ریاض میں جاری 46ویں تعلیمی کانفرنس کے موقع پر خلیج تعاون کونسل (جی سی سی) کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے کہا ہے کہ کویت میں «پائیدار تعلیمی مستقبل کے لیے اختراعی وژن» کے موضوع کے تحت اس کانفرنس کا انعقاد جی سی سی ریاستوں کی تعلیمی عمل کی ترقی پر توجہ کا عکاس ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، یہ بات انہوں نے اتوار کے روز کویت سٹی میں کانفرنس میں شرکت کے دوران کہی، جو کویت کے امیر شیخ مشعل الاحمد الجابر الصباح کی سرپرستی میں اور کویت کے وزیر تعلیم انجینئر سید جلال الطبطبائی کی موجودگی میں منعقد ہوئی، جس میں بہت سے ماہرین، ماہرین تعلیم اور اساتذہ نے شرکت کی۔
اپنی تقریر کے آغاز میں البدیوی نے شیخ مشعل کا اس کانفرنس کی فراخدلانہ سرپرستی پر اور جی سی سی ریاستوں کے رہنماؤں کی جانب سے مشترکہ جی سی سی اقدام کے سفر کو مسلسل تعاون اور بھرپور توجہ دینے پر اعلیٰ ترین شکریے اور احترام کا اظہار کیا۔
انہوں نے زور دیا کہ یہ جی سی سی ریاستوں کے شہریوں کی مزید تعاون، انضمام اور خوشحالی کی خواہشات کی تکمیل ہے، اور اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ جی سی سی ریاستوں کو سلامتی، تحفظ اور خوشحالی سے نوازتا رہے۔
کیا تعلیم کے میدان میں خلیجی ممالک کی مشترکہ کوششیں واقعی اپنے عوام کی توقعات پر پورا اتر رہی ہیں؟
اپنی تقریر کے دوران انہوں نے کہا کہ جی سی سی کے قیام کا خیال تمام شعبوں میں جی سی سی ریاستوں کے درمیان ہم آہنگی، انضمام اور باہمی ربط کے حصول کے لیے پیدا ہوا، جس کا مقصد مختلف شعبوں میں اپنے عوام کے درمیان روابط مضبوط کرکے اور تعاون بڑھا کر ان کی یکجہتی کی طرف بڑھنا ہے، اور مختلف شعبوں میں یکساں نظام قائم کرنا ہے، جن میں خاص طور پر تعلیمی اور ثقافتی شعبے شامل ہیں۔
مزید تبصرہ کرتے ہوئے البدیوی نے کہا: «مشترکہ تعلیمی اقدام کا سفر درحقیقت 1981 میں جی سی سی کے قیام سے بھی پہلے شروع ہو چکا تھا، یعنی عرب بیورو آف ایجوکیشن فار دی گلف سٹیٹس کے ذریعے، جو 1975 میں اس وقت کے وزرائے تعلیم کی نگرانی میں قائم ہوا تھا۔ یہ بذات خود واضح ثبوت ہے کہ تعلیم…»
کیا 1975 میں قائم ہونے والا عرب بیورو آف ایجوکیشن فار دی گلف سٹیٹس آج بھی اسی جذبے کے ساتھ کام کر رہا ہے جس کے ساتھ اس کی بنیاد رکھی گئی تھی؟
جی سی سی کے سیکرٹری جنرل کی یہ شرکت اور تقریر ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خلیجی خطے میں تعلیمی پالیسیوں کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت پر مسلسل زور دیا جا رہا ہے۔ کانفرنس کا موضوع «پائیدار تعلیمی مستقبل کے لیے اختراعی وژن» خود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ رکن ممالک تعلیم کو پائیدار ترقی کے مرکزی ستون کے طور پر دیکھتے ہیں۔
البدیوی نے اپنی تقریر میں جی سی سی کے قیام کے بنیادی مقاصد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد تمام شعبوں میں رکن ریاستوں کے درمیان ہم آہنگی، انضمام اور باہمی ربط کو فروغ دینا تھا، تاکہ مختلف شعبوں میں یکساں نظام قائم کرکے ان کی یکجہتی کی طرف بڑھا جا سکے۔ انہوں نے خاص طور پر تعلیمی اور ثقافتی شعبوں کا تذکرہ کیا، جو ان کے بقول مشترکہ خلیجی اقدام کے اہم ترین میدان ہیں۔
کیا خلیجی ممالک کے تعلیمی نظاموں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے لیے کوئی ٹھوس فریم ورک موجود ہے، یا یہ صرف کانفرنسوں تک محدود ہے؟
انہوں نے یاد دلایا کہ مشترکہ تعلیمی اقدام کا سفر جی سی سی کے قیام سے بھی پہلے کا ہے۔ 1975 میں عرب بیورو آف ایجوکیشن فار دی گلف سٹیٹس کا قیام، جو اس وقت کے وزرائے تعلیم کی نگرانی میں عمل میں آیا، اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ تعلیم کو خلیجی تعاون کے ابتدائی ایجنڈے میں مرکزی حیثیت حاصل تھی۔ یہ ادارہ جی سی سی کے قیام سے چھ سال پہلے وجود میں آیا تھا۔
کیا 1975 سے اب تک تعلیمی شعبے میں خلیجی تعاون کی رفتار توقعات کے مطابق رہی ہے؟
کانفرنس میں کویت کے وزیر تعلیم انجینئر سید جلال الطبطبائی کی موجودگی بھی اس بات کا اشارہ ہے کہ میزبان ملک اس موضوع کو کس سطح کی اہمیت دیتا ہے۔ کانفرنس میں ماہرین، ماہرین تعلیم اور اساتذہ کی بڑی تعداد نے شرکت کی، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ تعلیمی شعبے کے اسٹیک ہولڈرز اس بحث کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں۔
البدیوی نے اپنی تقریر کے آغاز میں کویت کے امیر شیخ مشعل الاحمد الجابر الصباح کا اس کانفرنس کی فراخدلانہ سرپرستی پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے جی سی سی ریاستوں کے رہنماؤں کی جانب سے مشترکہ خلیجی اقدام کے سفر کو مسلسل تعاون اور بھرپور توجہ دینے کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے اسے جی سی سی ریاستوں کے شہریوں کی مزید تعاون، انضمام اور خوشحالی کی خواہشات کی تکمیل قرار دیا۔
کیا خلیجی شہریوں کی تعلیمی ضروریات کو مشترکہ پالیسی سازی کے ذریعے پورا کیا جا سکتا ہے؟
انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ جی سی سی ریاستوں کو سلامتی، تحفظ اور خوشحالی سے نوازتا رہے۔ یہ دعا خلیجی خطے کے لیے استحکام کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتی ہے، جس کے بغیر تعلیمی ترقی کے طویل مدتی منصوبے عملی جامہ نہیں پہن سکتے۔
کانفرنس کا انعقاد کویت سٹی میں اتوار کے روز ہوا۔ اس کا موضوع «پائیدار تعلیمی مستقبل کے لیے اختراعی وژن» تھا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ رکن ممالک تعلیم کو پائیداری کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ کانفرنس کی سرپرستی کویت کے امیر نے کی، جبکہ کویت کے وزیر تعلیم بھی اس موقع پر موجود تھے۔
کیا تعلیمی کانفرنسوں کے نتائج کو عملی پالیسیوں میں تبدیل کرنے کا کوئی طریقہ کار طے شدہ ہے؟
جی سی سی کے سیکرٹری جنرل نے اپنی تقریر میں تعلیمی اور ثقافتی شعبوں کو مشترکہ خلیجی اقدام کے مرکزی میدان قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جی سی سی کا قیام تمام شعبوں میں ہم آہنگی، انضمام اور باہمی ربط کے حصول کے لیے تھا، جس کا حتمی مقصد رکن ریاستوں کی یکجہتی ہے۔ ان کے مطابق یہ یکجہتی مختلف شعبوں میں یکساں نظام قائم کرنے اور عوام کے درمیان روابط مضبوط کرنے سے حاصل ہوتی ہے۔
کیا خلیجی تعاون کی کہانی میں تعلیم کو وہی مرکزی حیثیت حاصل ہے جو تجارت اور معیشت کو دی جاتی ہے؟
انہوں نے عرب بیورو آف ایجوکیشن فار دی گلف سٹیٹس کے قیام کو مشترکہ تعلیمی سفر کا نقطہ آغاز قرار دیا۔ یہ ادارہ 1975 میں قائم ہوا، جبکہ جی سی سی کا قیام 1981 میں عمل میں آیا۔ ان کے بقول یہ حقیقت واضح ثبوت ہے کہ تعلیم کو خلیجی تعاون کے ایجنڈے میں ابتدا ہی سے مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے۔
کیا 1975 میں قائم ہونے والے اس ادارے کے قیام کے وقت کے وژن اور آج کے تقاضوں میں کوئی فرق ہے؟
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق البدیوی کی تقریر کا ایک حصہ مکمل طور پر دستیاب نہیں، جس میں انہوں نے تعلیم کے حوالے سے مزید نکات بیان کیے تھے۔ رپورٹ میں کانفرنس کے ایجنڈے، شرکاء کی تعداد، یا اس سے حاصل ہونے والے نتائج کے بارے میں تفصیلات شامل نہیں ہیں۔
کیا اس طرح کی کانفرنسوں کے بعد رکن ممالک کے تعلیمی نظاموں میں کوئی قابل پیمائش تبدیلی آتی ہے؟
رپورٹ میں کانفرنس کے دوران پیش کیے گئے کسی مخصوص تعلیمی منصوبے، سفارش یا فیصلے کا ذکر نہیں ہے۔ نہ ہی اس بات کی کوئی تفصیل دی گئی ہے کہ کانفرنس کا اختتام کس نتیجے پر ہوا۔ البدیوی کی تقریر کے صرف وہ حصے دستیاب ہیں جو ایس پی اے نے نقل کیے، جن میں جی سی سی کے قیام کے مقاصد اور تعلیمی تعاون کی تاریخ پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
کیا خلیجی تعلیمی تعاون کی تاریخ میں 1975 کا سنگ بنیاد آج کے چیلنجوں کا جواب دینے کے لیے کافی ہے؟
کانفرنس میں کویت کے وزیر تعلیم انجینئر سید جلال الطبطبائی کی شرکت اور کویت کے امیر کی سرپرستی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ میزبان ملک تعلیمی شعبے کو قومی ترجیحات میں سرفہرست رکھتا ہے۔ کانفرنس میں ماہرین، اکیڈمکس اور اساتذہ کی شرکت بھی اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ موضوع صرف حکومتی سطح تک محدود نہیں بلکہ عملی میدان سے جڑے لوگوں کی بھی توجہ کا مرکز ہے۔
البدیوی نے اپنی تقریر میں جی سی سی ریاستوں کے شہریوں کی خواہشات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مشترکہ اقدام کا مقصد ان کی مزید تعاون، انضمام اور خوشحالی ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کی کہ خلیجی ریاستوں کو سلامتی، تحفظ اور خوشحالی عطا ہوتی رہے۔ یہ بیان خلیجی تعاون کے وسیع تر فریم ورک میں تعلیم کے مقام کو واضح کرتا ہے۔
کیا خلیجی خطے میں تعلیمی یکجہتی کا خواب حقیقت کا روپ دھار سکا ہے؟
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق کانفرنس کا انعقاد کویت سٹی میں ہوا اور اس کا موضوع «پائیدار تعلیمی مستقبل کے لیے اختراعی وژن» تھا۔ رپورٹ میں کانفرنس کے دورانیے، شرکاء کی تعداد یا اس کے اختتامی اعلان کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ البدیوی کی تقریر کا ایک حصہ رپورٹ میں مکمل طور پر شامل نہیں ہے، جس کی وجہ سے ان کے مزید نکات سے قارئین محروم رہے۔
46ویں تعلیمی کانفرنس کا انعقاد کہاں اور کس موضوع پر ہوا؟ کانفرنس کویت سٹی میں اتوار کے روز منعقد ہوئی اور اس کا موضوع «پائیدار تعلیمی مستقبل کے لیے اختراعی وژن» تھا۔ یہ کانفرنس کویت کے امیر شیخ مشعل الاحمد الجابر الصباح کی سرپرستی میں ہوئی، جس میں کویت کے وزیر تعلیم انجینئر سید جلال الطبطبائی بھی موجود تھے۔ ایس پی اے کے مطابق کانفرنس میں بہت سے ماہرین، ماہرین تعلیم اور اساتذہ نے شرکت کی۔
جی سی سی کے سیکرٹری جنرل نے کانفرنس سے خطاب میں کیا کہا؟ جاسم البدیوی نے کہا کہ کانفرنس کا انعقاد جی سی سی ریاستوں کی تعلیمی عمل کی ترقی پر توجہ کا عکاس ہے۔ انہوں نے کویت کے امیر کی سرپرستی پر شکریہ ادا کیا اور کہا کہ یہ جی سی سی ریاستوں کے شہریوں کی مزید تعاون، انضمام اور خوشحالی کی خواہشات کی تکمیل ہے۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کی کہ خلیجی ریاستوں کو سلامتی، تحفظ اور خوشحالی عطا ہوتی رہے۔
جی سی سی کے قیام کا مقصد کیا بتایا گیا؟ البدیوی کے مطابق جی سی سی کے قیام کا خیال تمام شعبوں میں رکن ریاستوں کے درمیان ہم آہنگی، انضمام اور باہمی ربط کے حصول کے لیے پیدا ہوا۔ اس کا مقصد مختلف شعبوں میں یکساں نظام قائم کرکے اور عوام کے درمیان روابط مضبوط کرکے ان کی یکجہتی کی طرف بڑھنا تھا۔ انہوں نے خاص طور پر تعلیمی اور ثقافتی شعبوں کو اس مشترکہ اقدام کے اہم ترین میدان قرار دیا۔
مشترکہ تعلیمی اقدام کا سفر جی سی سی کے قیام سے پہلے کیسے شروع ہوا؟ البدیوی نے بتایا کہ مشترکہ تعلیمی اقدام کا سفر جی سی سی کے 1981 میں قیام سے بھی پہلے شروع ہو چکا تھا۔ یہ عرب بیورو آف ایجوکیشن فار دی گلف سٹیٹس کے ذریعے ہوا، جو 1975 میں اس وقت کے وزرائے تعلیم کی نگرانی میں قائم ہوا تھا۔ ان کے بقول یہ بذات خود واضح ثبوت ہے کہ تعلیم کو خلیجی تعاون کے ایجنڈے میں ابتدا ہی سے مرکزی حیثیت حاصل رہی۔
کانفرنس میں کویت کی نمائندگی کس نے کی؟ کانفرنس کویت کے امیر شیخ مشعل الاحمد الجابر الصباح کی سرپرستی میں منعقد ہوئی، جبکہ کویت کے وزیر تعلیم انجینئر سید جلال الطبطبائی اس موقع پر موجود تھے۔ ایس پی اے کے مطابق کانفرنس میں بہت سے ماہرین، اکیڈمکس اور اساتذہ نے بھی شرکت کی۔ رپورٹ میں کانفرنس کے دورانیے، شرکاء کی کل تعداد یا اس کے اختتامی نتائج کے بارے میں کوئی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔
ایس پی اے کی رپورٹ میں کون سی معلومات شامل نہیں ہیں؟ رپورٹ میں البدیوی کی تقریر کا ایک حصہ مکمل طور پر دستیاب نہیں، جس میں انہوں نے تعلیم کے حوالے سے مزید نکات بیان کیے تھے۔ اس کے علاوہ کانفرنس کے ایجنڈے، شرکاء کی تعداد، یا اس سے حاصل ہونے والے نتائج اور سفارشات کے بارے میں بھی کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔ کسی مخصوص تعلیمی منصوبے یا فیصلے کا بھی ذکر رپورٹ میں موجود نہیں ہے۔





