Friday, October 30, 2026
سائنس

سعودی عرب نے جاپان میں سائنس پر اعتماد بڑھانے کا تجربہ پیش کیا

سعودی عرب نے جاپان میں سائنس پر اعتماد بڑھانے کا تجربہ پیش کیا

کیوٹو میں منعقدہ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اِن سوسائٹی (STS) فورم کے 23ویں سالانہ اجلاس میں سعودی عرب نے شرکت کی، جہاں دنیا بھر سے سائنسی و ٹیکنالوجی شخصیات، پالیسی ساز اور تحقیقی، تعلیمی اور صنعتی اداروں کے سربراہان موجود تھے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 6 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، اس فورم میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی تیز رفتار تبدیلیوں اور معاشروں اور ترقی کے مستقبل پر ان کے اثرات پر بات کی گئی۔

فورم کی مباحثوں میں سائنس پر اعتماد، مصنوعی ذہانت، اوپن سائنس اور سائنسی تحقیق کا مستقبل شامل تھا، نیز سائنسی اداروں کی ذمہ داری کہ وہ جدید ٹیکنالوجیز کے مواقع اور ان کے چیلنجز کے ذمہ دارانہ انتظام میں توازن رکھیں۔

کنگ عبدالعزیز سٹی فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (KACST) کے صدر اور ریسرچ، ڈیولپمنٹ اینڈ انوویشن اتھارٹی کے قائم مقام گورنر ڈاکٹر منیر الدسوقی نے ”وائی ٹرسٹ سائنس؟“ کے عنوان سے پلینری سیشن میں خطاب کیا، جو ان کی STS فورم کونسل کے ممتاز رکن کے طور پر تقرری کے بعد تھا۔

ان کے ساتھ جاپان کے وزیر تعلیم، ثقافت، کھیل، سائنس اور ٹیکنالوجی یوشی ہیرو سیکی، جاپانی سائنسدان پروفیسر شمعون ساکاگوچی، نیچر کے ایڈیٹر اِن چیف مگدالینا سکیپر، نوبل فاؤنڈیشن کے بورڈ کے چیئر ایسٹرڈ سوڈربرگ وِڈنگ اور پروفیسر سانتا جے اونو موجود تھے۔ سیشن کی صدارت امریکن ایسوسی ایشن فار دی ایڈوانسمنٹ آف سائنس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر سدیپ پاریکھ نے کی۔

کیا سائنس پر اعتماد صرف لیبارٹریوں کے اندر پیدا ہوتا ہے، یا اسے عوام تک پہنچانے کے لیے کھلے پن کی بھی ضرورت ہے؟ ڈاکٹر الدسوقی نے سیشن کے دوران ایک زیادہ کھلے اور قابلِ اعتماد تحقیقی ماحولیاتی نظام کی تعمیر کے کئی رخ اجاگر کیے اور نوٹ کیا کہ سائنس پر اعتماد سائنسی عاجزی، کھلے پن اور جوابدہی پر مبنی ہے، نیز سائنسی برادری کی اپنے نتائج کا جائزہ لینے، تصدیق کرنے اور شفاف طور پر اصلاح کرنے کی صلاحیت پر۔

انہوں نے مملکت کے اس رجحان پر زور دیا کہ محققین اور جدت کاروں کے لیے قومی تحقیقی بنیادی ڈھانچے تک رسائی کو بڑھایا جائے، تاکہ لیبارٹریوں کا وسیع تر استعمال ممکن ہو۔

کیا قومی لیبارٹریوں کے دروازے کھول دینے سے سائنسی اعتماد خود بخود مضبوط ہو جاتا ہے؟ الدسوقی کے مطابق، یہ کھلا پن ہی وہ بنیاد ہے جس پر عوام اور محققین کے درمیان اعتماد کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔

فورم کا ایجنڈا بتاتا ہے کہ دنیا بھر کے سائنسی ادارے آج ایک دوہرے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں: ایک طرف جدید ٹیکنالوجیز کے مواقع کو عام کرنا، دوسری طرف ان کے خطرات کا ذمہ دارانہ انتظام۔

کیا مصنوعی ذہانت کے دور میں سائنس پر اعتماد پہلے سے زیادہ نازک ہو گیا ہے؟ فورم میں اس سوال پر غور کیا گیا کہ کس طرح سائنسی ادارے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہوئے عوامی اعتماد کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔

سعودی عرب کی شرکت اس بات کا اشارہ ہے کہ مملکت سائنسی تحقیق کے عالمی مباحثوں میں فعال کردار ادا کر رہی ہے اور اپنے تجربات دوسرے ممالک کے ساتھ بانٹ رہی ہے۔

کیا سائنسی عاجزی کا مطلب یہ ہے کہ سائنسدان اپنی غلطیوں کا کھلے عام اعتراف کریں؟ الدسوقی نے اپنے خطاب میں اسی نکتے کو اجاگر کیا کہ سائنسی برادری کی اپنے نتائج کی تصدیق اور شفاف اصلاح ہی اعتماد کی ضمانت ہے۔

اوپن سائنس کا تصور بھی اسی بحث کا حصہ ہے، جہاں تحقیق کے نتائج اور ڈیٹا کو وسیع تر رسائی کے لیے کھولا جاتا ہے۔

کیا اوپن سائنس کے بغیر سائنس پر عوامی اعتماد ممکن ہے؟ فورم کے شرکاء نے اس پہلو پر بھی تبادلہ خیال کیا کہ کھلی تحقیق کس طرح معاشروں کو سائنسی عمل کا حصہ بناتی ہے۔

ڈاکٹر منیر الدسوقی کی STS فورم کونسل کے ممتاز رکن کے طور پر تقرری اس عالمی پلیٹ فارم میں سعودی عرب کی بڑھتی ہوئی موجودگی کو ظاہر کرتی ہے۔

کیا بین الاقوامی سائنسی فورموں میں سعودی قیادت کا یہ کردار خطے میں تحقیق کے مستقبل کو بدل سکتا ہے؟ یہ سوال اس وقت مزید اہم ہو جاتا ہے جب مملکت قومی تحقیقی بنیادی ڈھانچے تک رسائی کو بڑھانے کی سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔

فورم میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی تیز رفتار تبدیلیوں کے معاشروں پر اثرات پر بھی غور کیا گیا، اور اس بات پر زور دیا گیا کہ ترقی کے مستقبل کا انحصار اس بات پر ہے کہ ادارے کس طرح مواقع اور چیلنجز میں توازن رکھتے ہیں۔

کیا سائنسی اداروں کی جوابدہی صرف اندرونی معاملہ ہے، یا عوام بھی اس کا حصہ ہیں؟ الدسوقی کے بیان کے مطابق، اعتماد کی بنیاد جوابدہی اور شفافیت میں ہے، جو سائنسی برادری اور معاشرے کے درمیان ایک پل بناتی ہے۔

اجلاس میں مصنوعی ذہانت کے موضوع پر بھی بات ہوئی، جہاں جدید ٹیکنالوجیز کے مواقع اور ان کے ذمہ دارانہ انتظام کے درمیان توازن کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

کیا مصنوعی ذہانت سائنسی تحقیق کو تیز کرے گی یا اعتماد کے نئے بحران پیدا کرے گی؟ یہ سوال فورم کے شرکاء کے لیے ایک مرکزی نقطہ رہا۔

سعودی عرب کی جانب سے قومی تحقیقی بنیادی ڈھانچے تک رسائی بڑھانے کی پالیسی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مملکت جدت اور تحقیق کو معاشرے کے وسیع تر حصے تک پہنچانا چاہتی ہے۔

کیا لیبارٹریوں تک رسائی بڑھانے سے نوجوان محققین کو عالمی سطح پر مسابقت کا موقع ملے گا؟ الدسوقی کے مطابق، یہ کھلا پن محققین اور جدت کاروں دونوں کے لیے راستے کھولتا ہے۔

فورم کے شرکاء میں عالمی سائنسی اداروں کے سربراہان شامل تھے، جنہوں نے سائنس پر اعتماد کے موضوع پر اپنے تجربات اور نقطہ نظر پیش کیے۔

سعودی عرب کی شرکت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مملکت عالمی سائنسی مکالمے میں ایک فعال شریک کے طور پر اپنی پوزیشن مضبوط کر رہی ہے۔

رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کہ فورم کے اختتام پر کوئی مشترکہ اعلامیہ جاری ہوا یا نہیں، اور نہ ہی مزید تفصیلات دی گئی ہیں۔

سعودی عرب نے کس بین الاقوامی فورم میں شرکت کی؟ سعودی عرب نے جاپان کے شہر کیوٹو میں سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اِن سوسائٹی (STS) فورم کے 23ویں سالانہ اجلاس میں شرکت کی۔ اس فورم میں دنیا بھر سے سائنسی و ٹیکنالوجی شخصیات، پالیسی ساز اور تحقیقی، تعلیمی اور صنعتی اداروں کے سربراہان شامل تھے۔ ایس پی اے کے مطابق، فورم میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی تیز رفتار تبدیلیوں اور معاشروں پر ان کے اثرات پر بات کی گئی۔

ڈاکٹر منیر الدسوقی نے کس سیشن میں خطاب کیا؟ کنگ عبدالعزیز سٹی فار سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (KACST) کے صدر اور ریسرچ، ڈیولپمنٹ اینڈ انوویشن اتھارٹی کے قائم مقام گورنر ڈاکٹر منیر الدسوقی نے ”وائی ٹرسٹ سائنس؟“ کے عنوان سے پلینری سیشن میں خطاب کیا۔ یہ خطاب ان کی STS فورم کونسل کے ممتاز رکن کے طور پر تقرری کے بعد تھا۔ سیشن کی صدارت امریکن ایسوسی ایشن فار دی ایڈوانسمنٹ آف سائنس کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ڈاکٹر سدیپ پاریکھ نے کی۔

سائنس پر اعتماد کی بنیاد کیا ہے؟ ڈاکٹر الدسوقی نے سیشن میں نوٹ کیا کہ سائنس پر اعتماد سائنسی عاجزی، کھلے پن اور جوابدہی پر مبنی ہے، نیز سائنسی برادری کی اپنے نتائج کا جائزہ لینے، تصدیق کرنے اور شفاف طور پر اصلاح کرنے کی صلاحیت پر۔ انہوں نے ایک زیادہ کھلے اور قابلِ اعتماد تحقیقی ماحولیاتی نظام کی تعمیر کے کئی رخ بھی اجاگر کیے۔

سعودی عرب نے قومی تحقیقی بنیادی ڈھانچے کے بارے میں کیا موقف اپنایا؟ ڈاکٹر الدسوقی نے مملکت کے اس رجحان پر زور دیا کہ محققین اور جدت کاروں کے لیے قومی تحقیقی بنیادی ڈھانچے تک رسائی کو بڑھایا جائے، تاکہ لیبارٹریوں کا وسیع تر استعمال ممکن ہو۔ یہ پالیسی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سعودی عرب تحقیق اور جدت کو معاشرے کے وسیع تر حصے تک پہنچانا چاہتا ہے۔

فورم میں کون سے موضوعات زیر بحث آئے؟ فورم میں سائنس پر اعتماد، مصنوعی ذہانت، اوپن سائنس اور سائنسی تحقیق کا مستقبل زیر بحث آیا۔ اس کے علاوہ سائنسی اداروں کی ذمہ داری پر بھی بات ہوئی کہ وہ جدید ٹیکنالوجیز کے مواقع اور ان کے چیلنجز کے ذمہ دارانہ انتظام میں توازن رکھیں۔

اس فورم میں کون سی نمایاں شخصیات شریک تھیں؟ ڈاکٹر منیر الدسوقی کے ساتھ جاپان کے وزیر تعلیم، ثقافت، کھیل، سائنس اور ٹیکنالوجی یوشی ہیرو سیکی، جاپانی سائنسدان پروفیسر شمعون ساکاگوچی، نیچر کے ایڈیٹر اِن چیف مگدالینا سکیپر، نوبل فاؤنڈیشن کے بورڈ کے چیئر ایسٹرڈ سوڈربرگ وِڈنگ اور پروفیسر سانتا جے اونو موجود تھے۔ سیشن کی صدارت ڈاکٹر سدیپ پاریکھ نے کی۔