Monday, November 2, 2026
سائنس

سعودی عرب ورلڈ اسپیس ویک 2025 میں 102 ممالک میں پہلے نمبر پر

سعودی عرب ورلڈ اسپیس ویک 2025 میں 102 ممالک میں پہلے نمبر پر

سعودی عرب ورلڈ اسپیس ویک 2025 میں شرکت کے لحاظ سے 102 ممالک میں دنیا بھر میں پہلے نمبر پر رہا، یہ درجہ ورلڈ اسپیس ویک ایسوسی ایشن کی رپورٹ کے مطابق ہے جو اقوام متحدہ کے ساتھ شراکت میں جاری کی گئی۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 30 ستمبر 2026 کو بیان کیا، یہ کامیابی وزارت تعلیم اور سعودی اسپیس ایجنسی کی قیادت میں ملک گیر کوششوں کا نتیجہ ہے، جو خلا کی سائنس میں عوامی شرکت کے بڑھتے ہوئے پیمانے اور سعودی عرب میں سائنس و ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو ظاہر کرتی ہے۔

سعودی شرکت تقریباً 36,000 اسکولوں تک پہنچی، جبکہ اضافی سرگرمیاں 31 یونیورسٹیوں، لائبریریوں اور عوامی مقامات پر منعقد کی گئیں۔ ان مربوط قومی کوششوں نے طلبہ، نوجوانوں اور برادریوں میں خلا کی سائنس کے بارے میں شعور بیدار کرنے میں مدد دی، اور ملک بھر میں ورلڈ اسپیس ویک کی شرکت کو مضبوط کیا۔

کیا 36,000 اسکولوں تک پہنچنے والی یہ مہم خطے میں خلا کی تعلیم کے لیے نیا معیار قائم کرتی ہے؟ رپورٹ کے مطابق یہ پیمانہ سعودی عرب کو 102 ممالک میں سرفہرست رکھتا ہے۔

سعودی عرب کی آگاہی مہم کو اقوام متحدہ کی کمیٹی برائے پرامن استعمال برائے بیرونی خلا (COPUOS) کی سائنسی و تکنیکی ذیلی کمیٹی کے 63ویں اجلاس میں بین الاقوامی پذیرائی بھی ملی، جو ویانا میں اقوام متحدہ کے دفتر میں منعقد ہوا۔

اجلاس کے دوران ورلڈ اسپیس ویک ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر الما اوکپالیفے نے سعودی عرب کی آگاہی مہم کو اجاگر کیا اور ملک کو بڑے پیمانے پر شرکت کے لیے ایک عالمی ماڈل قرار دیا۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ سعودی اسپیس ایجنسی اور وزارت تعلیم کے درمیان تعاون نے ملک گیر رسائی کو ممکن بنایا، اور یہ ایسا طریقہ پیش کیا جسے دیگر ممالک خلا کی آگاہی بڑھانے اور سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی (STEM) کی تعلیم کو مضبوط بنانے کے لیے اپنا سکتے ہیں۔

کیا وزارت تعلیم اور سعودی اسپیس ایجنسی کا یہ ماڈل دوسرے ممالک کے لیے قابلِ نقل ہے؟ ڈاکٹر الما اوکپالیفے کے مطابق یہ تعاون ہی وسیع قومی رسائی کی کلید تھا۔

مہم سعودی اسپیس ایجنسی کی ڈیجیٹل مواصلات اور عوامی آگاہی میں مہارت کا بھی عکاس ہے، جسے بین الاقوامی مارکوم ایوارڈز میں چار پلاٹینم ایوارڈز ملے، اس کے علاوہ دو ویگا ڈیجیٹل ایوارڈز — ایک پلاٹینم اور ایک گولڈ — جو ایجنسی کی ڈیجیٹل مصروفیت اور اختراعی تعلیمی و آگاہی مواد کے اعتراف میں دیے گئے۔

کیا ڈیجیٹل مواد اور ایوارڈز کے بغیر اتنی وسیع عوامی رسائی ممکن تھی؟ مارکوم ایوارڈز میں چار پلاٹینم اور ویگا ڈیجیٹل میں ایک پلاٹینم اور ایک گولڈ ایجنسی کی ڈیجیٹل حکمت عملی کی گواہی دیتے ہیں۔

ورلڈ اسپیس ویک ایسوسی ایشن کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی پہلی پوزیشن 102 ممالک کے درمیان سامنے آئی، جو اس عالمی مقابلے کا دائرہ کار ظاہر کرتی ہے۔ وزارت تعلیم اور سعودی اسپیس ایجنسی کی مشترکہ قیادت میں چلنے والی مہم نے اسکولوں کے ساتھ ساتھ 31 یونیورسٹیوں، لائبریریوں اور عوامی مقامات کو بھی شامل کیا، جس سے طلبہ، نوجوانوں اور عام برادریوں تک رسائی ہوئی۔

کیا خلا کی سائنس کو اسکولی نصاب سے جوڑنا ہی اس کامیابی کا اصل راز ہے؟ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آگاہی مہم کا مقصد طلبہ اور نوجوانوں میں خلا کی سائنس کے بارے میں شعور بیدار کرنا تھا۔

اقوام متحدہ کے دفتر ویانا میں COPUOS کی سائنسی و تکنیکی ذیلی کمیٹی کے 63ویں اجلاس میں سعودی مہم کو باضابطہ طور پر سراہا گیا۔ یہی وہ بین الاقوامی پلیٹ فارم تھا جہاں ورلڈ اسپیس ویک ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے سعودی عرب کو بڑے پیمانے پر شرکت کا عالمی ماڈل قرار دیا اور STEM تعلیم کو مضبوط بنانے کے لیے اسے قابلِ تقلید طریقہ بتایا۔

کیا بین الاقوامی سطح پر اس پذیرائی سے سعودی خلا کے شعبے کو مزید تعاون حاصل ہوگا؟ اجلاس میں سعودی مہم کو دوسرے ممالک کے لیے نمونہ قرار دیا گیا۔

سعودی اسپیس ایجنسی کی ڈیجیٹل اور تعلیمی سرگرمیوں کو مارکوم ایوارڈز میں چار پلاٹینم ایوارڈز اور ویگا ڈیجیٹل ایوارڈز میں ایک پلاٹینم اور ایک گولڈ سمیت مجموعی طور پر چھ اعزازات ملے۔ یہ ایوارڈز ایجنسی کے ڈیجیٹل رابطے اور اختراعی تعلیمی و آگاہی مواد کے اعتراف میں دیے گئے۔

کیا یہ ایوارڈز صرف ایجنسی کی کارکردگی کا اعتراف ہیں یا قومی مہم کی کامیابی کا ثبوت بھی؟ رپورٹ کے مطابق یہ مہم 36,000 اسکولوں اور 31 یونیورسٹیوں، لائبریریوں اور عوامی مقامات تک پہنچی۔

رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کی شرکت کا دائرہ اسکولوں سے آگے یونیورسٹیوں، لائبریریوں اور عوامی مقامات تک پھیلا، جس نے مختلف عمر کے گروہوں اور برادریوں کو خلا کی سائنس سے جوڑا۔ وزارت تعلیم اور سعودی اسپیس ایجنسی کی قیادت میں یہ مربوط قومی کوشش ملک بھر میں ورلڈ اسپیس ویک کی شرکت کو مضبوط بنانے کا ذریعہ بنی۔

کیا عوامی مقامات پر ہونے والی سرگرمیاں اسکولی مہم سے زیادہ اثر رکھتی ہیں؟ رپورٹ میں 31 یونیورسٹیوں، لائبریریوں اور عوامی مقامات پر اضافی سرگرمیوں کا ذکر ہے۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ورلڈ اسپیس ویک 2025 کے دوران سعودی عرب میں کتنی کل سرگرمیاں منعقد ہوئیں، نہ ہی اسکولوں، یونیورسٹیوں اور عوامی مقامات کے علاوہ کسی اور شعبے کے اعداد و شمار دیے گئے۔ رپورٹ میں ایوارڈز کی تاریخوں، مہم کے بجٹ یا شرکاء کی کل تعداد کا ذکر بھی موجود نہیں۔

سعودی عرب نے ورلڈ اسپیس ویک 2025 میں کون سی پوزیشن حاصل کی؟ ورلڈ اسپیس ویک ایسوسی ایشن کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب 102 ممالک میں شرکت کے لحاظ سے دنیا بھر میں پہلے نمبر پر رہا۔ یہ رپورٹ اقوام متحدہ کے ساتھ شراکت میں جاری کی گئی۔ کامیابی وزارت تعلیم اور سعودی اسپیس ایجنسی کی قیادت میں ملک گیر کوششوں کا نتیجہ قرار دی گئی۔ ایس پی اے نے یہ تفصیل 30 ستمبر 2026 کو شائع کی۔

سعودی شرکت کتنے اسکولوں اور اداروں تک پہنچی؟ سعودی شرکت تقریباً 36,000 اسکولوں تک پہنچی، جبکہ اضافی سرگرمیاں 31 یونیورسٹیوں، لائبریریوں اور عوامی مقامات پر منعقد کی گئیں۔ ان مربوط قومی کوششوں نے طلبہ، نوجوانوں اور برادریوں میں خلا کی سائنس کے بارے میں شعور بیدار کرنے میں مدد دی۔ رپورٹ میں شرکاء کی کل تعداد نہیں بتائی گئی۔

سعودی مہم کو بین الاقوامی سطح پر کہاں سراہا گیا؟ سعودی عرب کی آگاہی مہم کو ویانا میں اقوام متحدہ کے دفتر میں COPUOS کی سائنسی و تکنیکی ذیلی کمیٹی کے 63ویں اجلاس میں بین الاقوامی پذیرائی ملی۔ اجلاس میں ورلڈ اسپیس ویک ایسوسی ایشن کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر الما اوکپالیفے نے سعودی عرب کو بڑے پیمانے پر شرکت کا عالمی ماڈل قرار دیا اور STEM تعلیم کے لیے قابلِ تقلید طریقہ بتایا۔

سعودی اسپیس ایجنسی کو کون سے ایوارڈز ملے؟ سعودی اسپیس ایجنسی کو بین الاقوامی مارکوم ایوارڈز میں چار پلاٹینم ایوارڈز ملے، اس کے علاوہ دو ویگا ڈیجیٹل ایوارڈز — ایک پلاٹینم اور ایک گولڈ — دیے گئے۔ یہ اعزازات ایجنسی کی ڈیجیٹل مصروفیت اور اختراعی تعلیمی و آگاہی مواد کے اعتراف میں تھے۔ رپورٹ کے مطابق یہ مہم کی کامیابی کا بھی عکاس ہے۔

اس کامیابی میں وزارت تعلیم کا کیا کردار تھا؟ وزارت تعلیم اور سعودی اسپیس ایجنسی نے مل کر قومی مہم کی قیادت کی، جس کی بدولت شرکت تقریباً 36,000 اسکولوں تک پہنچی۔ ڈاکٹر الما اوکپالیفے کے مطابق ان دونوں اداروں کے تعاون نے ملک گیر رسائی ممکن بنائی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یہ ماڈل دیگر ممالک خلا کی آگاہی اور STEM تعلیم کے لیے اپنا سکتے ہیں۔