مدینہ منورہ میں اسلامی یونیورسٹی کے زیر اہتمام «بین الاقوامی کانفرنس برائے سعودی عرب کی کوششوں برائے مقابلہ فکری انحرافات» کل یعنی 27 ستمبر 2026 کو شروع ہوگی اور یہ 28 ستمبر تک جاری رہے گی۔ کانفرنس مدینہ ریجن کے گورنر شہزادہ سلمان بن سلطان بن عبدالعزیز کی سرپرستی میں منعقد ہو رہی ہے، جس میں مملکت کے اندر اور باہر سے علماء، حکام، محققین اور ماہرین کی ایک جماعت شرکت کرے گی۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 26 ستمبر 2026 کو بیان کیا، کانفرنس میں 56 ہم مرتبہ جائزہ شدہ سائنسی مقالات، نو مکالماتی نشستیں اور 10 ساتھی نمائشیں شامل ہوں گی۔ یہ نمائشیں فکری انحرافات کے اسباب اور اثرات سے متعلق متعدد امور اور ان سے نمٹنے کے طریقوں پر روشنی ڈالیں گی۔
کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ فکری انحرافات کا مسئلہ صرف نظریاتی بحث کا موضوع ہے، یا یہ روزمرہ سماجی حقیقت سے جڑا ہوا ہے؟ کانفرنس کے ایجنڈے میں شامل موضوعات میں انتہا پسندی کے خلاف قومی اقدامات بھی شامل ہیں، جو بتاتے ہیں کہ یہ معاملہ پالیسی اور عملی میدان دونوں سے تعلق رکھتا ہے۔
کانفرنس کے موضوعات میں صحیح عقیدے کا کردار، ذہنی صحت اور کمیونٹی اداروں کا کردار بھی شامل ہے، خاص طور پر فکری روک تھام کے تناظر میں۔ سوال یہ ہے کہ کیا صحیح عقیدے، ذہنی صحت اور سماجی اداروں کو ایک ہی فریم ورک میں دیکھا جا سکتا ہے، یا انہیں الگ الگ زاویوں سے سمجھنے کی ضرورت ہے؟
ایس پی اے کے مطابق، کانفرنس جدید ٹیکنالوجیز، مصنوعی ذہانت اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال پر بھی بات کرے گی، تاکہ آگاہی کو بڑھایا جا سکے اور عصری فکری چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔ کیا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز خود اس مسئلے کا حصہ ہیں یا انہیں حل کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے؟
کانفرنس کا مقصد سائنسی مکالمے کو تقویت دینا، مہارت کا تبادلہ کرنا اور ایسی سفارشات تیار کرنا ہے جو قومی اور بین الاقوامی کوششوں کو مضبوط بنائیں تاکہ زیادہ باشعور اور فکری انحرافات کا مقابلہ کرنے کے قابل معاشرے تشکیل پا سکیں۔
یہ کانفرنس ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب دنیا بھر میں فکری اور نظریاتی چیلنجز کی نوعیت بدل رہی ہے۔ کیا روایتی طریقے آج کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی ہیں؟ کانفرنس میں 56 مقالات کی تعداد خود بتاتی ہے کہ موضوع کی وسعت کتنی زیادہ ہے اور محققین اس پر کتنی گہرائی سے کام کر رہے ہیں۔
مدینہ منورہ کا انتخاب بھی اس کانفرنس کے سیاق میں اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ اسلامی یونیورسٹی مدینہ علمی اور دینی تعلیم کا ایک نمایاں مرکز ہے۔ کیا علمی اداروں کا کردار فکری روک تھام میں حکومتی اداروں سے زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے؟
نو مکالماتی نشستیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ کانفرنس صرف مقالات کی پیشکش تک محدود نہیں بلکہ مکالمے اور تبادلہ خیال کو بھی مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے۔ کیا مکالمہ ہی وہ ذریعہ ہے جس سے فکری انحرافات کے اسباب کو سمجھا جا سکتا ہے؟
10 ساتھی نمائشیں کانفرنس کے عملی پہلو کو نمایاں کرتی ہیں۔ کیا نمائشوں کے ذریعے عوام تک رسائی زیادہ مؤثر انداز میں ہو سکتی ہے؟ کانفرنس میں اندر اور باہر سے شرکاء کی شرکت اس بات کا اشارہ ہے کہ یہ مسئلہ کسی ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں۔
کانفرنس کے اہداف میں سفارشات کی تیاری شامل ہے جو قومی اور بین الاقوامی کوششوں کو مضبوط کریں۔ سوال یہ ہے کہ ان سفارشات کو عملی شکل دینے کا مرحلہ کتنا مؤثر ہوگا؟ ایس پی اے کی رپورٹ میں کانفرنس کے شرکاء کی تعداد، مخصوص ناموں، یا سفارشات کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔
کانفرنس کب اور کہاں ہوگی؟ کانفرنس 27 اور 28 ستمبر 2026 کو مدینہ منورہ میں اسلامی یونیورسٹی کے زیر اہتمام ہوگی۔ یہ مدینہ ریجن کے گورنر شہزادہ سلمان بن سلطان بن عبدالعزیز کی سرپرستی میں منعقد ہو رہی ہے۔ ایس پی اے کے مطابق اس میں مملکت کے اندر اور باہر سے علماء، حکام، محققین اور ماہرین شرکت کریں گے۔
کانفرنس میں کتنے مقالات اور نشستیں ہوں گی؟ ایس پی اے کے مطابق کانفرنس میں 56 ہم مرتبہ جائزہ شدہ سائنسی مقالات، نو مکالماتی نشستیں اور 10 ساتھی نمائشیں شامل ہوں گی۔ یہ نمائشیں فکری انحرافات کے اسباب اور اثرات اور ان سے نمٹنے کے طریقوں پر روشنی ڈالیں گی۔ رپورٹ میں شرکاء کی تعداد نہیں بتائی گئی۔
کانفرنس کے موضوعات کیا ہوں گے؟ موضوعات میں انتہا پسندی کے خلاف قومی اقدامات، صحیح عقیدے کا کردار، ذہنی صحت اور کمیونٹی اداروں کا کردار شامل ہیں۔ اس کے علاوہ جدید ٹیکنالوجیز، مصنوعی ذہانت اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال پر بھی بات ہوگی تاکہ آگاہی بڑھائی جا سکے اور عصری فکری چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔
کانفرنس کا مقصد کیا ہے؟ کانفرنس کا مقصد سائنسی مکالمے کو تقویت دینا، مہارت کا تبادلہ کرنا اور ایسی سفارشات تیار کرنا ہے جو قومی اور بین الاقوامی کوششوں کو مضبوط بنائیں۔ ایس پی اے کے مطابق اس کا ہدف زیادہ باشعور اور فکری انحرافات کا مقابلہ کرنے کے قابل معاشرے تشکیل دینا ہے۔ سفارشات کی تفصیلات رپورٹ میں نہیں دی گئیں۔





