Monday, November 2, 2026
سعودی خبریں

جی اے ایس ٹی اے ٹی نے او آئی سی شماریاتی کمیشن کا 15واں اجلاس جدہ میں منعقد کیا

جی اے ایس ٹی اے ٹی نے او آئی سی شماریاتی کمیشن کا 15واں اجلاس جدہ میں منعقد کیا

جدہ میں 29 اور 30 ستمبر 2026 کو او آئی سی شماریاتی کمیشن (OIC-StatCom) کا 15واں اجلاس منعقد ہوا، جس کی میزبانی جنرل اتھارٹی فار سٹیٹسٹکس (GASTAT) نے کی۔ اجلاس میں رکن ممالک کی شماریاتی ایجنسیوں کے سربراہان اور نمائندگان کے ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، اجلاس میں رکن ممالک میں شماریاتی کام کو آگے بڑھانے سے متعلق متعدد موضوعات پر بات کی گئی۔ کلیدی ایجنڈا آئٹمز میں ڈیجیٹل نظاموں کے ذریعے آبادی اور رہائش کے اعداد و شمار کو جدید بنانا، سسٹم آف نیشنل اکاؤنٹس (SNA) 2025 کا نفاذ، اور پائیدار ترقی کے اہداف (SDG) کے اشاریوں کی نگرانی شامل تھی۔

اجلاس میں رکن ممالک کے سرکاری اعداد و شمار میں جدید ٹیکنالوجیز اور مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال کے تجربات کا بھی جائزہ لیا گیا، اور گزشتہ اجلاس کے بعد کی گئی سرگرمیوں پر بھی غور کیا گیا۔ کیا رکن ممالک کے شماریاتی نظام ان نئے تقاضوں کو پورا کرنے کے لیے تیار ہیں؟

افتتاحی اجلاس میں جی اے ایس ٹی اے ٹی کے صدر فہد الدوسری نے مملکت کا خطاب پیش کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس اجلاس کی میزبانی شماریاتی کام کو آگے بڑھانے، بدلتے رجحانات کے ساتھ ہم آہنگ رہنے میں اس کے کردار کو بہتر بنانے، اور بڑھتی ہوئی ڈیٹا کی طلب کو پورا کرنے کے لیے مملکت کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔

انہوں نے سرکاری اعداد و شمار کی ترقی کے لیے جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی اور کہا کہ قابل اعتماد ڈیٹا باخبر فیصلہ سازی میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ کیا قابل اعتماد اعداد و شمار کے بغیر کوئی بھی پالیسی فیصلہ مضبوط بنیادوں پر کھڑا ہو سکتا ہے؟

جی اے ایس ٹی اے ٹی نے اجلاس کے دوران مملکت کی جانب سے نومبر 2026 میں ریاض میں چھٹے اقوام متحدہ ورلڈ ڈیٹا فورم کی میزبانی کی تیاریوں کا بھی خاکہ پیش کیا۔ اس کے ساتھ “روڈ ٹو ریاض” کے تحت کی جانے والی سرگرمیوں کا ذکر کیا گیا، جن میں ورکشاپس اور پینل مباحثے شامل ہیں جو فورم سے قبل شراکت داری کو فروغ دینے اور علم و مہارت کے تبادلے کو یقینی بنانے کے لیے ترتیب دیے گئے ہیں۔

اجلاس کا ایجنڈا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ رکن ممالک ڈیجیٹل نظاموں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ آبادی اور رہائش کے اعداد و شمار کو جدید بنانا ایک ایسا شعبہ ہے جہاں روایتی طریقوں کی جگہ الیکٹرانک ریکارڈ اور ڈیجیٹل رجسٹریشن لے رہی ہے۔ کیا اس تبدیلی سے رکن ممالک کے درمیان اعداد و شمار کا موازنہ آسان ہو جائے گا؟

سسٹم آف نیشنل اکاؤنٹس 2025 کا نفاذ ایک اور اہم نکتہ تھا۔ یہ نظام قومی معیشتوں کے حساب کتاب کے لیے بین الاقوامی فریم ورک فراہم کرتا ہے، اور اس کے اطلاق سے رکن ممالک کے جی ڈی پی اور معاشی اشاریوں کے حساب کتاب میں یکسانیت آ سکتی ہے۔ کیا معاشی پالیسی ساز اس یکسانیت سے بہتر فیصلے کر سکیں گے؟

پائیدار ترقی کے اہداف کے اشاریوں کی نگرانی بھی اجلاس کے مرکزی موضوعات میں شامل تھی۔ ان اشاریوں کی پیمائش کے لیے درست اور بروقت ڈیٹا کی ضرورت ہوتی ہے، اور رکن ممالک کی شماریاتی ایجنسیوں کو اس سلسلے میں مسلسل کوششیں کرنی پڑتی ہیں۔ کیا 2030 کے ایجنڈے کے اہداف کی پیش رفت کا درست اندازہ لگانا ممکن ہے؟

اجلاس میں مصنوعی ذہانت کے سرکاری اعداد و شمار میں استعمال کے تجربات کا جائزہ لیا گیا۔ یہ ایک ابھرتا ہوا شعبہ ہے جہاں ڈیٹا کی صفائی، تجزیہ اور پیش گوئی کے لیے خودکار نظام استعمال کیے جا رہے ہیں۔ کیا مصنوعی ذہانت روایتی شماریاتی عمل کی جگہ لے سکتی ہے یا یہ صرف معاون کردار ادا کرے گی؟

گزشتہ اجلاس کے بعد کی گئی سرگرمیوں کا جائزہ بھی ایجنڈے کا حصہ تھا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کمیشن مسلسل عمل کا حصہ ہے اور رکن ممالک کی جانب سے کیے گئے وعدوں کی پیش رفت کی نگرانی کی جاتی ہے۔ کیا اس طرح کی نگرانی سے رکن ممالک کے درمیان جوابدہی کا نظام مضبوط ہوتا ہے؟

جی اے ایس ٹی اے ٹی کے صدر نے اپنے خطاب میں جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سرکاری اعداد و شمار کی ترقی اور قابل اعتماد ڈیٹا کی فراہمی باخبر فیصلہ سازی کی بنیاد ہے۔ یہ نقطہ نظر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ڈیٹا کو محض رپورٹنگ کا ذریعہ نہیں بلکہ پالیسی سازی کا اوزار سمجھا جا رہا ہے۔ کیا ڈیٹا پر مبنی حکمرانی کا ماڈل رکن ممالک میں عام ہو رہا ہے؟

ریاض میں نومبر 2026 میں ہونے والا چھٹا اقوام متحدہ ورلڈ ڈیٹا فورم اس سلسلے کا اگلا بڑا موقع ہے۔ “روڈ ٹو ریاض” کے تحت ورکشاپس اور پینل مباحثے فورم سے قبل شراکت داری اور علم کے تبادلے کو فروغ دینے کے لیے منعقد کیے جا رہے ہیں۔ کیا یہ تیاریاں فورم کے نتائج کو زیادہ مؤثر بنائیں گی؟

اجلاس کی میزبانی جدہ میں ہوئی، جو مملکت کا ایک اہم شماریاتی اور اقتصادی مرکز ہے۔ رکن ممالک کی شماریاتی ایجنسیوں کے سربراہان اور نمائندگان کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ او آئی سی کے فریم ورک میں شماریاتی تعاون کو اہمیت دی جاتی ہے۔ کیا اس طرح کے اجلاسوں سے رکن ممالک کے درمیان تکنیکی تعاون میں اضافہ ہوتا ہے؟

اجلاس کے ایجنڈے میں شامل موضوعات کا دائرہ وسیع ہے، جو آبادی کے اعداد و شمار سے لے کر قومی اکاؤنٹس اور پائیدار ترقی کے اہداف تک پھیلا ہوا ہے۔ یہ تنوع اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ شماریاتی تعاون صرف ایک شعبے تک محدود نہیں بلکہ کئی پالیسی شعبوں کو متاثر کرتا ہے۔ کیا رکن ممالک کے درمیان ترجیحات کا تعین آسان ہے؟

ایس پی اے کی رپورٹ میں اجلاس کے شرکاء کی تعداد، فیصلوں کی تفصیلات، یا آئندہ اجلاس کے شیڈول کے بارے میں معلومات نہیں دی گئیں۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ اجلاس کے اختتام پر کوئی قرارداد یا اعلامیہ جاری ہوا یا نہیں۔

او آئی سی شماریاتی کمیشن کا 15واں اجلاس کب اور کہاں ہوا؟ اجلاس 29 اور 30 ستمبر 2026 کو جدہ میں منعقد ہوا اور اس کی میزبانی جنرل اتھارٹی فار سٹیٹسٹکس (GASTAT) نے کی۔ اجلاس میں رکن ممالک کی شماریاتی ایجنسیوں کے سربراہان اور نمائندگان کے ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ ایس پی اے کے مطابق یہ کمیشن کا 15واں اجلاس تھا۔

اجلاس کے کلیدی ایجنڈا آئٹمز کون سے تھے؟ اجلاس میں ڈیجیٹل نظاموں کے ذریعے آبادی اور رہائش کے اعداد و شمار کو جدید بنانا، سسٹم آف نیشنل اکاؤنٹس (SNA) 2025 کا نفاذ، اور پائیدار ترقی کے اہداف (SDG) کے اشاریوں کی نگرانی شامل تھی۔ اس کے علاوہ رکن ممالک کے جدید ٹیکنالوجیز اور مصنوعی ذہانت کے استعمال کے تجربات اور گزشتہ اجلاس کے بعد کی سرگرمیوں کا جائزہ بھی لیا گیا۔

جی اے ایس ٹی اے ٹی کے صدر نے افتتاحی اجلاس میں کیا کہا؟ جی اے ایس ٹی اے ٹی کے صدر فہد الدوسری نے مملکت کا خطاب پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس اجلاس کی میزبانی شماریاتی کام کو آگے بڑھانے، بدلتے رجحانات کے ساتھ ہم آہنگ رہنے میں اس کے کردار کو بہتر بنانے، اور بڑھتی ہوئی ڈیٹا کی طلب کو پورا کرنے کے لیے مملکت کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔ انہوں نے جدید ٹیکنالوجیز کے استعمال اور قابل اعتماد ڈیٹا کی فراہمی پر بھی زور دیا۔

ریاض میں اقوام متحدہ ورلڈ ڈیٹا فورم کب ہوگا؟ جی اے ایس ٹی اے ٹی نے اجلاس کے دوران مملکت کی جانب سے نومبر 2026 میں ریاض میں چھٹے اقوام متحدہ ورلڈ ڈیٹا فورم کی میزبانی کی تیاریوں کا خاکہ پیش کیا۔ اس کے ساتھ “روڈ ٹو ریاض” کے تحت ورکشاپس اور پینل مباحثے منعقد کیے جا رہے ہیں تاکہ فورم سے قبل شراکت داری اور علم و مہارت کے تبادلے کو فروغ دیا جا سکے۔

اجلاس میں مصنوعی ذہانت کے حوالے سے کیا زیر بحث آیا؟ اجلاس میں رکن ممالک کے سرکاری اعداد و شمار میں جدید ٹیکنالوجیز اور مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال کے تجربات کا جائزہ لیا گیا۔ یہ موضوع اس ابھرتے ہوئے رجحان کی عکاسی کرتا ہے جس میں ڈیٹا کی صفائی، تجزیہ اور پیش گوئی کے لیے خودکار نظام استعمال کیے جا رہے ہیں۔ ایس پی اے نے اس حوالے سے کسی مخصوص ملک کا تجربہ تفصیل سے بیان نہیں کیا۔

ایس پی اے کی رپورٹ میں کون سی معلومات شامل نہیں تھیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں اجلاس کے شرکاء کی تعداد، فیصلوں کی تفصیلات، یا آئندہ اجلاس کے شیڈول کے بارے میں معلومات نہیں دی گئیں۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ اجلاس کے اختتام پر کوئی قرارداد یا اعلامیہ جاری ہوا یا نہیں۔ اس لیے ان نکات پر کوئی حتمی بات نہیں کی جا سکتی۔