنکا، نیپال، مالدیپ، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان، آذربائیجان، ترکی، جارجیا، روس، بھوٹان، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، وانواتو، سولومن آئی لینڈز اور فجی شامل ہیں۔

کیا یہ تنوع مسلم امہ کی وحدت کا مظہر نہیں؟

وزارت اسلامی امور، دعوت و ارشاد کی نگرانی میں یہ پروگرام 1448 ہجری کے لیے جاری ہے، اور چوتھا گروپ اس کا حصہ ہے۔ مہمانوں نے وزارت کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہیں ہر مرحلے پر رہنمائی اور سہولیات فراہم کی گئیں۔

مسجد نبوی میں جمعہ کی نماز کے بعد زائرین نے اپنے ملکوں کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے دعائیں کیں۔ انہوں نے سعودی عرب کی قیادت اور عوام کے لیے بھی نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ مہمانوں کا قیام کتنے دنوں پر محیط ہے، نہ ہی ان کے دورے کے دیگر مقامات کا ذکر کیا گیا۔ رپورٹ میں صرف جمعہ کی نماز اور خطبے کا ذکر ہے، اور مہمانوں کے تاثرات شامل ہیں۔

خادم الحرمین الشریفین پروگرام کے مہمانوں نے مسجد نبوی میں کون سی نماز ادا کی؟ مہمانوں نے مسجد نبوی میں جمعہ کی نماز ادا کی اور نماز کے بعد شیخ خالد المہنا کا خطبہ سنا۔ یہ پروگرام وزارت اسلامی امور، دعوت و ارشاد کی نگرانی میں 1448 ہجری کے لیے جاری ہے۔ ایس پی اے کے مطابق یہ چوتھے گروپ کے مہمان تھے۔

اس گروپ میں کتنے زائرین اور کون سے ممالک شامل ہیں؟ گروپ 250 زائرین پر مشتمل ہے جو 21 ممالک کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ان ممالک میں ازبکستان، پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت، سری لنکا، نیپال، مالدیپ، قازقستان، کرغزستان، تاجکستان، ترکمانستان، آذربائیجان، ترکی، جارجیا، روس، بھوٹان، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، وانواتو، سولومن آئی لینڈز اور فجی شامل ہیں۔

مہمانوں نے کس کا شکریہ ادا کیا؟ مہمانوں نے خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے زائرین کو دی گئی نگہداشت اور سہولیات پر قدردانی کا اظہار کیا۔ انہوں نے وزارت اسلامی امور، دعوت و ارشاد کی ہم آہنگی اور مہمان نوازی کو بھی سراہا۔

خطبہ جمعہ کس نے دیا؟ مسجد نبوی میں جمعہ کا خطبہ شیخ خالد المہنا نے دیا۔ ایس پی اے کے مطابق مہمانوں نے نماز کے بعد خطبہ سنا اور پھر اپنے تاثرات کا اظہار کیا۔ رپورٹ میں خطبے کے موضوع یا مواد کا ذکر نہیں کیا گیا۔

یہ پروگرام کس کی نگرانی میں چل رہا ہے؟ یہ پروگرام وزارت اسلامی امور، دعوت و ارشاد کی نگرانی میں چل رہا ہے اور 1448 ہجری کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔ وزارت زائرین کی رہائش، آمد و رفت اور ثقافتی و مذہبی پروگراموں کا انتظام کرتی ہے۔ مہمانوں نے وزارت کی ہم آہنگی اور مہمان نوازی کو سراہا۔

کیا رپورٹ میں قیام کی مدت یا دیگر مقامات کا ذکر ہے؟ نہیں، ایس پی اے کی رپورٹ میں مہمانوں کے قیام کی مدت، دیگر مقامات یا دورے کے شیڈول کا ذکر نہیں کیا گیا۔ رپورٹ میں صرف جمعہ کی نماز، خطبے اور مہمانوں کے تاثرات شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق مہمانوں نے وزارت کی فراہم کردہ ثقافتی و مذہبی پروگراموں کی تعریف کی۔