Tuesday, October 27, 2026
سعودی خبریں

سعودی روڈز جنرل اتھارٹی نے 2026 کی تیسری سہ ماہی میں 16,000 سے زائد پرمٹ جاری کیے

سعودی روڈز جنرل اتھارٹی نے 2026 کی تیسری سہ ماہی میں 16,000 سے زائد پرمٹ جاری کیے

سعودی عرب میں شہری علاقوں سے باہر سڑکوں کے نیٹ ورک پر کھدائی کے کاموں اور غیر معمولی بوجھ کی نقل و حمل کو منظم کرنے کے لیے Roads General Authority (RGA) نے 2026 کی تیسری سہ ماہی کے دوران 16,000 سے زائد پرمٹ جاری کیے ہیں۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 7 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، یہ اقدام سڑکوں کی حفاظت کو بڑھانے، آپریشنل کارکردگی میں بہتری لانے اور منظور شدہ طریقہ کار اور معیارات کے مطابق روڈ سیکٹر پر اپنی ریگولیٹری اور supervisory کردار کو مضبوط کرنے کی RGA کی کوششوں کا حصہ ہے۔ کیا یہ اقدامات سڑکوں کے نیٹ ورک کی پائیداری کو یقینی بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے؟

RGA نے اعداد و شمار فراہم کرتے ہوئے بتایا کہ غیر معمولی بوجھ کی نقل و حمل کے لیے 15,207 پرمٹ جاری کیے گئے، جن کے سفر کا مجموعی فاصلہ 8.7 ملین کلومیٹر سے زیادہ رہا۔ کیا اتنے بڑے پیمانے پر نقل و حمل کے لیے ڈیجیٹل نظام کی موجودگی نے عمل کو آسان بنا دیا ہے؟

اعداد و شمار کے مطابق، کھدائی کے کاموں کے لیے 964 پرمٹ جاری کیے گئے جن کا مجموعی فاصلہ 2,544 کلومیٹر سے زیادہ ہے۔ اس کے علاوہ، کھدائی کے کاموں کی توسیع کے لیے 95 پرمٹ اور 467 کلیئرنس پرمٹ بھی جاری کیے گئے۔ کیا ان پرمٹس کی سخت نگرانی سے سڑکوں کے معیار پر اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے؟

RGA نے واضح کیا کہ ان خدمات کے بنیادی فائدہ اٹھانے والوں میں اہم شعبوں سے تعلق رکھنے والی تنظیمیں شامل تھیں، جن میں Saudi Energy (SE)، National Water Company (NWC)، stc group، Mobily اور Zain KSA شامل ہیں۔ کیا ان بڑے اداروں کی شمولیت قومی انفراسٹرکچر کی ترقی کی عکاسی کرتی ہے؟

اتھارٹی نے اس بات کی تصدیق کی کہ مخصوص ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے پرمٹ جاری کرنے کا عمل انتہائی مؤثر رہا ہے، جس نے فائدہ اٹھانے والوں کے لیے طریقہ کار کو سادہ بنایا اور انہیں الیکٹرانک طور پر پرمٹ حاصل کرنے کے قابل بنایا۔ اس سے نہ صرف حفاظت کے معیار میں اضافہ ہوا بلکہ متعلقہ کمپنیوں اور اداروں کے تجربے میں بھی بہتری آئی ہے۔ کیا ڈیجیٹلائزیشن مستقبل میں مزید وقت کی بچت کا سبب بنے گی؟

RGA نے اس بات پر زور دیا کہ ایسے کیریئرز کے لیے خصوصی پرمٹ حاصل کرنا لازمی ہے جن کا بوجھ ناقابل تقسیم (indivisible) ہو اور جس کا وزن اور جہتیں منظور شدہ سعودی معیارات سے زیادہ ہوں۔ کیا ان سخت معیارات کا مقصد سڑکوں کے ڈھانچے کو نقصان سے بچانا ہے؟

یہ اقدامات بین الاقوامی بہترین طریقوں کو نافذ کرنے کی RGA کی کوششوں کا حصہ ہیں، جس کا مقصد 2030 تک سعودی عرب کی سڑکوں کے معیار کی عالمی رینکنگ کو چھٹے نمبر تک پہنچانا اور اموات کی شرح کو فی 100,000 افراد پر پانچ سے کم کرنا ہے۔ کیا یہ اہداف قومی لاجسٹک سروسز سسٹم کی مجموعی کارکردگی کو بہتر بنائیں گے؟

ان اقدامات سے اس اہم شعبے کی کارکردگی میں اضافہ ہوگا اور قومی لاجسٹک نظام کو مضبوط سہارا ملے گا۔ رپورٹ میں پرمٹس کی فیس یا مخصوص شہروں کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

تیسری سہ ماہی میں کتنے پرمٹ جاری کیے گئے؟ Roads General Authority (RGA) نے 2026 کی تیسری سہ ماہی کے دوران مجموعی طور پر 16,000 سے زائد پرمٹ جاری کیے۔ ان میں غیر معمولی بوجھ کی نقل و حمل کے لیے 15,207 پرمٹ شامل تھے، جبکہ کھدائی کے کاموں کے لیے 964 پرمٹ جاری کیے گئے۔ ایس پی اے کے مطابق ان کا مقصد سڑکوں کی حفاظت اور آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنانا ہے۔

غیر معمولی بوجھ کی نقل و حمل کا مجموعی فاصلہ کتنا رہا؟ جاری کردہ 15,207 پرمٹس کے ذریعے غیر معمولی بوجھ کی نقل و حمل کا مجموعی فاصلہ 8.7 ملین کلومیٹر سے زیادہ رہا۔ RGA کے مطابق، وہ کیریئرز جن کا بوجھ ناقابل تقسیم ہو اور وزن یا جہتیں سعودی معیارات سے زیادہ ہوں، ان کے لیے خصوصی پرمٹ حاصل کرنا لازمی ہے۔

کھدائی کے کاموں کے لیے کتنے پرمٹ جاری ہوئے؟ کھدائی کے کاموں کے لیے 964 پرمٹ جاری کیے گئے جن کا کل فاصلہ 2,544 کلومیٹر سے زیادہ تھا۔ اس کے علاوہ، کھدائی کے کاموں کی توسیع کے لیے 95 پرمٹ اور 467 کلیئرنس پرمٹ بھی جاری کیے گئے۔

ان خدمات سے کن اداروں نے فائدہ اٹھایا؟ ان خدمات کے بنیادی فائدہ اٹھانے والوں میں اہم شعبوں کے ادارے شامل تھے، جن میں Saudi Energy (SE)، National Water Company (NWC)، stc group، Mobily اور Zain KSA شامل ہیں۔ RGA نے بتایا کہ ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے پرمٹ جاری کرنے سے ان اداروں کے لیے طریقہ کار سادہ ہو گیا ہے۔

RGA کے 2030 کے اہداف کیا ہیں؟ RGA کا مقصد 2030 تک سعودی عرب کی سڑکوں کے معیار کی عالمی رینکنگ کو چھٹے نمبر تک پہنچانا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ، اتھارٹی کی کوشش ہے کہ اموات کی شرح کو کم کر کے فی 100,000 افراد پر پانچ سے کم کیا جائے تاکہ قومی لاجسٹک سسٹم کو سپورٹ مل سکے۔