Monday, October 26, 2026
سماجی

مدینہ میں جمعہ کا خطبہ: نرم گفتگو ایمان کو بلند اور دلوں کو جوڑتی ہے

مدینہ میں جمعہ کا خطبہ: نرم گفتگو ایمان کو بلند اور دلوں کو جوڑتی ہے

مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کے امام شیخ خالد المہنا نے جمعہ کے خطبے میں کہا کہ اسلام کی کاملیت اس کی پاکیزہ گفتگو اور نرم بیانی کی دعوت میں ظاہر ہوتی ہے، اور انہوں نے نمازیوں سے کہا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں جن کی زبان میں بے مثال فصاحت اور شائستگی تھی اور جو سختی اور فحش گوئی سے پاک تھے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 9 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، خطبے میں شیخ المہنا نے نمازیوں کو اپنی زبان کی حفاظت اور ضبط نفس کی تلقین کی، اور واضح کیا کہ اچھا بول ایک صدقہ ہے جو روحانی درجہ بلند کرتا ہے، ضرورت مندوں کو سکون دیتا ہے اور ٹوٹے دلوں کو جوڑتا ہے۔

خطبے کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ اسلام کی خوبصورتی اس کے اخلاقی پیغام میں ہے، اور یہ پیغام سب سے پہلے زبان سے نکلتا ہے۔ امام نے کہا کہ پاکیزہ گفتگو اور نرم بیانی اسلام کی کاملیت کی نشانی ہے۔ کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ہماری روزمرہ گفتگو ہمارے ایمان کا آئینہ کیوں نہیں ہوتی؟

انہوں نے نمازیوں کو ہدایت دی کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو اپنائیں، جن کی زبان میں بے مثال فصاحت اور شائستگی تھی اور جو سختی اور فحش گوئی سے پاک تھے۔ یہ وہ صفت ہے جسے امام نے امت کے لیے نمونہ قرار دیا۔ کیا ہم اپنی گفتگو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس انداز کو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں؟

شیخ المہنا نے زور دیا کہ زبان کی حفاظت اور ضبط نفس مومن کی پہچان ہے۔ ان کے مطابق، انسان کی زبان اس کے کردار کا سب سے بڑا ترجمان ہے، اور جو شخص اپنی زبان کو قابو میں رکھتا ہے وہ اپنے نفس کو بھی قابو میں رکھتا ہے۔ کیا ہم نے کبھی محسوس کیا کہ ایک غلط لفظ کتنی دیر تک دلوں میں زخم چھوڑتا ہے؟

امام نے واضح کیا کہ اچھا بول ایک صدقہ ہے۔ یہ صدقہ صرف مالی نہیں بلکہ اخلاقی ہے، جو روحانی درجہ بلند کرتا ہے۔ ان کے مطابق، اچھی بات کہنے والا شخص اللہ کے نزدیک بلند مقام پاتا ہے، اور یہ عمل اس کے ایمان کی گہرائی کو ظاہر کرتا ہے۔ کیا اچھے لفظ کی قیمت کسی مالی صدقے سے کم ہے؟

خطبے میں یہ بھی کہا گیا کہ اچھا بول ضرورت مندوں کو سکون دیتا ہے۔ ایک مہربان جملہ کسی پریشان حال انسان کے لیے سہارا بن سکتا ہے، اور یہی سہارا اس کے دل کو ٹوٹنے سے بچاتا ہے۔ امام نے اس پہلو پر خاص توجہ دی کہ معاشرتی ہمدردی کا آغاز زبان سے ہوتا ہے۔ کیا ہم اپنے آس پاس کے ضرورت مندوں کی بات سننے کے لیے وقت نکالتے ہیں؟

شیخ المہنا نے یہ بھی فرمایا کہ اچھا بول ٹوٹے دلوں کو جوڑتا ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے سے نرمی سے بات کرتے ہیں تو اختلافات کم ہوتے ہیں اور رشتے مضبوط ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق، معاشرے میں صلح اور ہم آہنگی کی بنیاد زبان کی نرمی پر رکھی گئی ہے۔ کیا ہمارے گھروں اور محلوں میں یہ نرمی موجود ہے؟

امام نے نمازیوں کو یاد دلایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان کبھی سخت یا فحش نہ تھی۔ ان کی گفتگو میں شائستگی اور فصاحت کا ایسا امتزاج تھا جو دلوں کو اپنی طرف کھینچ لیتا تھا۔ یہی انداز مسلمانوں کے لیے مشعل راہ ہے۔ کیا ہم اپنی روزمرہ گفتگو میں اس مشعل کی روشنی لے کر چلتے ہیں؟

خطبے کا پیغام یہ تھا کہ اسلام کی کاملیت اس کی دعوت میں چھپی ہے، اور یہ دعوت پاکیزہ گفتگو اور نرم بیانی سے شروع ہوتی ہے۔ امام نے نمازیوں سے کہا کہ وہ اس دعوت کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، کیونکہ زبان کی اصلاح سے ہی معاشرے کی اصلاح ممکن ہے۔ کیا ہم اپنی زبان کو ایک صدقہ سمجھ کر استعمال کرتے ہیں؟

مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کا یہ جمعہ کا خطبہ اس بات کا غماز ہے کہ اسلامی تعلیمات میں اخلاقی رویے کی کتنی اہمیت ہے۔ امام نے اپنے خطاب میں بار بار اس بات پر زور دیا کہ اچھا بول انسان کو اللہ کے قریب کرتا ہے اور اس کے روحانی درجے کو بلند کرتا ہے۔ کیا ہم اس درجے کو پانے کے لیے اپنی زبان کا محاسبہ کرتے ہیں؟

ایس پی اے کے مطابق، خطبے میں یہ نکتہ بھی شامل تھا کہ نرم گفتگو معاشرتی صلح کا ذریعہ ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے سے مہربانی سے بات کرتے ہیں تو دلوں میں موجود دوریاں کم ہوتی ہیں اور اعتماد بحال ہوتا ہے۔ یہی اعتماد ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے۔ کیا ہم نے کبھی اپنی تلخ باتوں سے کسی کا اعتماد توڑا ہے؟

امام نے نمازیوں کو تلقین کی کہ وہ اپنی زبان کو ہر اس بات سے پاک رکھیں جو کسی کا دل دکھائے۔ ان کے مطابق، ضبط نفس اور زبان کی حفاظت مومن کی سب سے قیمتی عادت ہے، اور یہی عادت اسے دنیا اور آخرت میں کامیابی دلاتی ہے۔ کیا ہم اپنی زبان کو ایک امانت سمجھتے ہیں؟

خطبے میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ اچھا بول ایک ایسا صدقہ ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ یہ نہ صرف دینے والے کو فائدہ پہنچاتا ہے بلکہ سننے والے کے دل میں بھی سکون پیدا کرتا ہے۔ امام نے اسے ایمان کی علامت قرار دیا۔ کیا ایک مہربان لفظ کسی کے پورے دن کا رخ بدل سکتا ہے؟

شیخ المہنا نے اپنے خطبے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کی طرف بار بار رجوع کیا، جس میں فصاحت، شائستگی اور سختی سے پرہیز شامل ہے۔ ان کے مطابق، یہی اسوہ مسلمانوں کے لیے سب سے بہترین نمونہ ہے، اور اس پر عمل کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ کیا ہم اپنے بچوں کو یہی ادب سکھاتے ہیں؟

مدینہ منورہ کا یہ خطبہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ اسلام صرف عبادات کا نام نہیں بلکہ اخلاق کا مکمل نظام ہے۔ امام نے کہا کہ پاکیزہ گفتگو اور نرم بیانی اس نظام کا بنیادی ستون ہیں، اور ان کے بغیر ایمان کی عمارت ادھوری رہتی ہے۔ کیا ہم اس عمارت کو مکمل کرنے کے لیے کوشاں ہیں؟

ایس پی اے کے مطابق، خطبے میں یہ پیغام دیا گیا کہ اچھا بول ضرورت مندوں کے لیے سکون اور ٹوٹے دلوں کے لیے مرہم ہے۔ امام نے نمازیوں سے کہا کہ وہ اپنی زبان سے لوگوں کے زخم نہ بھریں بلکہ انہیں بھریں، کیونکہ یہی اسلام کا اصل پیغام ہے۔ کیا ہم اپنی زبان سے کسی کا زخم بھر سکتے ہیں؟

خطبے کا ایک اور اہم نکتہ یہ تھا کہ نرم گفتگو معاشرے میں صلح اور ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے کی بات سنتے ہیں اور نرمی سے جواب دیتے ہیں تو اختلافات ختم ہوتے ہیں اور محبت بڑھتی ہے۔ امام نے اسے اسلامی معاشرے کی پہچان قرار دیا۔ کیا ہمارا معاشرہ اس پہچان پر پورا اترتا ہے؟

شیخ المہنا نے نمازیوں کو ہدایت دی کہ وہ اپنی زبان کو ہر اس چیز سے محفوظ رکھیں جو اللہ کو ناپسند ہے۔ ان کے مطابق، زبان کی حفاظت ایمان کی حفاظت ہے، اور جو شخص اپنی زبان کو قابو میں رکھتا ہے وہ اپنے ایمان کو بھی قابو میں رکھتا ہے۔ کیا ہم نے آج اپنی زبان کا جائزہ لیا ہے؟

مدینہ منورہ میں مسجد نبوی کے اس جمعہ کے خطبے نے نمازیوں کو یہ سبق دیا کہ اسلام کی کاملیت اس کی دعوت میں ہے، اور یہ دعوت پاکیزہ گفتگو اور نرم بیانی سے شروع ہوتی ہے۔ امام نے کہا کہ اچھا بول ایک صدقہ ہے جو روحانی درجہ بلند کرتا ہے، ضرورت مندوں کو سکون دیتا ہے اور ٹوٹے دلوں کو جوڑتا ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں خطبے کی مکمل تفصیل، اس کے شرکا کی تعداد یا دیگر تقریبات کا ذکر نہیں کیا گیا۔

جمعہ کے خطبے میں امام نے کس چیز پر زور دیا؟ مسجد نبوی کے امام شیخ خالد المہنا نے خطبے میں کہا کہ اسلام کی کاملیت اس کی پاکیزہ گفتگو اور نرم بیانی کی دعوت میں ظاہر ہوتی ہے۔ انہوں نے نمازیوں سے کہا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں جن کی زبان میں بے مثال فصاحت اور شائستگی تھی اور جو سختی اور فحش گوئی سے پاک تھے۔ ایس پی اے کے مطابق، خطبہ 9 اکتوبر 2026 کو مدینہ منورہ میں دیا گیا۔

امام نے اچھے بول کو کیا قرار دیا؟ امام شیخ خالد المہنا نے کہا کہ اچھا بول ایک صدقہ ہے جو روحانی درجہ بلند کرتا ہے، ضرورت مندوں کو سکون دیتا ہے اور ٹوٹے دلوں کو جوڑتا ہے۔ ان کے مطابق، یہ صدقہ صرف مالی نہیں بلکہ اخلاقی ہے اور اللہ کے نزدیک بلند مقام دلاتا ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا کہ نرم گفتگو ایمان کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہے۔

زبان کی حفاظت کے بارے میں کیا کہا گیا؟ امام نے نمازیوں کو ہدایت دی کہ وہ اپنی زبان کی حفاظت اور ضبط نفس کا مظاہرہ کریں۔ ان کے مطابق، زبان کی حفاظت ایمان کی حفاظت ہے اور جو شخص اپنی زبان کو قابو میں رکھتا ہے وہ اپنے نفس کو بھی قابو میں رکھتا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق، خطبے میں سختی اور فحش گوئی سے پرہیز کی تلقین کی گئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ کو نمونہ قرار دیا گیا۔

نرم گفتگو معاشرے پر کیا اثر ڈالتی ہے؟ امام کے مطابق، نرم گفتگو معاشرے میں صلح اور ہم آہنگی کو فروغ دیتی ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے سے مہربانی سے بات کرتے ہیں تو اختلافات کم ہوتے ہیں، رشتے مضبوط ہوتے ہیں اور اعتماد بحال ہوتا ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ خطبے میں اچھے بول کو ٹوٹے دلوں کے لیے مرہم اور ضرورت مندوں کے لیے سکون قرار دیا گیا۔

خطبے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کا ذکر کیوں کیا گیا؟ امام شیخ خالد المہنا نے نمازیوں سے کہا کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کریں جن کی زبان میں بے مثال فصاحت اور شائستگی تھی اور جو سختی اور فحش گوئی سے پاک تھے۔ ان کے مطابق، یہی اسوہ حسنہ مسلمانوں کے لیے سب سے بہترین نمونہ ہے اور اس پر عمل کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ ایس پی اے کے مطابق، خطبے میں بار بار اسی سیرت کی طرف رجوع کیا گیا۔

کیا رپورٹ میں خطبے کے شرکا یا دیگر تفصیلات دی گئی ہیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں خطبے کی مکمل تفصیل، شرکا کی تعداد، یا دیگر تقریبات کا ذکر نہیں کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق، خطبہ 9 اکتوبر 2026 کو مدینہ منورہ میں مسجد نبوی میں دیا گیا اور اس میں پاکیزہ گفتگو، نرم بیانی، زبان کی حفاظت اور اچھے بول کو صدقہ قرار دینے پر زور دیا گیا۔ رپورٹ میں مزید کوئی اعداد و شمار یا اقتباس شامل نہیں ہے۔