خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے بیت المقدس کی مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں اسرائیلی قبضے کی حکومت کے اندر موجود انتہا پسندوں کے دھاوے، آباد کاروں کے مسلسل حملوں اور قبضے کی افواج کی حفاظت میں کی جانے والی اشتعال انگیز رسومات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 28 ستمبر 2026 کو ریاض سے بیان کیا، سیکرٹری جنرل نے کہا کہ یہ خلاف ورزیاں مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کھلا حملہ ہیں اور ایک ناقابل قبول اشتعال انگیزی ہے جو کشیدگی کو ہوا دیتی ہے اور خطے کی سلامتی اور استحکام کو خطرے میں ڈالتی ہے۔
البدیوی نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور ان جاری خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدام کرے تاکہ مسجد اقصیٰ کے تاریخی اور قانونی اسٹیٹس کو کو محفوظ رکھا جا سکے۔
انہوں نے خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے فلسطینی مسئلے اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت کے ثابت قدم موقف کا اعادہ کیا، جن میں سب سے اہم 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں انتہا پسندوں کے دھاوے اور آباد کاروں کی مسلسل مداخلتوں کی اطلاعات سامنے آ رہی ہیں، جنہیں سیکرٹری جنرل نے قبضے کی افواج کے تحفظ میں کی جانے والی اشتعال انگیز رسومات قرار دیا۔ کیا مسجد اقصیٰ کی حرمت پر اس قسم کے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھانے کا سبب نہیں بنتے؟
البدیوی کا موقف خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کی مشترکہ پوزیشن کی عکاسی کرتا ہے، جس میں فلسطینی مسئلے کی حمایت اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق، بالخصوص ایک آزاد ریاست کے قیام کا مطالبہ شامل ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مسجد اقصیٰ کے خلاف یہ خلاف ورزیاں نہ صرف مذہبی حرمت کی پامالی ہیں بلکہ خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔
سیکرٹری جنرل نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ان جاری خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدام کرے، اور مسجد اقصیٰ کے تاریخی اور قانونی اسٹیٹس کو کو برقرار رکھنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرے۔ کیا بین الاقوامی برادری ان ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں سنجیدہ نظر آتی ہے؟
انہوں نے زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں انتہا پسندوں کے دھاوے اور آباد کاروں کی مسلسل مداخلتیں ایک ایسی اشتعال انگیزی ہے جو نہ صرف مقامی سطح پر بلکہ پورے خطے میں تناؤ کو بڑھاتی ہے۔ ان کے مطابق یہ خلاف ورزیاں مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کھلا حملہ ہیں اور انہیں کسی بھی صورت میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔
خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل نے اپنے بیان میں فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ رکن ممالک کا موقف ثابت قدم ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ انہوں نے 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔ کیا اس موقف کو بین الاقوامی سطح پر وہ پذیرائی مل رہی ہے جس کا وہ مستحق ہے؟
یہ بیان خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کی جانب سے فلسطینی مسئلے پر مسلسل حمایت کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ سیکرٹری جنرل نے اس موقع پر بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ مسجد اقصیٰ کے تاریخی اور قانونی اسٹیٹس کو کے تحفظ کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدام کرے، کیونکہ ان کے بقول جاری خلاف ورزیاں خطے کے امن اور استحکام کو خطرے میں ڈال رہی ہیں۔
البدیوی نے کہا کہ قبضے کی حکومت کے اندر موجود انتہا پسندوں کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں دھاوے اور آباد کاروں کی مسلسل مداخلتیں ایک ایسا عمل ہے جو کشیدگی کو ہوا دیتا ہے اور خطے کی سلامتی کو نقصان پہنچاتا ہے۔ انہوں نے اسے ناقابل قبول اشتعال انگیزی قرار دیا اور کہا کہ اس قسم کے اقدامات سے خطے میں عدم استحکام پیدا ہوتا ہے۔ کیا اس قسم کی خلاف ورزیوں کے تسلسل سے خطے میں مزید تناؤ پیدا ہو سکتا ہے؟
سیکرٹری جنرل نے بین الاقوامی برادری سے اپیل کی کہ وہ مسجد اقصیٰ کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور ان جاری خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ مسجد اقصیٰ کے تاریخی اور قانونی اسٹیٹس کو کو برقرار رکھنا بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جا سکتی۔
انہوں نے خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کی جانب سے فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت کے موقف کو دہرایا اور کہا کہ یہ موقف ثابت قدم ہے۔ ان کے مطابق رکن ممالک فلسطینی مسئلے کی حمایت جاری رکھیں گے اور فلسطینی عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھیں گے۔ کیا خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کی مشترکہ پوزیشن فلسطینی مسئلے کے حل میں کوئی مثبت کردار ادا کر سکتی ہے؟
البدیوی نے 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔ انہوں نے کہا کہ یہ موقف خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کی مشترکہ پوزیشن ہے اور اس میں کوئی ابہام نہیں ہے۔ ان کے مطابق فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا تحفظ خطے کے امن اور استحکام کے لیے ناگزیر ہے۔
سیکرٹری جنرل نے مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں انتہا پسندوں کے دھاوے اور آباد کاروں کی مسلسل مداخلتوں کو مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کھلا حملہ قرار دیا اور کہا کہ یہ ایک ناقابل قبول اشتعال انگیزی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس قسم کے اقدامات نہ صرف مسجد اقصیٰ کی حرمت کی پامالی ہیں بلکہ خطے کی سلامتی اور استحکام کے لیے بھی خطرہ ہیں۔
انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ ان جاری خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدام کرے۔ ان کے مطابق اگر بین الاقوامی برادری بروقت اقدام نہ کرے تو خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے اور امن و استحکام کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ کیا بین الاقوامی برادری کی جانب سے فوری اقدامات کا مطالبہ کافی اثر رکھتا ہے؟
خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل نے اپنے بیان میں مسجد اقصیٰ کے تاریخی اور قانونی اسٹیٹس کو کے تحفظ پر زور دیا اور کہا کہ اس حوالے سے بین الاقوامی برادری کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنا کردار ادا کرے۔ انہوں نے کہا کہ مسجد اقصیٰ کی حرمت کا تحفظ تمام مسلمانوں کے لیے اہم ہے اور اس سلسلے میں کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جا سکتی۔
البدیوی نے خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کی جانب سے فلسطینی مسئلے کی حمایت کے موقف کو دہرایا اور کہا کہ یہ موقف ثابت قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ رکن ممالک فلسطینی عوام کے جائز حقوق، بالخصوص ایک آزاد ریاست کے قیام کے مطالبے کی حمایت جاری رکھیں گے۔ ان کے مطابق فلسطینی عوام کے حقوق کا تحفظ خطے کے امن کے لیے ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ قبضے کی حکومت کے اندر موجود انتہا پسندوں کے دھاوے اور آباد کاروں کی مسلسل مداخلتیں ایک ایسا عمل ہے جو خطے میں عدم استحکام پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے اسے ناقابل قبول قرار دیا اور کہا کہ اس قسم کے اقدامات سے خطے کی سلامتی اور استحکام کو خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ کیا اس قسم کی خلاف ورزیوں کے تسلسل کو روکنا بین الاقوامی برادری کی اولین ترجیح ہونی چاہیے؟
سیکرٹری جنرل نے بین الاقوامی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ مسجد اقصیٰ کے تاریخی اور قانونی اسٹیٹس کو کے تحفظ کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدام کرے۔ انہوں نے کہا کہ جاری خلاف ورزیاں نہ صرف مسجد اقصیٰ کی حرمت کی پامالی ہیں بلکہ خطے کے امن اور استحکام کے لیے بھی سنگین خطرہ ہیں۔ ان کے مطابق بین الاقوامی برادری کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں۔
البدیوی نے خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کی جانب سے فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ رکن ممالک کا موقف ثابت قدم ہے۔ انہوں نے 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔ ان کے مطابق یہ موقف خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کی مشترکہ پوزیشن ہے۔
یہ بیان ایس پی اے کے مطابق ریاض سے 28 ستمبر 2026 کو جاری کیا گیا۔ رپورٹ میں مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں دھاوے کی تفصیلات، مقام یا وقت کے بارے میں مزید معلومات نہیں دی گئیں، اور نہ ہی بین الاقوامی برادری کی جانب سے کسی ردعمل کا ذکر کیا گیا۔
خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل نے کس واقعے کی مذمت کی؟ سیکرٹری جنرل جاسم محمد البدیوی نے مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں اسرائیلی قبضے کی حکومت کے اندر موجود انتہا پسندوں کے دھاوے، آباد کاروں کی مسلسل مداخلتوں اور قبضے کی افواج کی حفاظت میں کی جانے والی اشتعال انگیز رسومات کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ خلاف ورزیاں مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کھلا حملہ اور ناقابل قبول اشتعال انگیزی ہیں جو کشیدگی کو ہوا دیتی ہے اور خطے کی سلامتی اور استحکام کو خطرے میں ڈالتی ہے۔
سیکرٹری جنرل نے بین الاقوامی برادری سے کیا مطالبہ کیا؟ البدیوی نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کرے اور ان جاری خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے فوری اور فیصلہ کن اقدام کرے۔ انہوں نے کہا کہ مسجد اقصیٰ کے تاریخی اور قانونی اسٹیٹس کو کو محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ ان کے مطابق بین الاقوامی برادری کو ان خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات کرنے چاہئیں تاکہ خطے میں کشیدگی مزید نہ بڑھے۔
خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کا فلسطینی مسئلے پر کیا موقف ہے؟ البدیوی نے خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے فلسطینی مسئلے اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت کے ثابت قدم موقف کا اعادہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ رکن ممالک 4 جون 1967 کی سرحدوں کے مطابق ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتے ہیں، جس کا دارالحکومت مشرقی بیت المقدس ہو۔ ان کے مطابق یہ موقف ثابت قدم ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔
سیکرٹری جنرل نے ان خلاف ورزیوں کو خطے کے امن کے لیے کیسے خطرہ قرار دیا؟ البدیوی نے کہا کہ یہ خلاف ورزیاں ایک ناقابل قبول اشتعال انگیزی ہیں جو کشیدگی کو ہوا دیتی ہے اور خطے کی سلامتی اور استحکام کو خطرے میں ڈالتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبضے کی حکومت کے اندر موجود انتہا پسندوں کے دھاوے اور آباد کاروں کی مسلسل مداخلتیں خطے میں عدم استحکام پیدا کرتی ہیں۔ ان کے مطابق مسجد اقصیٰ کی حرمت پر حملہ خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
یہ بیان کب اور کہاں سے جاری کیا گیا؟ ایس پی اے کے مطابق یہ بیان ریاض سے 28 ستمبر 2026 کو جاری کیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ بیان خلیج تعاون کونسل کے سیکرٹری جنرل جاسم محمد البدیوی کی جانب سے جاری ہوا۔ رپورٹ کے مطابق بیان مقامی وقت کے مطابق رات 10 بجے اور گرین وچ مین ٹائم کے مطابق شام 7 بجے جاری کیا گیا۔
رپورٹ میں کون سی معلومات شامل نہیں کی گئیں؟ رپورٹ میں مسجد اقصیٰ کے صحنوں میں دھاوے کی تفصیلات، مقام یا وقت کے بارے میں مزید معلومات شامل نہیں کی گئیں۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے کسی ردعمل کا بھی ذکر نہیں کیا گیا۔ رپورٹ میں خلاف ورزیوں کی تعداد، ان میں ملوث افراد کی شناخت یا اسٹیٹس کو کے تحفظ کے لیے کسی مخصوص اقدام کا بھی ذکر نہیں ہے۔





