Tuesday, November 3, 2026
سعودی خبریں

بلدیاتی اداروں نے 2026 کے پہلے نصف میں 667 کلومیٹر سے زائد پیدل راستے بنائے

بلدیاتی اداروں نے 2026 کے پہلے نصف میں 667 کلومیٹر سے زائد پیدل راستے بنائے

سعودی عرب میں بلدیاتی اداروں نے 2026 کے پہلے نصف سال کے دوران 667 کلومیٹر سے زائد پیدل چلنے کے راستے اور فٹ پاتھ، تقریباً 12 لاکھ 80 ہزار مربع میٹر پر پھیلے 108 بلدیاتی چوک، 803 ہزار مربع میٹر سے زائد رقبے پر مشتمل 44 پارک اور 3,070 لکیری میٹر واٹر فرنٹ پرومینیڈ تیار کیے ہیں۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 29 ستمبر 2026 کو بیان کیا، وزارت بلدیات و ہاؤسنگ نے یہ اعداد و شمار جاری کیے۔ وزارت کے مطابق یہ کوششیں زیادہ قابل رہائش اور قابل رسائی شہروں کی طرف اس کے نقطہ نظر کی عکاسی کرتی ہیں، جن میں پیدل چلنے کے نیٹ ورک کو بڑھانا، پارکوں اور عوامی مقامات تک رسائی کو بہتر بنانا اور بلدیاتی خدمات کو براہ راست رہائشیوں کی ضروریات سے جوڑنا شامل ہے۔

ریاض میونسپلٹی پیدل نیٹ ورک میں سرفہرست

ریاض میونسپلٹی پیدل چلنے کے سب سے طویل نیٹ ورک کے ساتھ فہرست میں سرفہرست رہی، جہاں تقریباً 517 کلومیٹر پیدل راستے بنائے گئے۔ ریاض میونسپلٹی نے 101 بلدیاتی چوک بھی ریکارڈ کیے، جو کہ ملک بھر میں کل 108 چوکوں کا بڑا حصہ ہے۔ کیا یہ حیرت کی بات نہیں کہ ایک ہی شہر نے ملک کے پیدل راستوں کا اتنا بڑا حصہ اپنے نام کیا؟

مدینہ میونسپلٹی نے سب سے بڑے پارک کے رقبے کا ریکارڈ بنایا، جو 417,600 مربع میٹر ہے۔ یہ ملک بھر میں 44 پارکوں کے کل رقبے 803,000 مربع میٹر سے زائد کا ایک بڑا حصہ ہے۔ مشرقی علاقہ میونسپلٹی واٹر فرنٹ کی ترقی میں سرفہرست رہی، جہاں 1,920 میٹر پرومینیڈ بنایا گیا، جبکہ تبوک میونسپلٹی 1,150 میٹر کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔

وزارت نے نوٹ کیا کہ یہ کوششیں سعودی وژن 2030 کے پائیدار اور پرکشش شہری برادریوں کے اہداف کی حمایت کرتی ہیں۔ کیا آپ کے خیال میں یہ ترقی آپ کے روزمرہ کے سفر کو آسان بنا رہی ہے؟

رپورٹ کے مطابق، ریاض میونسپلٹی نے 517 کلومیٹر پیدل راستے بنائے، جو کہ ملک بھر میں کل 667 کلومیٹر سے زائد کا تقریباً 77 فیصد ہے۔ اس کے ساتھ ہی ریاض نے 101 بلدیاتی چوک بھی تیار کیے، جو کل 108 چوکوں کا تقریباً 93 فیصد ہے۔ مدینہ میونسپلٹی کا 417,600 مربع میٹر پارک کا رقبہ کل 803,000 مربع میٹر سے زائد پارک رقبے کا تقریباً 52 فیصد ہے۔

مشرقی علاقہ میونسپلٹی نے 1,920 میٹر واٹر فرنٹ پرومینیڈ بنایا، جو کل 3,070 لکیری میٹر کا تقریباً 63 فیصد ہے، جبکہ تبوک میونسپلٹی نے 1,150 میٹر بنایا، جو تقریباً 37 فیصد ہے۔ کیا یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ترقی کا عمل کچھ علاقوں میں زیادہ تیز ہے؟

وزارت بلدیات و ہاؤسنگ نے یہ اعداد و شمار 2026 کے پہلے نصف سال کے لیے جاری کیے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ بلدیاتی اداروں نے ملک بھر میں یہ منصوبے مکمل کیے۔ وزارت کے مطابق، اس کا نقطہ نظر زیادہ قابل رہائش اور قابل رسائی شہروں کی طرف ہے، جس میں پیدل چلنے کے نیٹ ورک کو بڑھانا، پارکوں اور عوامی مقامات تک رسائی کو بہتر بنانا اور بلدیاتی خدمات کو براہ راست رہائشیوں کی ضروریات سے جوڑنا شامل ہے۔

یہ کوششیں سعودی وژن 2030 کے اہداف کی حمایت کرتی ہیں، جن میں پائیدار اور پرکشش شہری برادریوں کی تعمیر شامل ہے۔ کیا آپ نے اپنے علاقے میں ان نئے پیدل راستوں یا پارکوں میں سے کسی کا استعمال کیا ہے؟

رپورٹ کے مطابق، ریاض میونسپلٹی نے سب سے طویل پیدل نیٹ ورک بنایا، جو تقریباً 517 کلومیٹر ہے۔ اس نے 101 بلدیاتی چوک بھی ریکارڈ کیے۔ مدینہ میونسپلٹی نے سب سے بڑے پارک کے رقبے کا ریکارڈ بنایا، جو 417,600 مربع میٹر ہے۔ مشرقی علاقہ میونسپلٹی واٹر فرنٹ کی ترقی میں سرفہرست رہی، جہاں 1,920 میٹر پرومینیڈ بنایا گیا، جبکہ تبوک میونسپلٹی 1,150 میٹر کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔

وزارت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ یہ ترقی شہریوں کی ضروریات کو براہ راست بلدیاتی خدمات سے جوڑنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ کیا آپ کے خیال میں یہ منصوبے شہریوں کی زندگی کے معیار کو بہتر بنا رہے ہیں؟

رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان منصوبوں پر کتنی رقم خرچ ہوئی، نہ ہی یہ کہ کون سے شہر یا علاقے ان منصوبوں سے محروم رہے۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ان پیدل راستوں، چوکوں، پارکوں اور واٹر فرنٹ پرومینیڈز کی دیکھ بھال کا ذمہ کون اٹھائے گا۔

رپورٹ کے مطابق، کل 667 کلومیٹر سے زائد پیدل راستے اور فٹ پاتھ بنائے گئے۔ 108 بلدیاتی چوک تقریباً 12 لاکھ 80 ہزار مربع میٹر پر پھیلے ہیں۔ 44 پارک 803 ہزار مربع میٹر سے زائد رقبے پر مشتمل ہیں۔ 3,070 لکیری میٹر واٹر فرنٹ پرومینیڈ بھی تیار کیے گئے۔

ریاض میونسپلٹی نے 517 کلومیٹر پیدل راستے اور 101 بلدیاتی چوک بنائے۔ مدینہ میونسپلٹی کا پارک 417,600 مربع میٹر پر پھیلا ہے۔ مشرقی علاقہ میونسپلٹی نے 1,920 میٹر واٹر فرنٹ پرومینیڈ بنایا، جبکہ تبوک میونسپلٹی نے 1,150 میٹر بنایا۔

وزارت بلدیات و ہاؤسنگ کے مطابق، یہ کوششیں زیادہ قابل رہائش اور قابل رسائی شہروں کی طرف اس کے نقطہ نظر کی عکاسی کرتی ہیں۔ اس میں پیدل چلنے کے نیٹ ورک کو بڑھانا، پارکوں اور عوامی مقامات تک رسائی کو بہتر بنانا اور بلدیاتی خدمات کو براہ راست رہائشیوں کی ضروریات سے جوڑنا شامل ہے۔

یہ ترقی سعودی وژن 2030 کے پائیدار اور پرکشش شہری برادریوں کے اہداف کی حمایت کرتی ہے۔ کیا آپ کے خیال میں یہ منصوبے وژن 2030 کے اہداف کے حصول میں مددگار ثابت ہو رہے ہیں؟

رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان منصوبوں کی تکمیل میں کتنا وقت لگا، نہ ہی یہ کہ ان کی لاگت کیا رہی۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ان منصوبوں سے کتنے لوگوں کو فائدہ پہنچا۔

رپورٹ کے مطابق، یہ اعداد و شمار 2026 کے پہلے نصف سال کے ہیں۔ وزارت بلدیات و ہاؤسنگ نے یہ معلومات جاری کیں۔ رپورٹ میں ریاض، مدینہ، مشرقی علاقہ اور تبوک میونسپلٹیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ ان منصوبوں میں سے کون سا آپ کے علاقے میں واقع ہے؟ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ دیگر علاقوں کی میونسپلٹیوں نے کتنے پیدل راستے، چوک، پارک یا واٹر فرنٹ پرومینیڈ بنائے۔

وزارت کے مطابق، ان منصوبوں کا مقصد شہریوں کی ضروریات کو براہ راست بلدیاتی خدمات سے جوڑنا ہے۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان منصوبوں کی نگرانی کون کر رہا ہے یا ان کی تکمیل کے بعد ان کا معیار کیسے جانچا جائے گا۔

رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ان منصوبوں کے لیے زمین کیسے حاصل کی گئی یا ان سے متعلق کوئی عوامی شکایات سامنے آئی ہیں یا نہیں۔ کیا آپ کے خیال میں شفافیت کے لیے مزید معلومات جاری کرنی چاہئیں؟

رپورٹ کے مطابق، ریاض میونسپلٹی نے 517 کلومیٹر پیدل راستے بنائے، جو کہ کل 667 کلومیٹر سے زائد کا بڑا حصہ ہے۔ اس نے 101 بلدیاتی چوک بھی بنائے، جو کل 108 چوکوں کا بڑا حصہ ہیں۔ مدینہ میونسپلٹی کا پارک 417,600 مربع میٹر پر پھیلا ہے، جو کل 803,000 مربع میٹر سے زائد پارک رقبے کا بڑا حصہ ہے۔

مشرقی علاقہ میونسپلٹی نے 1,920 میٹر واٹر فرنٹ پرومینیڈ بنایا، جو کل 3,070 لکیری میٹر کا بڑا حصہ ہے، جبکہ تبوک میونسپلٹی نے 1,150 میٹر بنایا۔ کیا یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ترقی کا عمل کچھ علاقوں میں زیادہ تیز ہے؟

وزارت بلدیات و ہاؤسنگ نے یہ اعداد و شمار 2026 کے پہلے نصف سال کے لیے جاری کیے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ بلدیاتی اداروں نے ملک بھر میں یہ منصوبے مکمل کیے۔ وزارت کے مطابق، اس کا نقطہ نظر زیادہ قابل رہائش اور قابل رسائی شہروں کی طرف ہے، جس میں پیدل چلنے کے نیٹ ورک کو بڑھانا، پارکوں اور عوامی مقامات تک رسائی کو بہتر بنانا اور بلدیاتی خدمات کو براہ راست رہائشیوں کی ضروریات سے جوڑنا شامل ہے۔

یہ کوششیں سعودی وژن 2030 کے اہداف کی حمایت کرتی ہیں، جن میں پائیدار اور پرکشش شہری برادریوں کی تعمیر شامل ہے۔ کیا آپ نے اپنے علاقے میں ان نئے پیدل راستوں یا پارکوں میں سے کسی کا استعمال کیا ہے؟

رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان منصوبوں پر کتنی رقم خرچ ہوئی، نہ ہی یہ کہ کون سے شہر یا علاقے ان منصوبوں سے محروم رہے۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ان پیدل راستوں، چوکوں، پارکوں اور واٹر فرنٹ پرومینیڈز کی دیکھ بھال کا ذمہ کون اٹھائے گا۔

2026 کے پہلے نصف میں کتنے پیدل راستے بنائے گئے؟ وزارت بلدیات و ہاؤسنگ کے مطابق بلدیاتی اداروں نے 2026 کے پہلے نصف میں 667 کلومیٹر سے زائد پیدل چلنے کے راستے اور فٹ پاتھ بنائے۔ ریاض میونسپلٹی نے سب سے طویل نیٹ ورک بنایا، جو تقریباً 517 کلومیٹر ہے۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ باقی کلومیٹر کون سی میونسپلٹیوں نے بنائے۔

کتنے بلدیاتی چوک اور پارک بنائے گئے؟ رپورٹ کے مطابق 108 بلدیاتی چوک تقریباً 12 لاکھ 80 ہزار مربع میٹر پر پھیلے ہیں، جبکہ 44 پارک 803 ہزار مربع میٹر سے زائد رقبے پر مشتمل ہیں۔ ریاض میونسپلٹی نے 101 بلدیاتی چوک بنائے۔ مدینہ میونسپلٹی کا پارک 417,600 مربع میٹر پر پھیلا ہے، جو سب سے بڑا پارک رقبہ ہے۔

واٹر فرنٹ پرومینیڈ کس میونسپلٹی نے بنائے؟ مشرقی علاقہ میونسپلٹی واٹر فرنٹ کی ترقی میں سرفہرست رہی، جہاں 1,920 میٹر پرومینیڈ بنایا گیا۔ تبوک میونسپلٹی 1,150 میٹر کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہی۔ کل 3,070 لکیری میٹر واٹر فرنٹ پرومینیڈ بنائے گئے۔ رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ باقی میٹر کس میونسپلٹی نے بنائے۔

وزارت نے ان منصوبوں کا مقصد کیا بتایا؟ وزارت بلدیات و ہاؤسنگ کے مطابق یہ کوششیں زیادہ قابل رہائش اور قابل رسائی شہروں کی طرف اس کے نقطہ نظر کی عکاسی کرتی ہیں۔ اس میں پیدل چلنے کے نیٹ ورک کو بڑھانا، پارکوں اور عوامی مقامات تک رسائی کو بہتر بنانا اور بلدیاتی خدمات کو براہ راست رہائشیوں کی ضروریات سے جوڑنا شامل ہے۔ یہ سعودی وژن 2030 کے اہداف کی حمایت کرتی ہیں۔

کیا رپورٹ میں لاگت یا تکمیل کی تاریخ دی گئی؟ نہیں، رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان منصوبوں پر کتنی رقم خرچ ہوئی، نہ ہی یہ کہ ان کی تکمیل میں کتنا وقت لگا۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ ان منصوبوں کی دیکھ بھال کا ذمہ کون اٹھائے گا یا ان سے کتنے لوگوں کو فائدہ پہنچا۔