ٹوکیو کے ضلع اکیبوکورو میں منعقدہ TOKYO ANIME NEXT میں مانگا پروڈکشنز نے بطور اسپانسر شرکت کی، اور سعودی قومی دن کے لیے تیار کی گئی اینیم فلم کے پردے کے پیچھے کا سفر شرکاء کے سامنے پیش کیا۔ یہ ایونٹ 30 اکتوبر سے 2 نومبر 2026 تک جاپان کے شہر ٹوکیو میں جاری رہا، اور اس کا انعقاد ٹوکیو اینیم ایوارڈ فیسٹیول (TAAF) کے نئے باب کے طور پر ہوا، جس کا پہلا ایڈیشن اکیبوکورو میں منعقد ہوا۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 4 نومبر 2026 کو بیان کیا، مانگا پروڈکشنز محمد بن سلمان فاؤنڈیشن (مسک) کی ذیلی کمپنی ہے، اور اس کی شرکت کا مقصد اپنی بین الاقوامی موجودگی کو وسعت دینا اور جاپان کے ساتھ تخلیقی شراکت داریوں کو مضبوط بنانا تھا۔ ایونٹ کے دوران کمپنی نے ایک پینل مباحثے میں حصہ لیا جس کا عنوان تھا ”دو ثقافتیں، ایک کہانی: سعودی-جاپانی مشترکہ پروڈکشن کے پردے کے پیچھے“۔
اس نشست میں مانگا پروڈکشنز کی پروڈکشن مینیجر نور الججکلی اور جاپان کی BLUE RIGHTS کے ریپریزنٹیٹو ڈائریکٹر اور پروڈیوسر مکوتو کیمورا نے شرکت کی۔ دونوں مقررین نے سعودی عرب کے قومی دن کی تقریب کے لیے تیار کی گئی مختصر اینیم فلم کے تخلیقی سفر کی تفصیلات شیئر کیں، یعنی تصور کی تشکیل سے لے کر حتمی پروڈکشن تک کا پورا مرحلہ۔ مباحثے میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ کس طرح سعودی-جاپانی تخلیقی تعاون نے سعودی ثقافت کے عناصر کو جاپانی اینیم کے مخصوص فن کے ذریعے زندہ کیا۔
مانگا پروڈکشنز کے سی ای او ڈاکٹر عصام بخاری نے اس موقع پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کمپنی کی سعودی قومی دن کی اینیم پروڈکشنز کی کامیابی سعودی تخلیقی مواد کی بڑھتی ہوئی عالمی کشش کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب کے 96ویں قومی دن کی تقریب کے لیے بنائی گئی اینیم فلم نے 111 ملین سے زائد ویوز حاصل کیں، جبکہ 95ویں قومی دن کے لیے تیار کی گئی فلم کو 2025 کے MUSE کریٹو ایوارڈز میں اینیمیشن کے زمرے میں پلاٹینم ایوارڈ ملا اور اسے فرانس کے شہر کان میں ورلڈ فلم فیسٹیول میں فائنلسٹ کے طور پر نامزد کیا گیا۔
ڈاکٹر بخاری نے نوٹ کیا کہ یہ کامیابیاں سعودی عرب کی تخلیقی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہیں کہ وہ ثقافتی طور پر متاثر کہانیوں کو بین الاقوامی سامعین تک پہنچا سکتا ہے۔ انہوں نے عالمی شراکت داریوں کی اہمیت پر زور دیا کہ ان کے ذریعے عالمی معیار کا سعودی مواد تیار کیا جا سکتا ہے اور عالمی اینیم انڈسٹری میں مملکت کی موجودگی مضبوط ہوتی ہے۔
کیا سعودی ثقافت کے عناصر جاپانی اینیم کے فن میں ڈھل کر نئے سامعین تک پہنچ سکتے ہیں؟ یہ سوال اس پینل مباحثے کا مرکزی نکتہ تھا، جہاں بتایا گیا کہ مشترکہ پروڈکشن کے عمل میں دونوں ممالک کے تخلیق کاروں نے مل کر کام کیا۔ نور الججکلی اور مکوتو کیمورا نے تصور کی تشکیل سے حتمی پروڈکشن تک کے مراحل پر بات کی، اور یہ واضح کیا کہ سعودی کہانی کو جاپانی اینیم کے انداز میں کیسے پیش کیا گیا۔
TOKYO ANIME NEXT کا انعقاد ٹوکیو اینیم ایوارڈ فیسٹیول (TAAF) کے ایک نئے باب کے طور پر ہوا، جس کا پہلا ایڈیشن ٹوکیو کے اکیبوکورو ضلع میں منعقد ہوا۔ یہ ایونٹ 30 اکتوبر سے 2 نومبر 2026 تک جاری رہا، اور مانگا پروڈکشنز اس کا اسپانسر تھی۔ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق کمپنی کی شرکت کا مقصد بین الاقوامی موجودگی کو بڑھانا اور جاپان کے ساتھ تخلیقی شراکت داریوں کو مضبوط کرنا تھا۔
کیا عالمی اینیم انڈسٹری میں سعودی مواد کے لیے جگہ بن رہی ہے؟ ڈاکٹر عصام بخاری کے مطابق کمپنی کی قومی دن کی پروڈکشنز کی کامیابی اس بات کا ثبوت ہے کہ سعودی تخلیقی مواد کی عالمی کشش بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے 96ویں قومی دن کی فلم کے 111 ملین سے زائد ویوز کا حوالہ دیا، جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سعودی کہانیاں بین الاقوامی سامعین تک پہنچ رہی ہیں۔
95ویں قومی دن کے لیے بنائی گئی فلم کو 2025 کے MUSE کریٹو ایوارڈز میں اینیمیشن کے زمرے میں پلاٹینم ایوارڈ ملا، اور اسے فرانس کے شہر کان میں ورلڈ فلم فیسٹیول میں فائنلسٹ کے طور پر نامزد کیا گیا۔ یہ دونوں اعزازات ایس پی اے کی رپورٹ میں درج ہیں، اور ڈاکٹر بخاری نے انہیں سعودی تخلیقی صلاحیت کے بین الاقوامی اعتراف کے طور پر پیش کیا۔
کیا مشترکہ پروڈکشن ماڈل سعودی کہانیوں کو عالمی سطح پر پہنچانے کا مؤثر ذریعہ ہے؟ پینل مباحثے میں بتایا گیا کہ سعودی-جاپانی تخلیقی تعاون نے سعودی ثقافت کے عناصر کو جاپانی اینیم کے مخصوص فن کے ذریعے زندہ کیا۔ اس تعاون میں مانگا پروڈکشنز اور جاپان کی BLUE RIGHTS شامل تھیں، اور دونوں کے نمائندوں نے مشترکہ طور پر اس سفر کی تفصیلات شیئر کیں۔
ڈاکٹر بخاری نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی شراکت داریاں عالمی معیار کا سعودی مواد تیار کرنے اور عالمی اینیم انڈسٹری میں مملکت کی موجودگی مضبوط کرنے کے لیے اہم ہیں۔ ان کے مطابق یہ شراکت داریاں سعودی عرب کی تخلیقی صلاحیت کو بین الاقوامی سامعین تک پہنچانے میں مدد دیتی ہیں، اور ثقافتی طور پر متاثر کہانیوں کو عالمی سطح پر پیش کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔
مانگا پروڈکشنز محمد بن سلمان فاؤنڈیشن (مسک) کی ذیلی کمپنی ہے، اور یہ ایونٹ میں بطور اسپانسر شامل ہوئی۔ ایس پی اے کے مطابق کمپنی کی شرکت بین الاقوامی موجودگی کو وسعت دینے اور جاپان کے ساتھ تخلیقی شراکت داریوں کو مضبوط بنانے کے عزم کا حصہ تھی۔ ایونٹ کا انعقاد ٹوکیو میں ہوا، اور یہ TAAF کے نئے باب کا پہلا ایڈیشن تھا جو اکیبوکورو ضلع میں منعقد ہوا۔
کیا سعودی اینیم پروڈکشنز کو بین الاقوامی ایوارڈز میں مسلسل کامیابی مل سکتی ہے؟ 95ویں قومی دن کی فلم کو MUSE کریٹو ایوارڈز میں پلاٹینم ایوارڈ ملا اور کان کے ورلڈ فلم فیسٹیول میں فائنلسٹ کے طور پر نامزد کیا گیا، جبکہ 96ویں قومی دن کی فلم نے 111 ملین سے زائد ویوز حاصل کیں۔ یہ اعداد و شمار ایس پی اے کی رپورٹ میں ڈاکٹر بخاری کے حوالے سے درج ہیں۔
پینل مباحثے کا عنوان ”دو ثقافتیں، ایک کہانی: سعودی-جاپانی مشترکہ پروڈکشن کے پردے کے پیچھے“ تھا، جس میں نور الججکلی اور مکوتو کیمورا نے شرکت کی۔ مقررین نے سعودی قومی دن کی تقریب کے لیے تیار کی گئی مختصر اینیم فلم کے تصور کی تشکیل سے حتمی پروڈکشن تک کے سفر پر بات کی، اور یہ بتایا کہ مشترکہ کوششوں سے سعودی ثقافت کے عناصر کو اینیم کے فن میں کیسے ڈھالا گیا۔
کیا ثقافتی تعاون دونوں ممالک کے تخلیق کاروں کے لیے نئے مواقع پیدا کرتا ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق اس مباحثے میں اس بات پر روشنی ڈالی گئی کہ سعودی-جاپانی تخلیقی تعاون نے سعودی ثقافت کے عناصر کو جاپانی اینیم کے مخصوص فن کے ذریعے زندہ کیا۔ اس تعاون میں دونوں طرف کے پیشہ ور افراد شامل تھے، جنہوں نے مشترکہ طور پر فلم کی تیاری کے مراحل طے کیے۔
ڈاکٹر عصام بخاری نے کہا کہ کمپنی کی سعودی قومی دن کی اینیم پروڈکشنز کی کامیابی سعودی تخلیقی مواد کی بڑھتی ہوئی عالمی کشش کو ظاہر کرتی ہے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ کامیابیاں سعودی عرب کی تخلیقی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہیں کہ وہ ثقافتی طور پر متاثر کہانیوں کو بین الاقوامی سامعین تک پہنچا سکتا ہے۔
TOKYO ANIME NEXT کا پہلا ایڈیشن ٹوکیو کے اکیبوکورو ضلع میں منعقد ہوا، اور یہ ٹوکیو اینیم ایوارڈ فیسٹیول (TAAF) کے نئے باب کا آغاز تھا۔ ایونٹ 30 اکتوبر سے 2 نومبر 2026 تک جاری رہا، اور مانگا پروڈکشنز نے اس میں بطور اسپانسر شرکت کی۔ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق کمپنی کا مقصد اپنی بین الاقوامی موجودگی کو بڑھانا اور جاپان کے ساتھ تخلیقی شراکت داریوں کو مضبوط کرنا تھا۔
کیا سعودی کہانیاں جاپانی اینیم کے ذریعے عالمی سامعین کے دلوں تک پہنچ سکتی ہیں؟ پینل مباحثے میں بتایا گیا کہ مشترکہ پروڈکشن کے ذریعے سعودی ثقافت کے عناصر کو اینیم کے فن میں ڈھالا گیا، اور یہ کہ دونوں ممالک کے تخلیق کاروں نے مل کر اس پر کام کیا۔ ڈاکٹر بخاری کے مطابق عالمی شراکت داریاں عالمی معیار کا سعودی مواد تیار کرنے اور عالمی اینیم انڈسٹری میں مملکت کی موجودگی مضبوط کرنے کے لیے اہم ہیں۔
ایس پی اے کی رپورٹ میں ایونٹ کے شرکاء کی تعداد، پینل مباحثے کے شرکاء کی مزید تفصیلات، یا آنے والے پروجیکٹس کے بارے میں معلومات نہیں دی گئیں۔ رپورٹ میں فلم کی تیاری کی لاگت، دورانیہ، یا نمائش کے شیڈول کا بھی ذکر نہیں ہے۔ یہ تمام معلومات صرف اس حد تک دستیاب ہیں جو سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے اپنی رپورٹ میں فراہم کی ہیں۔
مانگا پروڈکشنز نے کس ایونٹ میں شرکت کی؟ مانگا پروڈکشنز نے TOKYO ANIME NEXT میں بطور اسپانسر شرکت کی، جو 30 اکتوبر سے 2 نومبر 2026 تک ٹوکیو، جاپان میں منعقد ہوا۔ یہ ایونٹ ٹوکیو اینیم ایوارڈ فیسٹیول (TAAF) کے نئے باب کا پہلا ایڈیشن تھا، جو ٹوکیو کے اکیبوکورو ضلع میں منعقد ہوا۔ ایس پی اے کے مطابق کمپنی کی شرکت کا مقصد بین الاقوامی موجودگی کو وسعت دینا اور جاپان کے ساتھ تخلیقی شراکت داریوں کو مضبوط کرنا تھا۔
پینل مباحثے میں کون شامل تھا؟ پینل مباحثے کا عنوان ”دو ثقافتیں، ایک کہانی: سعودی-جاپانی مشترکہ پروڈکشن کے پردے کے پیچھے“ تھا۔ اس میں مانگا پروڈکشنز کی پروڈکشن مینیجر نور الججکلی اور جاپان کی BLUE RIGHTS کے ریپریزنٹیٹو ڈائریکٹر اور پروڈیوسر مکوتو کیمورا نے شرکت کی۔ دونوں نے سعودی قومی دن کی تقریب کے لیے تیار کی گئی مختصر اینیم فلم کے تصور کی تشکیل سے حتمی پروڈکشن تک کے سفر کی تفصیلات شیئر کیں۔
سعودی قومی دن کی اینیم فلموں کی کامیابی کیسے بیان کی گئی؟ مانگا پروڈکشنز کے سی ای او ڈاکٹر عصام بخاری کے مطابق 96ویں قومی دن کی فلم نے 111 ملین سے زائد ویوز حاصل کیں۔ 95ویں قومی دن کی فلم کو 2025 کے MUSE کریٹو ایوارڈز میں اینیمیشن کے زمرے میں پلاٹینم ایوارڈ ملا اور اسے فرانس کے شہر کان میں ورلڈ فلم فیسٹیول میں فائنلسٹ کے طور پر نامزد کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کامیابیاں سعودی تخلیقی مواد کی بڑھتی ہوئی عالمی کشش کو ظاہر کرتی ہیں۔
ڈاکٹر بخاری نے عالمی شراکت داریوں کے بارے میں کیا کہا؟ ڈاکٹر بخاری نے نوٹ کیا کہ یہ کامیابیاں سعودی عرب کی تخلیقی صلاحیت کو ظاہر کرتی ہیں کہ وہ ثقافتی طور پر متاثر کہانیوں کو بین الاقوامی سامعین تک پہنچا سکتا ہے۔ انہوں نے عالمی شراکت داریوں کی اہمیت پر زور دیا کہ ان کے ذریعے عالمی معیار کا سعودی مواد تیار کیا جا سکتا ہے اور عالمی اینیم انڈسٹری میں مملکت کی موجودگی مضبوط ہوتی ہے۔ ان کے مطابق یہ شراکت داریاں سعودی تخلیقی صلاحیت کو بین الاقوامی سطح پر پیش کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
مانگا پروڈکشنز کس ادارے کی ذیلی کمپنی ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق مانگا پروڈکشنز محمد بن سلمان فاؤنڈیشن (مسک) کی ذیلی کمپنی ہے۔ کمپنی نے TOKYO ANIME NEXT میں بطور اسپانسر شرکت کی، جو 30 اکتوبر سے 2 نومبر 2026 تک ٹوکیو، جاپان میں منعقد ہوا۔ ایونٹ کا انعقاد ٹوکیو اینیم ایوارڈ فیسٹیول (TAAF) کے نئے باب کے طور پر ہوا، جس کا پہلا ایڈیشن ٹوکیو کے اکیبوکورو ضلع میں منعقد ہوا۔
رپورٹ میں کون سی معلومات شامل نہیں ہیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں ایونٹ کے شرکاء کی تعداد، پینل مباحثے کے شرکاء کی مزید تفصیلات، یا آنے والے پروجیکٹس کے بارے میں معلومات نہیں دی گئیں۔ رپورٹ میں فلم کی تیاری کی لاگت، دورانیہ، یا نمائش کے شیڈول کا بھی ذکر نہیں ہے۔ یہ تمام معلومات صرف اس حد تک دستیاب ہیں جو سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے اپنی رپورٹ میں فراہم کی ہیں۔





