Saturday, November 7, 2026
سعودی خبریں

مدینہ میں فکری انحرافات کے مقابلے سعودی کوششوں پر بین الاقوامی کانفرنس کا آغاز

مدینہ میں فکری انحرافات کے مقابلے سعودی کوششوں پر بین الاقوامی کانفرنس کا آغاز

مدینہ منورہ میں اتوار کے روز فکری انحرافات کے مقابلے سعودی عرب کی کوششوں سے متعلق بین الاقوامی کانفرنس کا افتتاحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں ممتاز علماء، ماہرین اور محققین نے شرکت کی۔ یہ کانفرنس اسلامی یونیورسٹی مدینہ نے منعقد کی ہے اور اس کا افتتاحی اجلاس عقیدے کے اس کردار کا جائزہ لے رہا ہے جو فکری انحرافات کو روکنے اور افراد و معاشرے کو گمراہ کن خیالات سے محفوظ رکھنے سے متعلق ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، افتتاحی اجلاس کی صدارت مسجد قباء کے امام و خطیب اور مسجد نبوی کے استاد ڈاکٹر سلیمان الرُحیلی نے کی، جو اسلامی یونیورسٹی مدینہ کے فیکلٹی ممبر بھی ہیں۔ اجلاس میں صحیح دینی شعور کے فکری انحرافات کی روک تھام میں کردار، فکر کی حفاظت کی اسلامی بنیادیں، اور انتہا پسندی کے مقابلے میں دینی عقیدے کو مضبوط بنانے کی اہمیت پر گفتگو کی گئی۔

کانفرنس کا یہ دو روزہ انعقاد اور اس کے ساتھ ہونے والی نمائش مدینہ کے کنگ سلمان انٹرنیشنل کنونشن سینٹر میں جاری ہے۔ اس کا مقصد سعودی عرب کی انتہا پسندی اور فکری انحرافات کے مقابلے کی کوششوں کو نمایاں کرنا، اعتدال اور توازن پر مبنی اس کے نقطہ نظر کو اجاگر کرنا، روادار اسلامی اقدار کو فروغ دینا اور مکالمے و رواداری کی ثقافت کو پروان چڑھانا ہے۔ کانفرنس میں علماء، ماہرین اور محققین کے ایک منتخب گروپ کی شرکت کے ساتھ ساتھ فکری انحرافات کی روک تھام اور ان سے نمٹنے کے لیے قومی تجربات اور اقدامات بھی پیش کیے جا رہے ہیں۔

کیا فکری انحرافات کا خطرہ آج کے ڈیجیٹل دور میں پہلے سے زیادہ سنگین ہو گیا ہے؟ یہ سوال کانفرنس کے شرکاء کے سامنے ایک بنیادی نقطہ نظر کے طور پر موجود ہے، کیونکہ افتتاحی اجلاس نے واضح طور پر عقیدے کو فکری بیداری کو فروغ دینے کے عمل سے جوڑ کر دیکھا۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ صحیح اسلامی عقیدہ فکری بیداری کے فروغ پر اثر انداز ہوتا ہے، اور یہی اثر وہ بنیاد فراہم کرتا ہے جس پر معاشرہ گمراہ کن نظریات کا مقابلہ کر سکتا ہے۔

اسلامی یونیورسٹی مدینہ کی میزبانی میں ہونے والی اس کانفرنس کا پہلا اجلاس ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب دنیا بھر میں فکری اور نظریاتی چیلنجز مختلف شکلوں میں سامنے آ رہے ہیں۔ کانفرنس کے شرکاء نے اس بات کا جائزہ لیا کہ کس طرح صحیح دینی شعور فکری انحرافات کی روک تھام میں کردار ادا کرتا ہے، اور کس طرح اسلامی بنیادیں فکر کو محفوظ رکھنے کے لیے کام کرتی ہیں۔

کیا دینی شعور ہی فکری انحرافات کے خلاف سب سے مضبوط ڈھال ہے؟ اجلاس میں اس نکتے پر تفصیلی بحث ہوئی کہ انتہا پسندی کے مقابلے میں دینی عقیدے کو مضبوط بنانا کیوں ضروری ہے۔ شرکاء نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ عقیدہ کس طرح متوازن شخصیات کی تعمیر میں کردار ادا کرتا ہے اور گمراہ کن خیالات کا مقابلہ کرتا ہے۔

کانفرنس کے ایجنڈے میں سعودی عرب کی ان کوششوں کو بھی نمایاں کیا گیا جو سنت کے فروغ سے متعلق ہیں اور جن کا عوامی شعور پر اثر پڑتا ہے۔ افتتاحی اجلاس میں اس پہلو پر بھی گفتگو ہوئی کہ سنت کے فروغ کی کوششیں عوامی بیداری کو کس طرح متاثر کرتی ہیں اور کس طرح یہ کوششیں فکری انحرافات کے خلاف ایک اجتماعی صف بندی تشکیل دیتی ہیں۔

کیا سنت کے فروغ کی کوششیں عوامی شعور کو تبدیل کرنے میں واقعی مؤثر ثابت ہو رہی ہیں؟ یہ سوال کانفرنس کے مباحثے کے مرکز میں رہا، جہاں شرکاء نے اس بات کا جائزہ لیا کہ دینی تعلیمات اور ان کی عملی تشریح کس طرح عام آدمی کی فکری سمت کا تعین کرتی ہے۔ اجلاس کی صدارت کرنے والے ڈاکٹر سلیمان الرُحیلی اسلامی یونیورسٹی مدینہ کے فیکلٹی ممبر ہیں اور مسجد قباء کے امام و خطیب کے ساتھ ساتھ مسجد نبوی کے استاد بھی ہیں، جس سے اس اجلاس کی علمی اور دینی اہمیت مزید واضح ہوتی ہے۔

کانفرنس کا دوسرا اہم موضوع فکر کی حفاظت کی اسلامی بنیادیں ہیں۔ شرکاء نے اس بات پر غور کیا کہ اسلامی تعلیمات میں فکر کی حفاظت کے کون سے اصول موجود ہیں اور کس طرح یہ اصول جدید دور کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے استعمال کیے جا سکتے ہیں۔ اس بحث کا تعلق براہ راست اس سوال سے ہے کہ معاشرے کو فکری طور پر مضبوط بنانے کے لیے کیا اقدامات ضروری ہیں۔

کیا معاشرے کو فکری طور پر مضبوط بنانے کے لیے صرف تعلیمی ادارے کافی ہیں یا خاندان اور مسجد کا کردار بھی اتنا ہی اہم ہے؟ کانفرنس کے شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ عقیدے کی مضبوطی متوازن شخصیات کی تعمیر کا ذریعہ ہے، اور یہی متوازن شخصیات ایک صحت مند معاشرے کی بنیاد فراہم کرتی ہیں۔

مدینہ منورہ میں کنگ سلمان انٹرنیشنل کنونشن سینٹر میں ہونے والی اس کانفرنس کے ساتھ ایک نمائش بھی منعقد کی جا رہی ہے۔ یہ نمائش کانفرنس کے موضوعات کو مزید عملی شکل میں پیش کرنے کا ذریعہ ہے، جہاں سعودی عرب کی کوششوں، اس کے نقطہ نظر اور اس کے تجربات کو شرکاء اور زائرین کے سامنے پیش کیا جا رہا ہے۔

کانفرنس کا ایک واضح مقصد سعودی عرب کی ان کوششوں کو نمایاں کرنا ہے جو انتہا پسندی اور فکری انحرافات کے مقابلے سے متعلق ہیں۔ اس کا دوسرا مقصد سعودی عرب کے اس نقطہ نظر کو اجاگر کرنا ہے جو اعتدال اور توازن پر مبنی ہے۔ یہ نقطہ نظر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح ایک متوازن اور معتدل فکری نظام معاشرے کو انتہا پسندی سے بچا سکتا ہے۔

کیا اعتدال اور توازن کا راستہ ہی انتہا پسندی کے خلاف سب سے مؤثر حکمت عملی ہے؟ کانفرنس کے شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ روادار اسلامی اقدار کو فروغ دینا اور مکالمے و رواداری کی ثقافت کو پروان چڑھانا اس جدوجہد کا لازمی حصہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کانفرنس کے ایجنڈے میں مکالمے اور رواداری کی ثقافت کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔

کانفرنس میں علماء، ماہرین اور محققین کے ایک منتخب گروپ کی شرکت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ مختلف علمی اور تحقیقی نقطہ نظر سامنے آئیں۔ یہ شرکت اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ فکری انحرافات کا مسئلہ کسی ایک ادارے یا کسی ایک شعبے کا مسئلہ نہیں بلکہ اس پر اجتماعی طور پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

کانفرنس میں قومی تجربات اور اقدامات بھی پیش کیے جا رہے ہیں جو فکری انحرافات کی روک تھام اور ان سے نمٹنے سے متعلق ہیں۔ یہ تجربات اس بات کا ثبوت ہیں کہ سعودی عرب میں اس میدان میں کس طرح عملی کام ہو رہا ہے اور کس طرح مختلف ادارے مل کر اس چیلنج کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

کیا قومی تجربات کو بین الاقوامی سطح پر شیئر کرنا اس مسئلے کے حل میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے؟ کانفرنس کا بین الاقوامی ہونا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ فکری انحرافات کا مسئلہ صرف ایک ملک تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک عالمی نوعیت کا چیلنج ہے جس پر بین الاقوامی تعاون کی ضرورت ہے۔

افتتاحی اجلاس میں اس بات پر بھی روشنی ڈالی گئی کہ صحیح دینی شعور کس طرح فکری انحرافات کی روک تھام میں کردار ادا کرتا ہے۔ شرکاء نے اس بات کا جائزہ لیا کہ دینی تعلیمات کی صحیح سمجھ اور ان کی درست تشریح کس طرح گمراہ کن نظریات کے پھیلاؤ کو روک سکتی ہے۔

کانفرنس کے موضوعات میں فکر کی حفاظت کی اسلامی بنیادیں ایک اہم محور کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس بحث کا مقصد اس بات کو واضح کرنا ہے کہ اسلامی تعلیمات میں فکر کی حفاظت کے لیے کون سے اصول وضع کیے گئے ہیں اور کس طرح ان اصولوں کو موجودہ دور کے تقاضوں کے مطابق سمجھا اور اپنایا جا سکتا ہے۔

کیا فکر کی حفاظت کے اسلامی اصول آج کے پیچیدہ فکری چیلنجز کا مکمل جواب فراہم کرتے ہیں؟ اس سوال کا جواب کانفرنس کے شرکاء کی بحث میں تلاش کیا جا رہا ہے، جہاں مختلف علمی نقطہ نظر سامنے آ رہے ہیں اور ان پر غور و خوض کیا جا رہا ہے۔

انتہا پسندی کے مقابلے میں دینی عقیدے کو مضبوط بنانے کی اہمیت کانفرنس کے مرکزی نکات میں شامل ہے۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ عقیدے کی مضبوطی ہی وہ بنیاد ہے جس پر انتہا پسندانہ نظریات کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ یہ نقطہ نظر اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ فکری اور نظریاتی محاذ پر کام کرنے کے لیے دینی بنیادوں کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔

سعودی عرب کی سنت کے فروغ کی کوششیں اور ان کا عوامی شعور پر اثر کانفرنس کے ایک اور اہم موضوع کے طور پر سامنے آیا۔ شرکاء نے اس بات پر گفتگو کی کہ کس طرح سنت کے فروغ کی کوششیں عوامی بیداری کو فروغ دیتی ہیں اور کس طرح یہ کوششیں معاشرے میں اعتدال اور توازن کی فضا قائم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔

عقیدے کا متوازن شخصیات کی تعمیر میں کردار بھی کانفرنس کے مباحثے کا حصہ رہا۔ شرکاء نے اس بات کا جائزہ لیا کہ کس طرح صحیح عقیدہ فرد کی شخصیت کو متوازن بناتا ہے اور کس طرح یہ توازن گمراہ کن خیالات کے خلاف ایک قدرتی تحفظ فراہم کرتا ہے۔

کیا متوازن شخصیت کی تعمیر ہی گمراہ کن خیالات کے خلاف سب سے مؤثر طویل مدتی حکمت عملی ہے؟ یہ سوال کانفرنس کے شرکاء کی بحث میں ایک اہم نکتے کے طور پر سامنے آیا، کیونکہ عقیدے اور شخصیت کی تعمیر کے درمیان تعلق کو ایک بنیادی عنصر قرار دیا گیا۔

کانفرنس کا انعقاد اسلامی یونیورسٹی مدینہ کی جانب سے کیا گیا ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ علمی ادارے اس نوعیت کے مباحثوں میں کس طرح مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ یونیورسٹی کی میزبانی اس بات کو بھی ظاہر کرتی ہے کہ فکری انحرافات کے مقابلے کے لیے علمی تحقیق اور تعلیمی اداروں کا تعاون کتنا ضروری ہے۔

کانفرنس کے شرکاء میں علماء، ماہرین اور محققین شامل ہیں، جن کی موجودگی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ بحث کے مختلف پہلوؤں پر گہرائی سے غور کیا جائے۔ یہ تنوع اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ فکری انحرافات کا مسئلہ کثیر الجہتی ہے اور اس پر مختلف زاویوں سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

کانفرنس کے ساتھ منعقد ہونے والی نمائش اس بات کا موقع فراہم کرتی ہے کہ سعودی عرب کی کوششوں کو عملی شکل میں دیکھا جا سکے۔ نمائش کے ذریعے شرکاء اور زائرین اس بات کا جائزہ لے سکتے ہیں کہ مختلف ادارے کس طرح اس میدان میں کام کر رہے ہیں اور کون سے اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں۔

کیا اس نوعیت کی نمائشیں عوامی سطح پر شعور بیدار کرنے میں مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں؟ نمائش کا انعقاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ کانفرنس کا مقصد صرف علمی بحث تک محدود نہیں بلکہ عوامی سطح پر بیداری پیدا کرنا بھی ہے۔

کانفرنس کا مقصد سعودی عرب کی ان کوششوں کو نمایاں کرنا ہے جو انتہا پسندی اور فکری انحرافات کے مقابلے سے متعلق ہیں۔ یہ کوششیں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ سعودی عرب اس میدان میں کس طرح مسلسل کام کر رہا ہے اور کس طرح مختلف ادارے اور ماہرین مل کر اس چیلنج کا مقابلہ کر رہے ہیں۔

سعودی عرب کے نقطہ نظر کی بنیاد اعتدال اور توازن پر رکھی گئی ہے، اور کانفرنس کا ایک واضح مقصد اس نقطہ نظر کو اجاگر کرنا ہے۔ یہ نقطہ نظر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ انتہا پسندی کے مقابلے کے لیے صرف رد عمل کافی نہیں بلکہ ایک متوازن اور معتدل فکری نظام کی تعمیر ضروری ہے۔

روادار اسلامی اقدار کو فروغ دینا کانفرنس کے مقاصد میں شامل ہے۔ شرکاء نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی تعلیمات رواداری اور اعتدال کی تعلیم دیتی ہیں، اور ان اقدار کو فروغ دینا ہی انتہا پسندانہ نظریات کے خلاف مؤثر حکمت عملی ہے۔

کیا روادار اسلامی اقدار کو فروغ دینے کے لیے تعلیمی نظام میں بنیادی تبدیلیاں درکار ہیں؟ کانفرنس کے مباحثے میں اس بات پر غور کیا گیا کہ مکالمے اور رواداری کی ثقافت کو کس طرح پروان چڑھایا جا سکتا ہے اور اس کے لیے کون سے عملی اقدامات ضروری ہیں۔

مکالمے اور رواداری کی ثقافت کو فروغ دینا کانفرنس کے مرکزی مقاصد میں شامل ہے۔ یہ مقصد اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ فکری انحرافات کے مقابلے کے لیے صرف دفاعی حکمت عملی کافی نہیں بلکہ ایک مثبت اور تعمیری ثقافت کی تعمیر بھی ضروری ہے جو مکالمے اور رواداری پر مبنی ہو۔

کانفرنس میں پیش کیے جانے والے قومی تجربات اور اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ سعودی عرب میں اس میدان میں عملی سطح پر کس طرح کام ہو رہا ہے۔ یہ تجربات مختلف اداروں اور ماہرین کی کوششوں کا نتیجہ ہیں جو فکری انحرافات کی روک تھام اور ان سے نمٹنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔

کانفرنس کا دو روزہ انعقاد اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس موضوع پر تفصیلی اور گہرائی سے غور و خوض کیا جا رہا ہے۔ دو دن کے اس اجلاس میں مختلف نشستیں اور مباحثے شامل ہیں جہاں شرکاء اپنے علمی اور تحقیقی نقطہ نظر پیش کر رہے ہیں۔

کیا دو روزہ کانفرنس کے نتائج عملی سطح پر کوئی واضح تبدیلی لا سکیں گے؟ یہ سوال اس بات سے جڑا ہے کہ اس نوعیت کی علمی کانفرنسوں کے نتائج کو کس طرح عملی اقدامات میں تبدیل کیا جا سکتا ہے اور کس طرح ان سے مستفید ہوا جا سکتا ہے۔

مدینہ منورہ میں کنگ سلمان انٹرنیشنل کنونشن سینٹر کا انتخاب اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اس نوعیت کی کانفرنس کے لیے کس طرح ایک مناسب اور باوقار مقام کا انتخاب کیا گیا ہے۔ یہ مقام اس بات کو بھی ظاہر کرتا ہے کہ کانفرنس کی میزبانی کو کس سطح کی اہمیت دی گئی ہے۔

کانفرنس کے شرکاء میں علماء، ماہرین اور محققین کی موجودگی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ مختلف علمی روایات اور تحقیقی نقطہ نظر سامنے آئیں۔ یہ تنوع اس بحث کو مزید گہرا اور جامع بناتا ہے، جس سے مختلف پہلوؤں پر روشنی پڑتی ہے۔

افتتاحی اجلاس کی صدارت ڈاکٹر سلیمان الرُحیلی نے کی، جو مسجد قباء کے امام و خطیب، مسجد نبوی کے استاد اور اسلامی یونیورسٹی مدینہ کے فیکلٹی ممبر ہیں۔ ان کی علمی اور دینی حیثیت اس اجلاس کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتی ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اس موضوع پر دینی اور علمی دونوں حوالوں سے غور کیا جا رہا ہے۔

اجلاس میں صحیح دینی شعور کے فکری انحرافات کی روک تھام میں کردار پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ شرکاء نے اس بات کا جائزہ لیا کہ کس طرح دینی تعلیمات کی صحیح سمجھ فرد اور معاشرے کو گمراہ کن نظریات سے محفوظ رکھتی ہے۔

کیا صحیح دینی شعور کے بغیر فکری انحرافات کا مؤثر مقابلہ ممکن ہے؟ یہ سوال کانفرنس کے شرکاء کی بحث میں ایک بنیادی نکتے کے طور پر سامنے آیا، جہاں اس بات پر زور دیا گیا کہ دینی شعور اور فکری بیداری ایک دوسرے سے جڑے ہوئے عناصر ہیں۔

کانفرنس کے ایجنڈے میں فکر کی حفاظت کی اسلامی بنیادیں، انتہا پسندی کے مقابلے میں دینی عقیدے کی مضبوطی، سنت کے فروغ کی کوششیں اور ان کا عوامی شعور پر اثر، اور عقیدے کا متوازن شخصیات کی تعمیر میں کردار جیسے موضوعات شامل ہیں۔ یہ موضوعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ کانفرنس کا دائرہ کار کس قدر وسیع اور جامع ہے۔

رپورٹ میں کانفرنس کے شرکاء کی تعداد، اجلاسوں کی تفصیل، یا کسی مخصوص اقدام کے اعلان کا ذکر نہیں کیا گیا۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں کانفرنس کے مقاصد، موضوعات اور شرکاء کی اقسام کا ذکر تو موجود ہے، لیکن اس میں کسی فیصلے، سفارش یا عملی اقدام کا اعلان شامل نہیں ہے۔

کانفرنس کا انعقاد کہاں اور کس نے کیا؟ کانفرنس اسلامی یونیورسٹی مدینہ نے منعقد کی اور یہ مدینہ کے کنگ سلمان انٹرنیشنل کنونشن سینٹر میں دو روزہ انعقاد کے ساتھ جاری ہے۔ اس کے ساتھ ایک نمائش بھی منعقد کی جا رہی ہے۔ ایس پی اے کے مطابق کانفرنس میں علماء، ماہرین اور محققین کا ایک منتخب گروپ شرکت کر رہا ہے۔

افتتاحی اجلاس کی صدارت کس نے کی؟ افتتاحی اجلاس کی صدارت مسجد قباء کے امام و خطیب، مسجد نبوی کے استاد اور اسلامی یونیورسٹی مدینہ کے فیکلٹی ممبر ڈاکٹر سلیمان الرُحیلی نے کی۔ اجلاس میں عقیدے کے فکری انحرافات کی روک تھام میں کردار کا جائزہ لیا گیا۔ ایس پی اے کے مطابق اجلاس میں صحیح اسلامی عقیدے کے فکری بیداری پر اثرات پر بھی گفتگو ہوئی۔

کانفرنس کے اہم موضوعات کون سے ہیں؟ کانفرنس میں صحیح دینی شعور کا فکری انحرافات کی روک تھام میں کردار، فکر کی حفاظت کی اسلامی بنیادیں، انتہا پسندی کے مقابلے میں دینی عقیدے کی مضبوطی، سنت کے فروغ کی کوششیں اور ان کا عوامی شعور پر اثر، اور عقیدے کا متوازن شخصیات کی تعمیر میں کردار جیسے موضوعات شامل ہیں۔ ایس پی اے کے مطابق اجلاس میں گمراہ کن خیالات کے مقابلے پر بھی روشنی ڈالی گئی۔

کانفرنس کے مقاصد کیا ہیں؟ کانفرنس کا مقصد سعودی عرب کی انتہا پسندی اور فکری انحرافات کے مقابلے کی کوششوں کو نمایاں کرنا، اعتدال اور توازن پر مبنی نقطہ نظر کو اجاگر کرنا، روادار اسلامی اقدار کو فروغ دینا اور مکالمے و رواداری کی ثقافت کو پروان چڑھانا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق کانفرنس میں فکری انحرافات کی روک تھام سے متعلق قومی تجربات اور اقدامات بھی پیش کیے جا رہے ہیں۔

کانفرنس میں کون کون شرکت کر رہا ہے؟ کانفرنس میں علماء، ماہرین اور محققین کا ایک منتخب گروپ شرکت کر رہا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق یہ شرکاء مختلف علمی اور تحقیقی نقطہ نظر پیش کر رہے ہیں۔ کانفرنس میں قومی تجربات اور اقدامات بھی پیش کیے جا رہے ہیں جو فکری انحرافات کی روک تھام اور ان سے نمٹنے سے متعلق ہیں۔

کانفرنس کہاں منعقد ہو رہی ہے اور کتنے دن جاری رہے گی؟ کانفرنس مدینہ کے کنگ سلمان انٹرنیشنل کنونشن سینٹر میں منعقد ہو رہی ہے اور یہ دو روزہ ایونٹ ہے۔ اس کے ساتھ ایک نمائش بھی منعقد کی جا رہی ہے۔ ایس پی اے کے مطابق افتتاحی اجلاس اتوار کے روز ہوا، جس میں شرکاء نے عقیدے، فکری بیداری اور انتہا پسندی کے مقابلے سے متعلق موضوعات پر گفتگو کی۔