Monday, October 26, 2026
سعودی خبریں

الازہر نے شاہ خالد اور ابھا ایئرپورٹس پر حملوں کی مذمت کی ہے

الازہر نے شاہ خالد اور ابھا ایئرپورٹس پر حملوں کی مذمت کی ہے

قاہرہ میں قائم عالمی اسلامی علمی ادارے الازہر نے سعودی عرب کے شاہ خالد ایئرپورٹ اور ابھا ایئرپورٹ پر ہونے والے حملوں کی مذمت کی ہے، جن کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتیں اور زخمی ہوئے۔ یہ مذمت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ہوائی اڈوں جیسی شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا بین الاقوامی سطح پر ایک سنگین معاملہ سمجھا جاتا ہے، اور اس واقعے نے خطے کی سلامتی سے متعلق بحث کو پھر تازہ کر دیا ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 8 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، الازہر نے آج جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا کہ شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا اور معصوم لوگوں کو خوفزدہ کرنا اسلامی شریعت کے تحت مجرمانہ فعل ہے اور یہ تمام بین الاقوامی اصولوں اور کنونشنوں کی خلاف ورزی ہے۔ ادارے نے واضح کیا کہ یہ اقدامات مملکت کی سلامتی اور خودمختاری کی ناقابل قبول خلاف ورزی ہیں۔

الازہر نے اپنے بیان میں اس کشیدگی کے بڑھنے کے خطرات اور خطے کے استحکام پر اس کے ممکنہ اثرات سے خبردار کیا۔ کیا ہوائی اڈوں جیسے شہری مراکز کو نشانہ بنانے سے خطے میں عدم استحکام کی لہر مزید پھیل سکتی ہے؟ ادارے نے ان حملوں کو بھیانک قرار دیتے ہوئے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔

بیان کے مطابق الازہر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ قوموں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام ضروری ہے تاکہ تنازعات اور کشیدگی کے تباہ کن نتائج سے بچا جا سکے۔ ادارے کا کہنا تھا کہ اس سے معصوم جانوں کی حفاظت اور ممالک کے وسائل کو محفوظ رکھنے میں مدد ملے گی۔

کیا بین الاقوامی برادری شہری تنصیبات کے تحفظ کے موجودہ قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے مزید مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے؟ الازہر نے اپنے بیان میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ حرمین شریفین کی سرزمین کو ہر نقصان اور برائی سے محفوظ رکھے، اور مملکت اور اس کے عوام کو سلامتی، استحکام اور خوشحالی کی نعمتیں مسلسل عطا فرماتا رہے۔

یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب شاہ خالد ایئرپورٹ اور ابھا ایئرپورٹ پر حملوں کے بعد شہری ہلاکتوں اور زخمیوں کی تصدیق ہوئی ہے۔ الازہر کا موقف یہ ہے کہ معصوم شہریوں کو خوفزدہ کرنا نہ صرف شریعت بلکہ بین الاقوامی اصولوں کے بھی خلاف ہے۔ کیا شہری ہوائی اڈوں پر حملے بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت ایک واضح جرم تصور کیے جاتے ہیں؟

الازہر نے اپنے بیان میں خطے کے استحکام کو درپیش خطرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کشیدگی کے اثرات صرف ایک ملک تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خطے کو متاثر کر سکتے ہیں۔ ادارے نے مطالبہ کیا کہ ان حملوں کو فوری طور پر بند کیا جائے تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔ کیا خطے کے ممالک مشترکہ طور پر ایسے واقعات کے خلاف ایک متفقہ مؤقف اختیار کر سکتے ہیں؟

بیان میں خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیتے ہوئے کہا گیا کہ تنازعات اور کشیدگی کے تباہ کن نتائج سے بچنے کے لیے یہ اصول بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔ الازہر کے مطابق ان اصولوں کا احترام معصوم جانوں کی حفاظت اور ممالک کے وسائل کے تحفظ کو یقینی بناتا ہے۔ کیا قومی خودمختاری کا احترام خطے میں پائیدار امن کی واحد راہ ہے؟

الازہر نے اپنے بیان کے اختتام پر اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ حرمین شریفین کی سرزمین کو ہر قسم کے نقصان اور برائی سے محفوظ رکھے اور مملکت اور اس کے عوام کو سلامتی، استحکام اور خوشحالی کی نعمتوں سے نوازتا رہے۔ یہ دعا اس ادارے کے اس مؤقف کی عکاسی کرتی ہے جو وہ سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام کے حوالے سے رکھتا ہے۔

واضح رہے کہ یہ بیان قاہرہ سے جاری کیا گیا اور ایس پی اے نے اسے 8 اکتوبر 2026 کو مقامی وقت کے مطابق رات 21:10 بجے اور جی ایم ٹی کے مطابق 18:10 بجے نشر کیا۔ رپورٹ میں حملوں کی تفصیلات، ہلاکتوں کی تعداد یا ذمہ داری سے متعلق کوئی اضافی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ کیا اس طرح کے بیانات خطے میں کشیدگی کم کرنے میں عملی طور پر کوئی کردار ادا کر سکتے ہیں؟

الازہر کا یہ موقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ عالمی اسلامی ادارے شہری تنصیبات پر حملوں کو نہ صرف انسانی بلکہ مذہبی اور بین الاقوامی قانونی نقطہ نظر سے بھی غلط قرار دیتے ہیں۔ ادارے نے اپنے بیان میں شہریوں کی حفاظت اور ممالک کے وسائل کے تحفظ کو مرکزی اہمیت دی۔ کیا بین الاقوامی ادارے ایسے واقعات کے بعد مزید مؤثر اقدامات کرنے پر غور کر رہے ہیں؟

ایس پی اے کی اس رپورٹ میں الازہر کے بیان کے متن کے علاوہ کسی اور فریق کا ردعمل شامل نہیں، نہ ہی حملوں کے مقام، وقت یا طریقہ کار کی تفصیل دی گئی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دستیاب معلومات کے مطابق یہ بیان مملکت کی سلامتی اور خودمختاری کے احترام اور شہری تنصیبات کے تحفظ پر مرکوز ہے۔

الازہر نے کن حملوں کی مذمت کی ہے؟ الازہر نے سعودی عرب کے شاہ خالد ایئرپورٹ اور ابھا ایئرپورٹ پر ہونے والے حملوں کی مذمت کی ہے، جن کے نتیجے میں شہریوں کی ہلاکتیں اور زخمی ہوئے۔ ایس پی اے کے مطابق ادارے نے ان حملوں کو اسلامی شریعت کے تحت مجرمانہ فعل قرار دیا اور کہا کہ یہ تمام بین الاقوامی اصولوں اور کنونشنوں کی خلاف ورزی ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ اقدامات مملکت کی سلامتی اور خودمختاری کی ناقابل قبول خلاف ورزی ہیں۔

الازہر نے اس بیان میں کیا مطالبہ کیا؟ الازہر نے اپنے بیان میں ان حملوں کو بھیانک قرار دیتے ہوئے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔ ادارے نے اس کشیدگی کے بڑھنے کے خطرات اور خطے کے استحکام پر اس کے ممکنہ اثرات سے بھی خبردار کیا۔ ایس پی اے کے مطابق بیان میں قوموں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے احترام پر زور دیا گیا تاکہ تنازعات اور کشیدگی کے تباہ کن نتائج سے بچا جا سکے اور معصوم جانوں اور ممالک کے وسائل کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔

الازہر نے شہری تنصیبات کو نشانہ بنانے کے بارے میں کیا کہا؟ الازہر نے کہا کہ شہری تنصیبات کو نشانہ بنانا اور معصوم لوگوں کو خوفزدہ کرنا اسلامی شریعت کے تحت مجرمانہ فعل ہے اور یہ تمام بین الاقوامی اصولوں اور کنونشنوں کی خلاف ورزی ہے۔ ادارے کے مطابق یہ اقدامات مملکت کی سلامتی اور خودمختاری کی ناقابل قبول خلاف ورزی ہیں۔ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام معصوم جانوں اور وسائل کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔

بیان میں کس وقت اور کہاں سے جاری کیا گیا؟ یہ بیان قاہرہ سے جاری کیا گیا اور ایس پی اے نے اسے 8 اکتوبر 2026 کو مقامی وقت کے مطابق رات 21:10 بجے اور جی ایم ٹی کے مطابق 18:10 بجے نشر کیا۔ رپورٹ کے مطابق الازہر نے بیان میں اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ حرمین شریفین کی سرزمین کو ہر نقصان اور برائی سے محفوظ رکھے اور مملکت اور اس کے عوام کو سلامتی، استحکام اور خوشحالی کی نعمتیں مسلسل عطا فرماتا رہے۔

الازہر نے خطے کے استحکام کے بارے میں کیا خبردار کیا؟ الازہر نے اپنے بیان میں اس کشیدگی کے بڑھنے کے خطرات اور خطے کے استحکام پر اس کے ممکنہ اثرات سے خبردار کیا۔ ادارے نے کہا کہ قوموں کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا احترام ضروری ہے تاکہ تنازعات اور کشیدگی کے تباہ کن نتائج سے بچا جا سکے۔ ایس پی اے کے مطابق اس سے معصوم جانوں کی حفاظت اور ممالک کے وسائل کو محفوظ رکھنے میں مدد ملے گی، اور ادارے نے ان حملوں کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں کون سی تفصیلات شامل نہیں ہیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں حملوں کی تفصیلات، ہلاکتوں کی تعداد یا ذمہ داری سے متعلق کوئی اضافی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ رپورٹ میں الازہر کے بیان کے متن کے علاوہ کسی اور فریق کا ردعمل بھی شامل نہیں، نہ ہی حملوں کے مقام، وقت یا طریقہ کار کی تفصیل دی گئی ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق بیان مملکت کی سلامتی اور خودمختاری کے احترام اور شہری تنصیبات کے تحفظ پر مرکوز ہے۔