قاہرہ میں عرب لیگ کے جنرل سیکرٹریٹ کے صدر دفتر میں منعقدہ پانچویں عرب فورم برائے ماحولیات میں سعودی عرب نے مملکت کی جانب سے چراگاہوں کے پائیدار تحفظ اور زمین کی تنزلی روکنے کی کوششیں پیش کیں۔ فورم کا مرکزی موضوع پائیدار چراگاہیں اور بہتر لچک تھا، اور یہ عرب وزرائے ماحولیات کی کونسل کے 37ویں اجلاس سے قبل منعقد ہوا۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 30 ستمبر 2026 کو بیان کیا، سعودی عرب کی نمائندگی وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت نے کی۔ فورم میں اعلیٰ سطحی پینل مباحثے کا انعقاد ہوا جس کا عنوان کمزوری سے لچک کی طرف منتقلی تھا، جس میں چراگاہوں کی بحالی اور اس منتقلی کی مالی معاونت پر توجہ مرکوز کی گئی۔
وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت کے نائب وزیر برائے ماحولیات اسامہ فقیہ نے اس پینل میں سعودی عرب کی زمین کی تنزلی روکنے کی کوششوں کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے قومی، علاقائی اور بین الاقوامی سطحوں پر زمین کی تنزلی روکنے اور تنزلی زدہ زمینوں بشمول چراگاہوں کی بحالی کو ترجیح دی ہے۔
کیا چراگاہیں صرف ماحولیاتی نظام کا ایک حصہ ہیں، یا ان کا تعلق براہ راست کسی ملک کی خوراکی سلامتی اور دیہی معیشت سے بھی ہے؟ فقیہ نے اس سوال کا عملی جواب دیتے ہوئے مملکت کی کوششوں کا ذکر مشرق وسطیٰ گرین انیشیٹو (ایم جی آئی) اور جی 20 کے ذریعے کیا، نیز اقوام متحدہ کے کنونشن برائے صحرا بندی سے نمٹنے (یو این سی سی ڈی) کے کوپ 16 کے سولہویں اجلاس کی صدارت کا بھی حوالہ دیا، جس کے نتیجے میں چراگاہوں سے متعلق اہم فیصلے اور متعدد عملی اقدامات سامنے آئے۔
سعودی عرب کی صدارت میں کوپ 16 کے نتائج نے چراگاہوں کے موضوع کو بین الاقوامی ایجنڈے پر نمایاں جگہ دی۔ فقیہ کے مطابق مملکت میں 2,000 سے زائد پودوں کی اقسام پائی جاتی ہیں، جن میں سے بہت سی چراگاہوں میں موجود ہیں، اور چراگاہیں سعودی عرب کے تقریباً 70 فیصد رقبے پر پھیلی ہوئی ہیں۔
یہ اعداد و شمار خود بتاتے ہیں کہ چراگاہوں کا تحفظ محض ماحولیاتی مشق نہیں بلکہ قومی سطح کا معاملہ ہے۔ کیا کوئی ملک اپنے 70 فیصد رقبے کو نظر انداز کرتے ہوئے پائیدار ترقی کے اہداف حاصل کر سکتا ہے؟ فقیہ نے واضح کیا کہ چراگاہیں مٹی کو مستحکم کرنے، جنگلی حیات کی معاونت، زیر زمین پانی کی بحالی اور گرد و غبار کے طوفانوں کو کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
انہوں نے زیادہ چرائی اور قبل از وقت چرائی کے ماحولیاتی، سماجی اور معاشی اثرات سے بھی خبردار کیا۔ یہ تنبیہ اس لیے اہم ہے کہ چراگاہوں پر حد سے زیادہ دباؤ نہ صرف مٹی کی زرخیزی کو متاثر کرتا ہے بلکہ ان علاقوں میں رہنے والی آبادیوں کے ذریعہ معاش پر بھی اثر ڈالتا ہے۔
کیا چرائی کے روایتی طریقوں اور جدید پائیدار انتظام کے درمیان توازن ممکن ہے؟ فورم میں یہی سوال کمزوری سے لچک کی طرف منتقلی کے مباحثے کا مرکز رہا۔ فقیہ نے اس موقع پر چراگاہوں کی بحالی اور اس منتقلی کی مالی معاونت پر روشنی ڈالی، جو عرب خطے کے لیے مشترکہ چیلنج ہے۔
عرب فورم برائے ماحولیات کا پانچواں اجلاس قاہرہ میں عرب لیگ کے جنرل سیکرٹریٹ کے صدر دفتر میں ہوا، اور اس کا انعقاد عرب وزرائے ماحولیات کی کونسل کے 37ویں اجلاس سے قبل کیا گیا۔ اس ترتیب سے ظاہر ہوتا ہے کہ چراگاہوں کا موضوع عرب ممالک کی مشترکہ ماحولیاتی حکمت عملی میں کس مقام پر ہے۔
سعودی عرب کی شرکت وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت کے ذریعے ہوئی، جس نے مملکت کی قومی اور بین الاقوامی سطح کی کوششوں کو ایک پلیٹ فارم پر پیش کیا۔ کیا علاقائی فورمز میں اس طرح کی شرکت سے مشترکہ پالیسی سازی میں تیزی آ سکتی ہے؟ فقیہ کی گفتگو میں مشرق وسطیٰ گرین انیشیٹو کا ذکر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مملکت علاقائی تعاون کو قومی کوششوں کا لازم حصہ سمجھتی ہے۔
جی 20 کے پلیٹ فارم کا تذکرہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے، جہاں سعودی عرب نے زمین کی تنزلی کے خلاف بین الاقوامی سطح پر آواز اٹھائی۔ یو این سی سی ڈی کے کوپ 16 کی صدارت کے دوران چراگاہوں سے متعلق فیصلے اور عملی اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ مملکت نے اس موضوع کو عالمی سطح پر آگے بڑھایا۔
کیا بین الاقوامی فیصلے خود بخود زمین پر تبدیلی لا دیتے ہیں، یا انہیں مقامی سطح پر نافذ کرنے کے لیے الگ محنت درکار ہوتی ہے؟ فقیہ کے بیان میں قومی، علاقائی اور بین الاقوامی سطحوں کا ذکر اسی کثیرالجہتی حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے۔
مملکت میں پودوں کی 2,000 سے زائد اقسام کی موجودگی حیاتیاتی تنوع کے لحاظ سے اہم ہے، اور ان میں سے بہت سی اقسام چراگاہوں میں پائی جاتی ہیں۔ چراگاہوں کا 70 فیصد رقبے پر پھیلاؤ بتاتا ہے کہ ان کا انتظام سعودی عرب کے وسیع جغرافیے کے بڑے حصے سے جڑا ہوا ہے۔
مٹی کو مستحکم کرنا، جنگلی حیات کی معاونت، زیر زمین پانی کی بحالی اور گرد و غبار کے طوفانوں میں کمی، یہ چاروں فوائد ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ کیا گرد و غبار کے طوفانوں میں کمی کا اثر شہری مراکز کی صحت عامہ پر بھی پڑتا ہے؟ فقیہ کے بیان میں ان فوائد کا تذکرہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ چراگاہوں کی صحت کا تعلق براہ راست انسانی زندگی کے معیار سے ہے۔
زیادہ چرائی اور قبل از وقت چرائی کے ماحولیاتی، سماجی اور معاشی اثرات پر انتباہ اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔ ماحولیاتی پہلو میں مٹی اور پودوں کی تنزلی شامل ہے، سماجی پہلو میں چراگاہوں پر انحصار کرنے والی برادریوں کا ذریعہ معاش متاثر ہوتا ہے، اور معاشی پہلو میں زرعی پیداوار اور متعلقہ شعبوں پر اثرات شامل ہیں۔
کیا چراگاہوں کی بحالی میں سرمایہ کاری طویل مدتی منافع کا معاملہ ہے؟ فورم میں مالی معاونت کے موضوع پر الگ توجہ اس لیے دی گئی کہ بحالی کے منصوبوں کو وسائل کی ضرورت ہوتی ہے۔ فقیہ نے اس پینل میں چراگاہوں کی بحالی اور اس منتقلی کی مالی معاونت پر بات کی، جو عرب خطے کے مشترکہ مفاد کا معاملہ ہے۔
سعودی عرب کی کوششیں مشرق وسطیٰ گرین انیشیٹو کے ذریعے علاقائی سطح پر پھیلی ہوئی ہیں، جبکہ جی 20 کے ذریعے عالمی سطح پر زمین کی تنزلی کے خلاف تعاون کو فروغ دیا گیا۔ کوپ 16 کی صدارت کے دوران چراگاہوں سے متعلق فیصلے اور عملی اقدامات اس سلسلے کی اہم کڑیاں ہیں۔
کیا عرب ممالک کے مشترکہ چیلنجوں کا حل مشترکہ پالیسیوں میں ہے؟ پانچواں عرب فورم برائے ماحولیات اور اس کے بعد عرب وزرائے ماحولیات کی کونسل کا 37واں اجلاس اسی سمت میں ایک قدم ہے۔ فورم کا موضوع پائیدار چراگاہیں اور بہتر لچک تھا، جو خطے کے ماحولیاتی نظام کی حقیقتوں سے ہم آہنگ ہے۔
فقیہ کی گفتگو میں یہ نکتہ نمایاں تھا کہ زمین کی تنزلی روکنے اور تنزلی زدہ زمینوں کی بحالی کو قومی، علاقائی اور بین الاقوامی سطحوں پر ترجیح دی گئی ہے۔ یہ ترجیح صرف بیان تک محدود نہیں بلکہ مختلف پلیٹ فارمز پر عملی اقدامات کی صورت میں سامنے آئی ہے۔
رپورٹ میں چراگاہوں کی بحالی کے لیے مختص رقم، اہداف کی تکمیل کی تاریخ یا مخصوص منصوبوں کی تفصیل نہیں دی گئی۔ اسی طرح فورم میں شریک دیگر عرب ممالک کے بیانات یا ان کے مخصوص اقدامات کا ذکر بھی موجود نہیں۔
سعودی عرب کے چراگاہوں کے شعبے سے جڑے اعداد و شمار میں 2,000 سے زائد پودوں کی اقسام اور 70 فیصد رقبہ شامل ہیں، جو فقیہ کے بیان کا حصہ تھے۔ زیادہ چرائی اور قبل از وقت چرائی کے اثرات پر انتباہ بھی انہی کے بیان سے اخذ کیا گیا ہے۔
کیا چراگاہوں کے تحفظ کے لیے عوامی شعور بیدار کرنا پالیسی سازی سے کم اہم ہے؟ فورم میں اعلیٰ سطحی پینل مباحثے کا انعقاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ فیصلہ ساز سطح پر اس موضوع کو سنجیدگی سے لیا جا رہا ہے، تاہم رپورٹ میں عوامی آگاہی مہمات کا ذکر نہیں۔
مملکت کی جانب سے وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت کی نمائندگی اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ چراگاہوں کا معاملہ ایک ہی وزارت کے دائرہ کار میں آتا ہے، جہاں ماحولیات، پانی اور زراعت کے پہلو باہم جڑے ہوئے ہیں۔ چراگاہوں کی بحالی کا تعلق ان تینوں شعبوں سے ہے۔
زیر زمین پانی کی بحالی کا پہلو خاص طور پر اہم ہے، کیونکہ چراگاہیں بارش کے پانی کو زمین میں جذب کرنے میں کردار ادا کرتی ہیں۔ اسی طرح مٹی کا استحکام زرعی زمینوں کو کٹاؤ سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔
جنگلی حیات کی معاونت کا مطلب یہ ہے کہ چراگاہیں کئی جانداروں کے لیے مسکن اور خوراک کا ذریعہ ہیں۔ جب چراگاہیں تنزلی کا شکار ہوتی ہیں تو اس کا اثر حیاتیاتی تنوع پر بھی پڑتا ہے۔
گرد و غبار کے طوفانوں میں کمی کا تعلق براہ راست انسانی صحت اور شہری ماحول سے ہے۔ چراگاہوں کی پودوں کی تہہ مٹی کو ہوا کے ساتھ اڑنے سے روکتی ہے، جس سے طوفانوں کی شدت کم ہوتی ہے۔
کیا چراگاہوں کی بحالی کے منصوبے طویل مدتی نگرانی کے بغیر کامیاب ہو سکتے ہیں؟ فقیہ کے بیان میں عملی اقدامات کا ذکر موجود ہے، تاہم رپورٹ میں نگرانی کے طریقہ کار یا پیمائش کے اشاریوں کی تفصیل نہیں دی گئی۔
عرب فورم برائے ماحولیات کا انعقاد قاہرہ میں عرب لیگ کے جنرل سیکرٹریٹ کے صدر دفتر میں ہوا، جو اس بات کی علامت ہے کہ ماحولیاتی مسائل عرب مشترکہ ایجنڈے کا حصہ ہیں۔ سعودی عرب کی شرکت اس مشترکہ کوشش میں مملکت کے کردار کو نمایاں کرتی ہے۔
فقیہ نے اپنے بیان میں قومی سطح کی کوششوں کے ساتھ علاقائی اور بین الاقوامی سطح کا ذکر کیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مملکت کثیرالجہتی تعاون کو اہمیت دیتی ہے۔ مشرق وسطیٰ گرین انیشیٹو، جی 20 اور کوپ 16 کی صدارت، یہ تینوں پلیٹ فارمز اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔
رپورٹ کے مطابق کوپ 16 کے نتائج میں چراگاہوں سے متعلق اہم فیصلے اور متعدد عملی اقدامات شامل تھے۔ یہ فیصلے بین الاقوامی سطح پر چراگاہوں کے موضوع کو آگے بڑھانے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں۔
کیا بین الاقوامی فیصلوں کو قومی قانون سازی میں ڈھالنا ضروری ہے؟ رپورٹ میں اس پہلو پر تفصیل موجود نہیں، تاہم فقیہ کے بیان میں قومی، علاقائی اور بین الاقوامی سطحوں کے باہمی تعلق کی طرف اشارہ ضرور ملتا ہے۔
مملکت میں چراگاہوں کا 70 فیصد رقبے پر پھیلاؤ ان کے تحفظ کو ایک وسیع جغرافیائی چیلنج بناتا ہے۔ اس رقبے پر پائیدار انتظام کے لیے نہ صرف پالیسی بلکہ مقامی سطح پر عمل درآمد بھی ضروری ہے۔
2,000 سے زائد پودوں کی اقسام کی موجودگی حیاتیاتی تنوع کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ ان اقسام میں سے بہت سی چراگاہوں میں پائی جاتی ہیں، جس سے چراگاہوں کی بحالی کا تعلق براہ راست پودوں کے تحفظ سے جڑ جاتا ہے۔
زیادہ چرائی اور قبل از وقت چرائی کے اثرات پر انتباہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ چراگاہوں کے انتظام میں انسانی سرگرمیوں کا کردار فیصلہ کن ہے۔ پائیدار چرائی کے طریقے اپنانا اس چیلنج سے نمٹنے کا ایک راستہ ہو سکتا ہے۔
کیا روایتی چرائی کے طریقوں کو مکمل طور پر ترک کرنا ممکن ہے؟ فقیہ کے بیان میں اس سوال کا براہ راست جواب موجود نہیں، تاہم انہوں نے زیادہ چرائی اور قبل از وقت چرائی کے منفی اثرات پر واضح انتباہ دیا۔
سعودی عرب کی کوششیں زمین کی تنزلی روکنے تک محدود نہیں بلکہ تنزلی زدہ زمینوں کی بحالی پر بھی مرکوز ہیں۔ چراگاہوں کو اس بحالی کے عمل میں شامل کرنا اس بات کو ظاہر کرتا ہے کہ مملکت اس مسئلے کو جامع انداز میں دیکھ رہی ہے۔
فورم میں کمزوری سے لچک کی طرف منتقلی کے موضوع پر اعلیٰ سطحی پینل مباحثہ ہوا، جس میں چراگاہوں کی بحالی اور مالی معاونت پر توجہ دی گئی۔ یہ موضوع اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ چراگاہوں کی بحالی کو مالی وسائل سے جوڑے بغیر ممکن نہیں۔
رپورٹ میں مالی معاونت کے ذرائع، فنڈنگ کے حجم یا شراکت داروں کی تفصیل نہیں دی گئی۔ اسی طرح فورم میں پیش کیے گئے دیگر ممالک کے تجربات کا ذکر بھی موجود نہیں۔
سعودی عرب کی شرکت وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت کے ذریعے ہوئی، اور نائب وزیر برائے ماحولیات اسامہ فقیہ نے مملکت کی نمائندگی کرتے ہوئے پینل میں بات کی۔ ان کے بیان میں مملکت کی قومی اور بین الاقوامی کوششوں کا جامع خاکہ پیش کیا گیا۔
عرب وزرائے ماحولیات کی کونسل کا 37واں اجلاس فورم کے بعد منعقد ہوا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ فورم میں ہونے والے مباحثے وزارتی سطح کے فیصلوں کی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ چراگاہوں کا موضوع اس اجلاس کے ایجنڈے میں شامل رہا۔
کیا علاقائی فورمز کے نتائج قومی پالیسیوں پر براہ راست اثر ڈالتے ہیں؟ رپورٹ میں اس بارے میں تفصیل موجود نہیں، تاہم سعودی عرب کی شرکت اور اس کے بیان کا مواد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مملکت اس پلیٹ فارم کو اہمیت دیتی ہے۔
مملکت کی جانب سے مشرق وسطیٰ گرین انیشیٹو کے ذریعے علاقائی سطح پر زمین کی بحالی کی کوششیں کی جا رہی ہیں، جبکہ جی 20 کے ذریعے عالمی سطح پر تعاون کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ کوپ 16 کی صدارت کے دوران چراگاہوں سے متعلق فیصلے اس سلسلے کی اہم کڑی ہیں۔
فقیہ کے بیان میں چراگاہوں کے چار اہم فوائد کا ذکر تھا: مٹی کا استحکام، جنگلی حیات کی معاونت، زیر زمین پانی کی بحالی اور گرد و غبار کے طوفانوں میں کمی۔ یہ فوائد چراگاہوں کی ماحولیاتی اہمیت کو واضح کرتے ہیں۔
رپورٹ میں چراگاہوں کی بحالی کے لیے کیے گئے مخصوص منصوبوں، ان کی لاگت یا ان کے نتائج کی تفصیل موجود نہیں۔ اسی طرح فورم میں شریک دیگر ممالک کے موقف کا ذکر بھی نہیں کیا گیا۔
سعودی عرب میں چراگاہوں کا 70 فیصد رقبے پر پھیلاؤ اور 2,000 سے زائد پودوں کی اقسام، یہ دونوں اعداد و شمار فقیہ کے بیان کا حصہ تھے۔ ان اعداد و شمار سے مملکت میں چراگاہوں کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔
کیا چراگاہوں کی بحالی کا تعلق موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کی کوششوں سے بھی ہے؟ فقیہ کے بیان میں گرد و غبار کے طوفانوں میں کمی اور زیر زمین پانی کی بحالی کا ذکر اس تعلق کی طرف اشارہ کرتا ہے، تاہم رپورٹ میں اس پہلو پر تفصیلی روشنی نہیں ڈالی گئی۔
عرب فورم برائے ماحولیات کا پانچواں اجلاس قاہرہ میں منعقد ہوا، اور اس کا موضوع پائیدار چراگاہیں اور بہتر لچک تھا۔ سعودی عرب کی شرکت وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت کے ذریعے ہوئی، جس نے مملکت کی کوششوں کو علاقائی سطح پر پیش کیا۔
فقیہ نے زمین کی تنزلی روکنے اور تنزلی زدہ زمینوں کی بحالی کو مملکت کی ترجیح قرار دیا، اور اس سلسلے میں قومی، علاقائی اور بین الاقوامی سطح کی کوششوں کا ذکر کیا۔ زیادہ چرائی اور قبل از وقت چرائی کے ماحولیاتی، سماجی اور معاشی اثرات پر انتباہ بھی ان کے بیان کا حصہ تھا۔
رپورٹ میں فورم کے شرکاء کی مکمل فہرست، دیگر ممالک کے بیانات یا چراگاہوں کی بحالی سے متعلق مخصوص اہداف کا ذکر نہیں کیا گیا۔ یہ پہلو سعودی عرب کی پیش کردہ کوششوں کے تناظر میں مزید تفصیل کا متقاضی ہے۔
سعودی عرب نے عرب فورم برائے ماحولیات میں کس کی نمائندگی کی؟ سعودی عرب کی نمائندگی وزارت ماحولیات، پانی اور زراعت نے کی، اور وزارت کے نائب وزیر برائے ماحولیات اسامہ فقیہ نے اعلیٰ سطحی پینل مباحثے میں مملکت کی کوششیں پیش کیں۔ پینل کا موضوع کمزوری سے لچک کی طرف منتقلی تھا، جس میں چراگاہوں کی بحالی اور اس منتقلی کی مالی معاونت پر توجہ دی گئی۔ فورم قاہرہ میں عرب لیگ کے جنرل سیکرٹریٹ کے صدر دفتر میں منعقد ہوا۔
سعودی عرب میں چراگاہوں کا رقبہ اور پودوں کی اقسام کتنی ہیں؟ فقیہ کے مطابق سعودی عرب میں 2,000 سے زائد پودوں کی اقسام پائی جاتی ہیں، جن میں سے بہت سی چراگاہوں میں موجود ہیں۔ چراگاہیں مملکت کے تقریباً 70 فیصد رقبے پر پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ چراگاہوں کا انتظام سعودی عرب کے وسیع جغرافیے کے بڑے حصے سے جڑا ہوا ہے۔
چراگاہیں کون سے ماحولیاتی فوائد فراہم کرتی ہیں؟ فقیہ نے چار اہم فوائد کا ذکر کیا: چراگاہیں مٹی کو مستحکم کرتی ہیں، جنگلی حیات کی معاونت کرتی ہیں، زیر زمین پانی کی بحالی میں مدد دیتی ہیں اور گرد و غبار کے طوفانوں کو کم کرتی ہیں۔ یہ فوائد ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں اور انسانی صحت اور ماحول پر براہ راست اثر ڈالتے ہیں۔
زیادہ چرائی اور قبل از وقت چرائی کے کیا اثرات ہیں؟ فقیہ نے زیادہ چرائی اور قبل از وقت چرائی کے ماحولیاتی، سماجی اور معاشی اثرات سے خبردار کیا۔ ماحولیاتی پہلو میں مٹی اور پودوں کی تنزلی شامل ہے، سماجی پہلو میں چراگاہوں پر انحصار کرنے والی برادریوں کا ذریعہ معاش متاثر ہوتا ہے، اور معاشی پہلو میں زرعی پیداوار اور متعلقہ شعبوں پر اثرات شامل ہیں۔
سعودی عرب نے بین الاقوامی سطح پر کون سی کوششیں کی ہیں؟ فقیہ نے مشرق وسطیٰ گرین انیشیٹو (ایم جی آئی) اور جی 20 کے ذریعے مملکت کی کوششوں کا ذکر کیا۔ انہوں نے یو این سی سی ڈی کے کوپ 16 کے سولہویں اجلاس کی سعودی صدارت کا بھی حوالہ دیا، جس کے نتیجے میں چراگاہوں سے متعلق اہم فیصلے اور متعدد عملی اقدامات سامنے آئے۔
فورم کا انعقاد کہاں اور کس مقصد کے تحت ہوا؟ پانچواں عرب فورم برائے ماحولیات قاہرہ میں عرب لیگ کے جنرل سیکرٹریٹ کے صدر دفتر میں منعقد ہوا۔ فورم کا مرکزی موضوع پائیدار چراگاہیں اور بہتر لچک تھا، اور یہ عرب وزرائے ماحولیات کی کونسل کے 37ویں اجلاس سے قبل منعقد ہوا۔





