منامہ میں منعقدہ چھٹی مشاورتی نشست کے دوران خلیج تعاون کونسل (GCC) کے سیکرٹری جنرل Jasem Mohamed Albudaiwi نے واضح کیا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے (SMEs) رکن ممالک کے قومی ویژن کے حصول اور مشترکہ خلیجی عمل کو آگے بڑھانے میں ایک فعال اور کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 7 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، یہ نشست جی سی سی کے وزراء تجارت و صنعت اور خلیجی کاروباری افراد کے درمیان منعقد ہوئی، جس کی صدارت بحرین کے صنعت و تجارت کے وزیر اور موجودہ سیشن کے چیئرمین Abdulla bin Adel Fakhro نے کی۔ اس تقریب میں جی سی سی رکن ممالک کے وزراء تجارت و صنعت اور خلیجی کاروباری افراد کی شرکت رہی۔
سیکرٹری جنرل نے اپنے خطاب میں اس بات پر روشنی ڈالی کہ اس مشاورتی ملاقات کا مقصد اس شعبے کو درپیش چیلنجز اور رکاوٹوں کی نشاندہی کرنا، انہیں دور کرنے کے لیے فعال طور پر کام کرنا اور مناسب حل تلاش کرنا ہے۔ کیا یہ اقدامات خلیجی معیشتوں کو مزید مستحکم نہیں کریں گے؟ انہوں نے بتایا کہ یہ تمام کوششیں جی سی سی ریاستوں کے رہنماؤں کی ہدایات کے مطابق ہیں، جن میں SMEs کو ترجیح دینے اور انہیں رکن ممالک کے درمیان اقتصادی انضمام کے حصول میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے بااختیار بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
کیا ایک معاون ماحول کی فراہمی ان اداروں کی ترقی کے لیے کافی ہوگی؟ Jasem Mohamed Albudaiwi نے مزید کہا کہ ان کوششوں کا مقصد ان اداروں کی ترقی کے لیے ایک ایسا ماحول فراہم کرنا ہے جو معاون اور مربوط ہو۔ انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ یہ مشاورتی نشست پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی اہمیت کی توثیق کرتی ہے، خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے اداروں کے ساتھ۔
کیا پالیسی سازوں اور کاروباری افراد کے درمیان براہ راست مکالمہ معاشی ترقی کی رفتار کو تیز کر سکتا ہے؟ سیکرٹری جنرل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پالیسی سازوں، فیصلہ سازوں اور کاروباری افراد کے درمیان ایک مکالماتی پلیٹ فارم قائم کیا جائے گا۔ اس مصروفیت کا مقصد جی سی سی ریاستوں میں اقتصادی ترقی کو سپورٹ کرنا اور اسے تیز کرنا ہے، جبکہ ساتھ ہی خلیجی نجی شعبے کو درپیش علاقائی اور بین الاقوامی معاشی چیلنجز سے نمٹا جائے۔
کیا خلیجی نجی شعبہ عالمی معاشی دباؤ کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے؟ اس نشست کے ذریعے یہ پیغام دیا گیا کہ SMEs کی مضبوطی براہ راست رکن ممالک کی مجموعی اقتصادی ترقی سے جڑی ہوئی ہے۔ کیا مشترکہ خلیجی عمل کے ذریعے ان رکاوٹوں کو مستقل طور پر ختم کیا جا سکتا ہے؟ رپورٹ میں کسی مخصوص مالیاتی ہدف یا مستقبل کی تاریخوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔
جی سی سی سیکرٹری جنرل نے SMEs کے بارے میں کیا بیان دیا؟ سیکرٹری جنرل Jasem Mohamed Albudaiwi نے کہا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے (SMEs) رکن ممالک کے قومی ویژن کے حصول اور مشترکہ خلیجی عمل کو آگے بڑھانے میں فعال اور کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے ان اداروں کو بااختیار بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
منامہ میں منعقدہ مشاورتی نشست کا مقصد کیا تھا؟ اس چھٹی مشاورتی نشست کا مقصد SMEs کے شعبے کو درپیش چیلنجز اور رکاوٹوں کی نشاندہی کرنا، انہیں دور کرنے کے لیے کام کرنا اور مناسب حل تلاش کرنا تھا۔ یہ نشست جی سی سی کے وزراء تجارت و صنعت اور خلیجی کاروباری افراد کے درمیان منعقد ہوئی۔
SMEs کی ترقی کے لیے کن اقدامات پر زور دیا گیا؟ رکن ممالک کے رہنماؤں کی ہدایات کے مطابق SMEs کو ترجیح دینے، انہیں اقتصادی انضمام میں مؤثر بنانے اور ان کی ترقی کے لیے ایک معاون اور مربوط ماحول فراہم کرنے پر زور دیا گیا۔ اس کے علاوہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
پالیسی سازوں اور کاروباری افراد کے درمیان کس قسم کے تعاون کی بات کی گئی؟ سیکرٹری جنرل نے پالیسی سازوں، فیصلہ سازوں اور کاروباری افراد کے درمیان ایک مکالماتی پلیٹ فارم قائم کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔ اس کا مقصد جی سی سی ریاستوں میں اقتصادی ترقی کو تیز کرنا اور نجی شعبے کو درپیش علاقائی و بین الاقوامی چیلنجز کا حل نکالنا ہے۔