Monday, November 2, 2026
سعودی خبریں

ایس ایف ڈی اے کے سی ای او: شاہی خطاب نے امن کے فروغ اور ترقی کے تسلسل میں سعودی عرب کے مرکزی کردار کی تصدیق کی

ایس ایف ڈی اے کے سی ای او: شاہی خطاب نے امن کے فروغ اور ترقی کے تسلسل میں سعودی عرب کے مرکزی کردار کی تصدیق کی

ریاض میں سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی (ایس ایف ڈی اے) کے سی ای او ڈاکٹر ہشام الجدعی نے شوریٰ کونسل کے نویں اجلاس کے تیسرے سال کے افتتاح کے موقع پر دیے گئے شاہی خطاب کے مندرجات کو سراہا ہے۔ یہ خطاب خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی جانب سے ان کے نمائندے کی حیثیت سے شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، ولی عہد اور وزیراعظم نے پیش کیا۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، ڈاکٹر ہشام الجدعی نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ شاہی خطاب میں مملکت سعودی عرب کے امن کے فروغ، سلامتی اور استحکام کو بڑھانے اور اپنے جامع ترقی کے سفر کو جاری رکھنے میں مرکزی کردار کو اجاگر کیا گیا۔ خطاب میں مختلف شعبوں میں حاصل ہونے والی پیش رفت کو بھی نمایاں کیا گیا، جو قیادت کی قومی ترقی اور معیار زندگی کو بہتر بنانے کے عزم کا نتیجہ ہے۔

ایس ایف ڈی اے کے سی ای او نے زور دیا کہ سعودی وژن 2030 حکومتی اداروں کے لیے قومی اہداف کے حصول کا رہنما فریم ورک ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ یہ وژن ترقی کے مرکز میں انسان کو رکھتا ہے اور مستقبل کی ضروریات کا پیشگی اندازہ لگاتے ہوئے دیرپا اثر پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ وژن پروگراموں اور حکمت عملیوں کے کلیدی کارکردگی اشارے اپنے اہداف کا 93 فیصد حاصل کر چکے ہیں۔

ڈاکٹر ہشام الجدعی نے اللہ سے دعا کی کہ وہ خادم حرمین شریفین اور ولی عہد کی حفاظت فرمائے، انہیں مسلسل صحت اور تندرستی عطا کرے، اور مملکت کی حفاظت کرتے ہوئے اس کی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھے اور اسے دیرپا ترقی، وقار اور خوشحالی سے نوازے۔

یہ خطاب شوریٰ کونسل کے نویں اجلاس کے تیسرے سال کے آغاز پر دیا گیا، جو مملکت کی قانون سازی اور مشاورتی عمل کا ایک اہم موقع ہے۔ شاہی خطاب میں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر مملکت کے کردار اور مختلف شعبوں میں حاصل ہونے والی کامیابیوں کا جائزہ پیش کیا گیا۔

سعودی وژن 2030 کے تحت حکومتی ادارے قومی اہداف کے حصول کے لیے کام کر رہے ہیں، اور 93 فیصد اہداف کی تکمیل اس بات کا ثبوت ہے کہ وژن کے پروگرام اور حکمت عملیاں اپنے مقررہ راستے پر گامزن ہیں۔ ڈاکٹر الجدعی کا یہ بیان ایس ایف ڈی اے کے اس عزم کی عکاسی کرتا ہے کہ وہ وژن کے اہداف کے حصول میں اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔

ایس ایف ڈی اے خوراک اور ادویات کے شعبے میں ضابطہ کاری اور معیار کی حفاظت کا ذمہ دار ادارہ ہے، اور اس کا کام عوامی صحت اور معیار زندگی سے براہ راست جڑا ہوا ہے۔ ڈاکٹر الجدعی کا شاہی خطاب پر تبصرہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریگولیٹری ادارے بھی قومی ترقی کے فریم ورک کا حصہ ہیں اور وژن کے اہداف کے حصول میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں۔

شاہی خطاب میں امن کے فروغ اور سلامتی کے استحکام پر زور مملکت کی خارجہ پالیسی اور بین الاقوامی کردار کا عکس ہے، جبکہ ترقی کے تسلسل کا ذکر اندرونی پالیسیوں اور معاشی و سماجی اصلاحات سے متعلق ہے۔ ڈاکٹر الجدعی نے دونوں پہلوؤں کو یکجا طور پر اجاگر کیا۔

انہوں نے دعا میں مملکت کی سلامتی، استحکام، ترقی، وقار اور خوشحالی کا ذکر کیا، جو قیادت اور عوام کے درمیان باہمی تعلق اور قومی یکجہتی کی علامت ہے۔

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ بیان یکم اکتوبر 2026 کو ریاض سے جاری ہوا۔ رپورٹ میں ڈاکٹر الجدعی کے علاوہ کسی اور عہدیدار کا ذکر نہیں، نہ ہی شاہی خطاب کے مخصوص نکات کی تفصیل دی گئی ہے۔ 93 فیصد اہداف کی تکمیل کے علاوہ کوئی عددی تفصیل فراہم نہیں کی گئی۔

شاہی خطاب کس نے پیش کیا اور کہاں؟ شاہی خطاب خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی جانب سے شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود، ولی عہد اور وزیراعظم نے شوریٰ کونسل کے نویں اجلاس کے تیسرے سال کے افتتاح پر پیش کیا۔ یہ خطاب ریاض میں یکم اکتوبر 2026 کو دیا گیا۔ ایس پی اے کے مطابق خطاب میں مملکت کے امن، سلامتی اور ترقی کے کردار کو اجاگر کیا گیا۔

ڈاکٹر ہشام الجدعی کا عہدہ کیا ہے؟ ڈاکٹر ہشام الجدعی سعودی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی (ایس ایف ڈی اے) کے سی ای او ہیں۔ انہوں نے شاہی خطاب کے مندرجات کو سراہا اور کہا کہ خطاب میں مملکت کے امن کے فروغ، سلامتی اور استحکام کو بڑھانے اور جامع ترقی کے سفر کو جاری رکھنے کے کردار کو نمایاں کیا گیا۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں ان کے علاوہ کسی اور عہدیدار کا ذکر نہیں ہے۔

وژن 2030 کے اہداف کی تکمیل کا کیا ذکر ہوا؟ ڈاکٹر الجدعی نے بتایا کہ سعودی وژن 2030 حکومتی اداروں کے لیے قومی اہداف کے حصول کا رہنما فریم ورک ہے، جو ترقی کے مرکز میں انسان کو رکھتا ہے اور مستقبل کی ضروریات کا پیشگی اندازہ لگاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وژن پروگراموں اور حکمت عملیوں کے کلیدی کارکردگی اشارے اپنے اہداف کا 93 فیصد حاصل کر چکے ہیں۔ ایس پی اے نے اس سے زیادہ تفصیل فراہم نہیں کی۔

شاہی خطاب میں کن شعبوں کی پیش رفت کا ذکر ہوا؟ ایس پی اے کے مطابق شاہی خطاب میں مختلف شعبوں میں حاصل ہونے والی پیش رفت کو نمایاں کیا گیا، جو قیادت کی قومی ترقی اور معیار زندگی کو بہتر بنانے کے عزم کا نتیجہ ہے۔ خطاب میں مملکت کے امن کے فروغ، سلامتی اور استحکام کو بڑھانے اور جامع ترقی کے سفر کو جاری رکھنے کے کردار پر بھی روشنی ڈالی گئی۔ رپورٹ میں مخصوص شعبوں کے نام نہیں دیے گئے۔

ڈاکٹر الجدعی نے آخر میں کیا دعا کی؟ ڈاکٹر ہشام الجدعی نے اللہ سے دعا کی کہ وہ خادم حرمین شریفین اور ولی عہد کی حفاظت فرمائے، انہیں مسلسل صحت اور تندرستی عطا کرے، اور مملکت کی حفاظت کرتے ہوئے اس کی سلامتی اور استحکام کو برقرار رکھے اور اسے دیرپا ترقی، وقار اور خوشحالی سے نوازے۔ یہ دعا ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق ان کے بیان کا اختتامی حصہ تھی۔