مکہ میں جمعرات 5 نومبر 2026 کو جنرل ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹس کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل ڈاکٹر صالح المربع نے الشمیسی کے جنرل سروسز سینٹر میں قائم اسٹیٹس کاریکشن سینٹر کا معائنہ کیا۔ یہ دورہ ان یمنی شہریوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کی نگرانی کے لیے تھا جو اس وقت مملکت میں غیر قانونی حیثیت کے ساتھ موجود ہیں اور اسٹیٹس کاریکشن اقدام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، میجر جنرل ڈاکٹر صالح المربع نے پاسپورٹ عملے پر زور دیا کہ وہ طریقہ کار کو ہموار کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں تاکہ یمنی شہری مقررہ ضوابط کے مطابق اپنی حیثیت کو باقاعدہ بنا سکیں۔ انہوں نے ڈیجیٹل خدمات سے فائدہ اٹھانے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ مملکت بھر میں اسٹیٹس کاریکشن سینٹرز کو اس اقدام کے مستفید افراد کی خدمت کے لیے مکمل طور پر لیس ہونا چاہیے۔
دورے کا مقام اور سیاق و سباق
یہ معائنہ مکہ ریجن کے الشمیسی علاقے میں واقع جنرل سروسز سینٹر میں کیا گیا، جو ان مراکز میں سے ایک ہے جہاں یمنی شہری اپنی حیثیت درست کروانے کے لیے رجوع کرتے ہیں۔ الشمیسی مکہ کا ایک مصروف علاقہ ہے اور یہاں واقع سینٹر ان افراد کی بڑی تعداد کو خدمات فراہم کرتا ہے جو اسٹیٹس کاریکشن اقدام کے دائرے میں آتے ہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ اس طرح کے مراکز مملکت بھر میں کس طرح کام کرتے ہیں؟ یہ مراکز ان افراد کے لیے بنائے گئے ہیں جو مملکت میں غیر قانونی حیثیت کے ساتھ مقیم ہیں اور جنہیں مقررہ ضوابط کے تحت اپنی حیثیت کو باقاعدہ بنانے کا موقع دیا جا رہا ہے۔ اسٹیٹس کاریکشن اقدام کا مقصد ان افراد کو قانونی دائرے میں لانا ہے تاکہ وہ مملکت میں باقاعدہ طور پر رہ سکیں اور ضروری خدمات حاصل کر سکیں۔
عملے کو ہدایات
میجر جنرل ڈاکٹر صالح المربع نے اس موقع پر پاسپورٹ عملے کو ہدایت دی کہ وہ طریقہ کار کو مزید آسان بنانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ یمنی شہریوں کو مقررہ ضوابط کے مطابق اپنی حیثیت باقاعدہ بنانے میں سہولت فراہم کی جائے۔ انہوں نے ڈیجیٹل خدمات کے استعمال پر بھی زور دیا تاکہ عمل کو تیز اور مؤثر بنایا جا سکے۔
کیا ڈیجیٹل خدمات اس عمل کو واقعی تیز کر سکتی ہیں؟ ایس پی اے کے مطابق، قائم مقام ڈائریکٹر جنرل نے اس بات پر زور دیا کہ ڈیجیٹل خدمات سے فائدہ اٹھایا جائے اور مملکت بھر میں اسٹیٹس کاریکشن سینٹرز کو اس اقدام کے مستفید افراد کی خدمت کے لیے مکمل طور پر لیس کیا جائے۔ یہ ہدایات اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ حکام اس عمل کو زیادہ سے زیادہ آسان اور شفاف بنانا چاہتے ہیں۔
یمنی شہریوں کے لیے اقدام
اسٹیٹس کاریکشن اقدام ان یمنی شہریوں کے لیے ہے جو مملکت میں غیر قانونی حیثیت کے ساتھ موجود ہیں۔ اس اقدام کے تحت وہ مقررہ ضوابط کے مطابق اپنی حیثیت کو باقاعدہ بنا سکتے ہیں۔ یہ اقدام مملکت کی ان کوششوں کا حصہ ہے جن کا مقصد غیر قانونی حیثیت کے حامل افراد کو قانونی دائرے میں لانا ہے۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ اس اقدام سے کتنے افراد مستفید ہو رہے ہیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں اس بارے میں کوئی تعداد یا اعداد و شمار نہیں دیے گئے۔ رپورٹ میں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ یمنی شہری اس اقدام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ان کی حیثیت کو باقاعدہ بنانے کے لیے خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔
مملکت بھر میں مراکز
قائم مقام ڈائریکٹر جنرل نے اس بات پر زور دیا کہ مملکت بھر میں اسٹیٹس کاریکشن سینٹرز کو اس اقدام کے مستفید افراد کی خدمت کے لیے مکمل طور پر لیس ہونا چاہیے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ اقدام صرف مکہ تک محدود نہیں بلکہ پورے ملک میں نافذ ہے اور مختلف علاقوں میں مراکز قائم ہیں جہاں یمنی شہری اپنی حیثیت درست کروا سکتے ہیں۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ مراکز کس طرح لیس کیے جاتے ہیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، قائم مقام ڈائریکٹر جنرل نے اس بات کی اہمیت پر زور دیا کہ تمام مراکز مکمل طور پر لیس ہوں تاکہ مستفید افراد کو بہتر خدمات فراہم کی جا سکیں۔ اس میں عملے کی تربیت، ڈیجیٹل نظام اور دیگر سہولیات شامل ہو سکتی ہیں، تاہم رپورٹ میں اس کی تفصیل نہیں دی گئی۔
ضوابط کی پاسداری
میجر جنرل ڈاکٹر صالح المربع نے اس بات پر زور دیا کہ یمنی شہری مقررہ ضوابط کے مطابق اپنی حیثیت کو باقاعدہ بنائیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ یہ عمل کسی خاص ضوابط کے تحت ہو رہا ہے اور حکام اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ تمام کارروائیاں قواعد و ضوابط کے مطابق ہوں۔
کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ ضوابط کیا ہیں؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں ضوابط کی تفصیل نہیں دی گئی، لیکن یہ بات واضح ہے کہ حیثیت کو باقاعدہ بنانے کے لیے کچھ شرائط پوری کرنا ضروری ہیں۔ قائم مقام ڈائریکٹر جنرل کی ہدایات اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ عملے کو ان ضوابط کے مطابق خدمات فراہم کرنی ہیں تاکہ مستفید افراد کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
خدمات کی نگرانی
یہ دورہ اس بات کی نگرانی کے لیے تھا کہ یمنی شہریوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کس معیار کی ہیں۔ قائم مقام ڈائریکٹر جنرل نے خود سینٹر کا معائنہ کیا اور عملے سے ملاقات کی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکام اس اقدام کو سنجیدگی سے لے رہے ہیں اور اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ مستفید افراد کو بہترین ممکنہ خدمات فراہم کی جائیں۔
کیا اس طرح کے دورے خدمات کے معیار کو بہتر بناتے ہیں؟ ایس پی اے کے مطابق، اس دورے کا مقصد خدمات کی نگرانی کرنا تھا۔ قائم مقام ڈائریکٹر جنرل نے عملے کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ مزید محنت کریں اور طریقہ کار کو آسان بنائیں۔ اس قسم کی نگرانی سے یہ یقینی بنایا جاتا ہے کہ مراکز میں کام درست طریقے سے ہو رہا ہے اور مستفید افراد کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں ہے۔
ڈیجیٹل خدمات کی اہمیت
قائم مقام ڈائریکٹر جنرل نے ڈیجیٹل خدمات سے فائدہ اٹھانے پر خاص زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ڈیجیٹل خدمات کے ذریعے عمل کو تیز اور مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ حکام جدید ٹیکنالوجی کو اپنا کر خدمات کے معیار کو بہتر بنانا چاہتے ہیں۔
کیا ڈیجیٹل خدمات سے عمل واقعی آسان ہو جاتا ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق، قائم مقام ڈائریکٹر جنرل نے ڈیجیٹل خدمات کے استعمال پر زور دیا تاکہ یمنی شہریوں کو اپنی حیثیت باقاعدہ بنانے میں سہولت ہو۔ ڈیجیٹل خدمات سے مراد وہ آن لائن نظام ہو سکتے ہیں جن کے ذریعے درخواستیں جمع کرائی جا سکتی ہیں اور کارروائی تیز ہو سکتی ہے۔ تاہم رپورٹ میں اس کی تفصیل نہیں دی گئی۔
خلاصہ
مکہ میں الشمیسی کے جنرل سروسز سینٹر میں قائم اسٹیٹس کاریکشن سینٹر کا معائنہ اس بات کا ثبوت ہے کہ حکام اس اقدام کو کس قدر اہمیت دے رہے ہیں۔ قائم مقام ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل ڈاکٹر صالح المربع نے عملے کو ہدایت دی کہ وہ طریقہ کار کو آسان بنائیں، ڈیجیٹل خدمات سے فائدہ اٹھائیں اور مملکت بھر میں مراکز کو مکمل طور پر لیس کریں۔
ایس پی اے کی رپورٹ میں اس بارے میں کوئی تعداد، اعداد و شمار یا تکمیل کی تاریخ نہیں دی گئی کہ کتنے یمنی شہری اس اقدام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں یا یہ عمل کب تک جاری رہے گا۔ رپورٹ میں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ یہ دورہ خدمات کی نگرانی کے لیے تھا اور قائم مقام ڈائریکٹر جنرل نے عملے کو ہدایات دیں۔
اسٹیٹس کاریکشن سینٹر کا معائنہ کس نے کیا؟ جنرل ڈائریکٹوریٹ آف پاسپورٹس کے قائم مقام ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل ڈاکٹر صالح المربع نے مکہ ریجن کے الشمیسی علاقے میں جنرل سروسز سینٹر میں قائم اسٹیٹس کاریکشن سینٹر کا معائنہ کیا۔ ایس پی اے کے مطابق، یہ دورہ ان یمنی شہریوں کو فراہم کی جانے والی خدمات کی نگرانی کے لیے تھا جو اس وقت مملکت میں غیر قانونی حیثیت کے ساتھ موجود ہیں اور اسٹیٹس کاریکشن اقدام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔
قائم مقام ڈائریکٹر جنرل نے عملے کو کیا ہدایات دیں؟ میجر جنرل ڈاکٹر صالح المربع نے پاسپورٹ عملے پر زور دیا کہ وہ طریقہ کار کو ہموار کرنے کے لیے اپنی کوششیں تیز کریں تاکہ یمنی شہری مقررہ ضوابط کے مطابق اپنی حیثیت کو باقاعدہ بنا سکیں۔ انہوں نے ڈیجیٹل خدمات سے فائدہ اٹھانے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ مملکت بھر میں اسٹیٹس کاریکشن سینٹرز کو اس اقدام کے مستفید افراد کی خدمت کے لیے مکمل طور پر لیس ہونا چاہیے۔
اسٹیٹس کاریکشن اقدام کس کے لیے ہے؟ یہ اقدام ان یمنی شہریوں کے لیے ہے جو مملکت میں غیر قانونی حیثیت کے ساتھ موجود ہیں اور اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ ایس پی اے کے مطابق، اس اقدام کا مقصد ان افراد کو مقررہ ضوابط کے مطابق اپنی حیثیت کو باقاعدہ بنانے کا موقع فراہم کرنا ہے۔ قائم مقام ڈائریکٹر جنرل نے اس بات پر زور دیا کہ یمنی شہری مقررہ ضوابط کے مطابق اپنی حیثیت کو باقاعدہ بنائیں۔
کیا رپورٹ میں مستفید افراد کی تعداد دی گئی ہے؟ نہیں، ایس پی اے کی رپورٹ میں اس بارے میں کوئی تعداد یا اعداد و شمار نہیں دیے گئے کہ کتنے یمنی شہری اس اقدام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ رپورٹ میں صرف یہ بتایا گیا ہے کہ یمنی شہری اس اقدام سے فائدہ اٹھا رہے ہیں اور ان کی حیثیت کو باقاعدہ بنانے کے لیے خدمات فراہم کی جا رہی ہیں۔ رپورٹ میں تکمیل کی تاریخ بھی نہیں دی گئی۔





