ریاض میں کنگ عبداللہ اسپیشلسٹ چلڈرنز ہسپتال، کنگ عبدالعزیز میڈیکل سٹی (وزارت نیشنل گارڈ) میں سعودی جڑواں بچوں کے پروگرام کی طبی اور جراحی ٹیم نے مراکشی جڑواں بچوں سجا اور دوحہ کو الگ کرنے کا کامیاب آپریشن مکمل کر لیا ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 8 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، رائل کورٹ کے مشیر، کنگ سلمان ہیومینٹیرین ایڈ اینڈ ریلیف سینٹر (KSrelief) کے سپروائزر جنرل اور طبی ٹیم کے سربراہ ڈاکٹر عبداللہ الربیع نے اعلان کیا کہ یہ آپریشن جمعرات کو چھ گھنٹوں میں چھ مختلف مراحل میں مکمل کیا گیا۔ کیا طبی سائنس کی یہ پیشرفت انسانیت کے لیے ایک نئی امید نہیں ہے؟
ڈاکٹر الربیع کے مطابق، اس پیچیدہ عمل میں اینستھیزیولوجی، پیڈیاٹرک سرجری، پلاسٹک سرجری اور دیگر معاون شعبوں کے 23 کنسلٹنٹس، اسپیشلسٹ، نرسوں اور ٹیکنیشنز نے شرکت کی تاکہ ہر مرحلے پر درستگی اور حفاظت کے اعلیٰ ترین معیار کو یقینی بنایا جا سکے۔ کیا اتنی بڑی ٹیم کا تال میل ہی اس کامیابی کی اصل وجہ نہیں؟
طبی تفصیلات کے مطابق، جڑواں بچے نچلے سینے اور پیٹ سے جڑے ہوئے تھے اور ان کا پیری کارڈیم (pericardium)، جگر اور آنتیں مشترک تھیں۔ کیا ایسے پیچیدہ اعضاء کی علیحدگی جراحی کی مہارت کا امتحان نہیں ہے؟
ڈاکٹر الربیع نے بتایا کہ یہ مراکشی جڑواں بچوں کی علیحدگی کا چوتھا کیس تھا اور اس پروگرام کے تحت کیا گیا 73واں آپریشن ہے۔ کیا یہ اعداد و شمار سعودی عرب کی طبی مہارت کی گواہی نہیں دیتے؟
گزشتہ 35 سال سے زائد عرصے میں، اس پروگرام نے 28 ممالک کے 159 کیسز کا جائزہ لیا ہے، جو انسانی اور طبی کاموں میں سعودی عرب کے قائدانہ کردار کی عکاسی کرتا ہے۔ کیا عالمی سطح پر اس قسم کی خدمات کسی اور ملک میں اس پیمانے پر موجود ہیں؟
ڈاکٹر الربیع نے واضح کیا کہ پروگرام کی یہ کامیابیاں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی براہ راست حمایت سے ممکن ہوئیں۔ کیا حکومتی سرپرستی کے بغیر ایسے بڑے انسانی منصوبے کامیاب ہو سکتے ہیں؟
جڑواں بچوں کے اہل خانہ نے خادم الحرمین الشریفین اور ولی عہد کا شکریہ ادا کیا اور طبی ٹیم کی کوششوں کی تعریف کی۔ کیا خاندان کی یہ خوشی تمام طبی عملے کی محنت کا بہترین صلہ نہیں ہے؟
رپورٹ میں آپریشن کے بعد بچوں کی موجودہ صحت کی حالت یا ریکوری کے دورانیے کے بارے میں تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔
آپریشن کہاں اور کب کیا گیا؟ یہ آپریشن جمعرات کو ریاض میں کنگ عبدالعزیز میڈیکل سٹی (وزارت نیشنل گارڈ) کے کنگ عبداللہ اسپیشلسٹ چلڈرنز ہسپتال میں کیا گیا۔ ڈاکٹر عبداللہ الربیع کے مطابق یہ عمل چھ گھنٹوں میں چھ مختلف مراحل میں مکمل ہوا۔
طبی ٹیم میں کتنے ماہرین شامل تھے؟ اس آپریشن میں مجموعی طور پر 23 کنسلٹنٹس، اسپیشلسٹ، نرسوں اور ٹیکنیشنز نے حصہ لیا۔ ان میں اینستھیزیولوجی، پیڈیاٹرک سرجری اور پلاسٹک سرجری کے ماہرین شامل تھے تاکہ حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔
بچے جسم کے کن حصوں سے جڑے ہوئے تھے؟ سجا اور دوحہ نچلے سینے اور پیٹ سے ایک دوسرے سے جڑی ہوئی تھیں۔ طبی رپورٹ کے مطابق ان کا پیری کارڈیم، جگر اور آنتیں مشترک تھیں جنہیں جراحی کے ذریعے الگ کیا گیا۔
سعودی جڑواں بچوں کے پروگرام کی اب تک کیا کارکردگی ہے؟ یہ پروگرام کے تحت کیا گیا 73واں آپریشن تھا اور مراکشی جڑواں بچوں کی علیحدگی کا چوتھا کیس تھا۔ گزشتہ 35 سالوں میں اس پروگرام نے 28 ممالک کے 159 کیسز کا جائزہ لیا ہے۔