Monday, October 26, 2026
سائنس

سعودی جیولوجیکل سروے کی تحقیق جرنل نیچر میں شائع، عربین جزیرہ نما کی 8 ملین سالہ تاریخ پر روشنی

سعودی جیولوجیکل سروے کی تحقیق جرنل نیچر میں شائع، عربین جزیرہ نما کی 8 ملین سالہ تاریخ پر روشنی

جدہ میں سعودی جیولوجیکل سروے (ایس جی ایس) نے عالمی جرنل نیچر میں ایک نئی سائنسی تحقیقی مطالعہ شائع کیا ہے، جو گرین عربیہ پروجیکٹ کے تحت مکمل ہوا۔ یہ مطالعہ 8 ملین سال پر محیط ایک بڑے ڈیٹا بیس پر مبنی ہے جو جزیرہ نما عرب کی قدرتی تاریخ کا احاطہ کرتا ہے، اور اس میں غاروں میں جمع ہونے والے معدنی ذخائر (اسپیلیوتھیمز) کا تجزیہ شامل ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، یہ تحقیق ہیریٹیج کمیشن کی نگرانی میں کنگ سعود یونیورسٹی اور جرمنی کے شہر مینز میں میکس پلانک انسٹیٹیوٹ فار کیمسٹری کے تعاون سے کی گئی، جس میں امریکہ اور کینیڈا کے متعدد ماہرین بھی شامل تھے۔ ایس جی ایس کے ڈائریکٹر آف جیو ٹورازم یحییٰ المفرح نے اس کی تفصیلات بتائیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ جزیرہ نما عرب کی آب و ہوا آج سے کئی گنا مختلف تھی؟ المفرح کے مطابق، تحقیق میں ریڈیو ایکٹو اور اسٹیبل آئسوٹوپس کے تجزیے کی جدید ترین تکنیکیں استعمال کی گئیں تاکہ چونا پتھر کی غاروں میں موجود ذخائر کے ذریعے قدیم موسمی واقعات کی ترتیب کو دستاویزی شکل دی جا سکے۔ یہ طریقہ کار سائنسدانوں کو لاکھوں سال پرانے موسمی ریکارڈ تک رسائی دیتا ہے۔

مطالعے کے نتائج نے گیلے موسمی مراحل کے وجود کا انکشاف کیا جو ماضی کے ادوار میں بار بار آئے۔ المفرح کے مطابق، ان مراحل سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ جزیرہ نما عرب میں صحرا بندی کا آغاز ممکنہ طور پر انہی ادوار میں ہوا۔ کیا آپ تصور کر سکتے ہیں کہ آج کا خشک صحرا کبھی مسلسل بارشوں کا علاقہ تھا؟

ان مراحل میں بارش کی مقدار میں بتدریج کمی اور تغیر میں اضافہ جھلکتا ہے، جس کی وجہ مون سون کے اثرات کی کمزوری اور اشنکٹبندیی طوفانوں کے نمونوں میں تبدیلی کو قرار دیا گیا ہے۔ یہ تبدیلیاں آرکٹک میں قطبی برفانی تودے کے پھیلاؤ کے ساتھ بیک وقت رونما ہوئیں۔ کیا موسمیاتی تبدیلی کے یہ قدیم اشارے آج کے ماحولیاتی چیلنجوں کے بارے میں کچھ بتاتے ہیں؟

المفرح کے مطابق، زیادہ گیلے حالات نے افریقہ اور یوریشیا کے درمیان ممالیہ جانوروں کی منتقلی کو آسان بنایا، اور عرب نے براعظمی سطح پر حیاتیاتی جغرافیائی تبادلوں کے لیے ایک اہم سنگم کا کردار ادا کیا۔ کیا یہ حقیقت عرب کی جغرافیائی اہمیت کو ایک نئے زاویے سے نہیں دکھاتی؟

یہ تحقیق گرین عربیہ پروجیکٹ کا حصہ ہے، جو جزیرہ نما عرب کی قدیم ماحولیاتی اور حیاتیاتی تاریخ کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ ہیریٹیج کمیشن کی نگرانی، کنگ سعود یونیورسٹی کی شراکت اور میکس پلانک انسٹیٹیوٹ فار کیمسٹری کے تعاون کے ساتھ ساتھ امریکہ اور کینیڈا کے ماہرین کی شمولیت اس مطالعے کو بین الاقوامی سطح پر ایک کثیر الجہتی کوشش بناتی ہے۔ کیا بین الاقوامی تعاون سائنسی تحقیق کے معیار کو بلند نہیں کرتا؟

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، مطالعہ میں 8 ملین سال کے ڈیٹا بیس کا استعمال کیا گیا، جو عرب کی قدرتی تاریخ کے طویل ترین ادوار کا احاطہ کرتا ہے۔ یہ ڈیٹا بیس غاروں کے ذخائر سے حاصل ہونے والے شواہد پر مشتمل ہے، جو موسمی تبدیلیوں کا قدرتی ریکارڈ محفوظ رکھتے ہیں۔ کیا غاریں ماضی کے موسم کا سب سے قابل اعتماد آرکائیو ہیں؟

المفرح نے وضاحت کی کہ ریڈیو ایکٹو اور اسٹیبل آئسوٹوپس کے تجزیے سے قدیم موسمی واقعات کی ترتیب کو دستاویزی شکل دی گئی۔ یہ تکنیک سائنسدانوں کو یہ سمجھنے میں مدد دیتی ہے کہ کب بارشیں زیادہ تھیں اور کب خشکی بڑھی۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ آئسوٹوپ تجزیہ کس طرح لاکھوں سال پرانے موسم کو پڑھتا ہے؟

نتائج کے مطابق، گیلے موسمی مراحل ماضی کے ادوار میں بار بار آئے، اور انہی ادوار میں صحرا بندی کا آغاز ممکنہ طور پر ہوا۔ یہ نتیجہ عرب کے موسمی مستقبل کے بارے میں سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔ کیا صحرا بندی ایک ایسا عمل ہے جو آج بھی جاری ہے؟

بارش کی مقدار میں بتدریج کمی اور تغیر میں اضافہ مون سون کے کمزور اثرات اور اشنکٹبندیی طوفانوں کے نمونوں میں تبدیلی سے منسوب کیا گیا، جو آرکٹک میں قطبی برفانی تودے کے پھیلاؤ کے ساتھ ہم آہنگ تھا۔ یہ عالمی موسمی نظاموں کے باہمی تعلق کو ظاہر کرتا ہے۔ کیا قطبی علاقوں کی تبدیلیاں دور دراز صحراؤں کو متاثر کر سکتی ہیں؟

زیادہ گیلے حالات نے افریقہ اور یوریشیا کے درمیان ممالیہ جانوروں کی منتقلی کو آسان بنایا، اور عرب براعظمی حیاتیاتی جغرافیائی تبادلوں کا اہم سنگم رہا۔ یہ بات عرب کی جغرافیائی حیثیت کو حیاتیاتی تنوع کے تناظر میں نمایاں کرتی ہے۔ کیا عرب کی سرزمین نے جانوروں کی منتقلی میں پل کا کردار ادا کیا؟

ایس پی اے کی رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کہ تحقیق کے لیے کون سی مخصوص غاریں یا مقامات استعمال ہوئے، نہ ہی ڈیٹا بیس کے حجم کے بارے میں مزید تفصیل دی گئی۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ یہ مطالعہ نیچر جرنل کے کس شمارے میں شائع ہوا۔

یہ تحقیق کس نے اور کس تعاون سے کی؟ سعودی جیولوجیکل سروے نے یہ تحقیق گرین عربیہ پروجیکٹ کے تحت شائع کی۔ اس کی نگرانی ہیریٹیج کمیشن نے کی، جبکہ کنگ سعود یونیورسٹی اور جرمنی کے شہر مینز میں میکس پلانک انسٹیٹیوٹ فار کیمسٹری نے تعاون کیا۔ اس میں امریکہ اور کینیڈا کے متعدد ماہرین بھی شامل تھے۔ ایس پی اے کے مطابق یہ بین الاقوامی شراکت تحقیق کی بنیاد ہے۔

تحقیق میں کون سی تکنیک استعمال کی گئی؟ ایس جی ایس کے ڈائریکٹر آف جیو ٹورازم یحییٰ المفرح کے مطابق، تحقیق میں ریڈیو ایکٹو اور اسٹیبل آئسوٹوپس کے تجزیے کی جدید ترین تکنیکیں استعمال کی گئیں۔ ان تکنیکوں سے چونا پتھر کی غاروں میں موجود ذخائر (اسپیلیوتھیمز) کے ذریعے قدیم موسمی واقعات کی ترتیب کو دستاویزی شکل دی گئی۔ یہ تجزیہ 8 ملین سال پر محیط ڈیٹا بیس پر مبنی تھا۔

مطالعے کے اہم نتائج کیا ہیں؟ نتائج کے مطابق، ماضی کے ادوار میں گیلے موسمی مراحل بار بار آئے، اور انہی ادوار میں جزیرہ نما عرب میں صحرا بندی کا آغاز ممکنہ طور پر ہوا۔ المفرح کے مطابق ان مراحل میں بارش کی مقدار میں بتدریج کمی اور تغیر میں اضافہ جھلکتا ہے، جو مون سون کے کمزور اثرات اور اشنکٹبندیی طوفانوں کے نمونوں میں تبدیلی سے منسوب ہے۔

صحرا بندی کی وجوہات کیا بتائی گئی ہیں؟ المفرح کے مطابق، بارش میں کمی اور تغیر میں اضافہ مون سون کے اثرات کی کمزوری اور اشنکٹبندیی طوفانوں کے نمونوں میں تبدیلی کی وجہ سے ہوا۔ یہ تبدیلیاں آرکٹک میں قطبی برفانی تودے کے پھیلاؤ کے ساتھ بیک وقت رونما ہوئیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ عوامل مل کر صحرا بندی کے آغاز کی وضاحت کرتے ہیں۔

عرب کا حیاتیاتی جغرافیائی کردار کیا تھا؟ المفرح کے مطابق، زیادہ گیلے حالات نے افریقہ اور یوریشیا کے درمیان ممالیہ جانوروں کی منتقلی کو آسان بنایا۔ عرب نے براعظمی سطح پر حیاتیاتی جغرافیائی تبادلوں کے لیے ایک اہم سنگم کا کردار ادا کیا۔ یہ بات تحقیق میں عرب کی جغرافیائی حیثیت کو حیاتیاتی تنوع کے تناظر میں نمایاں کرتی ہے۔

رپورٹ میں کیا تفصیلات شامل نہیں ہیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ ذکر نہیں کہ تحقیق کے لیے کون سی مخصوص غاریں یا مقامات استعمال ہوئے، نہ ہی ڈیٹا بیس کے حجم کے بارے میں مزید تفصیل دی گئی۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ مطالعہ نیچر جرنل کے کس شمارے میں شائع ہوا۔ ان تفصیلات کے بغیر صرف بنیادی نتائج دستیاب ہیں۔