نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے اعلیٰ سطحی ہفتے کے دوران سعودی وفد کے رکن نائب وزیر صحت برائے منصوبہ بندی و ترقی انجینئر عبدالعزیز الرمیح نے شرکت کی۔ یہ شرکت 27 ستمبر 2026 کو سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے مطابق سامنے آئی، جہاں عالمی صحت کے ایجنڈے پر اعلیٰ سطحی بات چیت کا سلسلہ جاری رہا۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، انجینئر عبدالعزیز الرمیح نے اس موقع پر وزراء، حکومتی عہدیداروں اور بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہوں کے ساتھ متعدد ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا محور صحت کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو بڑھانا، مہارت کے تبادلے کو فروغ دینا اور ترجیحی عالمی صحت کے مسائل سے نمٹنے کے لیے شراکت داریوں کو مضبوط بنانا تھا۔
کیا عالمی صحت کے بحرانوں کا مقابلہ صرف قومی سطح پر ممکن ہے، یا بین الاقوامی شراکت داری اس کا لازمی حصہ ہے؟ یہ سوال اس وقت مزید اہمیت اختیار کر جاتا ہے جب وبائی امراض کی روک تھام اور تیاری کا ایجنڈا اقوام متحدہ کے اعلیٰ ترین فورم پر زیر بحث ہو۔
ایس پی اے کے مطابق انجینئر الرمیح نے جمعہ کے روز منعقد ہونے والی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی دوسری اعلیٰ سطحی میٹنگ برائے وبائی امراض کی روک تھام، تیاری اور ردعمل (PPPR) میں بھی شرکت کی۔ اس میٹنگ میں انہوں نے بین الاقوامی وعدوں کو عملی اقدامات میں بدلنے کے لیے کام کیا، جن کا رخ مساوات، یکجہتی، قومی صلاحیتوں کی تعمیر اور صحت کے نظاموں کی مضبوطی کو بہتر بنانا ہے۔
اس اجلاس کے دوران سعودی عرب نے واضح موقف اختیار کیا کہ عالمی صحت کی سلامتی ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔ سعودی وفد نے اس بات پر زور دیا کہ سرحدوں سے آگے پھیلنے والے صحت کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر بین الاقوامی تعاون اور پائیدار قومی صلاحیتیں دونوں ناگزیر ہیں۔ کیا کوئی ملک تنہا ایسے خطرات کا سامنا کر سکتا ہے جو چند گھنٹوں میں براعظموں تک پہنچ جاتے ہیں؟
سعودی عرب نے اس موقع پر حج سیزن اور بڑے اجتماعات کے انتظام میں اپنے تجربے کو بھی اجاگر کیا۔ یہ تجربہ دنیا بھر میں منفرد سمجھا جاتا ہے، کیونکہ ہر سال لاکھوں زائرین ایک محدود جغرافیائی علاقے میں جمع ہوتے ہیں اور صحت کے نظام کو بیک وقت متعدد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق سعودی وفد نے ہیلتھ اِن آل پالیسیز اور ون ہیلتھ کے نقطہ نظر کو اپنانے کے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
کیا بڑے اجتماعات کے انتظام کا سعودی تجربہ دیگر ممالک کے لیے قابلِ نقل نمونہ بن سکتا ہے؟ یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ حج کے دوران صحت کی خدمات کا دائرہ صرف زائرین تک محدود نہیں رہتا، بلکہ میزبان آبادی اور بین الاقوامی سطح پر صحت کی نگرانی کے نظام سے بھی جڑا ہوتا ہے۔
اجلاس میں سعودی عرب نے عالمی ادارہ صحت کے وبائی معاہدے کے متن کی منظوری اور بین الاقوامی صحت کے ضوابط میں ترامیم کا خیرمقدم کیا۔ یہ دونوں پیش رفت عالمی صحت کے ڈھانچے میں اہم تبدیلیوں کی نشاندہی کرتی ہیں، جن کا مقصد ممالک کے درمیان معلومات کے تبادلے، صلاحیتوں کی تعمیر اور بحران کے وقت ہم آہنگ ردعمل کو یقینی بنانا ہے۔
کیا بین الاقوامی صحت کے ضوابط میں ترامیم عملی طور پر کمزور صحت کے نظام والے ممالک کی مدد کر پائیں گی؟ اس کا جواب اس بات پر منحصر ہے کہ وعدوں کو کس حد تک قومی بجٹ اور ادارہ جاتی صلاحیتوں میں تبدیل کیا جاتا ہے۔
سعودی وفد کی اس شرکت کا پس منظر یہ ہے کہ عالمی صحت کی حکمرانی میں خلیجی ممالک کا کردار گزشتہ برسوں میں نمایاں ہوا ہے۔ سعودی عرب نے وبائی امراض کے دوران صحت کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کے متعدد پلیٹ فارمز میں حصہ لیا اور عالمی ادارہ صحت کے ساتھ مل کر متعدد اقدامات کی حمایت کی۔ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق نائب وزیر صحت کی ملاقاتیں اسی سلسلے کی کڑی تھیں، جن میں صحت کے شعبے میں تعاون، مہارت کے تبادلے اور شراکت داریوں کی مضبوطی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کا اعلیٰ سطحی ہفتہ نیویارک میں منعقد ہوا، جہاں رکن ممالک کے نمائندے عالمی چیلنجز پر مشترکہ موقف تلاش کرتے ہیں۔ صحت کا موضوع اس سال کے ایجنڈے میں نمایاں رہا، خاص طور پر وبائی امراض کی روک تھام، تیاری اور ردعمل کے حوالے سے۔ کیا اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے بعد اختیار کیے گئے فیصلے زمینی سطح پر صحت کے کارکنوں تک پہنچ پاتے ہیں؟
سعودی عرب کا موقف یہ رہا ہے کہ سرحدوں کے پار پھیلنے والے صحت کے خطرات کا مقابلہ صرف اس وقت ممکن ہے جب قومی صلاحیتیں پائیدار ہوں اور بین الاقوامی تعاون مؤثر ہو۔ ایس پی اے کے مطابق وفد نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی صحت کی سلامتی مشترکہ ذمہ داری ہے، اور اس کے لیے مساوات اور یکجہتی کے اصولوں پر مبنی عملی اقدامات درکار ہیں۔
حج سیزن کے انتظام کے تجربے کا ذکر اس تناظر میں اہم ہے کہ سعودی عرب ہر سال دنیا کے سب سے بڑے اجتماعات میں سے ایک کی میزبانی کرتا ہے۔ اس دوران صحت کے نظام کو وبائی امراض کی نگرانی، ہنگامی خدمات، اور بین الاقوامی زائرین کی صحت سے متعلق متعدد تقاضوں کو پورا کرنا ہوتا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق سعودی وفد نے اس تجربے کو عالمی سطح پر صحت کی تیاری کے مباحث میں پیش کیا۔
ہیلتھ اِن آل پالیسیز کا نقطہ نظر یہ مانتا ہے کہ صحت کے فیصلے صرف وزارت صحت تک محدود نہیں رہتے، بلکہ تعلیم، ماحولیات، ٹرانسپورٹ اور معیشت جیسے شعبوں میں بھی صحت کے اثرات کو مدنظر رکھا جانا چاہیے۔ ون ہیلتھ کا تصور انسانی صحت، حیوانی صحت اور ماحولیاتی صحت کو ایک مربوط نظام کے طور پر دیکھتا ہے۔ کیا ان دونوں نقطہ نظروں کو قومی پالیسی سازی میں عملی شکل دی جا سکتی ہے؟
عالمی ادارہ صحت کے وبائی معاہدے کے متن کی منظوری اور بین الاقوامی صحت کے ضوابط میں ترامیم کو سعودی عرب نے خوش آئند قرار دیا۔ یہ پیش رفت اس طویل مذاکراتی عمل کا نتیجہ ہے جس کا مقصد دنیا کو آئندہ وبائی خطرات کے لیے بہتر طور پر تیار کرنا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق سعودی وفد نے اس عمل میں اپنی حمایت کا اظہار کیا۔
کیا عالمی صحت کے معاہدوں کی کامیابی کا انحصار رکن ممالک کی سیاسی مرضی پر ہے یا تکنیکی صلاحیتوں پر؟ تجربہ بتاتا ہے کہ دونوں عوامل باہم جڑے ہوئے ہیں، کیونکہ بہترین مسودہ بھی بغیر عمل درآمد کے ادھورا رہ جاتا ہے۔
ایس پی اے کی رپورٹ میں اس بات کا ذکر ہے کہ نائب وزیر صحت نے بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہوں کے ساتھ بھی ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد صحت کے شعبے میں شراکت داریوں کو مضبوط بنانا اور ترجیحی عالمی صحت کے مسائل پر مشترکہ نقطہ نظر تلاش کرنا تھا۔ اس قسم کی سفارت کاری بین الاقوامی فورمز پر ممالک کے مؤقف کو آگے بڑھانے کا اہم ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔
سعودی عرب کی صحت کی سفارت کاری کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہ ترقی پذیر ممالک کی صلاحیتوں کی تعمیر پر زور دیتا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق وفد نے قومی صلاحیتوں کی تعمیر کو اس موقف کا حصہ قرار دیا کہ صحت کے خطرات سے نمٹنے کے لیے پائیدار قومی نظام درکار ہیں۔ کیا عالمی تعاون کے فریم ورک میں کمزور صحت کے نظام والے ممالک کو ترجیح دی جانی چاہیے؟
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی ہفتے میں صحت کے موضوع پر ہونے والی یہ میٹنگ اپنی نوعیت کی دوسری ملاقات تھی، جس کا انعقاد جمعہ کے روز ہوا۔ اس میں رکن ممالک نے وبائی امراض کی روک تھام، تیاری اور ردعمل کے حوالے سے اپنے وعدوں کا جائزہ لیا اور انہیں عملی اقدامات میں بدلنے پر بات کی۔
سعودی وفد کی شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ مملکت عالمی صحت کے مباحث میں فعال کردار ادا کر رہی ہے۔ ایس پی اے کے مطابق نائب وزیر صحت نے مساوات، یکجہتی، قومی صلاحیتوں کی تعمیر اور صحت کے نظاموں کی مضبوطی جیسے اصولوں پر مبنی اقدامات پر کام کیا۔
کیا عالمی صحت کے وعدے آنے والے برسوں میں قابلِ پیمائش نتائج دکھا سکیں گے؟ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ ممالک کس حد تک اپنے قومی منصوبوں میں ان وعدوں کو شامل کرتے ہیں اور ان کی نگرانی کے لیے شفاف میکانزم بناتے ہیں۔
ایس پی اے کی رپورٹ میں اس بات کا کوئی ذکر نہیں کہ ملاقاتوں میں کون سے مخصوص ممالک یا تنظیمیں شامل تھیں، نہ ہی کسی معاہدے یا دستخط کی تفصیل دی گئی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ سعودی وفد نے ان ملاقاتوں میں کون سے مخصوص صحت کے مسائل کو ترجیح دی۔
اسی طرح رپورٹ میں حج سیزن کے تجربے کی تفصیلات، اعداد و شمار یا اس کے نتائج کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ ہیلتھ اِن آل پالیسیز اور ون ہیلتھ کے نقطہ نظر کے حوالے سے بھی صرف عزم کا ذکر ہے، جبکہ ان کے نفاذ کی تفصیلات موجود نہیں۔
وبائی معاہدے کے متن اور بین الاقوامی صحت کے ضوابط میں ترامیم کے حوالے سے بھی رپورٹ میں صرف خیرمقدم کا ذکر ہے۔ اس بات کی وضاحت نہیں کی گئی کہ ان ترامیم کے کون سے پہلو سعودی عرب کے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں یا ان پر عمل درآمد کا شیڈول کیا ہوگا۔
کیا بین الاقوامی فورمز پر اعلان کردہ عزم قومی سطح پر پالیسیوں کی شکل اختیار کر پاتے ہیں؟ یہ سوال ہر اس اجلاس کے بعد اٹھتا ہے جہاں عالمی وعدے کیے جاتے ہیں، اور اس کا جواب وقت کے ساتھ ساتھ عملی اقدامات سے ملتا ہے۔
سعودی عرب کی صحت کی پالیسیوں میں بڑے اجتماعات کا انتظام ایک مرکزی موضوع رہا ہے، کیونکہ حج اور عمرہ کے دوران صحت کے نظام پر غیر معمولی بوجھ پڑتا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق وفد نے اس تجربے کو بین الاقوامی سطح پر پیش کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مملکت اس شعبے میں اپنی مہارت کو عالمی مباحث کا حصہ بنانا چاہتی ہے۔
عالمی صحت کی سلامتی کے حوالے سے سعودی موقف میں مساوات اور یکجہتی پر زور دیا گیا۔ ایس پی اے کے مطابق وفد نے کہا کہ سرحدوں سے آگے پھیلنے والے صحت کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر بین الاقوامی تعاون اور پائیدار قومی صلاحیتیں دونوں ضروری ہیں۔
کیا عالمی صحت کے نظام میں فیصلہ سازی کے عمل میں ترقی پذیر ممالک کی نمائندگی بڑھانے کی ضرورت ہے؟ یہ بحث طویل عرصے سے جاری ہے اور ہر اعلیٰ سطحی اجلاس میں نئے زاویوں سے سامنے آتی ہے۔
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق نائب وزیر صحت نے وزراء اور حکومتی عہدیداروں کے ساتھ ملاقاتوں میں صحت کے شعبے میں تعاون بڑھانے، مہارت کے تبادلے اور شراکت داریوں کی مضبوطی پر تبادلہ خیال کیا۔ یہ ملاقاتیں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی ہفتے کے دوران نیویارک میں ہوئیں۔
رپورٹ میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ ان ملاقاتوں کے نتیجے میں کوئی مشترکہ اعلامیہ یا معاہدہ ہوا، نہ ہی اس بات کی تفصیل دی گئی کہ سعودی وفد نے کون سے نئے تعاون کے منصوبوں پر بات کی۔ اسی طرح رپورٹ میں شرکاء کی مکمل فہرست بھی موجود نہیں۔
سعودی عرب کا صحت کے شعبے میں بین الاقوامی کردار گزشتہ برسوں میں مختلف فورمز پر نمایاں ہوا ہے، اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اعلیٰ سطحی ہفتے میں شرکت اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ایس پی اے کے مطابق وفد نے عالمی صحت کے ترجیحی مسائل پر اپنا نقطہ نظر پیش کیا اور بین الاقوامی وعدوں کو عملی اقدامات میں بدلنے پر زور دیا۔
کیا صحت کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون کو تجارتی اور سفارتی مفادات سے الگ رکھا جا سکتا ہے؟ یہ سوال عالمی صحت کی حکمرانی کے مباحث میں بار بار سامنے آتا ہے، خاص طور پر جب وبائی معاہدے جیسے دستاویزات پر بات ہو رہی ہو۔
ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب نے عالمی ادارہ صحت کے وبائی معاہدے کے متن کی منظوری اور بین الاقوامی صحت کے ضوابط میں ترامیم کا خیرمقدم کیا۔ یہ دونوں پیش رفت عالمی صحت کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہیں، جن کا مقصد ممالک کے درمیان ہم آہنگی اور معلومات کے تبادلے کو بہتر بنانا ہے۔
اجلاس میں سعودی وفد نے حج سیزن اور بڑے اجتماعات کے انتظام میں اپنے تجربے کا ذکر کیا، ساتھ ہی ہیلتھ اِن آل پالیسیز اور ون ہیلتھ کے نقطہ نظر کو اپنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ایس پی اے کے مطابق یہ موقف عالمی صحت کی سلامتی کو مشترکہ ذمہ داری قرار دینے کے سعودی نقطہ نظر کا حصہ ہے۔
رپورٹ میں اس بات کی کوئی تفصیل نہیں کہ ان ملاقاتوں میں صحت کے علاوہ کون سے موضوعات زیر بحث آئے، نہ ہی یہ بتایا گیا کہ سعودی وفد کی دیگر سرگرمیاں کیا رہیں۔ اسی طرح رپورٹ میں اجلاس کے دوران کیے گئے کسی مخصوص اعلان کا ذکر نہیں ہے۔
کیا عالمی صحت کے وعدوں کی نگرانی کے لیے کوئی آزاد میکانزم موجود ہے؟ اس سوال کا جواب عالمی ادارہ صحت اور رکن ممالک کے درمیان جاری مذاکرات کے نتائج پر منحصر ہے، اور ایس پی اے کی رپورٹ اس پہلو پر خاموش ہے۔
مجموعی طور پر، ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق نائب وزیر صحت برائے منصوبہ بندی و ترقی انجینئر عبدالعزیز الرمیح نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے اعلیٰ سطحی ہفتے میں سعودی وفد کے رکن کے طور پر شرکت کی، متعدد ملاقاتیں کیں، اور وبائی امراض کی روک تھام، تیاری اور ردعمل سے متعلق دوسری اعلیٰ سطحی میٹنگ میں حصہ لیا۔
رپورٹ میں رقم، شرکاء کی مکمل فہرست، ملاقاتوں کے نتائج یا آئندہ کے اقدامات کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔ یہ تفصیلات اس وقت تک سامنے نہیں آئیں جب تک یہ رپورٹ شائع ہوئی۔
نائب وزیر صحت نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں کون سی میٹنگ میں شرکت کی؟ ایس پی اے کے مطابق نائب وزیر صحت برائے منصوبہ بندی و ترقی انجینئر عبدالعزیز الرمیح نے جمعہ کے روز منعقد ہونے والی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی دوسری اعلیٰ سطحی میٹنگ برائے وبائی امراض کی روک تھام، تیاری اور ردعمل میں شرکت کی۔ اس میٹنگ میں انہوں نے بین الاقوامی وعدوں کو عملی اقدامات میں بدلنے کے لیے کام کیا، جن کا رخ مساوات، یکجہتی، قومی صلاحیتوں کی تعمیر اور صحت کے نظاموں کی مضبوطی پر تھا۔
سعودی وفد نے اجلاس میں کون سا موقف پیش کیا؟ ایس پی اے کے مطابق سعودی عرب نے اس بات پر زور دیا کہ عالمی صحت کی سلامتی ایک مشترکہ ذمہ داری ہے اور سرحدوں سے آگے پھیلنے والے صحت کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مؤثر بین الاقوامی تعاون اور پائیدار قومی صلاحیتیں دونوں ضروری ہیں۔ وفد نے حج سیزن اور بڑے اجتماعات کے انتظام میں اپنے تجربے کا ذکر کیا اور ہیلتھ اِن آل پالیسیز اور ون ہیلتھ کے نقطہ نظر کو اپنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
سعودی عرب نے کن بین الاقوامی پیش رفت کا خیرمقدم کیا؟ ایس پی اے کے مطابق سعودی عرب نے عالمی ادارہ صحت کے وبائی معاہدے کے متن کی منظوری اور بین الاقوامی صحت کے ضوابط میں ترامیم کا خیرمقدم کیا۔ یہ دونوں پیش رفت عالمی صحت کے ڈھانچے کو مضبوط بنانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔ رپورٹ میں اس بات کی تفصیل نہیں دی گئی کہ ان ترامیم کے کون سے پہلو سعودی عرب کے لیے خاص اہمیت رکھتے ہیں یا ان پر عمل درآمد کا شیڈول کیا ہوگا۔
نائب وزیر صحت نے اجلاس کے دوران کون سی ملاقاتیں کیں؟ ایس پی اے کے مطابق انجینئر عبدالعزیز الرمیح نے وزراء، حکومتی عہدیداروں اور بین الاقوامی تنظیموں کے سربراہوں کے ساتھ متعدد ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں صحت کے شعبے میں بین الاقوامی تعاون بڑھانے، مہارت کے تبادلے اور ترجیحی عالمی صحت کے مسائل سے نمٹنے کے لیے شراکت داریوں کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ رپورٹ میں شرکاء کی مکمل فہرست یا ملاقاتوں کے مخصوص نتائج کا ذکر نہیں ہے۔
سعودی عرب نے حج کے تجربے کا ذکر کیوں کیا؟ ایس پی اے کے مطابق سعودی وفد نے حج سیزن اور بڑے اجتماعات کے انتظام میں اپنے تجربے کو اجاگر کیا، کیونکہ ہر سال لاکھوں زائرین ایک محدود علاقے میں جمع ہوتے ہیں اور صحت کے نظام کو متعدد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ تجربہ عالمی سطح پر صحت کی تیاری کے مباحث میں پیش کیا گیا۔ رپورٹ میں اس تجربے کی تفصیلات، اعداد و شمار یا نتائج کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
رپورٹ میں کون سی معلومات شامل نہیں ہیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کہ ملاقاتوں میں کون سے مخصوص ممالک یا تنظیمیں شامل تھیں، نہ ہی کسی معاہدے یا دستخط کی تفصیل دی گئی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ سعودی وفد نے ان ملاقاتوں میں کون سے مخصوص صحت کے مسائل کو ترجیح دی، نہ ہی رقم، شرکاء کی مکمل فہرست یا آئندہ کے اقدامات کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی گئیں۔





