Tuesday, October 27, 2026
سماجی

جی سی سی سربراہ: خاندان اور معاشرہ مشترکہ خلیجی عمل کے کلیدی ستون ہیں

جی سی سی سربراہ: خاندان اور معاشرہ مشترکہ خلیجی عمل کے کلیدی ستون ہیں

منامہ میں جمعرات کو خلیج تعاون کونسل کے وزرائے سماجی امور اور سماجی ترقی کی بارہویں کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے کہا کہ سماجی ترقی، بالخصوص خاندان اور معاشرے کے تمام طبقات، مشترکہ خلیجی عمل کا بنیادی ستون ہے اور یہ خلیجی قائدین کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 8 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، یہ اجلاس بحرین کے دارالحکومت منامہ میں منعقد ہوا اور اس کی صدارت بحرین کی بادشاہت کے وزیر سماجی ترقی اور موجودہ اجلاس کے چیئرمین اسامہ بن صالح العلاو نے کی، جبکہ خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے وزرائے سماجی امور اور سماجی ترقی نے بھی اس میں شرکت کی۔

البدیوی نے کمیٹی کے نمایاں اور فعال کردار کو اجاگر کیا جو وہ سماجی ترقی کے میدان میں مشترکہ خلیجی عمل کو آگے بڑھانے میں ادا کر رہی ہے، خاص طور پر خاندان اور معاشرے کے طبقات کے حوالے سے، اور یہ سب تیز رفتار آبادیاتی اضافے کے پس منظر میں ہو رہا ہے۔ کیا تیز رفتار آبادیاتی اضافہ خلیجی معاشروں کے لیے ایک نیا امتحان ہے؟

انہوں نے کہا کہ خلیج تعاون کونسل کی آبادی 2025 میں 63 ملین سے تجاوز کر گئی، جو خلیج تعاون کونسل کے شماریاتی مرکز کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ہے، اور یہ اس مشترکہ ذمہ داری کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے کہ خاندانی اور سماجی پالیسیاں ایسی بنائی جائیں جو اس اضافے اور اس کے ساتھ آنے والی تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکیں۔ کیا موجودہ پالیسیاں اس رفتار کا ساتھ دے رہی ہیں؟

سیکرٹری جنرل نے مزید نشاندہی کی کہ خاندان کے مرکز میں بچہ ہے، جو خلیجی معاشروں کا مستقبل اور انسانی ترقی میں بنیادی سرمایہ کاری کی حیثیت رکھتا ہے۔ 2024 کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ پندرہ سال سے کم عمر کے بچے خلیج تعاون کونسل کی کل آبادی کے بیس فیصد سے زیادہ ہیں، یعنی خلیجی معاشرے کا پانچواں حصہ، اور یہ اعداد و شمار اس بات کی تصدیق کرتا ہے کہ بچوں کی دیکھ بھال اور تحفظ کے ایک مربوط نظام کو مسلسل ترقی دینا، تعلیم اور صحت کی کیفیت کو بہتر بنانا، بچوں کو تشدد، بدسلوکی اور استحصال سے محفوظ رکھنا، اور ڈیجیٹل دنیا کے ابھرتے ہوئے چیلنجوں کا مقابلہ کرنا ناگزیر ہے، جن میں ڈیجیٹل تحفظ، رازداری اور جدید ٹیکنالوجیز کا محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال شامل ہے۔ کیا ڈیجیٹل دنیا کے خطرات بچوں کے تحفظ کے روایتی نظام سے بڑے ہو چکے ہیں؟

اجلاس میں خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے وزراء نے سماجی ترقی کے مشترکہ فریم ورک پر تبادلہ خیال کیا، اور کمیٹی کے کردار کو سراہا جو وہ خاندان اور معاشرے کے طبقات کے حوالے سے مشترکہ خلیجی عمل کو آگے بڑھانے میں ادا کر رہی ہے۔ کیا خلیجی ممالک کے درمیان سماجی پالیسیوں میں ہم آہنگی ممکن ہے؟

البدیوی کے بیان کے مطابق، خاندان اور معاشرے کے تمام طبقات سے متعلق سماجی ترقی خلیجی قائدین کی اولین ترجیحات میں شمار ہوتی ہے، اور یہی وجہ ہے کہ کمیٹی کی سرگرمیاں اس شعبے میں مشترکہ کوششوں کو تقویت دیتی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آبادیاتی اضافے کے ساتھ آنے والی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے خاندانی اور سماجی پالیسیوں کی تشکیل ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔ کیا مشترکہ ذمہ داری کا احساس عملی اقدامات میں بدل رہا ہے؟

انہوں نے بچوں کے حوالے سے کہا کہ وہ خلیجی معاشروں کا مستقبل اور انسانی ترقی میں بنیادی سرمایہ کاری ہیں، اور اسی لیے بچوں کی دیکھ بھال اور تحفظ کے ایک مربوط نظام کی مسلسل ترقی، تعلیم اور صحت کی کیفیت میں بہتری، اور بچوں کو تشدد، بدسلوکی اور استحصال سے محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل دنیا کے ابھرتے ہوئے چیلنجوں کا بھی ذکر کیا، جن میں ڈیجیٹل تحفظ، رازداری اور جدید ٹیکنالوجیز کا محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال شامل ہے۔ کیا جدید ٹیکنالوجیز کا محفوظ استعمال بچوں کے لیے یقینی بنایا جا سکتا ہے؟

اجلاس کی صدارت بحرین کے وزیر سماجی ترقی اسامہ بن صالح العلاو نے کی، جو موجودہ اجلاس کے چیئرمین بھی ہیں، اور اس میں خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے وزرائے سماجی امور اور سماجی ترقی نے شرکت کی۔ یہ کمیٹی کا بارہواں اجلاس تھا جو بحرین کے دارالحکومت منامہ میں منعقد ہوا۔ کیا اس طرح کے اجلاسوں سے خلیجی ممالک کے درمیان سماجی پالیسیوں میں عملی ہم آہنگی آ رہی ہے؟

سیکرٹری جنرل نے کمیٹی کے نمایاں اور فعال کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کمیٹی سماجی ترقی کے میدان میں مشترکہ خلیجی عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، خاص طور پر خاندان اور معاشرے کے طبقات کے حوالے سے، اور یہ کردار تیز رفتار آبادیاتی اضافے کے تناظر میں مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ انہوں نے خلیج تعاون کونسل کے شماریاتی مرکز کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2025 میں کونسل کی آبادی 63 ملین سے تجاوز کر گئی۔ کیا 63 ملین سے زائد آبادی کے لیے سماجی پالیسیوں کا ایک مشترکہ فریم ورک ضروری ہے؟

انہوں نے کہا کہ اس اضافے کی وسعت اس مشترکہ ذمہ داری کو واضح کرتی ہے کہ خاندانی اور سماجی پالیسیاں ایسی بنائی جائیں جو اس اضافے اور اس کے ساتھ آنے والی تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکیں۔ 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق پندرہ سال سے کم عمر کے بچے خلیج تعاون کونسل کی کل آبادی کے بیس فیصد سے زیادہ ہیں، جو خلیجی معاشرے کا پانچواں حصہ بنتے ہیں۔ کیا بچوں کی اس بڑی تعداد کے لیے وسائل کافی ہیں؟

البدیوی نے بچوں کے تحفظ کے حوالے سے کہا کہ بچوں کی دیکھ بھال اور تحفظ کے ایک مربوط نظام کو مسلسل ترقی دینے، تعلیم اور صحت کی کیفیت کو بہتر بنانے، اور بچوں کو تشدد، بدسلوکی اور استحصال سے محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل دنیا کے ابھرتے ہوئے چیلنجوں کا بھی ذکر کیا، جن میں ڈیجیٹل تحفظ، رازداری اور جدید ٹیکنالوجیز کا محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال شامل ہے۔ کیا ڈیجیٹل تحفظ کے لیے مشترکہ خلیجی حکمت عملی بنائی جا سکتی ہے؟

اجلاس میں خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے وزراء نے سماجی ترقی کے مشترکہ فریم ورک پر تبادلہ خیال کیا اور کمیٹی کے کردار کو سراہا۔ یہ اجلاس بحرین کے دارالحکومت منامہ میں جمعرات کو منعقد ہوا، جس کی صدارت بحرین کے وزیر سماجی ترقی اسامہ بن صالح العلاو نے کی۔ کیا خلیجی ممالک سماجی ترقی کے میدان میں ایک مشترکہ ماڈل تشکیل دے سکتے ہیں؟

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ خاندان اور معاشرے کے تمام طبقات سے متعلق سماجی ترقی خلیجی قائدین کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اور یہی وجہ ہے کہ کمیٹی کی سرگرمیاں اس شعبے میں مشترکہ کوششوں کو تقویت دیتی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آبادیاتی اضافے کے ساتھ آنے والی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے خاندانی اور سماجی پالیسیوں کی تشکیل ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔ کیا خلیجی قائدین کی ترجیحات عوامی سطح پر محسوس کی جا رہی ہیں؟

انہوں نے بچوں کے حوالے سے کہا کہ وہ خلیجی معاشروں کا مستقبل اور انسانی ترقی میں بنیادی سرمایہ کاری ہیں، اور اسی لیے بچوں کی دیکھ بھال اور تحفظ کے ایک مربوط نظام کی مسلسل ترقی، تعلیم اور صحت کی کیفیت میں بہتری، اور بچوں کو تشدد، بدسلوکی اور استحصال سے محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل دنیا کے ابھرتے ہوئے چیلنجوں کا بھی ذکر کیا، جن میں ڈیجیٹل تحفظ، رازداری اور جدید ٹیکنالوجیز کا محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال شامل ہے۔ کیا بچوں کو ڈیجیٹل دنیا کے خطرات سے بچانے کے لیے خلیجی سطح پر مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے؟

اجلاس کی صدارت بحرین کے وزیر سماجی ترقی اسامہ بن صالح العلاو نے کی، جو موجودہ اجلاس کے چیئرمین بھی ہیں، اور اس میں خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے وزرائے سماجی امور اور سماجی ترقی نے شرکت کی۔ یہ کمیٹی کا بارہواں اجلاس تھا جو بحرین کے دارالحکومت منامہ میں منعقد ہوا۔ کیا اس طرح کے اجلاسوں سے خلیجی ممالک کے درمیان سماجی پالیسیوں میں عملی ہم آہنگی آ رہی ہے؟

سیکرٹری جنرل نے کمیٹی کے نمایاں اور فعال کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کمیٹی سماجی ترقی کے میدان میں مشترکہ خلیجی عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، خاص طور پر خاندان اور معاشرے کے طبقات کے حوالے سے، اور یہ کردار تیز رفتار آبادیاتی اضافے کے تناظر میں مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ انہوں نے خلیج تعاون کونسل کے شماریاتی مرکز کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2025 میں کونسل کی آبادی 63 ملین سے تجاوز کر گئی۔ کیا 63 ملین سے زائد آبادی کے لیے سماجی پالیسیوں کا ایک مشترکہ فریم ورک ضروری ہے؟

انہوں نے کہا کہ اس اضافے کی وسعت اس مشترکہ ذمہ داری کو واضح کرتی ہے کہ خاندانی اور سماجی پالیسیاں ایسی بنائی جائیں جو اس اضافے اور اس کے ساتھ آنے والی تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکیں۔ 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق پندرہ سال سے کم عمر کے بچے خلیج تعاون کونسل کی کل آبادی کے بیس فیصد سے زیادہ ہیں، جو خلیجی معاشرے کا پانچواں حصہ بنتے ہیں۔ کیا بچوں کی اس بڑی تعداد کے لیے وسائل کافی ہیں؟

البدیوی نے بچوں کے تحفظ کے حوالے سے کہا کہ بچوں کی دیکھ بھال اور تحفظ کے ایک مربوط نظام کو مسلسل ترقی دینے، تعلیم اور صحت کی کیفیت کو بہتر بنانے، اور بچوں کو تشدد، بدسلوکی اور استحصال سے محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل دنیا کے ابھرتے ہوئے چیلنجوں کا بھی ذکر کیا، جن میں ڈیجیٹل تحفظ، رازداری اور جدید ٹیکنالوجیز کا محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال شامل ہے۔ کیا ڈیجیٹل تحفظ کے لیے مشترکہ خلیجی حکمت عملی بنائی جا سکتی ہے؟

اجلاس میں خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے وزراء نے سماجی ترقی کے مشترکہ فریم ورک پر تبادلہ خیال کیا اور کمیٹی کے کردار کو سراہا۔ یہ اجلاس بحرین کے دارالحکومت منامہ میں جمعرات کو منعقد ہوا، جس کی صدارت بحرین کے وزیر سماجی ترقی اسامہ بن صالح العلاو نے کی۔ کیا خلیجی ممالک سماجی ترقی کے میدان میں ایک مشترکہ ماڈل تشکیل دے سکتے ہیں؟

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ خاندان اور معاشرے کے تمام طبقات سے متعلق سماجی ترقی خلیجی قائدین کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اور یہی وجہ ہے کہ کمیٹی کی سرگرمیاں اس شعبے میں مشترکہ کوششوں کو تقویت دیتی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آبادیاتی اضافے کے ساتھ آنے والی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے خاندانی اور سماجی پالیسیوں کی تشکیل ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔ کیا خلیجی قائدین کی ترجیحات عوامی سطح پر محسوس کی جا رہی ہیں؟

انہوں نے بچوں کے حوالے سے کہا کہ وہ خلیجی معاشروں کا مستقبل اور انسانی ترقی میں بنیادی سرمایہ کاری ہیں، اور اسی لیے بچوں کی دیکھ بھال اور تحفظ کے ایک مربوط نظام کی مسلسل ترقی، تعلیم اور صحت کی کیفیت میں بہتری، اور بچوں کو تشدد، بدسلوکی اور استحصال سے محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل دنیا کے ابھرتے ہوئے چیلنجوں کا بھی ذکر کیا، جن میں ڈیجیٹل تحفظ، رازداری اور جدید ٹیکنالوجیز کا محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال شامل ہے۔ کیا بچوں کو ڈیجیٹل دنیا کے خطرات سے بچانے کے لیے خلیجی سطح پر مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے؟

اجلاس کی صدارت بحرین کے وزیر سماجی ترقی اسامہ بن صالح العلاو نے کی، جو موجودہ اجلاس کے چیئرمین بھی ہیں، اور اس میں خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے وزرائے سماجی امور اور سماجی ترقی نے شرکت کی۔ یہ کمیٹی کا بارہواں اجلاس تھا جو بحرین کے دارالحکومت منامہ میں منعقد ہوا۔ کیا اس طرح کے اجلاسوں سے خلیجی ممالک کے درمیان سماجی پالیسیوں میں عملی ہم آہنگی آ رہی ہے؟

سیکرٹری جنرل نے کمیٹی کے نمایاں اور فعال کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کمیٹی سماجی ترقی کے میدان میں مشترکہ خلیجی عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، خاص طور پر خاندان اور معاشرے کے طبقات کے حوالے سے، اور یہ کردار تیز رفتار آبادیاتی اضافے کے تناظر میں مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ انہوں نے خلیج تعاون کونسل کے شماریاتی مرکز کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2025 میں کونسل کی آبادی 63 ملین سے تجاوز کر گئی۔ کیا 63 ملین سے زائد آبادی کے لیے سماجی پالیسیوں کا ایک مشترکہ فریم ورک ضروری ہے؟

انہوں نے کہا کہ اس اضافے کی وسعت اس مشترکہ ذمہ داری کو واضح کرتی ہے کہ خاندانی اور سماجی پالیسیاں ایسی بنائی جائیں جو اس اضافے اور اس کے ساتھ آنے والی تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکیں۔ 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق پندرہ سال سے کم عمر کے بچے خلیج تعاون کونسل کی کل آبادی کے بیس فیصد سے زیادہ ہیں، جو خلیجی معاشرے کا پانچواں حصہ بنتے ہیں۔ کیا بچوں کی اس بڑی تعداد کے لیے وسائل کافی ہیں؟

البدیوی نے بچوں کے تحفظ کے حوالے سے کہا کہ بچوں کی دیکھ بھال اور تحفظ کے ایک مربوط نظام کو مسلسل ترقی دینے، تعلیم اور صحت کی کیفیت کو بہتر بنانے، اور بچوں کو تشدد، بدسلوکی اور استحصال سے محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل دنیا کے ابھرتے ہوئے چیلنجوں کا بھی ذکر کیا، جن میں ڈیجیٹل تحفظ، رازداری اور جدید ٹیکنالوجیز کا محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال شامل ہے۔ کیا ڈیجیٹل تحفظ کے لیے مشترکہ خلیجی حکمت عملی بنائی جا سکتی ہے؟

اجلاس میں خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے وزراء نے سماجی ترقی کے مشترکہ فریم ورک پر تبادلہ خیال کیا اور کمیٹی کے کردار کو سراہا۔ یہ اجلاس بحرین کے دارالحکومت منامہ میں جمعرات کو منعقد ہوا، جس کی صدارت بحرین کے وزیر سماجی ترقی اسامہ بن صالح العلاو نے کی۔ کیا خلیجی ممالک سماجی ترقی کے میدان میں ایک مشترکہ ماڈل تشکیل دے سکتے ہیں؟

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ خاندان اور معاشرے کے تمام طبقات سے متعلق سماجی ترقی خلیجی قائدین کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اور یہی وجہ ہے کہ کمیٹی کی سرگرمیاں اس شعبے میں مشترکہ کوششوں کو تقویت دیتی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آبادیاتی اضافے کے ساتھ آنے والی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے خاندانی اور سماجی پالیسیوں کی تشکیل ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔ کیا خلیجی قائدین کی ترجیحات عوامی سطح پر محسوس کی جا رہی ہیں؟

انہوں نے بچوں کے حوالے سے کہا کہ وہ خلیجی معاشروں کا مستقبل اور انسانی ترقی میں بنیادی سرمایہ کاری ہیں، اور اسی لیے بچوں کی دیکھ بھال اور تحفظ کے ایک مربوط نظام کی مسلسل ترقی، تعلیم اور صحت کی کیفیت میں بہتری، اور بچوں کو تشدد، بدسلوکی اور استحصال سے محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل دنیا کے ابھرتے ہوئے چیلنجوں کا بھی ذکر کیا، جن میں ڈیجیٹل تحفظ، رازداری اور جدید ٹیکنالوجیز کا محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال شامل ہے۔ کیا بچوں کو ڈیجیٹل دنیا کے خطرات سے بچانے کے لیے خلیجی سطح پر مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے؟

اجلاس کی صدارت بحرین کے وزیر سماجی ترقی اسامہ بن صالح العلاو نے کی، جو موجودہ اجلاس کے چیئرمین بھی ہیں، اور اس میں خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے وزرائے سماجی امور اور سماجی ترقی نے شرکت کی۔ یہ کمیٹی کا بارہواں اجلاس تھا جو بحرین کے دارالحکومت منامہ میں منعقد ہوا۔ کیا اس طرح کے اجلاسوں سے خلیجی ممالک کے درمیان سماجی پالیسیوں میں عملی ہم آہنگی آ رہی ہے؟

سیکرٹری جنرل نے کمیٹی کے نمایاں اور فعال کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کمیٹی سماجی ترقی کے میدان میں مشترکہ خلیجی عمل کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، خاص طور پر خاندان اور معاشرے کے طبقات کے حوالے سے، اور یہ کردار تیز رفتار آبادیاتی اضافے کے تناظر میں مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ انہوں نے خلیج تعاون کونسل کے شماریاتی مرکز کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 2025 میں کونسل کی آبادی 63 ملین سے تجاوز کر گئی۔ کیا 63 ملین سے زائد آبادی کے لیے سماجی پالیسیوں کا ایک مشترکہ فریم ورک ضروری ہے؟

انہوں نے کہا کہ اس اضافے کی وسعت اس مشترکہ ذمہ داری کو واضح کرتی ہے کہ خاندانی اور سماجی پالیسیاں ایسی بنائی جائیں جو اس اضافے اور اس کے ساتھ آنے والی تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکیں۔ 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق پندرہ سال سے کم عمر کے بچے خلیج تعاون کونسل کی کل آبادی کے بیس فیصد سے زیادہ ہیں، جو خلیجی معاشرے کا پانچواں حصہ بنتے ہیں۔ کیا بچوں کی اس بڑی تعداد کے لیے وسائل کافی ہیں؟

البدیوی نے بچوں کے تحفظ کے حوالے سے کہا کہ بچوں کی دیکھ بھال اور تحفظ کے ایک مربوط نظام کو مسلسل ترقی دینے، تعلیم اور صحت کی کیفیت کو بہتر بنانے، اور بچوں کو تشدد، بدسلوکی اور استحصال سے محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل دنیا کے ابھرتے ہوئے چیلنجوں کا بھی ذکر کیا، جن میں ڈیجیٹل تحفظ، رازداری اور جدید ٹیکنالوجیز کا محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال شامل ہے۔ کیا ڈیجیٹل تحفظ کے لیے مشترکہ خلیجی حکمت عملی بنائی جا سکتی ہے؟

اجلاس میں خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے وزراء نے سماجی ترقی کے مشترکہ فریم ورک پر تبادلہ خیال کیا اور کمیٹی کے کردار کو سراہا۔ یہ اجلاس بحرین کے دارالحکومت منامہ میں جمعرات کو منعقد ہوا، جس کی صدارت بحرین کے وزیر سماجی ترقی اسامہ بن صالح العلاو نے کی۔ کیا خلیجی ممالک سماجی ترقی کے میدان میں ایک مشترکہ ماڈل تشکیل دے سکتے ہیں؟

سیکرٹری جنرل نے کہا کہ خاندان اور معاشرے کے تمام طبقات سے متعلق سماجی ترقی خلیجی قائدین کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، اور یہی وجہ ہے کہ کمیٹی کی سرگرمیاں اس شعبے میں مشترکہ کوششوں کو تقویت دیتی ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آبادیاتی اضافے کے ساتھ آنے والی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے خاندانی اور سماجی پالیسیوں کی تشکیل ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔ کیا خلیجی قائدین کی ترجیحات عوامی سطح پر محسوس کی جا رہی ہیں؟

انہوں نے بچوں کے حوالے سے کہا کہ وہ خلیجی معاشروں کا مستقبل اور انسانی ترقی میں بنیادی سرمایہ کاری ہیں، اور اسی لیے بچوں کی دیکھ بھال اور تحفظ کے ایک مربوط نظام کی مسلسل ترقی، تعلیم اور صحت کی کیفیت میں بہتری، اور بچوں کو تشدد، بدسلوکی اور استحصال سے محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل دنیا کے ابھرتے ہوئے چیلنجوں کا بھی ذکر کیا، جن میں ڈیجیٹل تحفظ، رازداری اور جدید ٹیکنالوجیز کا محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال شامل ہے۔ کیا بچوں کو ڈیجیٹل دنیا کے خطرات سے بچانے کے لیے خلیجی سطح پر مشترکہ اقدامات کی ضرورت ہے؟

اجلاس کی صدارت بحرین کے وزیر سماجی ترقی اسامہ بن صالح العلاو نے کی، جو موجودہ اجلاس کے چیئرمین بھی ہیں، اور اس میں خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے وزرائے سماجی امور اور سماجی ترقی نے شرکت کی۔ یہ کمیٹی کا بارہواں اجلاس تھا جو بحرین کے دارالحکومت منامہ میں منعقد ہوا۔ رپورٹ میں کمیٹی کے فیصلوں، سفارشات یا آئندہ اجلاس کی تاریخ کا ذکر نہیں کیا گیا۔

اجلاس کہاں اور کب منعقد ہوا؟ خلیج تعاون کونسل کے وزرائے سماجی امور اور سماجی ترقی کی بارہویں کمیٹی کا اجلاس بحرین کے دارالحکومت منامہ میں جمعرات کو منعقد ہوا۔ اس کی صدارت بحرین کے وزیر سماجی ترقی اور موجودہ اجلاس کے چیئرمین اسامہ بن صالح العلاو نے کی۔ اجلاس میں خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے وزرائے سماجی امور اور سماجی ترقی نے شرکت کی۔ ایس پی اے کے مطابق یہ اجلاس 8 اکتوبر 2026 کو ہوا۔

سیکرٹری جنرل نے خاندان کے بارے میں کیا کہا؟ خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے کہا کہ سماجی ترقی، بالخصوص خاندان اور معاشرے کے تمام طبقات، مشترکہ خلیجی عمل کا بنیادی ستون ہے اور یہ خلیجی قائدین کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاندان کے مرکز میں بچہ ہے، جو خلیجی معاشروں کا مستقبل اور انسانی ترقی میں بنیادی سرمایہ کاری ہے۔

خلیج تعاون کونسل کی آبادی کے بارے میں کیا اعداد و شمار دیے گئے؟ البدیوی نے کہا کہ خلیج تعاون کونسل کی آبادی 2025 میں 63 ملین سے تجاوز کر گئی، جو خلیج تعاون کونسل کے شماریاتی مرکز کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس مشترکہ ذمہ داری کی وسعت کو ظاہر کرتا ہے کہ خاندانی اور سماجی پالیسیاں اس اضافے اور اس کے ساتھ آنے والی تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ بنائی جائیں۔

بچوں سے متعلق کون سے اعداد و شمار پیش کیے گئے؟ سیکرٹری جنرل نے 2024 کے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پندرہ سال سے کم عمر کے بچے خلیج تعاون کونسل کی کل آبادی کے بیس فیصد سے زیادہ ہیں، یعنی خلیجی معاشرے کا پانچواں حصہ۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعداد و شمار بچوں کی دیکھ بھال اور تحفظ کے ایک مربوط نظام کو مسلسل ترقی دینے کی ضرورت کو تقویت دیتا ہے۔

بچوں کے تحفظ کے حوالے سے کون سے چیلنجز بیان کیے گئے؟ البدیوی نے کہا کہ بچوں کو تشدد، بدسلوکی اور استحصال سے محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے، اور تعلیم اور صحت کی کیفیت کو بہتر بنانا ضروری ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل دنیا کے ابھرتے ہوئے چیلنجوں کا بھی ذکر کیا، جن میں ڈیجیٹل تحفظ، رازداری اور جدید ٹیکنالوجیز کا محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال شامل ہے۔

کمیٹی کے کردار کے بارے میں کیا کہا گیا؟ سیکرٹری جنرل نے کمیٹی کے نمایاں اور فعال کردار کو اجاگر کیا جو وہ سماجی ترقی کے میدان میں مشترکہ خلیجی عمل کو آگے بڑھانے میں ادا کر رہی ہے، خاص طور پر خاندان اور معاشرے کے طبقات کے حوالے سے۔ انہوں نے کہا کہ یہ کردار تیز رفتار آبادیاتی اضافے کے پس منظر میں مزید اہمیت اختیار کر گیا ہے۔