لندن میں انٹرنیشنل میری ٹائم آرگنائزیشن (IMO) کے ہیڈ کوارٹر میں ہونے والی ایک سرکاری تقریب کے دوران سعودی عرب کے وزیر ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک سروسز کے نائب وزیر اور ٹرانسپورٹ جنرل اتھارٹی کے قائم مقام صدر ڈاکٹر رمیح الرمیح نے بحری شعبے کے متعدد عالمی رہنماؤں کے ساتھ ملاقاتوں کا سلسلہ مکمل کیا۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 12 اپریل 2025 کو بیان کیا، یہ دورہ برطانیہ میں سعودی سفیر اور IMO جنرل اسمبلی کے 33ویں سیشن کے صدر شہزادہ خالد بن بندر بن سلطان بن عبدالعزیز کے اعزاز میں منعقدہ ایک تقریب کے ہم آہنگ تھا۔ شہزادہ خالد بن بندر بن سلطان بن عبدالعزیز کو عرب اکیڈمی فار سائنس، ٹیکنالوجی اینڈ میری ٹائم ٹرانسپورٹ کی جانب سے اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری سے نوازا گیا۔ کیا یہ اعزاز بین الاقوامی تعاون کی اہمیت کو ظاہر نہیں کرتا؟ یہ ایوارڈ IMO کے ساتھ بین الاقوامی تعاون کو آگے بڑھانے اور عالمی بحری نقل و حمل کے شعبے میں عرب ممالک کے کردار کو مضبوط بنانے میں ان کی نمایاں خدمات کے اعتراف میں دیا گیا۔
تقریب کے موقع پر ڈاکٹر رمیح الرمیح نے شہزادہ خالد سے ملاقات کی تاکہ بحری ترقی کے حوالے سے مملکت کی کوششوں اور اقدامات کا جائزہ لیا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے متعدد بین الاقوامی حکام کے ساتھ بحری تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ کیا عالمی بحری نیٹ ورکس کی مضبوطی معاشی ترقی کے لیے ضروری نہیں ہے؟
ڈاکٹر رمیح الرمیح نے مارشل آئی لینڈز کے وزیر ٹرانسپورٹ، کمیونیکیشن اور انفارمیشن ٹیکنالوجی ہلٹن کینڈل سے ملاقات کی، جس میں مملکت کی حمایت یافتہ مشترکہ بحری اقدامات پر بات چیت کی گئی۔ اس کے بعد انہوں نے IMO کے سیکرٹری جنرل ارسینیو ڈومنگیز کے ساتھ ملاقات کی تاکہ سمندری ماحول کے تحفظ، حفاظت میں بہتری اور عالمی بحری جہاز رانی کی سہولت کے لیے تعاون کو بڑھایا جا سکے۔ کیا سمندری ماحول کا تحفظ مستقبل کی نسلوں کے لیے ناگزیر نہیں ہے؟
سولومنز آئی لینڈز کے وزیر برائے انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ مناسہ میلانگا کے ساتھ ملاقات کے دوران ڈاکٹر رمیح الرمیح نے عالمی ویسل ٹریکنگ سسٹم پر تعاون کے مواقع کا جائزہ لیا، جو کہ سعودی عرب کی حمایت یافتہ ایک پہل ہے۔ کیا جہازوں کی عالمی ٹریکنگ سسٹم سے بحری تحفظ میں اضافہ نہیں ہوگا؟
ایک علیحدہ ملاقات میں برطانیہ کے محکمہ ٹرانسپورٹ میں ایوی ایشن، میری ٹائم اور سیکیورٹی کی ڈائریکٹر جنرل رانیہ لیونٹاریدی کے ساتھ بین الاقوامی تعاون کو بڑھانے کے طریقوں پر غور کیا گیا، خاص طور پر ترقی پذیر اور جزیراتی ممالک کی حمایت کے حوالے سے۔ کیا ترقی پذیر ممالک کی مدد عالمی تجارت کو متوازن نہیں کرے گی؟ ڈاکٹر رمیح الرمیح نے یورپی پارلیمنٹ کے ارکان سے بھی ملاقات کی اور مختلف نکات پر زور دیا۔ کیا یورپی یونین کے ساتھ یہ روابط بحری پالیسیوں میں ہم آہنگی پیدا کریں گے؟
رپورٹ میں یورپی پارلیمنٹ کے ارکان کے ساتھ ہونے والی گفتگو کی تفصیلات یا کسی مخصوص معاہدے کی رقم کا ذکر نہیں کیا گیا۔
ڈاکٹر رمیح الرمیح نے لندن میں کن رہنماؤں سے ملاقات کی؟ ڈاکٹر رمیح الرمیح نے مارشل آئی لینڈز کے وزیر ہلٹن کینڈل، IMO سیکرٹری جنرل ارسینیو ڈومنگیز، سولومنز آئی لینڈز کے وزیر مناسہ میلانگا اور برطانیہ کے محکمہ ٹرانسپورٹ کی ڈائریکٹر جنرل رانیہ لیونٹاریدی سے ملاقاتیں کیں۔ انہوں نے یورپی پارلیمنٹ کے ارکان سے بھی ملاقات کی۔
شہزادہ خالد بن بندر بن سلطان بن عبدالعزیز کو کون سا اعزاز ملا؟ شہزادہ خالد بن بندر بن سلطان بن عبدالعزیز کو عرب اکیڈمی فار سائنس، ٹیکنالوجی اینڈ میری ٹائم ٹرانسپورٹ کی جانب سے اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری دی گئی۔ یہ اعزاز IMO کے ساتھ بین الاقوامی تعاون اور عالمی بحری شعبے میں عرب ممالک کے کردار کو مضبوط بنانے کی خدمات پر دیا گیا۔
سولومنز آئی لینڈز کے وزیر کے ساتھ کس موضوع پر بات ہوئی؟ ڈاکٹر رمیح الرمیح نے سولومنز آئی لینڈز کے وزیر برائے انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ مناسہ میلانگا کے ساتھ عالمی ویسل ٹریکنگ سسٹم پر تعاون کے مواقع کا جائزہ لیا۔ یہ سسٹم سعودی عرب کی حمایت یافتہ ایک اہم پہل ہے۔
IMO سیکرٹری جنرل کے ساتھ ملاقات کا مقصد کیا تھا؟ IMO سیکرٹری جنرل ارسینیو ڈومنگیز کے ساتھ ملاقات کا مقصد سمندری ماحول کے تحفظ، بحری حفاظت میں بہتری اور عالمی بحری جہاز رانی کی سہولت کے لیے تعاون کو بڑھانا تھا۔