ریاض میں شوریٰ کونسل نے اپنے نویں اجلاس کے دوسرے سال کے دوران 135 پارلیمانی سفارتی مصروفیات انجام دیں، جن کا مقصد سعودی عرب کی بین الاقوامی حیثیت کو بروئے کار لاتے ہوئے دنیا بھر کے قانون ساز اداروں کے ساتھ شراکت داریوں کو مضبوط بنانا تھا۔ یہ تعداد کونسل کی جانب سے جاری کردہ سالانہ جائزے میں سامنے آئی، جس میں کثیرالجہتی، خلیجی اور دو طرفہ سطحوں پر کی گئی مصروفیات کا تفصیلی ذکر موجود ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، شوریٰ کونسل نے کثیرالجہتی سطح پر علاقائی اور بین الاقوامی پارلیمانی یونینوں کی جانب سے منعقدہ 41 کانفرنسوں اور اجلاسوں میں شرکت کی۔ ان اجلاسوں میں کونسل نے اہم عالمی مسائل پر مملکت کے موقف کا اظہار کیا اور قانون سازی کے تجربات کا تبادلہ کیا۔ کیا یہ شرکت عالمی قانون ساز فورمز پر سعودی آواز کو مزید مؤثر بناتی ہے؟
رپورٹ کے مطابق اس سال کی نمایاں کامیابی عرب انٹر پارلیمانی یونین کی موجودہ صدارت کو فعال کرنا تھا۔ اس سلسلے میں کونسل نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی سرپرستی میں یونین کی 39ویں کانفرنس کی میزبانی کی، جس کا مقصد مشترکہ عرب پارلیمانی عمل کو مضبوط بنانا تھا۔ کیا عرب پارلیمانی صدارت کے دوران مشترکہ قانون سازی کے ایجنڈے میں کوئی ٹھوس پیش رفت ہوئی؟
خلیجی فریم ورک کے اندر شوریٰ کونسل جی سی سی ریاستوں کی شوریٰ، نمائندہ، قومی اور امت کونسلوں کے اسپیکرز کے آنے والے باقاعدہ اجلاس کی میزبانی کی تیاری کر رہی ہے۔ اس اجلاس کا مقصد مشترکہ علاقائی ترجیحات پر ہم آہنگی پیدا کرنا اور رکن ریاستوں کے درمیان قانون سازی کے روابط کو گہرا کرنا ہے۔ کیا خلیجی قانون ساز اداروں کے درمیان یہ ہم آہنگی آنے والے سالوں میں مزید ادارہ جاتی شکل اختیار کرے گی؟
دو طرفہ سطح پر کونسل نے اپنے ہم منصب قانون ساز اداروں کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنے کے لیے سات سرکاری پارلیمانی دورے کیے۔ اس کے علاوہ پارلیمانی دوستی کمیٹیوں نے 59 اجلاس منعقد کیے، جن کا مقصد رابطے کے ذرائع کو وسیع کرنا اور پالیسی نقطہ نظر میں ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔ کیا پارلیمانی دوستی کمیٹیاں عملی تعاون کے نئے دروازے کھول رہی ہیں؟
رپورٹ کے مطابق کونسل کی قیادت نے پارلیمانی اسپیکرز، نائبین اور بین الاقوامی سفارت کاروں کے 28 آنے والے وفود سے بھی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور قانون سازی کے شعبے میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ کیا آنے والے وفود کی تعداد کونسل کی بڑھتی ہوئی بین الاقوامی مصروفیت کا عکاس ہے؟
یہ تمام مصروفیات اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ شوریٰ کونسل مؤثر اور پائیدار بین الاقوامی شراکت داریوں کے لیے پرعزم ہے۔ کونسل پارلیمانی سفارت کاری کو سعودی خارجہ پالیسی کو تقویت دینے، باہمی تفہیم کے پل بنانے اور عالمی سطح پر مملکت کی قانون سازی کی موجودگی کو بلند کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔ کیا پارلیمانی سفارت کاری روایتی سفارتی ذرائع کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہو رہی ہے؟
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کثیرالجہتی مصروفیات کے دوران کونسل نے علاقائی اور بین الاقوامی پارلیمانی یونینوں کے پلیٹ فارمز پر مملکت کے موقف کی وضاحت کی اور قانون سازی کے تجربات کا تبادلہ کیا۔ ان کانفرنسوں اور اجلاسوں کی مجموعی تعداد 41 بتائی گئی ہے، جو نویں اجلاس کے دوسرے سال کے دوران مکمل ہوئیں۔ کیا ان فورمز پر سعودی قانون ساز تجربہ دیگر ممالک کے لیے نمونہ بن رہا ہے؟
عرب انٹر پارلیمانی یونین کی صدارت کے حوالے سے رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ کونسل نے یونین کی 39ویں کانفرنس کی میزبانی کی، جو خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی سرپرستی میں ہوئی۔ اس کانفرنس کا مقصد مشترکہ عرب پارلیمانی عمل کو آگے بڑھانا تھا۔ کیا عرب پارلیمانی تعاون کو ادارہ جاتی تسلسل مل سکا ہے؟
خلیجی تعاون کی سمت میں کونسل جی سی سی ریاستوں کی شوریٰ، نمائندہ، قومی اور امت کونسلوں کے اسپیکرز کے باقاعدہ اجلاس کی میزبانی کی تیاری کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق اس اجلاس کا مقصد مشترکہ علاقائی ترجیحات پر ہم آہنگی اور رکن ریاستوں کے درمیان قانون سازی کے روابط کو گہرا کرنا ہے۔ کیا خلیجی قانون ساز تعاون مشترکہ پالیسی سازی کی طرف بڑھ رہا ہے؟
دو طرفہ سطح پر سات سرکاری پارلیمانی دوروں کا ذکر رپورٹ کا حصہ ہے، جن کا مقصد ہم منصب قانون ساز اداروں کے ساتھ تعلقات کو مستحکم کرنا بتایا گیا۔ ان دوروں کے علاوہ پارلیمانی دوستی کمیٹیوں کے 59 اجلاس بھی منعقد ہوئے، جن میں رابطے کے ذرائع کو وسیع کرنے اور پالیسی نقطہ نظر میں ہم آہنگی پر توجہ دی گئی۔ کیا یہ کمیٹیاں دو طرفہ تعلقات میں فیصلہ ساز کردار ادا کر رہی ہیں؟
کونسل کی قیادت نے 28 آنے والے وفود سے ملاقاتیں کیں، جن میں پارلیمانی اسپیکرز، نائبین اور بین الاقوامی سفارت کار شامل تھے۔ رپورٹ کے مطابق ان ملاقاتوں کا مقصد رابطے کے ذرائع کو وسعت دینا اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کرنا تھا۔ کیا اس طرح کی ملاقاتیں سفارتی اور قانون سازی کے عمل کو قریب لا رہی ہیں؟
رپورٹ کے اختتامی حصے میں کہا گیا ہے کہ یہ مصروفیات شوریٰ کونسل کے مؤثر اور پائیدار بین الاقوامی شراکت داریوں کے عزم کی عکاسی کرتی ہیں۔ کونسل پارلیمانی سفارت کاری کے ذریعے سعودی خارجہ پالیسی کو تقویت دینے، باہمی تفہیم کے پل بنانے اور عالمی سطح پر مملکت کی قانون سازی کی موجودگی کو بلند کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ کیا پارلیمانی سفارت کاری کو مستقبل میں مزید وسعت دی جائے گی؟
واضح رہے کہ رپورٹ میں ان مصروفیات کے انعقاد کی مخصوص تاریخیں، مقامات، شرکاء کے نام یا ان اجلاسوں کے نتائج کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔ اسی طرح رپورٹ میں آنے والے خلیجی اجلاس کی تاریخ یا مقام کا ذکر بھی موجود نہیں۔ یہ تفصیلات سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کی رپورٹ میں شامل نہیں تھیں۔
شوریٰ کونسل نے نویں اجلاس کے دوسرے سال میں کتنی پارلیمانی سفارتی مصروفیات کیں؟ رپورٹ کے مطابق شوریٰ کونسل نے اپنے نویں اجلاس کے دوسرے سال کے دوران 135 پارلیمانی سفارتی مصروفیات انجام دیں۔ ان مصروفیات کا مقصد سعودی عرب کی بین الاقوامی حیثیت کو بروئے کار لاتے ہوئے دنیا بھر کے قانون ساز اداروں کے ساتھ شراکت داریوں کو مضبوط بنانا بتایا گیا۔ رپورٹ میں ان مصروفیات کی مخصوص تاریخیں یا مقامات نہیں دیے گئے۔
کثیرالجہتی سطح پر کونسل نے کتنی کانفرنسوں اور اجلاسوں میں شرکت کی؟ رپورٹ کے مطابق کونسل نے علاقائی اور بین الاقوامی پارلیمانی یونینوں کی جانب سے منعقدہ 41 کانفرنسوں اور اجلاسوں میں شرکت کی۔ ان اجلاسوں میں کونسل نے اہم عالمی مسائل پر مملکت کے موقف کا اظہار کیا اور قانون سازی کے تجربات کا تبادلہ کیا۔ رپورٹ میں ان کانفرنسوں کے انعقاد کی تاریخیں یا مقامات شامل نہیں ہیں۔
عرب انٹر پارلیمانی یونین کی صدارت کے حوالے سے کیا کامیابی بتائی گئی؟ رپورٹ کے مطابق اس سال کی نمایاں کامیابی عرب انٹر پارلیمانی یونین کی موجودہ صدارت کو فعال کرنا تھا۔ اس سلسلے میں کونسل نے خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کی سرپرستی میں یونین کی 39ویں کانفرنس کی میزبانی کی، جس کا مقصد مشترکہ عرب پارلیمانی عمل کو مضبوط بنانا تھا۔ رپورٹ میں کانفرنس کے نتائج کی تفصیل نہیں دی گئی۔
خلیجی سطح پر کونسل کس اجلاس کی میزبانی کی تیاری کر رہی ہے؟ رپورٹ کے مطابق کونسل جی سی سی ریاستوں کی شوریٰ، نمائندہ، قومی اور امت کونسلوں کے اسپیکرز کے آنے والے باقاعدہ اجلاس کی میزبانی کی تیاری کر رہی ہے۔ اس اجلاس کا مقصد مشترکہ علاقائی ترجیحات پر ہم آہنگی پیدا کرنا اور رکن ریاستوں کے درمیان قانون سازی کے روابط کو گہرا کرنا ہے۔ رپورٹ میں اجلاس کی تاریخ یا مقام نہیں دیا گیا۔
دو طرفہ سطح پر کونسل نے کتنے سرکاری دورے اور کمیٹی اجلاس کیے؟ رپورٹ کے مطابق کونسل نے ہم منصب قانون ساز اداروں کے ساتھ تعلقات مستحکم کرنے کے لیے سات سرکاری پارلیمانی دورے کیے۔ اس کے علاوہ پارلیمانی دوستی کمیٹیوں نے 59 اجلاس منعقد کیے، جن کا مقصد رابطے کے ذرائع وسیع کرنا اور پالیسی نقطہ نظر میں ہم آہنگی پیدا کرنا تھا۔ رپورٹ میں دوروں کے مقامات یا شرکاء کے نام شامل نہیں۔
کونسل کی قیادت نے کتنے آنے والے وفود سے ملاقاتیں کیں؟ رپورٹ کے مطابق کونسل کی قیادت نے پارلیمانی اسپیکرز، نائبین اور بین الاقوامی سفارت کاروں کے 28 آنے والے وفود سے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا اور قانون سازی کے شعبے میں تعاون کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ رپورٹ میں وفود کے نام یا ملاقاتوں کی تاریخیں نہیں دی گئیں۔





