ابہا میں یکم اکتوبر 2026 سے 31 اکتوبر 2026 تک جاری رہنے والے ورث کیمپ کے تیسرے ایڈیشن میں مملکت بھر سے 50 تربیت کار حصہ لے رہے ہیں، جہاں تین تربیتی شعبے پیش کیے جا رہے ہیں۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، رویال انسٹیٹیوٹ آف ٹریڈیشنل آرٹس (ورث) نے عسیر ریجن میں ورث کیمپ کا تیسرا ایڈیشن شروع کیا ہے۔ یہ کیمپ یکم اکتوبر سے 31 اکتوبر تک جاری رہے گا اور اس میں مملکت کے مختلف حصوں سے 50 تربیت کار شرکت کر رہے ہیں۔
کیمپ میں تین تربیتی شعبے شامل ہیں: روایتی پتھر کی تعمیر، روایتی ہاتھ کی کڑھائی اور دھات کا فن۔ شرکاء ہر دستکاری کی بنیادی باتوں اور تکنیکوں کو سیکھیں گے، جس کا اختتام خطے کے فن تعمیر اور ورثے سے متاثر تین اجتماعی فن پاروں پر ہوگا۔ کیا یہ تین اجتماعی فن پارے کیمپ کے دوران ہی مکمل کیے جائیں گے یا شرکاء کو ان پر مزید وقت دیا جائے گا؟
ایس پی اے کے مطابق، کیمپ مکمل کرنے پر شرکاء کو انسٹیٹیوٹ سے ایک تسلیم شدہ سرٹیفکیٹ بھی ملے گا۔ یہ تیسرا ایڈیشن مدینہ اور الاحساء میں منعقد ہونے والے پچھلے کیمپوں کے بعد آ رہا ہے، جو انسٹیٹیوٹ کے مملکت کے مختلف مقامات کو متنوع بنانے اور شرکاء کے تعلق کو ہر خطے کی ثقافتی شناخت سے مضبوط کرنے کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
روایتی پتھر کی تعمیر کا شعبہ شرکاء کو عسیر کے پہاڑی علاقوں کی تعمیراتی روایات سے روشناس کرائے گا، جہاں پتھر کو عمارتوں کی دیواروں، چھتوں اور داخلی راستوں میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ کیا آج کے دور میں پتھر کی روایتی تعمیر کو جدید تعمیراتی منصوبوں میں دوبارہ اپنایا جا سکتا ہے؟
روایتی ہاتھ کی کڑھائی کا شعبہ اس فن کی باریکیوں پر مرکوز ہوگا جو نسلوں سے ماؤں اور بیٹیوں کے ذریعے منتقل ہوتا آیا ہے۔ عسیر کی خواتین کی کڑھائی میں رنگوں اور نمونوں کی ایک الگ پہچان ہے جو خطے کی ثقافتی شناخت کا حصہ ہے۔ کیا یہ کڑھائی آج بھی مقامی بازاروں میں اپنی مانگ برقرار رکھے ہوئے ہے؟
دھات کا فن شرکاء کو دھات کو ڈھالنے، تراشنے اور اس پر نقش بنانے کی مہارتیں سکھائے گا، جو عسیر کے روایتی زیورات، دروازوں اور روزمرہ کے برتنوں میں جھلکتی ہیں۔ کیا دھات کے فن کے روایتی اوزار آج بھی دستیاب ہیں یا ان کی جگہ جدید مشینیں لے چکی ہیں؟
یہ کیمپ انسٹیٹیوٹ کے اس وژن کا تسلسل ہے جس کے تحت مملکت کے مختلف خطوں میں ایسے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں جہاں نوجوان نسل اپنے علاقے کی دستکاری کو سیکھ سکے۔ مدینہ اور الاحساء کے بعد عسیر کا انتخاب اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ہر خطے کی اپنی الگ دستکاری روایت ہے جسے محفوظ رکھنے کی ضرورت ہے۔ کیا آنے والے ایڈیشنز میں مملکت کے دیگر خطوں کو بھی شامل کیا جائے گا؟
ورث انسٹیٹیوٹ 2021 میں قائم کیا گیا تھا اور اس کا مقصد روایتی فنون میں قومی صلاحیتوں کو تیار کرنا اور سعودی ثقافتی ورثے کی پائیداری اور تحفظ کی حمایت کرنا ہے۔ انسٹیٹیوٹ روایتی فنون کے شعبے میں تربیت، تحقیق اور دستاویزی کام کے ذریعے اس ورثے کو آنے والی نسلوں تک پہنچانے پر کام کر رہا ہے۔ کیا اس طرح کے کیمپوں سے روایتی دستکاری کو تجارتی طور پر بھی فروغ مل سکتا ہے؟
کیمپ میں شرکت کرنے والے 50 تربیت کار مملکت کے مختلف حصوں سے آئے ہیں، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ روایتی فنون میں دلچسپی صرف ایک خطے تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہے۔ تین ہفتوں پر محیط یہ کیمپ شرکاء کو نہ صرف تکنیکی مہارتیں سکھائے گا بلکہ انہیں اپنے خطے کے ورثے سے جوڑنے کا کام بھی کرے گا۔ کیا شرکاء کیمپ کے بعد اپنے علاقوں میں دستکاری کے فروغ کے لیے کوئی کردار ادا کریں گے؟
عسیر ریجن اپنے پہاڑی مناظر، روایتی گھروں اور ثقافتی ورثے کے لیے جانا جاتا ہے۔ یہاں کی تعمیراتی روایات میں پتھر کا استعمال نمایاں ہے، جبکہ کڑھائی اور دھات کے فن بھی خطے کی ثقافتی پہچان کا حصہ ہیں۔ کیمپ کے شرکاء کو انہی روایات سے متاثر ہو کر اپنے فن پارے تخلیق کرنے کا موقع ملے گا۔ کیا یہ فن پارے بعد میں کسی عوامی نمائش میں پیش کیے جائیں گے؟
انسٹیٹیوٹ کی جانب سے جاری کردہ تسلیم شدہ سرٹیفکیٹ شرکاء کے لیے اس بات کا ثبوت ہوگا کہ انہوں نے روایتی فنون کے کسی شعبے میں باقاعدہ تربیت حاصل کی ہے۔ یہ سرٹیفکیٹ ان کے لیے آگے بڑھنے، مزید مہارتیں سیکھنے یا اس شعبے میں کام کرنے کے مواقع پیدا کر سکتا ہے۔ کیا اس سرٹیفکیٹ کو سرکاری یا نجی شعبے میں ملازمت کے لیے تسلیم کیا جائے گا؟
ایس پی اے کی رپورٹ میں کیمپ کے شرکاء کے انتخاب کے معیار، تربیت کاروں کی تفصیلات، استعمال ہونے والے مواد یا کیمپ کے روزانہ کے معمولات کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ تین اجتماعی فن پارے کس جگہ رکھے جائیں گے یا ان کی نمائش کہاں ہوگی۔ رپورٹ میں کیمپ کے اخراجات، رہائش یا شرکاء کے سفر کے انتظامات کا بھی ذکر نہیں ہے۔
ورث کیمپ کا یہ تیسرا ایڈیشن مدینہ اور الاحساء میں ہونے والے پچھلے ایڈیشنز کے تجربات سے سیکھ کر عسیر پہنچا ہے۔ ہر خطے کی اپنی دستکاری روایت ہے، اور انسٹیٹیوٹ کا مقصد ان روایات کو نہ صرف محفوظ رکھنا بلکہ انہیں نئی نسل تک منتقل کرنا بھی ہے۔ کیا اس طرح کے کیمپوں کا انعقاد ہر سال جاری رہے گا؟
روایتی فنون کی حفاظت صرف ماضی کو زندہ رکھنے کا معاملہ نہیں بلکہ یہ ثقافتی شناخت، اقتصادی مواقع اور سماجی ہم آہنگی سے بھی جڑا ہوا ہے۔ جب نوجوان نسل اپنے ہاتھوں سے روایتی دستکاری تخلیق کرتی ہے تو وہ اپنے ورثے سے ایک زندہ رشتہ قائم کرتی ہے۔ کیا یہ رشتہ انہیں اپنی ثقافتی جڑوں سے جوڑے رکھنے میں مدد دے گا؟
کیمپ کا انعقاد یکم اکتوبر سے 31 اکتوبر تک ایک ماہ پر محیط ہے، جس میں شرکاء کو تینوں شعبوں میں بنیادی اور عملی تربیت دی جائے گی۔ تربیت کا اختتام تین اجتماعی فن پاروں کی تخلیق پر ہوگا جو خطے کے فن تعمیر اور ورثے سے متاثر ہوں گے۔ کیا یہ فن پارے روایتی اور جدید فن کے امتزاج کی عکاسی کریں گے؟
سعودی عرب میں ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے متعدد ادارے کام کر رہے ہیں، اور ورث انسٹیٹیوٹ ان میں سے ایک اہم ادارہ ہے جو 2021 سے روایتی فنون میں قومی صلاحیتوں کی تربیت کر رہا ہے۔ اس کا مقصد روایتی فنون کو زندہ رکھنا اور انہیں آنے والی نسلوں تک منتقل کرنا ہے۔ کیا اس مقصد کے حصول کے لیے مزید اداروں اور وسائل کی ضرورت ہے؟
ایس پی اے کی اس رپورٹ میں کیمپ کے شرکاء کے نام، ان کی عمریں، ان کے پس منظر یا تربیت کاروں کی تعداد کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ کیمپ کے انعقاد کی جگہ عسیر ریجن میں کہاں ہے یا اس کے لیے کون سی سہولیات استعمال کی جا رہی ہیں۔ ان تفصیلات کے بغیر کیمپ کی مکمل تصویر سامنے نہیں آتی۔
روایتی دستکاری کی تربیت میں عملی مشق کے ساتھ ساتھ اس کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کو سمجھانا بھی ضروری ہے۔ ورث کیمپ کے شرکاء کو ہر دستکاری کی بنیادی باتوں اور تکنیکوں کے ساتھ ساتھ اس کے پس منظر کا بھی علم دیا جائے گا۔ کیا یہ علم انہیں اپنے فن کو بہتر طور پر سمجھنے اور آگے بڑھانے میں مدد دے گا؟
مملکت کے مختلف خطوں میں ایسے کیمپوں کے انعقاد سے نہ صرف روایتی فنون کو فروغ ملتا ہے بلکہ مقامی معیشت کو بھی فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ جب دستکاری کی مہارت رکھنے والے افراد اپنے علاقوں میں کام کریں تو وہ مقامی مصنوعات کی تیاری اور فروخت میں حصہ ڈال سکتے ہیں۔ کیا اس طرح کے کیمپ مقامی دستکاری کی مارکیٹ کو وسعت دے سکتے ہیں؟
ورث انسٹیٹیوٹ کا یہ اقدام سعودی عرب کے ثقافتی ورثے کے تحفظ کی کوششوں کا حصہ ہے، جس میں روایتی فنون کو دستاویزی شکل دینا، ان کی تربیت دینا اور انہیں عوام تک پہنچانا شامل ہے۔ کیمپ کے شرکاء کو ملنے والا سرٹیفکیٹ اس سلسلے کی ایک کڑی ہے جو انہیں اس شعبے میں آگے بڑھنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ کیا اس طرح کے سرٹیفکیٹ کی بین الاقوامی سطح پر بھی کوئی اہمیت ہوگی؟
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، کیمپ کا تیسرا ایڈیشن یکم اکتوبر 2026 سے شروع ہو کر 31 اکتوبر 2026 تک جاری رہے گا، جس میں 50 تربیت کار شرکت کر رہے ہیں۔ رپورٹ میں کیمپ کے شرکاء کے انتخاب کے عمل، تربیت کاروں کی اہلیت یا کیمپ کے نتائج کی جانچ کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی گئیں۔ یہ تفصیلات سامنے آنے پر کیمپ کی کامیابی کا اندازہ لگانا ممکن ہوگا۔
ورث کیمپ کا تیسرا ایڈیشن کہاں اور کب ہو رہا ہے؟ کیمپ عسیر ریجن میں یکم اکتوبر 2026 سے 31 اکتوبر 2026 تک جاری رہے گا، جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا۔ اس میں مملکت بھر سے 50 تربیت کار شرکت کر رہے ہیں۔ یہ تیسرا ایڈیشن ہے، جس سے پہلے مدینہ اور الاحساء میں کیمپ منعقد ہوئے۔ رپورٹ میں کیمپ کے مقام یا روزانہ معمولات کی تفصیل نہیں دی گئی۔
کیمپ میں کون سے تربیتی شعبے پیش کیے جا رہے ہیں؟ کیمپ میں تین تربیتی شعبے شامل ہیں: روایتی پتھر کی تعمیر، روایتی ہاتھ کی کڑھائی اور دھات کا فن۔ شرکاء ہر دستکاری کی بنیادی باتوں اور تکنیکوں کو سیکھیں گے۔ تربیت کا اختتام خطے کے فن تعمیر اور ورثے سے متاثر تین اجتماعی فن پاروں پر ہوگا۔ ایس پی اے نے ہر شعبے کے نصاب یا دورانیے کی تفصیل نہیں دی۔
شرکاء کو کیا سند دی جائے گی؟ ایس پی اے کے مطابق، کیمپ مکمل کرنے پر شرکاء کو انسٹیٹیوٹ سے ایک تسلیم شدہ سرٹیفکیٹ ملے گا۔ یہ سرٹیفکیٹ ان کی تربیت کا ثبوت ہوگا۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ سرٹیفکیٹ کس سطح کا ہوگا یا اسے کہاں تسلیم کیا جائے گا۔
ورث انسٹیٹیوٹ کب قائم ہوا اور اس کا مقصد کیا ہے؟ ورث انسٹیٹیوٹ 2021 میں قائم کیا گیا تھا۔ اس کا مقصد روایتی فنون میں قومی صلاحیتوں کو تیار کرنا اور سعودی ثقافتی ورثے کی پائیداری اور تحفظ کی حمایت کرنا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق، انسٹیٹیوٹ مملکت کے مختلف خطوں میں کیمپ منعقد کر کے شرکاء کے تعلق کو ہر خطے کی ثقافتی شناخت سے مضبوط کرتا ہے۔
پچھلے کیمپ کہاں منعقد ہوئے تھے؟ ایس پی اے کے مطابق، موجودہ ایڈیشن سے پہلے کیمپ مدینہ اور الاحساء میں منعقد ہوئے تھے۔ یہ انسٹیٹیوٹ کے مملکت کے مختلف مقامات کو متنوع بنانے کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔ رپورٹ میں پچھلے کیمپوں کی تاریخوں، شرکاء کی تعداد یا ان کے نتائج کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔
رپورٹ میں کون سی معلومات شامل نہیں ہیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں شرکاء کے انتخاب کے معیار، تربیت کاروں کی تفصیلات، کیمپ کے اخراجات، رہائش یا سفر کے انتظامات کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی گئیں۔ اسی طرح یہ بھی واضح نہیں کہ تین اجتماعی فن پارے کہاں رکھے جائیں گے یا ان کی نمائش کہاں ہوگی۔ رپورٹ میں کیمپ کے مقام کی بھی نشاندہی نہیں کی گئی۔





