Saturday, October 31, 2026
سعودی خبریں

ریاض میں علاقائی پودوں کے تحفظ کی تنظیموں کا 38 واں تکنیکی مشاورتی اجلاس پیر سے

ریاض میں علاقائی پودوں کے تحفظ کی تنظیموں کا 38 واں تکنیکی مشاورتی اجلاس پیر سے

ریاض میں پیر سے علاقائی پودوں کے تحفظ کی تنظیموں کے درمیان تکنیکی مشاورت کا 38 واں اجلاس (38th TC-RPPOs) شروع ہوگا، جس کا اہتمام نیشنل سینٹر فار دی پریوینشن اینڈ کنٹرول آف پلانٹ پیسٹس اینڈ اینیمل ڈیزیز (ویقاء سینٹر) کر رہا ہے۔ یہ اجلاس چار روز جاری رہے گا اور اس میں مختلف خطوں کے ممالک کی پودوں کے تحفظ کی تنظیموں کے نمائندے، انٹرنیشنل پلانٹ پروٹیکشن کنونشن (IPPC) اور اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) بھی شرکت کریں گے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 4 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، اس اجلاس کا مقصد گزشتہ اجلاسوں کے نتائج کی پیروی اور علاقائی پودوں کے تحفظ کی تنظیموں کی پیش رفت کا جائزہ لینا ہے۔ اجلاس میں مشترکہ دلچسپی کے تکنیکی اور حکمت عملی امور پر بھی بات ہوگی، علاقائی تنظیموں کے درمیان مہارت کے تبادلے، رابطہ کاری اور تعاون کو مضبوط بنایا جائے گا، اور پودوں کی صحت اور پودوں کے تحفظ سے متعلق مستقبل کی سمتوں اور عملی منصوبوں کو تیار کیا جائے گا۔

کیا علاقائی تنظیموں کے درمیان یہ مشاورت پودوں کے تحفظ کے مشترکہ چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہو سکتی ہے؟ ایس پی اے کے مطابق، اس اجلاس کا ایک اہم مقصد گزشتہ ملاقاتوں کے نتائج کا جائزہ لینا اور علاقائی سطح پر ہونے والی پیش رفت کو سامنے لانا ہے، تاکہ آئندہ کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنائی جا سکے۔

اجلاس سے قبل، نزد ایسٹ اینڈ نارتھ افریقہ پلانٹ پروٹیکشن آرگنائزیشن (نیپو) کی ایگزیکٹو کمیٹی نے ریاض میں اپنا کام مکمل کیا۔ اس موقع پر نیپو کی ایگزیکٹو کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر محمد القریجی اور نیپو کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد حبیب بن جامع موجود تھے۔ ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن ممالک سعودی عرب، مراکش، عمان، مصر، عراق اور سوڈان کے نمائندوں نے اس اجلاس میں شرکت کی۔

کیا ریاض میں یہ دو مسلسل اجلاس پودوں کی صحت کے شعبے میں علاقائی تعاون کی نئی راہیں کھولیں گے؟ ایس پی اے کے مطابق، ریاض کی میزبانی ان دو اجلاسوں کی عکاسی کرتی ہے کہ سعودی عرب پودوں کی صحت میں علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کی حمایت کرتا ہے اور متعلقہ اداروں اور تنظیموں کے درمیان علم اور مہارت کے تبادلے کو فروغ دینے کی کوشش کرتا ہے۔

اس سے مشترکہ کوششوں کو فروغ دینے اور پودوں کے تحفظ سے متعلق چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے رابطہ کاری کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔ سعودی عرب کی یہ کوشش ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب پودوں کی صحت اور خوراک کی حفاظت کے امور عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں، اور مختلف خطوں کی تنظیمیں اپنے تجربات اور تکنیکی معلومات کا تبادلہ کرنے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں۔

کیا مختلف خطوں کی تنظیموں کی مشترکہ شرکت سے پودوں کے تحفظ کے مسائل پر عالمی سطح پر ہم آہنگی پیدا ہو سکے گی؟ اجلاس میں بین الاقوامی پلانٹ پروٹیکشن کنونشن اور اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کی شرکت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ یہ مشاورت صرف علاقائی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اہمیت رکھتی ہے۔

ایس پی اے کے مطابق، چار روزہ اجلاس میں مشترکہ دلچسپی کے تکنیکی اور حکمت عملی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا، جس میں پودوں کی صحت اور پودوں کے تحفظ سے متعلق مستقبل کی سمتوں اور عملی منصوبوں کی تیاری شامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ علاقائی تنظیموں کے درمیان مہارت کے تبادلے، رابطہ کاری اور تعاون کو مضبوط بنانے پر بھی زور دیا جائے گا۔

کیا پودوں کے تحفظ کی علاقائی تنظیمیں اپنے عملی منصوبوں کو یکجا کر کے زیادہ مؤثر نتائج حاصل کر سکتی ہیں؟ نیپو کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں سعودی عرب کے علاوہ مراکش، عمان، مصر، عراق اور سوڈان کے نمائندوں کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے کے ممالک مشترکہ مسائل پر مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

ریاض کی میزبانی ان دو اجلاسوں کی عکاسی سعودی عرب کے اس عزم کی کرتی ہے کہ وہ پودوں کی صحت کے شعبے میں علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کی حمایت جاری رکھے اور متعلقہ اداروں کے درمیان علم اور مہارت کے تبادلے کو فروغ دے۔ اس سے مشترکہ کوششوں کو آگے بڑھانے اور پودوں کے تحفظ سے متعلق چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے رابطہ کاری کو بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔

کیا اس طرح کے اجلاسوں کا انعقاد خطے میں پودوں کے تحفظ کے شعبے میں پائیدار تعاون کی بنیاد رکھ سکتا ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، اجلاس کا مقصد گزشتہ اجلاسوں کے نتائج کی پیروی کرنا اور علاقائی تنظیموں کی پیش رفت کا جائزہ لینا ہے، جو اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ یہ عمل تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔

اجلاس میں شرکت کرنے والی تنظیموں کی تعداد اور ان کے خطوں کی تنوع اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پودوں کے تحفظ کا مسئلہ کسی ایک خطے تک محدود نہیں بلکہ عالمی نوعیت کا حامل ہے۔ مختلف ممالک کے نمائندے اپنے تجربات اور تکنیکی معلومات کا تبادلہ کریں گے، جس سے مشترکہ مسائل کے حل کے لیے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔

کیا بین الاقوامی پلانٹ پروٹیکشن کنونشن اور فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن کی شرکت اس مشاورت کے نتائج کو زیادہ عملی اور قابل عمل بنائے گی؟ یہ دونوں ادارے عالمی سطح پر پودوں کے تحفظ اور خوراک کی حفاظت کے امور میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اور ان کی موجودگی اجلاس کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتی ہے۔

نیپو کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس کے اختتام پر ڈاکٹر محمد القریجی اور محمد حبیب بن جامع کی موجودگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ تنظیم کی قیادت اس عمل کو اہمیت دیتی ہے۔ رکن ممالک کے نمائندوں نے اجلاس میں فعال شرکت کی اور مشترکہ امور پر تبادلہ خیال کیا۔

کیا ریاض میں ہونے والے یہ اجلاس خطے کے ممالک کے درمیان پودوں کے تحفظ کے شعبے میں طویل مدتی شراکت داری کی بنیاد بن سکتے ہیں؟ ایس پی اے کے مطابق، سعودی عرب کی یہ کوشش پودوں کی صحت میں علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کی حمایت اور متعلقہ اداروں کے درمیان علم اور مہارت کے تبادلے کو فروغ دینے کی عکاسی کرتی ہے۔

38 واں تکنیکی مشاورتی اجلاس پیر سے شروع ہو کر چار روز تک جاری رہے گا، جس میں شرکا گزشتہ اجلاسوں کے نتائج کا جائزہ لیں گے اور آئندہ کے لیے عملی منصوبے تیار کریں گے۔ اجلاس کے اختتام پر کیا نتائج سامنے آئیں گے اور ان پر عمل درآمد کیسے ہوگا، یہ آنے والے وقت میں واضح ہوگا۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں اجلاس کے شرکا کی تعداد، ایجنڈے کی تفصیلی نکات یا اجلاس کے اختتامی اعلانات کے بارے میں مزید معلومات نہیں دی گئیں۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ اجلاس کے دوران کوئی خاص قرارداد یا معاہدہ متوقع ہے یا نہیں۔

38 واں تکنیکی مشاورتی اجلاس کہاں اور کب ہوگا؟ اجلاس ریاض میں پیر سے شروع ہوگا اور چار روز تک جاری رہے گا۔ اس کا اہتمام نیشنل سینٹر فار دی پریوینشن اینڈ کنٹرول آف پلانٹ پیسٹس اینڈ اینیمل ڈیزیز (ویقاء سینٹر) کر رہا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق، اس میں مختلف خطوں کے ممالک کی پودوں کے تحفظ کی تنظیموں کے نمائندے شرکت کریں گے۔

اجلاس میں کون کون شرکت کرے گا؟ ایس پی اے کے مطابق، اجلاس میں مختلف خطوں کے ممالک کی پودوں کے تحفظ کی تنظیموں کے نمائندے شرکت کریں گے۔ اس کے علاوہ انٹرنیشنل پلانٹ پروٹیکشن کنونشن (IPPC) اور اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) بھی شرکت کریں گے۔ یہ شرکت اجلاس کو علاقائی کے ساتھ بین الاقوامی اہمیت بھی دیتی ہے۔

اجلاس کے اہم مقاصد کیا ہیں؟ ایس پی اے کے مطابق، اجلاس کا مقصد گزشتہ اجلاسوں کے نتائج کی پیروی اور علاقائی تنظیموں کی پیش رفت کا جائزہ لینا ہے۔ اس میں مشترکہ دلچسپی کے تکنیکی اور حکمت عملی امور پر بات ہوگی، مہارت کے تبادلے، رابطہ کاری اور تعاون کو مضبوط بنایا جائے گا، اور پودوں کی صحت سے متعلق مستقبل کی سمتوں اور عملی منصوبوں کو تیار کیا جائے گا۔

نیپو کی ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں کون شامل ہوا؟ ایس پی اے کے مطابق، نیپو کی ایگزیکٹو کمیٹی نے ریاض میں اپنا کام مکمل کیا۔ اس موقع پر نیپو کی ایگزیکٹو کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر محمد القریجی اور نیپو کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر محمد حبیب بن جامع موجود تھے۔ رکن ممالک سعودی عرب، مراکش، عمان، مصر، عراق اور سوڈان کے نمائندوں نے شرکت کی۔

ریاض کی میزبانی کا کیا مطلب ہے؟ ایس پی اے کے مطابق، ریاض کی ان دو اجلاسوں کی میزبانی سعودی عرب کی پودوں کی صحت میں علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کی حمایت کی عکاسی کرتی ہے۔ اس سے متعلقہ اداروں اور تنظیموں کے درمیان علم اور مہارت کے تبادلے کو فروغ ملتا ہے، مشترکہ کوششیں آگے بڑھتی ہیں اور پودوں کے تحفظ سے متعلق چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے رابطہ کاری بہتر ہوتی ہے۔

اجلاس کا دورانیہ اور ایجنڈا کیا ہے؟ ایس پی اے کے مطابق، اجلاس چار روز تک جاری رہے گا اور پیر سے شروع ہوگا۔ ایجنڈے میں گزشتہ اجلاسوں کے نتائج کی پیروی، علاقائی تنظیموں کی پیش رفت کا جائزہ، تکنیکی اور حکمت عملی امور پر تبادلہ خیال، مہارت کے تبادلے اور تعاون کی مضبوطی، اور پودوں کی صحت سے متعلق عملی منصوبوں کی تیاری شامل ہے۔