ریاض میں جی سی سی کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے مسجد نبوی اور مدینہ کی شہری سہولیات کو خدمات فراہم کرنے والے بجلی کی تقسیم کے اسٹیشن کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے کی شدید مذمت کی ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 1 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، یہ حملہ حوثی ملیشیا کے ذریعے کیا گیا اور اسے دہشت گردانہ قرار دیا گیا۔ کیا مسجد نبوی کو بجلی فراہم کرنے والے اسٹیشن کو نشانہ بنانا دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو براہ راست چھیڑنے کے مترادف نہیں؟
البدیوی نے کہا کہ یہ حملہ تمام سرخ لکیروں کو عبور کر گیا ہے اور یہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو کھلا چیلنج ہے۔ انہوں نے اسے اسلامی مقدس مقامات کی حرمت کی خلاف ورزی میں ایک سنگین اضافہ قرار دیا۔ کیا مقدس مقامات کی حرمت کو چیلنج کرنے والے ایسے اقدامات کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے؟
جی سی سی کے سیکرٹری جنرل نے نشاندہی کی کہ یہ حملہ ایک جارحانہ رویے کو بے نقاب کرتا ہے جو مذہبی اور انسانی اقدار کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کو بھی نظر انداز کرتا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر اس پہلو کی طرف توجہ دلائی کہ حرمین شریفین اور ان کے گرد و نواح کو نشانہ بنانے کی بار بار کوششیں کی جا رہی ہیں۔ کیا بار بار کی جانے والی ایسی کوششیں بین الاقوامی برادری کی خاموشی کا فائدہ اٹھانے کی کوشش نہیں؟
البدیوی نے خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے سعودی عرب کے ساتھ ثابت قدم اور غیر متزلزل موقف پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ رکن ممالک کی مکمل یکجہتی ہے اور وہ ہر اس چیز کا مقابلہ کریں گے جو مملکت کی سلامتی، استحکام اور خودمختاری کو خطرہ بنے۔ کیا خلیجی ممالک کے اس مشترکہ مؤقف سے یہ پیغام نہیں جاتا کہ مقدس مقامات کی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں؟
انہوں نے مملکت کی جانب سے اپنی سرزمین، شہریوں، رہائشیوں اور زائرین کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے تمام اقدامات کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مملکت اور اس کے مقدس مقامات کی سلامتی خلیج تعاون کونسل کی اجتماعی سلامتی کا اٹوٹ حصہ ہے۔ کیا کسی ایک رکن ملک کی سلامتی کو لاحق خطرہ باقی تمام رکن ممالک کی سلامتی کو لاحق خطرہ تصور نہیں کیا جائے گا؟
جی سی سی سربراہ نے واضح کیا کہ مملکت کی سلامتی کو لاحق کوئی بھی خطرہ تمام خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کی سلامتی کو لاحق خطرہ ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حرمین شریفین کے گرد و نواح کو نشانہ بنانے کی کوششوں کا سلسلہ جاری ہے۔ کیا یہ بات خلیجی یکجہتی کے حقیقی مفہوم کو ظاہر نہیں کرتی؟
واضح رہے کہ یہ حملہ مدینہ میں بجلی کی تقسیم کے اسٹیشن پر کیا گیا، جو مسجد نبوی کے علاوہ شہر کی شہری سہولیات کو بھی خدمات فراہم کرتا ہے۔ ایسے میں جب مقدس مقامات کی خدمت کرنے والے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جائے تو عام شہریوں اور زائرین کی زندگیوں کو کس حد تک خطرہ لاحق ہوتا ہے؟
البدیوی کے بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ یہ حملہ انسانی اقدار کے منافی ہے اور بین الاقوامی قوانین و اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے اسے ایک جارحانہ رویہ قرار دیا جو کسی بھی مذہبی یا انسانی قدر کا لحاظ نہیں رکھتا۔ کیا بین الاقوامی قوانین کی اس طرح کی خلاف ورزیوں پر مؤثر کارروائی کی ضرورت نہیں؟
یہ بیان سعودی عرب کی جانب سے اپنی سرزمین اور مقدس مقامات کے تحفظ کے لیے اٹھائے جانے والے اقدامات کی مکمل حمایت کا اعادہ بھی ہے۔ جی سی سی کے سیکرٹری جنرل نے کہا کہ رکن ممالک مملکت کے ساتھ کھڑے ہیں اور کسی بھی ایسے اقدام کا مقابلہ کریں گے جو اس کی سلامتی، استحکام یا خودمختاری کو متاثر کرے۔ کیا یہ مشترکہ عزم خطے میں استحکام کے لیے ایک مضبوط پیغام نہیں؟
انہوں نے مزید کہا کہ مملکت کی سلامتی اور اس کے مقدس مقامات کی حفاظت خلیج تعاون کونسل کی اجتماعی سلامتی کا حصہ ہے۔ یہ موقف ظاہر کرتا ہے کہ خلیجی ممالک اپنی سلامتی کو ایک مشترکہ مفاد کے طور پر دیکھتے ہیں۔ کیا اجتماعی سلامتی کے اس تصور کو تقویت دینے کے لیے مزید مشترکہ اقدامات کی ضرورت نہیں؟
رپورٹ کے مطابق یہ حملہ حوثی ملیشیا کی جانب سے کیا گیا اور اسے دہشت گردانہ قرار دیا گیا۔ جی سی سی سربراہ نے اسے مسلمانوں کے جذبات کو کھلا چیلنج اور اسلامی مقدس مقامات کی حرمت کی خلاف ورزی میں سنگین اضافہ قرار دیا۔ کیا مقدس مقامات کے خلاف ایسی کارروائیاں کرنے والوں کے خلاف عالمی سطح پر متحد ہو کر مؤقف اختیار کرنے کا وقت نہیں آ گیا؟
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ بیان ریاض سے 1 اکتوبر 2026 کو جاری کیا گیا۔ رپورٹ میں حملے کے نتیجے میں ہونے والے نقصان، جانی یا مالی اثرات، یا بجلی کی فراہمی میں کسی تعطل کے بارے میں تفصیلات نہیں دی گئیں۔ اسی طرح اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ حملے کے بعد کیا اقدامات اٹھائے گئے یا کسی قسم کی جوابی کارروائی کی گئی۔
رپورٹ میں یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ حملے میں استعمال ہونے والے ڈرون کی تعداد، ان کی اقسام، یا ان کے لانچ کیے جانے کے مقام کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی گئی ہیں۔ نہ ہی اس بات کا ذکر ہے کہ بجلی کی تقسیم کے اسٹیشن کو کس حد تک نقصان پہنچا یا اس کی مرمت میں کتنا وقت لگے گا۔ کیا اس طرح کی تفصیلات کی عدم موجودگی میں مکمل تصویر بنانا ممکن ہے؟
جی سی سی سربراہ کے بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مملکت کی سلامتی کو لاحق کوئی بھی خطرہ تمام رکن ممالک کی سلامتی کو لاحق خطرہ ہے۔ یہ موقف خلیجی تعاون کی بنیادوں کو ظاہر کرتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ رکن ممالک اپنی سلامتی کو ایک مشترکہ ذمہ داری کے طور پر دیکھتے ہیں۔ کیا اس مشترکہ ذمہ داری کے احساس کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت نہیں؟
البدیوی نے مملکت کی جانب سے اپنے شہریوں، رہائشیوں اور زائرین کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے تمام اقدامات کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ رکن ممالک مملکت کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن تعاون کریں گے۔ کیا زائرین کے تحفظ کو یقینی بنانا تمام اسلامی ممالک کی مشترکہ ذمہ داری نہیں؟
رپورٹ کے مطابق یہ حملہ مسجد نبوی کو خدمات فراہم کرنے والے بجلی کے اسٹیشن کو نشانہ بنانے کے حوالے سے تھا، جو مدینہ کی شہری سہولیات کو بھی بجلی فراہم کرتا ہے۔ اس تنصیب کو نشانہ بنانا نہ صرف مقدس مقامات بلکہ عام شہریوں کی زندگیوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ کیا بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا انسانی اقدار کے منافی نہیں؟
جی سی سی سربراہ نے اس حملے کو تمام سرخ لکیروں کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ یہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو کھلا چیلنج ہے۔ انہوں نے اسے اسلامی مقدس مقامات کی حرمت کی خلاف ورزی میں ایک سنگین اضافہ بھی قرار دیا۔ کیا مقدس مقامات کی حرمت کا تحفظ تمام مسلمانوں کی مشترکہ ذمہ داری نہیں؟
ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس حملے کے بعد سعودی عرب یا خلیج تعاون کونسل کی جانب سے کوئی مشترکہ بیان یا اقدام سامنے آیا ہے۔ نہ ہی اس بات کا ذکر ہے کہ اس حملے کی بین الاقوامی سطح پر کس طرح مذمت کی گئی یا کون سے ممالک نے اس پر ردعمل ظاہر کیا۔ رپورٹ میں صرف جی سی سی سربراہ کے بیان پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ بیان 1 اکتوبر 2026 کو ریاض سے جاری کیا گیا اور اس میں جی سی سی کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے حوثی ملیشیا کے ڈرون حملے کی شدید مذمت کی۔ انہوں نے اسے مسلمانوں کے جذبات کو کھلا چیلنج قرار دیا اور اسلامی مقدس مقامات کی حرمت کی خلاف ورزی میں سنگین اضافہ کہا۔ کیا اس طرح کے حملوں کے خلاف متحدہ اور واضح مؤقف اختیار کرنا وقت کی ضرورت نہیں؟
جی سی سی سربراہ نے کہا کہ یہ حملہ ایک جارحانہ رویے کو بے نقاب کرتا ہے جو مذہبی اور انسانی اقدار کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کو بھی نظر انداز کرتا ہے۔ انہوں نے خاص طور پر حرمین شریفین اور ان کے گرد و نواح کو نشانہ بنانے کی بار بار کوششوں کا ذکر کیا۔ کیا بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت نہیں؟
انہوں نے خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے سعودی عرب کے ساتھ ثابت قدم اور غیر متزلزل موقف پر زور دیا اور کہا کہ وہ مملکت کی سلامتی، استحکام اور خودمختاری کو لاحق ہر خطرے کا مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مملکت اور اس کے مقدس مقامات کی سلامتی خلیج تعاون کونسل کی اجتماعی سلامتی کا اٹوٹ حصہ ہے۔ کیا یہ مؤقف خلیجی یکجہتی کی مضبوطی کو ظاہر نہیں کرتا؟
رپورٹ میں اس بات کا کوئی ذکر نہیں کہ حملے کے نتیجے میں مسجد نبوی کو بجلی کی فراہمی میں کوئی تعطل آیا یا نہیں، یا اسٹیشن کو کس قسم کا نقصان پہنچا۔ اسی طرح اس بارے میں بھی کوئی تفصیل نہیں دی گئی کہ اس حملے کے بعد مدینہ میں شہری سہولیات کی بجلی کی فراہمی متاثر ہوئی یا نہیں۔ رپورٹ صرف جی سی سی سربراہ کے بیان اور ان کے مؤقف تک محدود ہے۔
جی سی سی سربراہ کے بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مملکت کی سلامتی کو لاحق کوئی بھی خطرہ تمام رکن ممالک کی سلامتی کو لاحق خطرہ ہے۔ یہ موقف خلیجی تعاون کی بنیادوں کو ظاہر کرتا ہے اور یہ بتاتا ہے کہ رکن ممالک اپنی سلامتی کو ایک مشترکہ مفاد کے طور پر دیکھتے ہیں۔ کیا اس مشترکہ مفاد کے تحفظ کے لیے مزید مشترکہ کوششوں کی ضرورت نہیں؟
البدیوی نے مملکت کی جانب سے اپنے شہریوں، رہائشیوں اور زائرین کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے تمام اقدامات کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ رکن ممالک مملکت کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن تعاون کریں گے۔ کیا زائرین کے تحفظ کو یقینی بنانا تمام اسلامی ممالک کی مشترکہ ذمہ داری نہیں؟
رپورٹ کے مطابق یہ حملہ مسجد نبوی کو خدمات فراہم کرنے والے بجلی کے اسٹیشن کو نشانہ بنانے کے حوالے سے تھا، جو مدینہ کی شہری سہولیات کو بھی بجلی فراہم کرتا ہے۔ اس تنصیب کو نشانہ بنانا نہ صرف مقدس مقامات بلکہ عام شہریوں کی زندگیوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔ کیا بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانا انسانی اقدار کے منافی نہیں؟
جی سی سی سربراہ نے اس حملے کو تمام سرخ لکیروں کی خلاف ورزی قرار دیا اور کہا کہ یہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو کھلا چیلنج ہے۔ انہوں نے اسے اسلامی مقدس مقامات کی حرمت کی خلاف ورزی میں ایک سنگین اضافہ بھی قرار دیا۔ کیا مقدس مقامات کی حرمت کا تحفظ تمام مسلمانوں کی مشترکہ ذمہ داری نہیں؟
ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ اس حملے کے بعد سعودی عرب یا خلیج تعاون کونسل کی جانب سے کوئی مشترکہ بیان یا اقدام سامنے آیا ہے۔ نہ ہی اس بات کا ذکر ہے کہ اس حملے کی بین الاقوامی سطح پر کس طرح مذمت کی گئی یا کون سے ممالک نے اس پر ردعمل ظاہر کیا۔ رپورٹ میں صرف جی سی سی سربراہ کے بیان پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔
جی سی سی سربراہ نے کس واقعے کی مذمت کی؟ جی سی سی کے سیکرٹری جنرل جاسم البدیوی نے حوثی ملیشیا کے ڈرون حملے کی شدید مذمت کی جو مدینہ میں بجلی کی تقسیم کے اسٹیشن کو نشانہ بنا کر کیا گیا۔ یہ اسٹیشن مسجد نبوی اور شہر کی شہری سہولیات کو خدمات فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے اسے دہشت گردانہ قرار دیا اور کہا کہ یہ حملہ تمام سرخ لکیروں کو عبور کر گیا ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں نقصان کی تفصیل نہیں دی گئی۔
اس حملے کو مسلمانوں کے جذبات کو کھلا چیلنج کیوں کہا گیا؟ البدیوی کے مطابق یہ حملہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو کھلا چیلنج ہے اور اسلامی مقدس مقامات کی حرمت کی خلاف ورزی میں ایک سنگین اضافہ ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ ایک جارحانہ رویے کو بے نقاب کرتا ہے جو مذہبی اور انسانی اقدار کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کو بھی نظر انداز کرتا ہے۔ انہوں نے حرمین شریفین اور ان کے گرد و نواح کو نشانہ بنانے کی بار بار کوششوں کا بھی ذکر کیا۔
خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کا موقف کیا ہے؟ البدیوی نے خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے سعودی عرب کے ساتھ ثابت قدم اور غیر متزلزل موقف پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ رکن ممالک کی مکمل یکجہتی ہے اور وہ ہر اس چیز کا مقابلہ کریں گے جو مملکت کی سلامتی، استحکام اور خودمختاری کو خطرہ بنے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مملکت اور اس کے مقدس مقامات کی سلامتی خلیج تعاون کونسل کی اجتماعی سلامتی کا اٹوٹ حصہ ہے۔
کیا مملکت کی سلامتی کو لاحق خطرہ تمام رکن ممالک کے لیے خطرہ ہے؟ جی سی سی سربراہ نے واضح کیا کہ مملکت کی سلامتی کو لاحق کوئی بھی خطرہ تمام خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کی سلامتی کو لاحق خطرہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مملکت اور اس کے مقدس مقامات کی سلامتی خلیج تعاون کونسل کی اجتماعی سلامتی کا اٹوٹ حصہ ہے۔ یہ موقف خلیجی تعاون کی بنیادوں کو ظاہر کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ رکن ممالک اپنی سلامتی کو مشترکہ مفاد سمجھتے ہیں۔
مملکت کے تحفظ کے لیے کس قسم کی حمایت کا اعادہ کیا گیا؟ البدیوی نے مملکت کی جانب سے اپنی سرزمین، شہریوں، رہائشیوں اور زائرین کے تحفظ کے لیے اٹھائے گئے تمام اقدامات کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ رکن ممالک مملکت کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس کی خودمختاری کے تحفظ کے لیے ہر ممکن تعاون کریں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی ایسے اقدام کا مقابلہ کیا جائے گا جو مملکت کی سلامتی کو متاثر کرے۔
رپورٹ میں کون سی تفصیلات شامل نہیں کی گئیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں حملے کے نتیجے میں ہونے والے نقصان، جانی یا مالی اثرات، یا بجلی کی فراہمی میں کسی تعطل کے بارے میں تفصیلات نہیں دی گئیں۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ حملے میں استعمال ہونے والے ڈرون کی تعداد، اقسام، یا لانچ کیے جانے کے مقام کے بارے میں کوئی معلومات ہیں۔ رپورٹ میں صرف جی سی سی سربراہ کے بیان پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔





