Sunday, November 8, 2026
سعودی خبریں

مکہ مکرمہ میں نئی سڑکوں کے لین کھل گئے، سفر کا وقت 90 فیصد سے زیادہ کم

مکہ مکرمہ میں نئی سڑکوں کے لین کھل گئے، سفر کا وقت 90 فیصد سے زیادہ کم

مکہ مکرمہ میں تھرڈ رنگ روڈ اور پرنس سعود الفیصل روڈ کے متعدد نئے ترقی یافتہ لین پر ٹریفک کھول دیا گیا ہے، جس سے سفر کے وقت میں 90 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ اقدام رائل کمیشن فار مکہ سٹی اینڈ ہولی سائٹس نے مکمل کیا۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 26 ستمبر 2026 کو بیان کیا، ان لینوں کی افتتاحی تقریب مکہ مکرمہ میں ہوئی اور اس کا مقصد ٹریفک کی بھیڑ کو کم کرنا، سڑک کی حفاظت کو بہتر بنانا اور رہائشیوں، زائرین اور حج و عمرہ کے دوران عازمین کے لیے رسائی کو آسان بنانا ہے۔

تھرڈ رنگ روڈ پر 1.5 کلومیٹر طویل اضافی حصہ بنایا گیا ہے جو پرنس مطیب انٹرچینج کو پرنس سلطان انٹرچینج کے ذریعے مسجد الحرام انٹرچینج سے جوڑتا ہے۔ اس توسیع سے شہر کے مرکزی راستوں پر دباؤ کم ہونے کی توقع ہے۔ کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مسجد الحرام تک پہنچنے والے راستوں میں یہ اضافہ روزانہ کتنے مسافروں کے لیے آسانی پیدا کرے گا؟

اسی طرح پرنس سعود الفیصل روڈ کے آخری حصے پر بھی ٹریفک کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ حصہ پرنس محمد بن سلمان ایکسس کو پرنس نائف بن عبدالعزیز انٹرچینج کے ذریعے عبدالقادر کوشک اسٹریٹ سے ملاتا ہے۔ یہ رابطہ شہر کے اندر نقل و حرکت کے لیے ایک اہم راستہ فراہم کرتا ہے۔

رائل کمیشن فار مکہ سٹی اینڈ ہولی سائٹس کے مطابق یہ افتتاح مربوط انفراسٹرکچر منصوبوں کا حصہ ہیں۔ ان منصوبوں کا مقصد ٹریفک کی بھیڑ کو کم کرنا، سڑک کی حفاظت کو بہتر بنانا اور رہائشیوں، زائرین اور عازمین کے لیے رسائی کو ہموار بنانا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ حج اور عمرہ کے سیزن میں ان راستوں کی اہمیت کس حد تک بڑھ جاتی ہے؟

مکہ مکرمہ میں ہر سال لاکھوں عازمین حج و عمرہ کے لیے آتے ہیں، اور شہر کے اندر ٹریفک کے بہاؤ کا انتظام ایک مستقل چیلنج رہتا ہے۔ تھرڈ رنگ روڈ شہر کے گرد ایک اہم حلقہ ہے جو مختلف اضلاع کو آپس میں جوڑتا ہے، جبکہ پرنس سعود الفیصل روڈ شہر کے اندر ایک اہم شریان ہے۔ ان دونوں راستوں پر نئے لین کھلنے سے عازمین کو مسجد الحرام تک پہنچنے میں مدد ملے گی۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ توسیع حج کے دوران بھیڑ کے انتظام میں فیصلہ کن کردار ادا کرے گی؟

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق تھرڈ رنگ روڈ پر اضافی حصہ پرنس مطیب انٹرچینج سے شروع ہو کر پرنس سلطان انٹرچینج سے گزرتا ہوا مسجد الحرام انٹرچینج تک پہنچتا ہے۔ یہ 1.5 کلومیٹر کی لمبائی شہر کے مرکزی داخلی راستوں میں ایک اہم اضافہ ہے۔ اس سے نہ صرف مقامی رہائشیوں بلکہ باہر سے آنے والے زائرین کو بھی فائدہ پہنچے گا۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ایک کلومیٹر سے زیادہ سڑک کا اضافہ کس طرح پورے شہر کے ٹریفک نقشے کو بدل سکتا ہے؟

پرنس سعود الفیصل روڈ کے آخری حصے کا افتتاح بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ یہ حصہ پرنس محمد بن سلمان ایکسس کو عبدالقادر کوشک اسٹریٹ سے جوڑتا ہے اور درمیان میں پرنس نائف بن عبدالعزیز انٹرچینج واقع ہے۔ اس رابطے سے شہر کے مختلف حصوں کے درمیان سفر آسان ہوگا اور متبادل راستوں پر بوجھ کم ہوگا۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ پرنس محمد بن سلمان ایکسس مکہ مکرمہ کے جدید ترین ترقیاتی منصوبوں میں سے ایک ہے؟

رائل کمیشن فار مکہ سٹی اینڈ ہولی سائٹس مکہ مکرمہ اور مقدس مقامات کی ترقی اور انتظام کے لیے ذمہ دار ہے۔ اس کے تحت شہر میں سڑکوں، سرنگوں، پلوں اور دیگر بنیادی ڈھانچے کے منصوبے وقت کے ساتھ مکمل کیے جا رہے ہیں۔ ان منصوبوں کا مقصد شہر کو حج و عمرہ کے بڑھتے ہوئے حجم کے لیے تیار کرنا ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ انفراسٹرکچر کی بہتری سے عازمین کا تجربہ مزید بہتر ہوگا؟

ایس پی اے کے مطابق ان افتتاحات کا مقصد ٹریفک کی بھیڑ کو کم کرنا، سڑک کی حفاظت کو بہتر بنانا اور رہائشیوں، زائرین اور عازمین کے لیے رسائی کو آسان بنانا ہے۔ یہ تینوں اہداف مکہ مکرمہ جیسے شہر کے لیے انتہائی اہم ہیں جہاں ہر سال لاکھوں افراد آتے ہیں۔ سڑک کی حفاظت میں بہتری سے حادثات میں کمی واقع ہو سکتی ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ حج و عمرہ کے سیزن میں سڑک کی حفاظت کتنی اہم ہو جاتی ہے؟

تھرڈ رنگ روڈ مکہ مکرمہ کے اہم ترین حلقہ راستوں میں سے ایک ہے۔ یہ شہر کے مختلف اضلاع کو آپس میں جوڑتا ہے اور مسجد الحرام تک پہنچنے کے لیے متبادل راستے فراہم کرتا ہے۔ اس پر نئے لین کھلنے سے گاڑیوں کی روانی بہتر ہوگی اور رش کم ہوگا۔ کیا آپ نے کبھی رش کے اوقات میں تھرڈ رنگ روڈ پر سفر کیا ہے؟

پرنس سعود الفیصل روڈ شہر کے اندر ایک مصروف شریان ہے جو مختلف تجارتی اور رہائشی علاقوں سے گزرتی ہے۔ اس کے آخری حصے کا افتتاح اس راستے کو مکمل کرتا ہے اور شہر کے مشرقی اور مغربی حصوں کے درمیان رابطہ بہتر بناتا ہے۔ اس سے روزانہ کے سفر کرنے والوں کو وقت کی بچت ہوگی۔ کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ روزانہ کتنے افراد اس راستے سے گزرتے ہیں؟

حج اور عمرہ کے سیزن میں مکہ مکرمہ میں عازمین کی تعداد میں بے پناہ اضافہ ہوتا ہے۔ اس دوران شہر کی سڑکوں پر دباؤ بڑھ جاتا ہے اور ٹریفک کے انتظام کے لیے خصوصی اقدامات کیے جاتے ہیں۔ نئے لین اور بہتر روابط اس دباؤ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ان منصوبوں سے عازمین کو مسجد الحرام تک پہنچنے میں واضح فرق محسوس ہوگا؟

ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان منصوبوں پر کتنی رقم خرچ ہوئی، تعمیراتی کام کب شروع ہوا، یا ان لینوں کی گنجائش کتنی گاڑیاں فی گھنٹہ ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ مزید کون سے حصے زیر تعمیر ہیں یا ان کی تکمیل کی متوقع تاریخ کیا ہے۔ تاہم یہ واضح ہے کہ یہ افتتاح مکہ مکرمہ کے انفراسٹرکچر کی مسلسل بہتری کا حصہ ہیں۔

سفر کے وقت میں 90 فیصد سے زیادہ کمی ایک نمایاں تبدیلی ہے جو ان نئے لینوں کے کھلنے کے بعد سامنے آئی ہے۔ یہ کمی ان راستوں پر سفر کرنے والوں کے لیے براہ راست فائدہ ہے۔ رائل کمیشن فار مکہ سٹی اینڈ ہولی سائٹس نے یہ معلومات ایس پی اے کے ذریعے جاری کیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ سفر کے وقت میں اتنی بڑی کمی کس طرح روزمرہ زندگی کو متاثر کرتی ہے؟

مکہ مکرمہ میں ٹریفک کے مسائل کا حل صرف نئی سڑکیں بنانا نہیں بلکہ ان کا مؤثر انتظام بھی ہے۔ نئے لین، بہتر انٹرچینجز اور مربوط روابط اس سمت میں اہم قدم ہیں۔ ان اقدامات سے شہر کے اندر نقل و حرکت زیادہ منظم ہو سکتی ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ انفراسٹرکچر کے ساتھ ٹریفک آگاہی بھی ضروری ہے؟

رہائشیوں کے لیے ان نئے راستوں کا مطلب ہے کہ انہیں روزانہ کے سفر میں کم وقت لگے گا اور وہ اپنے کاموں کے لیے زیادہ وقت بچا سکیں گے۔ زائرین کے لیے یہ راستے شہر کے مختلف حصوں تک پہنچنے کو آسان بناتے ہیں۔ عازمین کے لیے مسجد الحرام تک رسائی میں بہتری سب سے اہم پہلو ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ مسجد الحرام تک پہنچنے کے راستے کتنے اہم ہیں؟

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ افتتاحات مربوط انفراسٹرکچر منصوبوں کا حصہ ہیں۔ یہ منصوبے ٹریفک کی بھیڑ کو کم کرنے، سڑک کی حفاظت کو بہتر بنانے اور رسائی کو آسان بنانے کے لیے بنائے گئے ہیں۔ ان کا دائرہ رہائشیوں، زائرین اور عازمین تک پھیلا ہوا ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ تینوں مقاصد ایک ساتھ حاصل کیے جا سکتے ہیں؟

مکہ مکرمہ کی سڑکوں کی توسیع کا تعلق شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی اور بڑھتے ہوئے زائرین کی تعداد سے بھی ہے۔ جیسے جیسے شہر پھیل رہا ہے، ویسے ویسے نقل و حمل کے بہتر نظام کی ضرورت بڑھ رہی ہے۔ نئے لین اس ضرورت کا ایک جواب ہیں۔ کیا آپ نے کبھی سوچا کہ شہر کی ترقی کے ساتھ سڑکوں کی ضرورت کیسے بڑھتی ہے؟

پرنس نائف بن عبدالعزیز انٹرچینج، پرنس سلطان انٹرچینج اور پرنس مطیب انٹرچینج جیسے مقامات مکہ مکرمہ کے ٹریفک نظام کا حصہ ہیں۔ ان انٹرچینجز کے ذریعے مختلف سڑکیں آپس میں جڑتی ہیں اور سفر کے متبادل راستے بنتے ہیں۔ نئے لین ان انٹرچینجز کے درمیان روانی کو بہتر بناتے ہیں۔ کیا آپ ان انٹرچینجز کے نام سے واقف ہیں؟

عبدالقادر کوشک اسٹریٹ اور پرنس محمد بن سلمان ایکسس کے درمیان رابطہ شہر کے اندر ایک اہم کمی کو پورا کرتا ہے۔ اس سے نہ صرف مقامی ٹریفک بلکہ عازمین کی نقل و حرکت بھی متاثر ہوگی۔ یہ رابطہ شہر کے مختلف حصوں کو جوڑنے میں مددگار ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ راستے کس طرح ایک دوسرے سے جڑتے ہیں؟

ایس پی اے نے اپنی رپورٹ میں ٹریفک کے بہاؤ، حفاظت اور رسائی کے پہلوؤں پر زور دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ منصوبے رہائشیوں، زائرین اور عازمین کے لیے بنائے گئے ہیں۔ ان تینوں گروہوں کی ضروریات مختلف ہیں لیکن ان کا مشترکہ مقام بہتر سڑکیں ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ایک ہی منصوبہ تینوں گروہوں کے لیے یکساں فائدہ مند ہو سکتا ہے؟

مکہ مکرمہ میں سڑکوں کی بہتری کا سلسلہ جاری ہے اور یہ افتتاح اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ رائل کمیشن فار مکہ سٹی اینڈ ہولی سائٹس اس سلسلے کو آگے بڑھا رہا ہے۔ آنے والے وقتوں میں مزید منصوبے مکمل ہونے کی توقع ہے، تاہم ایس پی اے کی اس رپورٹ میں ان کی تفصیلات نہیں دی گئیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ مکہ مکرمہ میں اس وقت کتنے ترقیاتی منصوبے جاری ہیں؟

سفر کے وقت میں 90 فیصد سے زیادہ کمی کا مطلب ہے کہ پہلے جو سفر گھنٹوں میں طے ہوتا تھا وہ اب کہیں کم وقت میں مکمل ہو سکتا ہے۔ یہ تبدیلی ان لوگوں کے لیے خاص طور پر اہم ہے جو روزانہ ان راستوں سے گزرتے ہیں۔ عازمین کے لیے یہ کمی ان کے مقدس سفر کو مزید آسان بناتی ہے۔ کیا آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ یہ کمی کس طرح روزمرہ کے معمولات کو بدلتی ہے؟

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق یہ افتتاحات مکہ مکرمہ میں ٹریفک کی بھیڑ کو کم کرنے کے لیے کیے گئے اقدامات کا حصہ ہیں۔ رپورٹ میں یہ واضح کیا گیا کہ ان منصوبوں کا مقصد رہائشیوں، زائرین اور عازمین کی سہولت ہے۔ یہ تینوں گروہ مکہ مکرمہ کی روزمرہ زندگی اور مذہبی سیاحت کا حصہ ہیں۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ان اقدامات سے شہر کا مجموعی تجربہ بہتر ہوگا؟

رائل کمیشن فار مکہ سٹی اینڈ ہولی سائٹس کا یہ اقدام شہر کے بنیادی ڈھانچے کی مضبوطی کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ نئے لین اور بہتر روابط شہر کی طویل مدتی ترقی کے لیے بنیاد فراہم کرتے ہیں۔ ان سے ٹریفک کے بہاؤ میں بہتری کے ساتھ ساتھ حفاظت میں بھی اضافہ متوقع ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ بنیادی ڈھانچے کی بہتری کس طرح شہر کی معیشت کو متاثر کرتی ہے؟

مکہ مکرمہ میں حج و عمرہ کے دوران عازمین کی آمد و رفت کا انتظام ایک بڑا چیلنج ہے۔ نئے راستے اس چیلنج سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ ان سے عازمین کو مسجد الحرام تک پہنچنے میں آسانی ہوگی اور شہر کے اندر بھیڑ کم ہوگی۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ اقدامات حج کے دوران خاص طور پر مؤثر ثابت ہوں گے؟

ایس پی اے کی رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان منصوبوں کے لیے کون سی کمپنیاں ذمہ دار تھیں یا تعمیراتی کام میں کتنے افراد شامل تھے۔ رپورٹ میں صرف یہ بتایا گیا کہ نئے لین کھول دیے گئے ہیں اور ان سے سفر کے وقت میں کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ معلومات رائل کمیشن فار مکہ سٹی اینڈ ہولی سائٹس نے فراہم کیں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ اس طرح کے منصوبوں کی نگرانی کون کرتا ہے؟

تھرڈ رنگ روڈ پر 1.5 کلومیٹر کا اضافہ اور پرنس سعود الفیصل روڈ کے آخری حصے کا افتتاح مکہ مکرمہ کے ٹریفک نظام میں اہم اضافے ہیں۔ یہ دونوں منصوبے شہر کے مختلف حصوں کو آپس میں جوڑتے ہیں اور متبادل راستے فراہم کرتے ہیں۔ ان سے نہ صرف ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی بلکہ حفاظت میں بھی اضافہ ہوگا۔ کیا آپ ان دونوں راستوں کے درمیان تعلق کو سمجھ سکتے ہیں؟

مکہ مکرمہ کی سڑکوں کی توسیع کے ساتھ ساتھ شہر میں دیگر ترقیاتی منصوبے بھی جاری ہیں۔ ان منصوبوں کا مقصد شہر کو بڑھتی ہوئی ضروریات کے لیے تیار کرنا ہے۔ رائل کمیشن فار مکہ سٹی اینڈ ہولی سائٹس ان منصوبوں کی نگرانی کر رہا ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ منصوبے مکہ مکرمہ کو ایک جدید شہر کے طور پر ابھرنے میں مدد دیں گے؟

ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق ان افتتاحات کا مقصد ٹریفک کی بھیڑ کو کم کرنا، سڑک کی حفاظت کو بہتر بنانا اور رسائی کو آسان بنانا ہے۔ یہ تینوں اہداف مکہ مکرمہ کے لیے انتہائی اہم ہیں جہاں ہر سال لاکھوں افراد آتے ہیں۔ ان اہداف کے حصول سے شہر کی مجموعی کارکردگی بہتر ہوگی۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ان تینوں اہداف میں سے کون سا سب سے زیادہ اہم ہے؟

مکہ مکرمہ میں ٹریفک کی بھیڑ کا مسئلہ خاص طور پر حج و عمرہ کے سیزن میں شدید ہو جاتا ہے۔ نئے لین اور بہتر روابط اس مسئلے کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔ ان سے عازمین کو مسجد الحرام تک پہنچنے میں آسانی ہوگی۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ اقدامات عازمین کے تجربے کو بہتر بنائیں گے؟

رائل کمیشن فار مکہ سٹی اینڈ ہولی سائٹس نے یہ معلومات سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کے ذریعے جاری کیں۔ ایس پی اے نے 26 ستمبر 2026 کو یہ رپورٹ شائع کی۔ رپورٹ کے مطابق نئے لین کھول دیے گئے ہیں اور سفر کے وقت میں 90 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ ایس پی اے سعودی عرب کا سرکاری خبر رساں ادارہ ہے؟

مکہ مکرمہ میں انفراسٹرکچر کی بہتری کا سلسلہ جاری رہنے کی توقع ہے۔ آنے والے وقتوں میں مزید سڑکیں اور راستے کھل سکتے ہیں، تاہم ایس پی اے کی اس رپورٹ میں اس بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔ فی الحال یہ واضح ہے کہ نئے لین کھل گئے ہیں اور ان سے سفر آسان ہوا ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ یہ سلسلہ مکہ مکرمہ کے ٹریفک مسائل کا مکمل حل فراہم کرے گا؟

مکہ مکرمہ میں کون سے نئے لین کھولے گئے ہیں؟ رائل کمیشن فار مکہ سٹی اینڈ ہولی سائٹس نے تھرڈ رنگ روڈ پر 1.5 کلومیٹر طویل اضافی حصہ کھولا ہے جو پرنس مطیب انٹرچینج کو پرنس سلطان انٹرچینج کے ذریعے مسجد الحرام انٹرچینج سے جوڑتا ہے۔ اس کے علاوہ پرنس سعود الفیصل روڈ کے آخری حصے پر بھی ٹریفک کا آغاز کیا گیا ہے جو پرنس محمد بن سلمان ایکسس کو پرنس نائف بن عبدالعزیز انٹرچینج کے ذریعے عبدالقادر کوشک اسٹریٹ سے ملاتا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق ان لینوں سے سفر کے وقت میں 90 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔

ان نئے لینوں سے سفر کے وقت میں کتنی کمی ہوئی ہے؟ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق ان نئے لینوں کے کھلنے سے سفر کے وقت میں 90 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی ہے۔ یہ کمی تھرڈ رنگ روڈ اور پرنس سعود الفیصل روڈ دونوں پر محسوس کی جا رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ افتتاحات مربوط انفراسٹرکچر منصوبوں کا حصہ ہیں جن کا مقصد ٹریفک کی بھیڑ کو کم کرنا، سڑک کی حفاظت کو بہتر بنانا اور رہائشیوں، زائرین اور عازمین کے لیے رسائی کو آسان بنانا ہے۔

ان منصوبوں کا مقصد کیا ہے؟ ایس پی اے کے مطابق ان منصوبوں کا مقصد ٹریفک کی بھیڑ کو کم کرنا، سڑک کی حفاظت کو بہتر بنانا اور رہائشیوں، زائرین اور عازمین کے لیے رسائی کو آسان بنانا ہے۔ یہ تینوں اہداف مکہ مکرمہ جیسے شہر کے لیے انتہائی اہم ہیں جہاں ہر سال لاکھوں افراد حج و عمرہ کے لیے آتے ہیں۔ رائل کمیشن فار مکہ سٹی اینڈ ہولی سائٹس ان منصوبوں کی نگرانی کر رہا ہے اور یہ افتتاح اسی سلسلے کی کڑی ہیں۔

تھرڈ رنگ روڈ پر کتنی لمبائی کا اضافہ کیا گیا ہے؟ ایس پی اے کی رپورٹ کے مطابق تھرڈ رنگ روڈ پر 1.5 کلومیٹر طویل اضافی حصہ بنایا گیا ہے۔ یہ حصہ پرنس مطیب انٹرچینج کو پرنس سلطان انٹرچینج کے ذریعے مسجد الحرام انٹرچینج سے جوڑتا ہے۔ اس توسیع سے شہر کے مرکزی راستوں پر دباؤ کم ہونے کی توقع ہے اور مسجد الحرام تک پہنچنے والے راستوں میں آسانی پیدا ہوگی۔ رپورٹ میں اس حصے کی گنجائش یا تعمیراتی لاگت کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔

پرنس سعود الفیصل روڈ کے آخری حصے کا افتتاح کیوں اہم ہے؟ پرنس سعود الفیصل روڈ کا آخری حصہ پرنس محمد بن سلمان ایکسس کو پرنس نائف بن عبدالعزیز انٹرچینج کے ذریعے عبدالقادر کوشک اسٹریٹ سے ملاتا ہے۔ ایس پی اے کے مطابق یہ افتتاح مربوط انفراسٹرکچر منصوبوں کا حصہ ہے جس کا مقصد ٹریفک کی بھیڑ کو کم کرنا اور رسائی کو آسان بنانا ہے۔ اس رابطے سے شہر کے مختلف حصوں کے درمیان سفر آسان ہوگا اور متبادل راستوں پر بوجھ کم ہوگا۔ رپورٹ میں اس حصے کی تکمیل کی لاگت یا شیڈول نہیں دیا گیا۔

ان منصوبوں سے عازمین کو کیا فائدہ ہوگا؟ ایس پی اے کے مطابق ان منصوبوں کا مقصد حج و عمرہ کے دوران عازمین کے لیے رسائی کو آسان بنانا ہے۔ نئے لین اور بہتر روابط سے عازمین کو مسجد الحرام تک پہنچنے میں مدد ملے گی اور شہر کے اندر بھیڑ کم ہوگی۔ رپورٹ کے مطابق یہ افتتاحات رہائشیوں، زائرین اور عازمین تینوں کے لیے بنائے گئے ہیں۔ تاہم رپورٹ میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ان منصوبوں سے کتنے عازمین کو براہ راست فائدہ پہنچے گا۔