Wednesday, October 28, 2026
سائنس

موہبہ کا بہار فورم: 19 تعلیمی اداروں کے 230 طلبہ بین الاقوامی سائنس اولمپیاڈز کی تیاری میں

موہبہ کا بہار فورم: 19 تعلیمی اداروں کے 230 طلبہ بین الاقوامی سائنس اولمپیاڈز کی تیاری میں

ریاض میں 10 سے 18 اپریل تک جاری رہنے والے بہار تربیتی فورم 2025 میں 19 تعلیمی اداروں کے 230 طلبہ اور طالبات شریک ہیں، جو تمام سرکاری اسکولی سطحوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ فورم کنگ عبدالعزیز اینڈ ہز کمپینینز فاؤنڈیشن فار گفٹڈنیس اینڈ کریٹیویٹی (موہبہ) نے وزارت تعلیم کے اشتراک سے ریاض میں شروع کیا ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 13 اپریل 2025 کو بیان کیا، فورم سعودی عرب کی بین الاقوامی سائنسی مقابلوں کی تیاری کے سلسلے میں موہبہ کے تربیتی منصوبے کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد طلبہ کی مہارتیں نکھارنا اور انہیں سائنسی طور پر اہل بنانا ہے تاکہ وہ عالمی سطح پر ملک کی نمائندگی کر سکیں، اور اس کے لیے مختلف سائنسی شعبوں کے ماہرین کی تیار کردہ جدید مواد استعمال کیا جا رہا ہے۔

آٹھ روزہ ایونٹ میں 52 گھنٹے کی تربیت دی جائے گی جو ہر تخصص کے نصاب کی تکمیل پر مرکوز ہے۔ شرکا میں ریاضی کے 42 طلبہ، انفارمیٹکس کے 51، کیمسٹری کے 34، فزکس کے 24، بیالوجی کے 39 اور جنرل سائنس کے 39 طلبہ شامل ہیں۔ کیا یہ تقسیم بتاتی ہے کہ سعودی عرب کس سائنسی شعبے کو سب سے زیادہ مضبوط کرنا چاہتا ہے؟

یہ فورم موہبہ پروگرام برائے بین الاقوامی اولمپیاڈز کے دوسرے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ جن طلبہ نے گزشتہ سرمائی تربیتی فورم میں کوالیفائی کیا تھا، اب انہیں مزید گہری اور مرکوز تربیت دی جائے گی۔ اس تربیت کے نتائج ہی 2025 کے بین الاقوامی مقابلوں کے لیے ان کی نامزدگی کا تعین کریں گے۔ کیا یہی مرحلہ فیصلہ کرتا ہے کہ کون سا طالب علم ملک کی نمائندگی کرے گا؟

فورم انٹرمیڈیٹ سطح کے ان فاتحین کی ابتدائی تربیتی مرحلہ بھی ہے جنہوں نے 2024 کے آخر میں منعقدہ بیبراس موہبہ انفارمیٹکس مقابلے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ اس طرح ایک ہی فورم میں دو الگ الگ گروہوں کی تربیت ہو رہی ہے: وہ جو سرمائی فورم سے آگے بڑھے، اور وہ جو انفارمیٹکس مقابلے سے ابھرے۔ کیا ایک ہی ایونٹ میں دو مختلف سطحوں کے طلبہ کو یکساں توجہ مل پاتی ہے؟

گزشتہ سال بین الاقوامی سائنس اولمپیاڈز میں شریک سعودی ٹیموں نے 25 مقابلوں میں 119 اعزازات حاصل کیے، جن میں ریجنیرون انٹرنیشنل سائنس اینڈ انجینئرنگ فیئر (ISEF) بھی شامل ہے۔ اس سے ان مقابلوں میں مملکت کے مجموعی اعزازات کی تعداد 854 ہو گئی۔ یہ اعداد و شمار سعودی صلاحیتوں کے اعلیٰ معیار اور موہبہ کی تیاری کی کوششوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ 119 اعزازات اور 854 کا مجموعی عدد—کیا یہ تسلسل خود بولتا ہے؟

موہبہ کا یہ پروگرام صرف ایک تربیتی ایونٹ نہیں بلکہ ایک مرحلہ وار نظام ہے جس میں سرمائی فورم، بہار فورم اور پھر بین الاقوامی مقابلوں کی نامزدگی شامل ہے۔ ہر مرحلے میں طلبہ کی چھانٹی ہوتی ہے اور بہتر کارکردگی والے آگے بڑھتے ہیں۔ کیا اس نظام میں کسی طالب علم کے لیے دوبارہ موقع ملنے کا کوئی راستہ موجود ہے؟

فورم میں 52 گھنٹے کی تربیت آٹھ دنوں میں تقسیم ہے، یعنی اوسطاً روزانہ ساڑھے چھ گھنٹے۔ یہ مدت بتاتی ہے کہ تربیت کتنی مرکوز ہے اور طلبہ کو ہر تخصص کے نصاب کو مکمل کرنے پر کتنا زور دیا جا رہا ہے۔ ریاضی، انفارمیٹکس، کیمسٹری، فزکس، بیالوجی اور جنرل سائنس—چھ شعبوں کے لیے الگ الگ مواد ماہرین نے تیار کیا ہے۔ کیا یہ مواد ہر سال نیا ہوتا ہے یا پرانے تجربات پر مبنی ہے؟

19 تعلیمی اداروں سے طلبہ کی شرکت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ کوشش صرف ریاض تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک کے سرکاری اسکولوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ تمام سرکاری اسکولی سطحوں سے طلبہ کی شمولیت کا مطلب ہے کہ ابتدائی، درمیانی اور ثانوی مراحل کے طلبہ ایک ہی پروگرام کا حصہ ہیں۔ کیا یہ وسیع پیمانہ سعودی تعلیمی نظام میں ہنر کی شناخت کے طریقے کو بدل رہا ہے؟

موہبہ اور وزارت تعلیم کی شراکت داری اس پروگرام کی بنیاد ہے۔ وزارت تعلیم اسکولوں تک رسائی فراہم کرتی ہے جبکہ موہبہ تربیتی مواد اور ماہرین کا انتظام کرتا ہے۔ یہ تقسیم کار اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ تربیت اسکولی نصاب سے ہم آہنگ رہے۔ کیا سرکاری اسکولوں کے طلبہ کو اس قسم کی خصوصی توجہ عام طور پر دستیاب ہوتی ہے؟

گزشتہ سال کے 119 اعزازات میں ISEF جیسے بڑے مقابلے شامل ہیں، جو سائنسی تحقیق اور انجینئرنگ کے میدان میں عالمی سطح پر معتبر سمجھا جاتا ہے۔ اس میں کامیابی کا مطلب ہے کہ سعودی طلبہ کا کام بین الاقوامی معیار پر پرکھا گیا۔ 25 مقابلوں میں یہ کارکردگی بتاتی ہے کہ شراکت صرف چند شعبوں تک محدود نہیں۔ کیا یہ کامیابیوں کی شرح آنے والے سالوں میں برقرار رہ سکے گی؟

بیبراس موہبہ انفارمیٹکس مقابلہ 2024 کے آخر میں ہوا تھا، اور اس کے انٹرمیڈیٹ سطح کے فاتحین اب بہار فورم میں ابتدائی تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ یہ کم عمر طلبہ کے لیے ایک طویل راستے کا آغاز ہے جو انہیں آگے بین الاقوامی مقابلوں تک لے جا سکتا ہے۔ کیا کم عمری میں شروع ہونے والی یہ تربیت بعد کے مراحل میں زیادہ پختہ نتائج دیتی ہے؟

فورم کا انعقاد ریاض میں ہو رہا ہے اور یہ 10 اپریل سے 18 اپریل 2025 تک جاری رہے گا۔ اس دوران طلبہ کو ان کے منتخب کردہ تخصص کے نصاب کو مکمل کرنے پر توجہ دی جائے گی۔ تربیت کے بعد نتائج کی بنیاد پر 2025 کے بین الاقوامی مقابلوں کے لیے نامزدگیاں طے ہوں گی۔ کیا تربیت کے دوران ہی طلبہ کا جائزہ لیا جاتا ہے یا آخر میں ایک حتمی امتحان ہوتا ہے؟

موہبہ کا تربیتی منصوبہ اس خیال پر استوار ہے کہ باصلاحیت طلبہ کو باقاعدہ اسکولی تعلیم کے ساتھ ساتھ اضافی اور گہری تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ سرمائی اور بہار فورم اس منصوبے کے دو موسمی مراحل ہیں، اور ہر مرحلے کی اپنی شدت ہے۔ کیا موسمی وقفے تربیت کی تاثیر کو بڑھاتے ہیں یا تسلسل میں خلل ڈالتے ہیں؟

رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کہ فورم کے انعقاد پر کتنی رقم خرچ ہوئی، نہ یہ کہ تربیت دینے والے ماہرین کتنے ہیں، اور نہ ہی یہ کہ 230 شرکا میں سے کتنے کو بین الاقوامی مقابلوں کے لیے نامزد کیا جائے گا۔ یہ تفصیلات ایس پی اے کی رپورٹ میں موجود نہیں۔

بہار تربیتی فورم 2025 کب اور کہاں ہو رہا ہے؟ فورم ریاض میں 10 اپریل سے 18 اپریل 2025 تک جاری ہے، یعنی آٹھ دن۔ اسے موہبہ نے وزارت تعلیم کے اشتراک سے شروع کیا ہے۔ اس دوران 52 گھنٹے کی تربیت دی جائے گی جو ہر تخصص کے نصاب کی تکمیل پر مرکوز ہے۔ ایس پی اے کے مطابق یہ سعودی عرب کی بین الاقوامی سائنسی مقابلوں کی تیاری کے منصوبے کا حصہ ہے۔

فورم میں کتنے طلبہ اور کون سے شعبے شامل ہیں؟ فورم میں 19 تعلیمی اداروں کے 230 طلبہ اور طالبات شریک ہیں، جو تمام سرکاری اسکولی سطحوں سے ہیں۔ شعبوں کے لحاظ سے ریاضی میں 42، انفارمیٹکس میں 51، کیمسٹری میں 34، فزکس میں 24، بیالوجی میں 39 اور جنرل سائنس میں 39 طلبہ شامل ہیں۔ تربیت مختلف سائنسی شعبوں کے ماہرین کی تیار کردہ جدید مواد پر مبنی ہے۔

یہ فورم موہبہ پروگرام کے کس مرحلے میں ہے؟ یہ فورم موہبہ پروگرام برائے بین الاقوامی اولمپیاڈز کے دوسرے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے۔ سرمائی تربیتی فورم میں کوالیفائی کرنے والے طلبہ اب مزید گہری اور مرکوز تربیت حاصل کریں گے۔ اس تربیت کے نتائج 2025 کے بین الاقوامی مقابلوں کے لیے ان کی نامزدگی کا تعین کریں گے۔ یہ فورم بیبراس موہبہ انفارمیٹکس مقابلے کے انٹرمیڈیٹ سطح کے فاتحین کی ابتدائی تربیت بھی ہے۔

گزشتہ سال سعودی ٹیموں نے کتنے اعزازات حاصل کیے؟ گزشتہ سال بین الاقوامی سائنس اولمپیاڈز میں شریک سعودی ٹیموں نے 25 مقابلوں میں 119 اعزازات حاصل کیے، جن میں ریجنیرون انٹرنیشنل سائنس اینڈ انجینئرنگ فیئر (ISEF) بھی شامل ہے۔ اس سے ان مقابلوں میں مملکت کے مجموعی اعزازات کی تعداد 854 ہو گئی۔ ایس پی اے کے مطابق یہ اعداد و شمار سعودی صلاحیتوں کے اعلیٰ معیار اور موہبہ کی تیاری کی کوششوں کو ظاہر کرتے ہیں۔

بیبراس موہبہ انفارمیٹکس مقابلے کا اس فورم سے کیا تعلق ہے؟ بیبراس موہبہ انفارمیٹکس مقابلہ 2024 کے آخر میں منعقد ہوا تھا۔ اس کے انٹرمیڈیٹ سطح کے فاتحین کے لیے بہار فورم ابتدائی تربیتی مرحلہ ہے۔ اس طرح فورم میں دو گروہ شامل ہیں: وہ طلبہ جو سرمائی فورم سے آگے بڑھے، اور وہ جو انفارمیٹکس مقابلے میں کامیاب ہوئے۔ دونوں گروہوں کی تربیت ایک ہی ایونٹ میں ہو رہی ہے۔