Tuesday, November 3, 2026
کھیل

عرب اسپورٹس پریس ایسوسی ایشن کا جدہ میں پہلا تربیتی پروگرام اختتام پذیر

عرب اسپورٹس پریس ایسوسی ایشن کا جدہ میں پہلا تربیتی پروگرام اختتام پذیر

عرب اسپورٹس پریس ایسوسی ایشن (ASPA) نے جدہ میں کھیلوں کے میڈیا پیشہ ور افراد کے لیے ڈیجیٹل مواد کی تخلیق سے متعلق اپنا پہلا تربیتی پروگرام آج اختتام پذیر کر دیا۔ یہ دو روزہ پروگرام 27ویں عربین گلف کپ فٹ بال ٹورنامنٹ کے دوران منعقد ہوا۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، یہ پروگرام ASPA اور سعودی اسپورٹس میڈیا فیڈریشن نے انٹرنیشنل اسپورٹس پریس ایسوسی ایشن (AIPS) کے تعاون سے مشترکہ طور پر منعقد کیا۔ پروگرام کا مقصد شرکاء کی ڈیجیٹل مواد کی تخلیق کی مہارتوں کو نظریاتی سیشنز اور عملی ورکشاپس کے ذریعے فروغ دینا تھا، جن کی قیادت میڈیا پیشہ ور دما السید اور ٹرینر عبدالرحمٰن امروں نے کی۔

شرکاء کو ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والی خلیجی فیڈریشنز نے نامزد کیا تھا۔ اختتامی تقریب میں AIPS کے صدر جیانی میرلو نے کھیلوں کے عہدیداروں اور میڈیا شخصیات کے ہمراہ شرکت کی۔

کیا کھیلوں کی رپورٹنگ میں ڈیجیٹل مہارتیں اب روایتی صحافت سے زیادہ اہم ہو گئی ہیں؟ جدہ میں منعقد ہونے والے اس پروگرام نے یہ سوال کھڑا کیا ہے کہ خطے کے کھیلوں کے صحافی کس طرح بدلتے میڈیا منظرنامے کا سامنا کر رہے ہیں۔

یہ پروگرام 27ویں عربین گلف کپ فٹ بال ٹورنامنٹ کے دوران ہوا، جو خلیجی خطے کے ممالک کے درمیان ایک نمایاں کھیلوں کا مقابلہ ہے۔ ٹورنامنٹ کے میدان میں جہاں ٹیمیں مقابلہ کر رہی تھیں، وہیں میڈیا پیشہ ور افراد بھی اپنی مہارتوں کو نکھارنے میں مصروف رہے۔ کیا بڑے کھیلوں کے ایونٹس کو تربیت کے لیے بہترین موقع قرار دیا جا سکتا ہے؟

ASPA اور سعودی اسپورٹس میڈیا فیڈریشن کی مشترکہ کوششوں اور AIPS کے تعاون سے ہونے والا یہ پروگرام خطے میں کھیلوں کی صحافت کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ شرکاء کو خلیجی فیڈریشنز نے نامزد کیا تھا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس پروگرام کو خطے بھر میں پذیرائی حاصل ہوئی۔ کیا اس طرح کے تعاون سے عرب کھیلوں کی صحافت کو عالمی معیار پر پہنچایا جا سکتا ہے؟

نظریاتی سیشنز اور عملی ورکشاپس کی قیادت میڈیا پیشہ ور دما السید اور ٹرینر عبدالرحمٰن امروں نے کی۔ ان سیشنز کا مقصد شرکاء کی ڈیجیٹل مواد کی تخلیق کی صلاحیتوں کو بہتر بنانا تھا۔ کیا عملی ورکشاپس نظریاتی تعلیم سے زیادہ مؤثر ثابت ہوتی ہیں؟

اختتامی تقریب میں AIPS کے صدر جیانی میرلو نے شرکت کی، جہاں کھیلوں کے عہدیداروں اور میڈیا شخصیات بھی موجود تھیں۔ ان کی موجودگی اس پروگرام کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ کیا بین الاقوامی اداروں کی شمولیت سے اس طرح کے تربیتی پروگراموں کا معیار بلند ہوتا ہے؟

یہ پروگرام جدہ میں منعقد ہوا، جو سعودی عرب کا ایک بڑا شہر اور کھیلوں کی متعدد سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ جدہ کا انتخاب اس لیے بھی موزوں تھا کہ یہاں 27ویں عربین گلف کپ فٹ بال ٹورنامنٹ جاری تھا۔ کیا سعودی عرب خطے میں کھیلوں کی صحافت کا مرکز بنتا جا رہا ہے؟

ASPA کا یہ پہلا تربیتی پروگرام تھا، جس کا مقصد کھیلوں کے میڈیا پیشہ ور افراد کی ڈیجیٹل مواد کی تخلیق کی مہارتوں کو فروغ دینا تھا۔ دو روزہ دورانیے میں شرکاء نے نظریاتی اور عملی دونوں پہلوؤں سے استفادہ کیا۔ کیا ایک مختصر دورانیے کا پروگرام طویل مدتی مہارتیں پیدا کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے؟

شرکاء کی نامزدگی خلیجی فیڈریشنز کے ذریعے کی گئی، جس سے اس پروگرام کی علاقائی نوعیت واضح ہوتی ہے۔ مختلف ممالک سے آنے والے شرکاء نے ایک ہی پلیٹ فارم پر تربیت حاصل کی۔ کیا اس طرح کے پروگرام خطے کے ممالک کے درمیان تعاون کو مضبوط بناتے ہیں؟

ڈیجیٹل مواد کی تخلیق آج کے میڈیا منظرنامے میں ایک بنیادی ہنر بن چکی ہے۔ کھیلوں کی صحافت میں بھی ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کی اہمیت بڑھ رہی ہے۔ کیا روایتی صحافتی ہنر اب ڈیجیٹل مہارتوں کے بغیر مکمل تصور کیے جا سکتے ہیں؟

سعودی اسپورٹس میڈیا فیڈریشن کی شراکت اس پروگرام کی کامیابی میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ AIPS کے ساتھ تعاون سے بین الاقوامی معیار کو مدنظر رکھا گیا۔ کیا سعودی ادارے خطے میں کھیلوں کی صحافت کے فروغ میں پیش پیش ہیں؟

یہ پروگرام 27ویں عربین گلف کپ کے دوران ہوا، جو ایک بڑا علاقائی کھیلوں کا ایونٹ ہے۔ اس دوران تربیت حاصل کرنے والے صحافیوں کو براہ راست میدان سے سیکھنے کا موقع ملا۔ کیا عملی میدان میں تربیت کلاس روم سے زیادہ فائدہ مند ہوتی ہے؟

رپورٹ میں پروگرام کے شرکاء کی تعداد، ان کے ممالک یا تربیت کے مخصوص موضوعات کی تفصیل نہیں دی گئی۔ اسی طرح اس بات کا ذکر نہیں کہ آیا مستقبل میں اس طرح کے مزید پروگرام منعقد ہوں گے۔ کیا اس طرح کی معلومات کی کمی سے پروگرام کے اثرات کا جائزہ لینا مشکل ہو جاتا ہے؟

ASPA کا یہ پہلا تربیتی پروگرام تھا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ تنظیم اپنی سرگرمیوں کا آغاز کر رہی ہے۔ AIPS کے صدر کی شرکت سے اس کی بین الاقوامی اہمیت بھی اجاگر ہوتی ہے۔ کیا یہ پروگرام آئندہ کے لیے ایک نمونہ ثابت ہو سکتا ہے؟

کھیلوں کے میڈیا پیشہ ور افراد کو ڈیجیٹل دور میں درپیش چیلنجز کئی گنا بڑھ گئے ہیں۔ مواد کی تخلیق، اشاعت اور ناظرین تک رسائی کے طریقے بدل چکے ہیں۔ کیا اس طرح کے تربیتی پروگرام ان چیلنجز کا مؤثر جواب ہیں؟

جدہ میں منعقد ہونے والا یہ پروگرام سعودی عرب کی کھیلوں کی میزبانی کی صلاحیت کا بھی عکاس ہے۔ شہر میں جاری ٹورنامنٹ کے ساتھ ساتھ تربیتی سرگرمیاں بھی جاری رہیں۔ کیا سعودی عرب بڑے کھیلوں کے ایونٹس کے ساتھ ساتھ میڈیا کی تربیت میں بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے؟

رپورٹ کے مطابق پروگرام دو روز پر محیط تھا، جس میں نظریاتی سیشنز اور عملی ورکشاپس شامل تھیں۔ شرکاء کو خلیجی فیڈریشنز نے نامزد کیا تھا۔ کیا دو دن کا دورانیہ شرکاء کی مکمل تربیت کے لیے کافی ہے؟

ASPA، سعودی اسپورٹس میڈیا فیڈریشن اور AIPS کا یہ مشترکہ اقدام خطے میں کھیلوں کی صحافت کے لیے ایک تعمیری قدم ہے۔ اختتامی تقریب میں کھیلوں کے عہدیداروں اور میڈیا شخصیات کی موجودگی نے اس کی اہمیت کو دوچند کیا۔ کیا اس طرح کے تعاون سے عرب کھیلوں کی صحافت کو نئی جہت مل سکتی ہے؟

رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ تربیتی پروگرام کے شرکاء کو کیا اسناد یا سرٹیفکیٹ دیے گئے، یا آیا اس کا کوئی تسلسل مستقبل میں متوقع ہے۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں ان تفصیلات کا ذکر نہیں کیا گیا۔

عرب اسپورٹس پریس ایسوسی ایشن کا پہلا تربیتی پروگرام کہاں اور کب اختتام پذیر ہوا؟ عرب اسپورٹس پریس ایسوسی ایشن (ASPA) کا پہلا تربیتی پروگرام جدہ میں اختتام پذیر ہوا۔ یہ دو روزہ پروگرام 27ویں عربین گلف کپ فٹ بال ٹورنامنٹ کے دوران منعقد ہوا۔ ایس پی اے کے مطابق یہ پروگرام آج اختتام پذیر ہوا، جس کا مقصد کھیلوں کے میڈیا پیشہ ور افراد کی ڈیجیٹل مواد کی تخلیق کی مہارتوں کو فروغ دینا تھا۔ شرکاء کو ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والی خلیجی فیڈریشنز نے نامزد کیا تھا۔

اس تربیتی پروگرام کا انعقاد کس نے کیا اور کس نے تعاون کیا؟ یہ پروگرام ASPA اور سعودی اسپورٹس میڈیا فیڈریشن نے انٹرنیشنل اسپورٹس پریس ایسوسی ایشن (AIPS) کے تعاون سے مشترکہ طور پر منعقد کیا۔ ایس پی اے کے مطابق پروگرام کا مقصد شرکاء کی ڈیجیٹل مواد کی تخلیق کی مہارتوں کو نظریاتی سیشنز اور عملی ورکشاپس کے ذریعے فروغ دینا تھا۔ شرکاء کو خلیجی فیڈریشنز نے نامزد کیا تھا جو ٹورنامنٹ میں حصہ لے رہی تھیں۔

تربیتی سیشنز کی قیادت کس نے کی اور اختتامی تقریب میں کون شریک ہوا؟ نظریاتی سیشنز اور عملی ورکشاپس کی قیادت میڈیا پیشہ ور دما السید اور ٹرینر عبدالرحمٰن امروں نے کی۔ اختتامی تقریب میں AIPS کے صدر جیانی میرلو نے کھیلوں کے عہدیداروں اور میڈیا شخصیات کے ہمراہ شرکت کی۔ ایس پی اے کے مطابق یہ پروگرام 27ویں عربین گلف کپ فٹ بال ٹورنامنٹ کے دوران جدہ میں منعقد ہوا تھا۔

تربیتی پروگرام کے شرکاء کا انتخاب کیسے کیا گیا؟ ایس پی اے کے مطابق شرکاء کو ٹورنامنٹ میں حصہ لینے والی خلیجی فیڈریشنز نے نامزد کیا تھا۔ یہ پروگرام 27ویں عربین گلف کپ فٹ بال ٹورنامنٹ کے دوران جدہ میں منعقد ہوا، جس میں خلیجی ممالک کی ٹیمیں حصہ لے رہی تھیں۔ شرکاء کی نامزدگی فیڈریشنز کے ذریعے کی گئی، جس سے پروگرام کی علاقائی نوعیت واضح ہوتی ہے۔

رپورٹ میں کن تفصیلات کا ذکر نہیں کیا گیا؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں شرکاء کی تعداد، ان کے ممالک، تربیت کے مخصوص موضوعات یا اس بات کا ذکر نہیں کہ آیا مستقبل میں اس طرح کے مزید پروگرام منعقد ہوں گے۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح نہیں کہ شرکاء کو کوئی اسناد یا سرٹیفکیٹ دیے گئے۔ ایس پی اے نے صرف یہ بتایا کہ پروگرام دو روزہ تھا اور جدہ میں 27ویں عربین گلف کپ کے دوران ہوا۔