مکہ میں 28 ستمبر 2026 کو مسلم ورلڈ لیگ (MWL) نے اقوام متحدہ کے اتحادِ تہذیبوں (UNAOC) کے گروپ آف فرینڈز کی سالانہ اعلیٰ سطحی میٹنگ میں شرکت کی۔ یہ میٹنگ اس گروپ کے فریم ورک کا حصہ ہے جو مختلف ممالک، بین الاقوامی اداروں اور مذہبی تنظیموں کے نمائندوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرتا ہے تاکہ بین الثقافتی مکالمے اور پرامن بقائے باہمی کے موضوعات پر بات کی جا سکے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل اور ایسوسی ایشن آف مسلم اسکالرز کے چیئرمین شیخ ڈاکٹر محمد العیسیٰ کی جانب سے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل برائے مواصلات و بین الاقوامی تعاون عبدالوہاب بن محمد الشہری نے اس اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس میں اتحاد کے ہائی ریپریزنٹیٹو، متعدد وزرائے خارجہ، گروپ آف فرینڈز کے سفارت کاروں اور بین الاقوامی و مذہبی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
عبدالوہاب بن محمد الشہری نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسلم ورلڈ لیگ کے متعدد امور پر موقف پیش کیا، جن میں سب سے اہم فلسطینی مسئلہ تھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مکالمے کو اصولوں سے آگے بڑھا کر عمل اور مؤثر شراکت داری کی طرف لے جانا ضروری ہے۔ انہوں نے تعلیم، بین المذاہب مکالمے اور معاشروں میں امن کے فروغ کے میدان میں مسلم ورلڈ لیگ کی کوششوں کو بھی اجاگر کیا۔ کیا بین الاقوامی فورمز پر اصولوں کا اعادہ ہی کافی ہے، یا عمل کی طرف منتقلی ہی اصل امتحان ہے؟
الشہری نے غزہ میں شہریوں کے تحفظ کی فوری ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ان کی تکالیف کو فوری طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کو ان کے جائز حقوق ملنے چاہئیں، جن میں سب سے اہم دو ریاستی حل اور متعلقہ بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کا حق ہے۔ ان کے مطابق یہی خطے میں منصفانہ اور پائیدار امن کے حصول کا واحد راستہ ہے۔
یہ اجلاس اقوام متحدہ کے اتحادِ تہذیبوں کے گروپ آف فرینڈز کے سالانہ اعلیٰ سطحی اجلاسوں کا حصہ ہے، جہاں رکن ممالک اور شراکت دار ادارے ثقافتی تفہیم، رواداری اور تشدد کی روک تھام کے موضوعات پر تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ مسلم ورلڈ لیگ کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مذہبی ادارے بھی اس عالمی مکالمے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ کیا مذہبی اداروں کی شمولیت کے بغیر ثقافتی مکالمے کا کوئی عالمی فریم ورک مکمل ہو سکتا ہے؟
الشہری کے خطاب میں فلسطینی مسئلے کو سب سے اہم قرار دیا گیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم ورلڈ لیگ اس مسئلے کو اپنی بین الاقوامی مصروفیات میں مرکزی حیثیت دیتی ہے۔ انہوں نے بین المذاہب مکالمے اور تعلیم کے میدان میں لیگ کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ کوششیں معاشروں میں امن کے فروغ کے لیے کی جا رہی ہیں۔ کیا تعلیم اور مکالمے کے ذریعے طویل مدتی تبدیلی لائی جا سکتی ہے، جب فوری بحران موجود ہوں؟
اجلاس میں اتحاد کے ہائی ریپریزنٹیٹو، متعدد وزرائے خارجہ اور سفارت کاروں کی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ گروپ آف فرینڈز کے پلیٹ فارم پر سیاسی اور سفارتی سطح پر بھی اس موضوعات پر توجہ دی جا رہی ہے۔ مسلم ورلڈ لیگ کی جانب سے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل کی سطح پر شرکت اس اجلاس کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے۔ کیا اعلیٰ سطحی شرکت سے عملی نتائج کی توقع کی جا سکتی ہے؟
الشہری نے اپنے خطاب میں اس بات پر بھی زور دیا کہ مکالمے کو صرف اصولوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ مؤثر شراکت داریوں کی طرف بڑھایا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ مسلم ورلڈ لیگ تعلیم، بین المذاہب مکالمے اور معاشروں میں امن کے فروغ کے لیے کام کر رہی ہے۔ یہ موقف اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ لیگ اپنی بین الاقوامی سرگرمیوں میں عملی تعاون پر زور دیتی ہے۔ کیا شراکت داریوں کے بغیر بین الاقوامی مکالمے کے اعلانات زمینی حقیقت بدل سکتے ہیں؟
غزہ کے حوالے سے الشہری کا موقف واضح تھا کہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے اور ان کی تکالیف کا فوری خاتمہ ہو۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے جائز حقوق کا ذکر کرتے ہوئے دو ریاستی حل اور متعلقہ بین الاقوامی قراردادوں کی پاسداری پر زور دیا۔ ان کے مطابق ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام ہی خطے میں منصفانہ اور پائیدار امن کا واحد راستہ ہے۔ کیا بین الاقوامی قراردادوں کے بغیر کوئی دیرپا حل ممکن ہے؟
مسلم ورلڈ لیگ کی اس شرکت کو اس تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عالمی سطح پر مذہبی ادارے بین الثقافتی اور بین المذاہب مکالمے کے فورمز میں فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ گروپ آف فرینڈز کا پلیٹ فارم مختلف پس منظر کے شرکاء کو ایک جگہ جمع کرتا ہے، جہاں سیاسی، سفارتی اور مذہبی نمائندے اپنے موقف پیش کرتے ہیں۔ کیا اس طرح کے پلیٹ فارمز اختلافات کو کم کرنے میں مؤثر ثابت ہو رہے ہیں؟
اجلاس میں بین الاقوامی اور مذہبی تنظیموں کے نمائندوں کی شرکت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ یہ فورم صرف حکومتوں تک محدود نہیں بلکہ غیر سرکاری اور مذہبی سطح پر بھی اس میں شرکت کی جاتی ہے۔ مسلم ورلڈ لیگ کی جانب سے تعلیم اور بین المذاہب مکالمے کے میدان میں کی جانے والی کوششوں کا ذکر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ لیگ اپنے کام کو عالمی مکالمے کے فریم ورک میں پیش کر رہی ہے۔ کیا غیر سرکاری اداروں کی شمولیت سے بین الاقوامی فیصلہ سازی پر اثر پڑتا ہے؟
الشہری کے خطاب میں فلسطینی مسئلے کو سب سے اہم قرار دینا اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ مسلم ورلڈ لیگ کی ترجیحات میں یہ موضوع مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے غزہ میں شہریوں کے تحفظ، ان کی تکالیف کے خاتمے اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے حصول پر زور دیا۔ ان کا موقف دو ریاستی حل اور متعلقہ بین الاقوامی قراردادوں کی حمایت پر مبنی تھا۔ کیا اس موقف کو بین الاقوامی سطح پر عملی شکل دی جا سکتی ہے؟
مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل اور ایسوسی ایشن آف مسلم اسکالرز کے چیئرمین شیخ ڈاکٹر محمد العیسیٰ کی جانب سے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل عبدالوہاب بن محمد الشہری کی شرکت اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ لیگ کی قیادت اس اجلاس کو اہمیت دیتی ہے۔ اجلاس میں اتحاد کے ہائی ریپریزنٹیٹو کی موجودگی بھی اس کی اہمیت کو اجاگر کرتی ہے۔ کیا اس سطح کی نمائندگی سے مسلم ورلڈ لیگ کے موقف کو زیادہ توجہ ملتی ہے؟
بین المذاہب مکالمے کے میدان میں مسلم ورلڈ لیگ کی کوششوں کا ذکر اس اجلاس میں کیا گیا، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ لیگ اس شعبے میں اپنے کام کو بین الاقوامی سطح پر پیش کر رہی ہے۔ تعلیم کے میدان میں بھی لیگ کی کوششوں کا ذکر ہوا، جو معاشروں میں امن کے فروغ سے منسلک ہیں۔ کیا تعلیمی اور مکالماتی اقدامات طویل مدت میں تشدد کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوتے ہیں؟
الشہری نے اپنے خطاب میں اس بات پر زور دیا کہ مکالمے کو اصولوں سے عمل کی طرف منتقل کیا جائے اور مؤثر شراکت داریاں قائم کی جائیں۔ یہ موقف اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مسلم ورلڈ لیگ صرف بیانات تک محدود نہیں رہنا چاہتی بلکہ عملی تعاون پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے لیگ کی کوششوں کو تعلیم، بین المذاہب مکالمے اور امن کے فروغ کے شعبوں میں اجاگر کیا۔ کیا عملی شراکت داریوں کے بغیر بین الاقوامی مکالمے کے فورمز کے نتائج محدود رہتے ہیں؟
غزہ میں شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے الشہری کا مطالبہ فوری نوعیت کا تھا، جس میں انہوں نے تکالیف کے خاتمے پر زور دیا۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے جائز حقوق کے حصول کو ضروری قرار دیا، جن میں ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کا حق شامل ہے۔ ان کے مطابق یہ حق دو ریاستی حل اور متعلقہ بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق ہے اور یہی خطے میں منصفانہ اور پائیدار امن کا واحد راستہ ہے۔ کیا بین الاقوامی برادری اس موقف کو عملی جامہ پہنانے کے لیے متحد ہو سکتی ہے؟
یہ اجلاس اقوام متحدہ کے اتحادِ تہذیبوں کے گروپ آف فرینڈز کا سالانہ اعلیٰ سطحی اجلاس تھا، جس میں متعدد وزرائے خارجہ اور سفارت کاروں نے شرکت کی۔ اس میں بین الاقوامی اور مذہبی تنظیموں کے نمائندے بھی موجود تھے، جس سے اس فورم کی متنوع نوعیت ظاہر ہوتی ہے۔ مسلم ورلڈ لیگ کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مذہبی ادارے بھی اس عالمی مکالمے کا حصہ ہیں۔ کیا اس طرح کے فورمز میں مذہبی اور سیاسی نمائندوں کا اجتماع مؤثر ہم آہنگی پیدا کر سکتا ہے؟
رپورٹ میں اجلاس کے دوران ہونے والی دیگر بات چیت، شرکاء کے دیگر بیانات یا کسی مخصوص قرارداد کا ذکر نہیں کیا گیا۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں الشہری کے خطاب کے نکات، اجلاس میں شرکت کرنے والوں کی اقسام اور فلسطینی مسئلے پر مسلم ورلڈ لیگ کے موقف کا ذکر ہے، لیکن اجلاس کے نتائج یا اس سے آگے کے اقدامات کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔
اقوام متحدہ کے اتحادِ تہذیبوں کے گروپ آف فرینڈز کے اجلاس میں مسلم ورلڈ لیگ کی نمائندگی کس نے کی؟ مسلم ورلڈ لیگ کے سیکرٹری جنرل اور ایسوسی ایشن آف مسلم اسکالرز کے چیئرمین شیخ ڈاکٹر محمد العیسیٰ کی جانب سے اسسٹنٹ سیکرٹری جنرل برائے مواصلات و بین الاقوامی تعاون عبدالوہاب بن محمد الشہری نے شرکت کی۔ ایس پی اے کے مطابق یہ اجلاس مکہ میں 28 ستمبر 2026 کو ہوا اور اس میں اتحاد کے ہائی ریپریزنٹیٹو، متعدد وزرائے خارجہ، سفارت کاروں اور بین الاقوامی و مذہبی تنظیموں کے نمائندوں نے شرکت کی۔
الشہری نے اپنے خطاب میں کون سے اہم نکات پیش کیے؟ الشہری نے مسلم ورلڈ لیگ کے موقف کو متعدد امور پر پیش کیا، جن میں سب سے اہم فلسطینی مسئلہ تھا۔ انہوں نے مکالمے کو اصولوں سے عمل اور مؤثر شراکت داری کی طرف منتقل کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے تعلیم، بین المذاہب مکالمے اور معاشروں میں امن کے فروغ کے میدان میں لیگ کی کوششوں کو بھی اجاگر کیا۔
فلسطینی مسئلے پر مسلم ورلڈ لیگ کا موقف کیا بیان کیا گیا؟ الشہری نے غزہ میں شہریوں کے تحفظ کی فوری ضرورت پر زور دیا اور کہا کہ ان کی تکالیف کو فوری طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام کو ان کے جائز حقوق ملنے چاہئیں، جن میں دو ریاستی حل اور متعلقہ بین الاقوامی قراردادوں کے مطابق ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کا حق سب سے اہم ہے۔ ان کے مطابق یہی خطے میں منصفانہ اور پائیدار امن کا واحد راستہ ہے۔
اجلاس میں کس قسم کے شرکاء موجود تھے؟ ایس پی اے کے مطابق اجلاس میں اتحاد کے ہائی ریپریزنٹیٹو، متعدد وزرائے خارجہ اور گروپ آف فرینڈز کے سفارت کاروں نے شرکت کی۔ اس کے علاوہ بین الاقوامی اور مذہبی تنظیموں کے نمائندے بھی موجود تھے۔ یہ اجلاس اقوام متحدہ کے اتحادِ تہذیبوں کے گروپ آف فرینڈز کی سالانہ اعلیٰ سطحی میٹنگ کا حصہ تھا، جس میں سیاسی، سفارتی اور مذہبی سطح کی نمائندگی شامل تھی۔
رپورٹ میں کن امور کا ذکر نہیں کیا گیا؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں اجلاس کے دوران ہونے والی دیگر بات چیت، شرکاء کے دیگر بیانات یا کسی مخصوص قرارداد کا ذکر نہیں کیا گیا۔ رپورٹ میں الشہری کے خطاب کے نکات، اجلاس میں شرکت کرنے والوں کی اقسام اور فلسطینی مسئلے پر مسلم ورلڈ لیگ کے موقف کا ذکر ہے، لیکن اجلاس کے نتائج یا اس سے آگے کے اقدامات کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔





