Saturday, November 7, 2026
سعودی خبریں

مراکش کے بادشاہ نے حوثی ملیشیا کے حملوں کی مذمت کی، مکہ اور مدینہ کو نشانہ بنانے کی کوششوں کو مجرمانہ قرار دیا

مراکش کے بادشاہ نے حوثی ملیشیا کے حملوں کی مذمت کی، مکہ اور مدینہ کو نشانہ بنانے کی کوششوں کو مجرمانہ قرار دیا

مراکش کے بادشاہ محمد ششم نے سعودی عرب پر ایران نواز حوثی ملیشیا کے بار بار حملوں کی مذمت کی ہے، جن میں شہری اور اقتصادی تنصیبات، اہم اداروں، شہروں اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ مذمت دو الگ الگ کیبلز میں سامنے آئی ہے جو خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کو بھیجی گئیں۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 27 ستمبر 2026 کو رباط سے بیان کیا، مراکش کے بادشاہ نے اپنی اور مراکشی عوام کی جانب سے ان حملوں کی مذمت کی اور کہا کہ ان حملوں نے صرف تنصیبات اور شہریوں کو نشانہ بنانے تک ہی محدود نہیں رہا۔

بادشاہ محمد ششم نے کہا کہ معاملہ اس سے بھی آگے بڑھ گیا ہے اور یہ حملے زمین پر موجود مقدس ترین مقامات اور ہر مسلمان کے دل میں سب سے زیادہ محترم مقامات یعنی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی مایوسانہ اور مجرمانہ کوششیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہی بات ان کی مذمت کو مزید شدید بناتی ہے۔

اپنے پیغام میں مراکش کے بادشاہ نے کہا: ”عقیدے، تاریخ اور مشترکہ تقدیر کے رشتوں کی وفاداری، اور ان مضبوط برادرانہ تعلقات کی بنا پر جو ذاتی طور پر ہمیں، ہمارے دونوں خاندانوں اور ہماری دو برادر اقوام کو آپس میں جوڑتے ہیں، میں آپ کے پیارے ملک کے اس نازک موڑ پر آپ سے مخاطب ہوں، جب ہماری تاریخی ذمہ داری، مذہبی اقدار اور حکمت عملی کے تقاضے ہم سب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ ہم حق، خودمختاری، سلامتی اور امت مسلمہ کے مقدس مقامات کے دفاع میں متحد ہو کر کھڑے ہوں۔“

انہوں نے مزید کہا: ”یہ قابل مذمت حملے اور مغرور سعودی عوام کی سلامتی، استحکام اور بہبود کو نقصان پہنچانے کی مایوسانہ کوششیں محض برادر مملکت سعودی عرب، اس کے عوام اور وہاں عمرہ ادا کرنے والوں پر حملہ نہیں ہیں، بلکہ یہ دنیا بھر کے 1.8 بلین سے زائد مسلمانوں کے جذبات پر کھلا حملہ بھی ہیں۔ یہ اس عظیم اسلامی عقیدے کی ان اقدار اور اصولوں کی بھی واضح خلاف ورزی ہیں جن کی بنیاد امن، رواداری اور خون، عزت اور مقدس مقامات کی حرمت پر رکھی گئی ہے۔“

مراکش کے بادشاہ نے کہا: ”ہم ان مجرمانہ کارروائیوں کی مذمت کرتے ہیں، جن کے لیے…“ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق یہاں متن مختصر ہو جاتا ہے، تاہم بادشاہ کے پیغام کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ ان حملوں کو اسلامی اقدار اور مقدس مقامات کی حرمت کے خلاف کھلی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے۔

یہ مذمت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب سعودی عرب کی سرزمین پر حوثی ملیشیا کے حملے جاری ہیں، جن کا نشانہ شہری اور اقتصادی تنصیبات، اہم ادارے، شہر اور رہائشی علاقے بن رہے ہیں۔ مراکش کے بادشاہ کا پیغام دو الگ کیبلز کی صورت میں خادم حرمین شریفین اور ولی عہد کو بھیجا گیا، جو اس بات کا اشارہ ہے کہ رباط اس معاملے کو کس سطح کی اہمیت دے رہا ہے۔

کیا دنیا بھر کے 1.8 بلین مسلمانوں کے جذبات کو نشانہ بنانا کوئی معمولی بات ہے؟ کیا مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی طرف بڑھنے کی کوشش کو صرف ایک علاقائی تنازعہ سمجھا جا سکتا ہے؟ اور کیا امت مسلمہ کے مقدس مقامات کے دفاع میں متحد ہونے کی ضرورت آج کے دور میں پہلے سے زیادہ واضح نہیں ہو گئی؟

مراکش کے بادشاہ نے اپنے پیغام میں عقیدے، تاریخ اور مشترکہ تقدیر کے رشتوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ یہ تعلقات ذاتی طور پر انہیں، ان کے خاندان اور عوام کو سعودی قیادت اور عوام سے جوڑتے ہیں۔ انہوں نے اس نازک موڑ پر تاریخی ذمہ داری، مذہبی اقدار اور حکمت عملی کے تقاضوں کا ذکر کیا، اور کہا کہ ان سب کا تقاضا ہے کہ حق، خودمختاری، سلامتی اور مقدس مقامات کے دفاع میں سب متحد رہیں۔

بادشاہ محمد ششم نے واضح کیا کہ یہ حملے محض سعودی عرب پر حملہ نہیں بلکہ عمرہ ادا کرنے والوں کو بھی نشانہ بناتے ہیں، اور یہی پہلو ان کی مذمت کو مزید تقویت دیتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات پر کھلا حملہ ہیں اور اسلامی عقیدے کی بنیادی اقدار یعنی امن، رواداری اور خون، عزت اور مقدس مقامات کی حرمت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔

کیا امن اور رواداری کی تعلیم دینے والے مذہب کے نام پر مقدس مقامات کو نشانہ بنانا اس عقیدے کے منافی نہیں؟ کیا خون، عزت اور مقدس مقامات کی حرمت کو پامال کرنے والے کسی بھی عمل کو اسلامی اقدار کا نام دیا جا سکتا ہے؟ اور کیا اس طرح کے حملوں کے سامنے خاموش رہنا ممکن ہے؟

مراکش کے بادشاہ کا یہ بیان سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کے بار بار حملوں کے تناظر میں سامنے آیا ہے، جن میں شہری اور اقتصادی تنصیبات، اہم ادارے، شہر اور رہائشی علاقے شامل ہیں۔ انہوں نے ان حملوں کو مایوسانہ اور مجرمانہ قرار دیا، اور کہا کہ ان کا مقصد سعودی عوام کی سلامتی، استحکام اور بہبود کو نقصان پہنچانا ہے۔

بادشاہ محمد ششم نے اپنے پیغام میں یہ بھی کہا کہ یہ حملے اسلامی عقیدے کی ان اقدار کی خلاف ورزی ہیں جن کی بنیاد امن، رواداری اور مقدس مقامات کی حرمت پر رکھی گئی ہے۔ انہوں نے ان حملوں کو قابل مذمت قرار دیا اور کہا کہ ان کے لیے ذمہ داروں کو جوابدہ ہونا چاہیے۔

کیا مقدس مقامات کی حرمت کا تحفظ صرف ایک ملک کی ذمہ داری ہے یا یہ پوری امت مسلمہ کی مشترکہ ذمہ داری ہے؟ کیا حرمین شریفین کی طرف بڑھنے کی کوششوں کے سامنے متحدہ مؤقف اختیار کرنا وقت کی ضرورت نہیں؟ اور کیا اس طرح کے حملے اسلامی دنیا کے اندر اتحاد کو مزید مضبوط کرنے کا سبب نہیں بنتے؟

مراکش کے بادشاہ نے اپنے پیغام میں خادم حرمین شریفین اور ولی عہد و وزیر اعظم سے براہ راست مخاطب ہو کر کہا کہ وہ اس نازک موڑ پر سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں، اور یہ کہ تاریخی ذمہ داری، مذہبی اقدار اور حکمت عملی کے تقاضے سب ایک ہی سمت میں اشارہ کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ تقاضے ہم سب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ حق، خودمختاری، سلامتی اور مقدس مقامات کے دفاع میں متحد ہو کر کھڑے ہوں۔

یہ بیان رباط سے جاری ہوا اور اس میں مراکش کے بادشاہ نے اپنی اور مراکشی عوام کی جانب سے سعودی عرب کے خلاف حوثی ملیشیا کے حملوں کی مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملے شہری اور اقتصادی تنصیبات، اہم اداروں، شہروں اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بناتے ہیں، اور ان کا دائرہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ تک پھیلانے کی کوشش کی گئی۔

کیا مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان حملوں کو صرف ایک سیاسی تنازعہ کہا جا سکتا ہے؟ کیا 1.8 بلین مسلمانوں کے جذبات کو نشانہ بنانے والے حملوں کے بعد عالمی سطح پر متحدہ ردعمل کی ضرورت نہیں؟ اور کیا اسلامی تعاون کی تنظیموں اور مسلم ممالک کے لیے یہ لمحہ ایک واضح پیغام دینے کا نہیں؟

مراکش کے بادشاہ کے پیغام میں یہ نکتہ نمایاں ہے کہ ان حملوں نے صرف تنصیبات اور شہریوں کو نشانہ بنانے پر اکتفا نہیں کیا بلکہ زمین کے مقدس ترین مقامات اور ہر مسلمان کے دل میں سب سے زیادہ محترم مقامات کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے اسے مایوسانہ اور مجرمانہ کوشش قرار دیا اور کہا کہ یہی بات ان کی مذمت کو مزید شدید بناتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ حملے محض برادر مملکت سعودی عرب، اس کے عوام اور وہاں عمرہ ادا کرنے والوں پر حملہ نہیں بلکہ دنیا بھر کے 1.8 بلین سے زائد مسلمانوں کے جذبات پر کھلا حملہ بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسلامی عقیدے کی ان اقدار اور اصولوں کی واضح خلاف ورزی ہیں جن کی بنیاد امن، رواداری اور خون، عزت اور مقدس مقامات کی حرمت پر رکھی گئی ہے۔

کیا امن اور رواداری کی اقدار کو ماننے والے لوگ مقدس مقامات پر حملوں کے خلاف خاموش رہ سکتے ہیں؟ کیا خون، عزت اور مقدس مقامات کی حرمت کا تحفظ ہر مسلمان کی ذاتی ذمہ داری نہیں؟ اور کیا اس طرح کے حملوں کے خلاف آواز اٹھانا عقیدے کا تقاضا نہیں؟

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق مراکش کے بادشاہ نے اپنے پیغام میں یہ بھی کہا کہ وہ ان مجرمانہ کارروائیوں کی مذمت کرتے ہیں، جن کے لیے ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرایا جانا چاہیے۔ رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اس سے آگے بادشاہ کے پیغام میں کیا کہا گیا، تاہم مذمت کا لہجہ اور مقدس مقامات کے حوالے سے بیان کردہ موقف اس بات کا غماز ہے کہ رباط اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔

یہ کیبلز خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کو بھیجی گئیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مراکش سعودی قیادت کے ساتھ براہ راست رابطے کے ذریعے اپنا مؤقف واضح کر رہا ہے۔ بادشاہ محمد ششم نے اپنے پیغام میں عقیدے، تاریخ اور مشترکہ تقدیر کے رشتوں کے ساتھ ساتھ ذاتی برادرانہ تعلقات کا بھی ذکر کیا۔

کیا یہ برادرانہ تعلقات ہی وہ بنیاد ہیں جس پر مشکل وقت میں مؤقف واضح کرنا ممکن ہوتا ہے؟ کیا مشترکہ تقدیر کا تصور اسلامی ممالک کے درمیان تعاون کو مزید مضبوط بناتا ہے؟ اور کیا اس طرح کے پیغامات علاقائی سلامتی کے لیے ایک واضح پیغام دیتے ہیں؟

مراکش کے بادشاہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ ان کی مذمت کی شدت کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ حملے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوششوں تک پہنچ گئے، جو زمین کے مقدس ترین مقامات اور ہر مسلمان کے دل میں سب سے زیادہ محترم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کوششیں مایوسانہ اور مجرمانہ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یہ حملے سعودی عرب، اس کے عوام اور عمرہ ادا کرنے والوں کے خلاف ہیں، لیکن ان کا اثر دنیا بھر کے 1.8 بلین سے زائد مسلمانوں کے جذبات پر بھی پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسلامی عقیدے کی ان اقدار اور اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے جن کی بنیاد امن، رواداری اور خون، عزت اور مقدس مقامات کی حرمت پر رکھی گئی ہے۔

کیا مقدس مقامات کی طرف بڑھنے کی کوشش کو کسی بھی صورت میں جائز قرار دیا جا سکتا ہے؟ کیا اسلامی عقیدے کی اقدار کے خلاف اس طرح کی خلاف ورزیوں پر عالمی سطح پر مؤقف اختیار کرنا ضروری نہیں؟ اور کیا امت مسلمہ کے مقدس مقامات کے دفاع میں متحد ہونا آج کی سب سے بڑی ضرورت نہیں؟

واضح رہے کہ ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان حملوں کے نتیجے میں کسی جانی یا مالی نقصان کا کوئی عدد سامنے آیا، نہ ہی یہ کہ کیبلز کے جواب میں سعودی جانب سے کسی ردعمل کا ذکر ہے۔ رپورٹ میں مراکش کے بادشاہ کے پیغام کے وہ حصے بھی مکمل طور پر شامل نہیں جو مختصر کر دیے گئے، البتہ ان کی مذمت، مقدس مقامات کے حوالے سے موقف اور اسلامی اقدار کے تحفظ پر زور واضح طور پر سامنے آیا ہے۔

مراکش کے بادشاہ نے کس کو کیبلز بھیجیں اور ان میں کیا کہا؟ مراکش کے بادشاہ محمد ششم نے دو کیبلز خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور ولی عہد و وزیر اعظم شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کو بھیجیں۔ انہوں نے اپنی اور مراکشی عوام کی جانب سے سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے بار بار حملوں کی مذمت کی، جن میں شہری اور اقتصادی تنصیبات، اہم ادارے، شہر اور رہائشی علاقے نشانہ بنے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی مایوسانہ اور مجرمانہ کوششیں بھی ہیں۔

بادشاہ محمد ششم نے ان حملوں کو اسلامی اقدار کے خلاف کیوں قرار دیا؟ بادشاہ محمد ششم نے کہا کہ یہ حملے محض سعودی عرب، اس کے عوام اور عمرہ ادا کرنے والوں پر حملہ نہیں بلکہ دنیا بھر کے 1.8 بلین سے زائد مسلمانوں کے جذبات پر کھلا حملہ بھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اسلامی عقیدے کی ان اقدار اور اصولوں کی واضح خلاف ورزی ہیں جن کی بنیاد امن، رواداری اور خون، عزت اور مقدس مقامات کی حرمت پر رکھی گئی ہے۔ انہوں نے ان حملوں کو قابل مذمت اور مجرمانہ قرار دیا۔

بادشاہ محمد ششم نے مقدس مقامات کے حوالے سے کیا موقف اپنایا؟ بادشاہ محمد ششم نے کہا کہ ان کی مذمت کی شدت کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ حملے صرف تنصیبات اور شہریوں تک محدود نہیں رہے بلکہ زمین کے مقدس ترین مقامات اور ہر مسلمان کے دل میں سب سے زیادہ محترم مقامات یعنی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو نشانہ بنانے کی کوششوں تک پہنچ گئے۔ انہوں نے ان کوششوں کو مایوسانہ اور مجرمانہ قرار دیا اور کہا کہ یہ اسلامی عقیدے کی اقدار کے خلاف ہیں۔

بادشاہ محمد ششم نے تاریخی ذمہ داری اور مشترکہ تقدیر کا ذکر کیسے کیا؟ بادشاہ محمد ششم نے کہا کہ عقیدے، تاریخ اور مشترکہ تقدیر کے رشتوں کی وفاداری اور ان برادرانہ تعلقات کی بنا پر جو ذاتی طور پر انہیں، ان کے خاندان اور عوام کو سعودی قیادت اور عوام سے جوڑتے ہیں، وہ اس نازک موڑ پر مخاطب ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تاریخی ذمہ داری، مذہبی اقدار اور حکمت عملی کے تقاضے ہم سب سے مطالبہ کرتے ہیں کہ حق، خودمختاری، سلامتی اور مقدس مقامات کے دفاع میں متحد ہو کر کھڑے ہوں۔

یہ بیان کہاں سے جاری ہوا اور کس نے نشر کیا؟ یہ بیان رباط سے جاری ہوا اور سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 27 ستمبر 2026 کو اسے نشر کیا۔ رپورٹ کے مطابق مراکش کے بادشاہ نے اپنی اور مراکشی عوام کی جانب سے سعودی عرب پر حوثی ملیشیا کے حملوں کی مذمت کی۔ ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان حملوں کے نتیجے میں کسی جانی یا مالی نقصان کا کوئی عدد سامنے آیا یا کیبلز کے جواب میں سعودی جانب سے کوئی ردعمل آیا۔

رپورٹ میں کون سی معلومات شامل نہیں کی گئیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان حملوں کے نتیجے میں کسی جانی یا مالی نقصان کا کوئی عدد سامنے آیا، نہ ہی کیبلز کے جواب میں سعودی جانب سے کسی ردعمل کا ذکر ہے۔ رپورٹ میں مراکش کے بادشاہ کے پیغام کے وہ حصے بھی مکمل طور پر شامل نہیں جو مختصر کر دیے گئے۔ البتہ ان کی مذمت، مقدس مقامات کے حوالے سے موقف اور اسلامی اقدار کے تحفظ پر زور واضح طور پر سامنے آیا۔