نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے ہائی لیول ہفتے کے موقع پر سعودی عرب کے نائب وزیر برائے بین الاقوامی کثیرالجہتی امور اور جنرل سپروائزر برائے اقتصادی و ترقیاتی امور ڈپٹی شپ ڈاکٹر عبدالرحمٰن الراسی کی اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد دہشت گردی کے قائم مقام انڈر سیکرٹری جنرل الیگزینڈر زوئیف سے ملاقات ہوئی۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، ملاقات نیویارک میں جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے ہائی لیول ہفتے کے موقع پر ہوئی۔ ملاقات میں دونوں فریقوں نے انسداد دہشت گردی کے شعبے میں سعودی عرب اور اقوام متحدہ کے درمیان تعاون کا جائزہ لیا۔
بیان کے مطابق دونوں فریقوں نے دہشت گردانہ خطرات سے نمٹنے اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کو روکنے میں تعاون اور ہم آہنگی بڑھانے کے طریقوں پر بھی بات چیت کی، جو بین الاقوامی امن اور سلامتی میں معاون ہے۔
یہ ملاقات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے ہائی لیول ہفتے کے دوران ہوئی، جو ہر سال دنیا بھر کے رہنماؤں، وزراء اور اعلیٰ حکام کو ایک جگہ جمع کرتا ہے۔ ایسے مواقع پر دو طرفہ اور کثیرالجہتی ملاقاتیں معمول کا حصہ ہوتی ہیں، اور انسداد دہشت گردی ان موضوعات میں شامل رہتا ہے جن پر سعودی عرب اور اقوام متحدہ کے ادارے مسلسل رابطے میں رہتے ہیں۔
سعودی عرب کی جانب سے اس ملاقات میں نمائندگی نائب وزیر برائے بین الاقوامی کثیرالجہتی امور نے کی، جو اقتصادی و ترقیاتی امور کی ڈپٹی شپ کے جنرل سپروائزر بھی ہیں۔ اقوام متحدہ کی جانب سے دفتر برائے انسداد دہشت گردی کے قائم مقام انڈر سیکرٹری جنرل نے شرکت کی۔
بیان میں اس بات کا ذکر ہے کہ دونوں فریقوں نے انسداد دہشت گردی کے میدان میں تعاون کو بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا۔ اس میں دہشت گردانہ خطرات سے نمٹنے اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کو روکنے کے پہلو شامل ہیں۔
دہشت گردوں کی مالی معاونت کو روکنا بین الاقوامی سطح پر ایک اہم موضوع رہا ہے، اور اس پر اقوام متحدہ کے فریم ورک کے تحت رکن ممالک کے درمیان مسلسل بات چیت ہوتی رہتی ہے۔ سعودی عرب اور اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد دہشت گردی کے درمیان تعاون کا جائزہ لینا اس سلسلے کی ایک کڑی ہے۔
بیان کے مطابق اس تعاون اور ہم آہنگی کا مقصد بین الاقوامی امن اور سلامتی میں معاون ہونا ہے۔ یہی وہ فریم ورک ہے جس کے تحت اس ملاقات کے نتائج کو بیان کیا گیا ہے۔
ملاقات کے مقام کے بارے میں بیان میں نیویارک کا ذکر ہے، اور وقت کے حوالے سے یہ جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے ہائی لیول ہفتے کے دوران بتائی گئی ہے۔ تاریخ کے طور پر 27 ستمبر 2026 کا ذکر ہے۔
ایس پی اے کے مطابق ملاقات میں دونوں فریقوں نے انسداد دہشت گردی کے شعبے میں سعودی عرب اور اقوام متحدہ کے تعاون کا جائزہ لیا، تعاون اور ہم آہنگی بڑھانے کے طریقوں پر بات کی، دہشت گردانہ خطرات سے نمٹنے اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کو روکنے پر تبادلہ خیال کیا۔
بیان میں اس کے علاوہ کوئی اضافی تفصیل نہیں دی گئی۔ نہ ملاقات کے دورانیے کا ذکر ہے، نہ کسی مخصوص معاہدے یا فیصلے کا، اور نہ ہی کسی قسم کے اعداد و شمار کا۔
اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 81واں اجلاس نیویارک میں ہائی لیول ہفتے کے ساتھ جاری ہے، جہاں رکن ممالک کے نمائندے مختلف موضوعات پر ملاقاتیں کرتے ہیں۔ انسداد دہشت گردی ان موضوعات میں شامل ہے جن پر سعودی عرب اور اقوام متحدہ کے اداروں کے درمیان باقاعدہ رابطہ رہتا ہے۔
اس ملاقات کا تعلق اسی سلسلے سے ہے، جس میں دونوں فریقوں نے موجودہ تعاون کا جائزہ لیا اور اسے آگے بڑھانے کے طریقوں پر غور کیا۔ بیان کے مطابق اس کا مقصد بین الاقوامی امن اور سلامتی میں معاون ہونا ہے۔
سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے یہ خبر 27 ستمبر 2026 کو جاری کی، جس میں ملاقات کے شرکاء، مقام اور موضوعات کا ذکر کیا گیا۔
ملاقات میں کون کون شریک ہوا؟ سعودی عرب کی جانب سے نائب وزیر برائے بین الاقوامی کثیرالجہتی امور اور جنرل سپروائزر برائے اقتصادی و ترقیاتی امور ڈپٹی شپ ڈاکٹر عبدالرحمٰن الراسی نے شرکت کی۔ اقوام متحدہ کی جانب سے دفتر برائے انسداد دہشت گردی کے قائم مقام انڈر سیکرٹری جنرل الیگزینڈر زوئیف شریک ہوئے۔ ایس پی اے کے مطابق ملاقات نیویارک میں ہوئی۔
ملاقات کا مقام اور موقع کیا تھا؟ ایس پی اے کے مطابق ملاقات نیویارک میں ہوئی اور یہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے ہائی لیول ہفتے کے موقع پر تھی۔ خبر کی تاریخ 27 ستمبر 2026 ہے۔ بیان میں ملاقات کے مقام کے طور پر نیویارک کا ذکر کیا گیا ہے۔
ملاقات میں کن موضوعات پر بات ہوئی؟ بیان کے مطابق دونوں فریقوں نے انسداد دہشت گردی کے شعبے میں سعودی عرب اور اقوام متحدہ کے تعاون کا جائزہ لیا۔ اس کے علاوہ دہشت گردانہ خطرات سے نمٹنے اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کو روکنے میں تعاون اور ہم آہنگی بڑھانے کے طریقوں پر بات چیت کی گئی۔
اس ملاقات کا مقصد کیا بتایا گیا؟ ایس پی اے کے مطابق اس تعاون اور ہم آہنگی کا مقصد بین الاقوامی امن اور سلامتی میں معاون ہونا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ دونوں فریقوں نے دہشت گردانہ خطرات سے نمٹنے اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کو روکنے پر تبادلہ خیال کیا۔





