Sunday, November 1, 2026
سعودی خبریں

سعودی عرب آئی ایس او کونسل کے لیے ساتویں بار منتخب، 2027-2029 کی مدت

سعودی عرب آئی ایس او کونسل کے لیے ساتویں بار منتخب، 2027-2029 کی مدت

پیرس میں جمعرات کو منعقد ہونے والی 48ویں آئی ایس او جنرل اسمبلی کے دوران سعودی عرب کو انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار اسٹینڈرڈائزیشن (آئی ایس او) کی کونسل کے لیے 2027-2029 کی مدت کے لیے منتخب کیا گیا۔ سعودی عرب کی نمائندگی سعودی اسٹینڈرڈز، میٹرولوجی اینڈ کوالٹی آرگنائزیشن (ساسو) نے کی۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، یہ انتخاب آئی ایس او کے رکن اداروں نے 48ویں آئی ایس او جنرل اسمبلی کے موقع پر کیا، جو جمعرات کو پیرس میں منعقد ہوئی۔ ساسو کے گورنر سعد القصبی سعودی عرب کی نمائندگی آئی ایس او کونسل میں کریں گے۔

یہ سعودی عرب کا آئی ایس او کونسل کے لیے ساتواں انتخاب ہے اور مسلسل دوسری مدت ہے۔ اس دوبارہ انتخاب کو اس کردار کا تسلسل قرار دیا جا رہا ہے جو مملکت بین الاقوامی معیارات اور تفصیلات سے متعلق کام کی سمت متعین کرنے میں ادا کر رہی ہے۔

کیا یہ بات حیران کن نہیں کہ ایک ایسا ملک جو کئی دہائیوں سے تیل اور توانائی کی صنعت کے حوالے سے عالمی سطح پر پہچانا جاتا ہے، اب معیار سازی جیسے انتہائی تکنیکی اور ضابطہ جاتی میدان میں مسلسل اپنی جگہ بنا رہا ہے؟ سعودی عرب کی مسلسل دوسری مدت کے لیے کونسل میں موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ مملکت کی بین الاقوامی معیار سازی کے عمل میں شرکت محض رسمی نہیں بلکہ تسلسل کے ساتھ جاری ہے۔

ساسو کے گورنر سعد القصبی کی آئی ایس او کونسل میں نمائندگی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مملکت اس تنظیم کے کام میں فعال طور پر شریک ہے اور بین الاقوامی و علاقائی معیار سازی کو آگے بڑھانے میں اپنا حصہ ڈال رہی ہے۔ یہ امر قابل غور ہے کہ کونسل کی رکنیت کسی ملک کو عالمی معیارات کی تشکیل کے فیصلہ ساز مراحل میں براہ راست شامل ہونے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

آئی ایس او ایک بین الاقوامی تنظیم ہے جو دنیا بھر کے قومی معیار سازی کے اداروں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتی ہے۔ اس تنظیم کے 160 سے زائد ارکان ہیں اور یہ بین الاقوامی معیارات تیار کرنے کے ساتھ ساتھ معیار سازی کے مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دیتی ہے، جس سے رکن ممالک کے درمیان تجارتی، صناعتی اور خدماتی تبادلے کو سہولت ملتی ہے۔

کیا عالمی تجارت میں کامیابی کے لیے بین الاقوامی معیارات کی پاسداری لازمی نہیں؟ جب کوئی ملک کونسل جیسے فیصلہ ساز فورم کا رکن ہوتا ہے تو وہ نہ صرف موجودہ معیارات کی تشکیل میں حصہ لیتا ہے بلکہ اپنی صنعتوں اور مصنوعات کے لیے سازگار بین الاقوامی ماحول بھی بنا سکتا ہے۔ سعودی عرب کی مسلسل موجودگی اسے عالمی سطح پر معیار سازی کے رجحانات سے ہم آہنگ رہنے کا موقع دیتی ہے۔

یہ انتخاب سعودی عرب کی جانب سے بین الاقوامی تکنیکی کمیٹیوں، کونسلوں اور معیار سازی و معیار سے متعلق پروگراموں میں فعال شرکت کا تسلسل ہے۔ مملکت کی یہ شرکت صرف کونسل تک محدود نہیں بلکہ آئی ایس او کے مختلف تکنیکی اور مشاورتی فورمز تک پھیلی ہوئی ہے، جہاں سعودی ماہرین بین الاقوامی معیارات کی تیاری میں اپنا علمی اور فنی حصہ ڈالتے ہیں۔

کیا یہ سوچا جا سکتا ہے کہ معیار سازی کے میدان میں مسلسل کامیابی کے پیچھے کسی ملک کی طویل المدتی حکمت عملی اور ادارہ جاتی سرمایہ کاری نہ ہو؟ ساسو کی جانب سے آئی ایس او کے کام میں بھرپور شرکت اور مملکت کی مسلسل دوسری مدت کے لیے کونسل میں موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ معیار سازی کو قومی ترجیحات میں شامل کیا گیا ہے۔

آئی ایس او کے 160 سے زائد ارکان میں شامل ہونا اور پھر کونسل جیسے اہم فورم کے لیے منتخب ہونا ایک طویل اور مسلسل عمل کا نتیجہ ہوتا ہے۔ سعودی عرب کا ساتواں انتخاب اس بات کا مظہر ہے کہ مملکت کو رکن ممالک کی جانب سے اعتماد کا مستقل مینڈیٹ حاصل رہا ہے۔

کیا بین الاقوامی معیارات کی تشکیل میں حصہ لینے سے کسی ملک کی برآمدات کو مقابلے میں برتری نہیں ملتی؟ جب کوئی ملک بین الاقوامی معیارات کی تیاری کے عمل کا حصہ ہوتا ہے تو اس کی صنعتوں کو نہ صرف ان معیارات کے مطابق ڈھلنے میں آسانی ہوتی ہے بلکہ وہ اپنے تجارتی مفادات کے مطابق معیارات کی تشکیل پر بھی اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

آئی ایس او کا بنیادی مقصد بین الاقوامی معیارات تیار کرنا اور معیار سازی کے مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے، جس سے رکن ممالک کے درمیان تجارتی، صناعتی اور خدماتی تبادلے کو سہولت ملتی ہے۔ یہ تنظیم عالمی تجارت کے لیے ایک مشترکہ تکنیکی زبان فراہم کرتی ہے، جس سے سرحدوں کے پار لین دین میں رکاوٹیں کم ہوتی ہیں۔

کیا عالمی منڈیوں میں رسائی کے خواہاں کسی بھی ملک کے لیے بین الاقوامی معیارات کو اپنانا اور ان کی تشکیل میں شریک ہونا یکساں اہم نہیں؟ سعودی عرب کی کونسل میں موجودگی اسے دونوں پہلوؤں پر کام کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

ساسو کی جانب سے مملکت کی نمائندگی اور سعد القصبی کی کونسل میں شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ سعودی عرب بین الاقوامی معیار سازی کے نظام میں ایک فعال اور ذمہ دار رکن کے طور پر اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ یہ کردار صرف شرکت تک محدود نہیں بلکہ بین الاقوامی معیارات اور تفصیلات سے متعلق کام کی سمت متعین کرنے میں بھی شامل ہے۔

کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ معیار سازی کے میدان میں کسی ملک کی کامیابی اس کی معیشت کی تنوع اور صنعتی ترقی کی عکاس ہوتی ہے؟ جب کوئی ملک بین الاقوامی معیارات کی تشکیل میں فعال کردار ادا کرتا ہے تو یہ اس کی تکنیکی صلاحیت اور ادارہ جاتی مضبوطی کا بھی مظہر ہوتا ہے۔

سعودی عرب کا آئی ایس او کونسل کے لیے ساتواں انتخاب اور مسلسل دوسری مدت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ مملکت کی بین الاقوامی معیار سازی کے عمل میں شرکت مستقل اور تسلسل پر مبنی ہے۔ یہ انتخاب آئی ایس او کے رکن اداروں کی جانب سے اعتماد کا اظہار ہے، جو 48ویں جنرل اسمبلی کے موقع پر پیرس میں منعقد ہوا۔

آئی ایس او کے 160 سے زائد ارکان میں شامل قومی معیار سازی کے ادارے اس تنظیم کے ذریعے بین الاقوامی معیارات کی تیاری اور معیار سازی کے مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دیتے ہیں۔ اس تعاون کا مقصد رکن ممالک کے درمیان تجارتی، صناعتی اور خدماتی تبادلے کو آسان بنانا ہے، جو عالمی معیشت کے لیے ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔

کیا عالمی تجارتی نظام میں اعتماد کی بحالی کے لیے مشترکہ معیارات کی موجودگی بنیادی شرط نہیں؟ جب تمام فریق ایک ہی تکنیکی معیار پر متفق ہوں تو مصنوعات اور خدمات کی جانچ اور قبولیت میں یکسانیت آتی ہے، جس سے تجارت کی لاگت کم ہوتی ہے اور کاروبار کی رفتار تیز ہوتی ہے۔

سعودی عرب کی جانب سے آئی ایس او کے مختلف تکنیکی کمیٹیوں، کونسلوں اور پروگراموں میں فعال شرکت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ مملکت معیار سازی کو ایک جامع اور طویل المدتی عمل کے طور پر دیکھتی ہے۔ یہ شرکت صرف کونسل کی رکنیت تک محدود نہیں بلکہ معیارات کی تیاری کے تکنیکی مراحل میں بھی جاری رہتی ہے۔

کیا بین الاقوامی فورمز میں مسلسل نمائندگی سے کسی ملک کی سفارتی اور تکنیکی پوزیشن مضبوط نہیں ہوتی؟ سعودی عرب کی ساتویں بار کونسل میں منتخب ہونا اس بات کا ثبوت ہے کہ مملکت کو رکن ممالک کی جانب سے مسلسل اعتماد حاصل رہا ہے۔

آئی ایس او کونسل کی رکنیت کسی ملک کو بین الاقوامی معیارات کی حکمت عملی اور ترجیحات کے تعین میں براہ راست کردار ادا کرنے کا موقع دیتی ہے۔ سعودی عرب کی مسلسل دوسری مدت کے لیے موجودگی اسے اس عمل میں تسلسل کے ساتھ شریک رہنے کی ضمانت دیتی ہے۔

ساسو کے گورنر سعد القصبی کی نمائندگی میں سعودی عرب کی کونسل میں شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مملکت بین الاقوامی معیار سازی کے نظام میں ایک فعال شراکت دار ہے۔ یہ شراکت داری مملکت کی بین الاقوامی معیارات اور تفصیلات سے متعلق کام کی سمت متعین کرنے میں کردار ادا کرتی ہے۔

کیا معیار سازی کے میدان میں کسی ملک کی مسلسل کامیابی اس کے ادارہ جاتی تسلسل اور قیادت کی مستقل مزاجی کا آئینہ دار نہیں؟ سعودی عرب کا ساتواں انتخاب اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مملکت کی معیار سازی کی حکمت عملی میں تسلسل پایا جاتا ہے۔

آئی ایس او کے 160 سے زائد ارکان کے درمیان کونسل کی رکنیت کے لیے منتخب ہونا ایک مسابقتی عمل ہے، جس میں رکن ادارے اپنے اعتماد کا اظہار کرتے ہیں۔ سعودی عرب کا مسلسل دوسری مدت کے لیے منتخب ہونا اس اعتماد کی تجدید کو ظاہر کرتا ہے۔

یہ انتخاب پیرس میں منعقدہ 48ویں آئی ایس او جنرل اسمبلی کے دوران ہوا، جہاں رکن اداروں نے اپنی رائے کا اظہار کیا۔ سعودی عرب کی جانب سے ساسو کی نمائندگی اور سعد القصبی کی کونسل میں شرکت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ مملکت کی آواز بین الاقوامی معیار سازی کے فیصلہ ساز فورم پر سنی جائے۔

کیا بین الاقوامی معیارات کی تشکیل میں حصہ لینے والے ممالک کو عالمی منڈیوں میں مسابقتی برتری حاصل نہیں ہوتی؟ جب کوئی ملک معیارات کی تیاری کے عمل کا حصہ ہوتا ہے تو اس کی صنعتوں کو ان معیارات کے مطابق ڈھلنے میں آسانی ہوتی ہے اور وہ اپنے تجارتی مفادات کے مطابق معیارات کی تشکیل پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

سعودی عرب کی آئی ایس او کونسل میں مسلسل موجودگی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ مملکت بین الاقوامی معیار سازی کے رجحانات سے باخبر رہے اور ان کی تشکیل میں اپنا کردار ادا کرے۔ یہ شرکت مملکت کی بین الاقوامی تجارت اور صنعتی تعاون کے لیے سازگار ماحول بنانے میں معاون ہے۔

آئی ایس او کا مقصد بین الاقوامی معیارات تیار کرنا اور معیار سازی کے مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے، جس سے رکن ممالک کے درمیان تجارتی، صناعتی اور خدماتی تبادلے کو سہولت ملتی ہے۔ یہ تنظیم عالمی تجارت کے لیے ایک مشترکہ تکنیکی بنیاد فراہم کرتی ہے۔

کیا عالمی تجارت کے فروغ کے لیے بین الاقوامی معیارات کا ہونا اتنا ہی ضروری نہیں جتنا کہ ان کی تشکیل میں شریک ہونا؟ سعودی عرب کی کونسل میں موجودگی اسے دونوں پہلوؤں پر کام کرنے کا موقع فراہم کرتی ہے۔

رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ کونسل کے دیگر منتخب ارکان کون ہیں، نہ ہی ووٹوں کی تفصیل یا مدت کے دوران کونسل کے ایجنڈے کی تفصیلات دی گئی ہیں۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں سعودی عرب کے انتخاب، نمائندے کے نام، جنرل اسمبلی کے مقام اور آئی ایس او کی رکنیت کی عمومی تفصیلات تک محدود معلومات فراہم کی گئی ہیں۔

سعودی عرب آئی ایس او کونسل کے لیے کتنی بار منتخب ہوا ہے؟ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق سعودی عرب آئی ایس او کونسل کے لیے ساتویں بار منتخب ہوا ہے اور یہ اس کی مسلسل دوسری مدت ہے۔ انتخاب 2027-2029 کی مدت کے لیے ہوا۔ سعودی عرب کی نمائندگی سعودی اسٹینڈرڈز، میٹرولوجی اینڈ کوالٹی آرگنائزیشن (ساسو) نے کی۔

سعودی عرب کی نمائندگی آئی ایس او کونسل میں کون کریں گے؟ ایس پی اے کے مطابق ساسو کے گورنر سعد القصبی سعودی عرب کی نمائندگی آئی ایس او کونسل میں کریں گے۔ یہ نمائندگی مملکت کی تنظیم کے کام میں فعال شرکت اور بین الاقوامی و علاقائی معیار سازی کو آگے بڑھانے میں کردار کی عکاسی کرتی ہے۔

آئی ایس او جنرل اسمبلی کا 48واں اجلاس کہاں اور کب منعقد ہوا؟ ایس پی اے کے مطابق 48ویں آئی ایس او جنرل اسمبلی جمعرات کو پیرس میں منعقد ہوئی، جس کے دوران آئی ایس او کے رکن اداروں نے سعودی عرب کو کونسل کے لیے منتخب کیا۔ یہی اجلاس 2027-2029 کی مدت کے لیے انتخاب کا موقع بنا۔

آئی ایس او کیا ہے اور اس کے کتنے ارکان ہیں؟ ایس پی اے کے مطابق آئی ایس او ایک بین الاقوامی تنظیم ہے جو دنیا بھر کے قومی معیار سازی کے اداروں کو یکجا کرتی ہے۔ اس کے 160 سے زائد ارکان ہیں۔ یہ بین الاقوامی معیارات تیار کرتی ہے اور معیار سازی کے مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دیتی ہے، جس سے رکن ممالک کے درمیان تجارتی، صناعتی اور خدماتی تبادلے کو سہولت ملتی ہے۔

اس انتخاب کی اہمیت کیا ہے؟ ایس پی اے کے مطابق یہ انتخاب سعودی عرب کے اس کردار کو اجاگر کرتا ہے جو وہ بین الاقوامی معیارات اور تفصیلات سے متعلق کام کی سمت متعین کرنے میں ادا کرتا ہے۔ یہ مملکت کی بین الاقوامی تکنیکی کمیٹیوں، کونسلوں اور معیار سازی و معیار سے متعلق پروگراموں میں فعال شرکت کا تسلسل بھی ہے۔

ساسو کیا ہے؟ ایس پی اے کے مطابق سعودی اسٹینڈرڈز، میٹرولوجی اینڈ کوالٹی آرگنائزیشن (ساسو) وہ ادارہ ہے جو آئی ایس او میں سعودی عرب کی نمائندگی کرتا ہے۔ ساسو کے گورنر سعد القصبی آئی ایس او کونسل میں مملکت کی نمائندگی کریں گے۔