Saturday, October 31, 2026
سائنس

کاؤسٹ اور آکسفورڈ کا خون میں پارکنسن کے نشانات پکڑنے والا الیکٹرانک سینسر

کاؤسٹ اور آکسفورڈ کا خون میں پارکنسن کے نشانات پکڑنے والا الیکٹرانک سینسر

سعودی عرب کی کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (کاؤسٹ) کے محققین نے یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے اشتراک سے ایک خون پر مبنی الیکٹرانک سینسر تیار کیا ہے جو پارکنسن کے مرض سے منسلک مالیکیولی نشانات کی نشاندہی کر سکتا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی خون میں موجود الفا-سائنوکلین پروٹین کی تین مختلف شکلوں کو بیک وقت پکڑنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 4 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، یہ تحقیق سائنسی جریدے سائنس ایڈوانسز میں شائع ہوئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق کاؤسٹ میں تیار کردہ انتہائی حساس الیکٹرانک سینسر ان پروٹینوں کو انتہائی کم مقدار میں بھی محسوس کر سکتا ہے، جہاں روایتی تجزیاتی طریقے ناکام ہو جاتے ہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ خون میں گردش کرنے والے الفا-سائنوکلین کی 95 فیصد سے زیادہ مقدار سرخ خون کے خلیات سے آتی ہے؟ یہی وجہ ہے کہ دماغ سے نکلنے والے مرض سے متعلقہ پروٹینوں کی خون میں پیمائش انتہائی مشکل ہے، کیونکہ یہ پس منظر کا شور پیدا کرتی ہے۔

اس ٹیکنالوجی کا طریقہ کار یہ ہے کہ پہلے خون کے بہاؤ میں عصبی خلیات سے خارج ہونے والے ننھے پیکٹ الگ کیے جاتے ہیں، اور پھر ان کے پروٹین کے مواد کا الیکٹرانک سینسر کے ذریعے تجزیہ کیا جاتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے مرکز میں ایک ٹرانزسٹر ہے جو انتہائی چھوٹے حیاتیاتی اشاروں کو بہت بڑے الیکٹرانک اشاروں میں تبدیل کرتا ہے، جس سے الفا-سائنوکلین کی تینوں شکلوں کی پیمائش صرف 40 منٹ میں ممکن ہو جاتی ہے۔

کیا یہ ممکن ہے کہ مستقبل قریب میں پارکنسن کی تشخیص محض ایک خون کے ٹیسٹ سے ہو جائے؟ فی الحال اس مرض کی تشخیص زیادہ تر طبی معائنے کے ذریعے کی جاتی ہے، اور اکثر اس وقت جب حرکت سے متعلق نمایاں علامات ظاہر ہو چکی ہوتی ہیں۔ پارکنسن دماغ میں ڈوپامائن پیدا کرنے والے نیورون کو نقصان پہنچاتا ہے، جس سے حرکت، توازن اور جسم کے دیگر افعال میں مسائل پیدا ہوتے ہیں۔

دماغ سے نکلنے والے مرض سے متعلقہ پروٹینوں کی نشاندہی مرض کے بارے میں جلد آگاہی کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔ لیکن خون میں ان کی پیمائش انتہائی مشکل ہے کیونکہ سرخ خون کے خلیات سے آنے والا الفا-سائنوکلین پس منظر کا بھاری شور پیدا کرتا ہے۔ یہی چیلنج اس نئی ٹیکنالوجی کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔

سعودی عرب کا صحت کا نظام روک تھام اور جلد تشخیص پر تیزی سے زور دے رہا ہے کیونکہ لوگوں کی عمریں بڑھ رہی ہیں۔ مملکت میں متوقع عمر 79.7 سال تک پہنچ چکی ہے جو سعودی وژن 2030 کے ہدف 80 سال کے قریب ہے، اور آنے والی دہائیوں میں بزرگ افراد کی تعداد میں نمایاں اضافے کی توقع ہے۔

کیا بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ عمر سے جڑی بیماریوں کی روک تھام کے لیے ایسی ٹیکنالوجیز وقت کی ضرورت نہیں؟ اس پس منظر میں وہ ٹیکنالوجیز جو بالآخر عمر سے جڑی بیماریوں کی جلد شناخت میں مدد دے سکیں، سعودی صحت کے نظام کی ترجیحات کے ساتھ ہم آہنگ نظر آتی ہیں۔

یہ تحقیق کاؤسٹ اور یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے درمیان علمی تعاون کا نتیجہ ہے، جسے سائنس ایڈوانسز میں شائع کیا گیا۔ رپورٹ میں اس بات کی تفصیل نہیں دی گئی کہ اس سینسر کی طبی آزمائش کب شروع ہوگی یا اسے کب عام استعمال کے لیے دستیاب کیا جائے گا۔

کیا خون کے ایک سادہ ٹیسٹ سے پارکنسن کی تشخیص ممکن ہونا مریضوں کی زندگی کے معیار کو بہتر بنا سکتا ہے؟ فی الحال اس کا جواب تحقیق کے آگے بڑھنے پر منحصر ہے، لیکن یہ ٹیکنالوجی اس سمت میں ایک قابل ذکر کوشش ضرور ہے۔

رپورٹ کے مطابق سینسر کی حساسیت اتنی زیادہ ہے کہ وہ ان پروٹینوں کو ان ارتکازوں پر بھی پکڑ سکتا ہے جو روایتی تجزیاتی تکنیکوں سے ناپنا مشکل ہوتا ہے۔ یہی خصوصیت اسے دیگر طریقوں سے ممتاز کرتی ہے۔

کیا آپ نے غور کیا کہ 40 منٹ میں تین مختلف شکلوں کی پیمائش کتنی بڑی پیش رفت ہے؟ یہ رفتار طبی عمل میں اس ٹیکنالوجی کے ممکنہ استعمال کو آسان بنا سکتی ہے، بشرطیکہ آئندہ تحقیق اس کی افادیت کو ثابت کرے۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کہ اس تحقیق کے لیے کتنی رقم خرچ ہوئی، کتنے مریضوں پر تجربات کیے گئے، یا اس ٹیکنالوجی کی تجارتی دستیابی کا کوئی شیڈول کیا ہے۔ یہ پہلوؤں کا تعین آئندہ مطالعات سے ہوگا۔

یہ سینسر کیا پکڑ سکتا ہے؟ یہ خون میں الفا-سائنوکلین پروٹین کی تین مختلف شکلوں کو بیک وقت محسوس کر سکتا ہے، جو پارکنسن کے مرض سے گہرا تعلق رکھتی ہیں۔ ایس پی اے کے مطابق سینسر ان پروٹینوں کو انتہائی کم ارتکاز پر بھی پکڑ سکتا ہے جہاں روایتی تجزیاتی تکنیکیں ناکام ہو جاتی ہیں۔ پیمائش 40 منٹ میں مکمل ہو جاتی ہے۔

خون میں ان پروٹینوں کی پیمائش مشکل کیوں ہے؟ رپورٹ کے مطابق خون میں گردش کرنے والے الفا-سائنوکلین کی 95 فیصد سے زیادہ مقدار سرخ خون کے خلیات سے آتی ہے، جو پس منظر کا بھاری شور پیدا کرتی ہے۔ دماغ سے نکلنے والے مرض سے متعلقہ پروٹین اس شور میں دب جاتے ہیں۔ اسی لیے ان کی درست پیمائش روایتی طریقوں سے انتہائی مشکل ہوتی ہے۔

ٹیکنالوجی کا بنیادی اصول کیا ہے؟ طریقہ کار پہلے خون میں عصبی خلیات سے خارج ہونے والے ننھے پیکٹ الگ کرتا ہے، پھر ان کے پروٹین مواد کا الیکٹرانک سینسر سے تجزیہ کرتا ہے۔ اس کے مرکز میں ایک ٹرانزسٹر ہے جو انتہائی چھوٹے حیاتیاتی اشاروں کو بڑے الیکٹرانک اشاروں میں تبدیل کرتا ہے۔ اسی سے تینوں شکلوں کی 40 منٹ میں پیمائش ممکن ہوتی ہے۔

پارکنسن فی الحال کیسے تشخیص ہوتا ہے؟ ایس پی اے کے مطابق پارکنسن دماغ میں ڈوپامائن پیدا کرنے والے نیورون کو نقصان پہنچاتا ہے، جس سے حرکت، توازن اور دیگر افعال متاثر ہوتے ہیں۔ اس کی تشخیص زیادہ تر طبی معائنے سے ہوتی ہے، اور اکثر اس وقت جب حرکت کی نمایاں علامات ظاہر ہو چکی ہوتی ہیں۔ یہی تاخیر جلد تشخیص کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔

سعودی صحت کے نظام میں اس کی کیا اہمیت ہے؟ رپورٹ کے مطابق مملکت میں متوقع عمر 79.7 سال تک پہنچ چکی ہے جو وژن 2030 کے ہدف 80 سال کے قریب ہے، اور بزرگ افراد کی تعداد میں اضافے کی توقع ہے۔ سعودی صحت کا نظام روک تھام اور جلد تشخیص پر زور دے رہا ہے۔ عمر سے جڑی بیماریوں کی جلد شناخت ان ترجیحات سے ہم آہنگ ہے۔

تحقیق کہاں شائع ہوئی اور کس نے کی؟ یہ تحقیق کنگ عبداللہ یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (کاؤسٹ) کے محققین نے یونیورسٹی آف آکسفورڈ کے اشتراک سے کی، اور سائنسی جریدے سائنس ایڈوانسز میں شائع ہوئی۔ ایس پی اے نے 4 اکتوبر 2026 کو یہ رپورٹ دی۔ رپورٹ میں طبی آزمائش یا تجارتی دستیابی کا شیڈول نہیں دیا گیا۔