سعودی ٹورازم اتھارٹی نے 21 سے 24 ستمبر 2026 تک عوامی جمہوریہ چین کا پروموشنل دورہ مکمل کیا، جس کا مقصد چینی سیاحوں کو راغب کرنا، تجارتی شراکت داریوں کو وسعت دینا اور سعودی مقامات، موسمی پیشکشوں اور تقریبات تک رسائی کو آسان بنانا تھا۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، یہ وفد سعودی ٹورازم اتھارٹی کے سی ای او اور بورڈ ممبر عقیل الشیبانی کی قیادت میں گیا۔ وفد نے چین کے معروف سفری، سیاحتی اور کاروباری ایگزیکٹوز کے ساتھ ملاقاتیں کیں تاکہ تقسیم کے ذرائع کو بڑھایا جا سکے، ہدف بنائے گئے مصنوعات تیار کی جا سکیں اور سفر کے تجربے کو ہموار بنایا جا سکے۔
اس مشن نے اہم مقامات کی نمائش کی، جن میں العلا، بحیرہ احمر، امالا، ریاض اور جدہ شامل ہیں، اس کے ساتھ ساتھ مملکت کے بین الاقوامی کھیلوں، ثقافتی اور تفریحی تقریبات کے سال بھر کے کیلنڈر کو بھی پیش کیا گیا۔
عقیل الشیبانی نے اس بات پر زور دیا کہ چین ایک اہم ترقی پذیر مارکیٹ ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ 2025 میں سعودی عرب آنے والے چینی سیاحوں میں 48 فیصد اضافہ ہوا، جو اسٹریٹجک تعاون کے لیے نمایاں صلاحیت کو ظاہر کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سعودی ٹورازم اتھارٹی اور اس کے شراکت داروں نے ایک مربوط نظام قائم کیا ہے جس میں 10 سیاحوں کے لیے تیار مقامات، 30 سے زائد ڈیسٹینیشن مینجمنٹ کمپنیاں اور سفر، ادائیگی کے حل اور ٹیکنالوجی میں وسیع شراکت داریاں شامل ہیں تاکہ مسافروں کو بکنگ سے آمد تک معاونت فراہم کی جا سکے۔
دورے کے دوران وفد نے بیجنگ میں سعودی سفارت خانے کی میزبانی میں سعودی قومی دن کی تقریبات میں بھی شرکت کی، جو مضبوط دوطرفہ تعلقات اور باہمی ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے میں سیاحت کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہیں۔
یہ دورہ 21 سے 24 ستمبر تک جاری رہا اور اس کا اختتام چین میں سعودی سفارت خانے کی میزبانی میں قومی دن کی تقریبات میں شرکت پر ہوا۔ سعودی ٹورازم اتھارٹی کی قیادت میں یہ وفد چین کے سفری اور کاروباری شعبے کے سینئر عہدیداروں سے ملا۔
کیا چینی سیاحوں میں 48 فیصد اضافہ سعودی سیاحت کی کوششوں کا نتیجہ ہے؟ یہ سوال اس وقت اہم ہو جاتا ہے جب سعودی ٹورازم اتھارٹی چین کو ایک اہم ترقی پذیر مارکیٹ قرار دے رہی ہے۔
ملاقاتوں میں تقسیم کے ذرائع کو بڑھانے، ہدف بنائے گئے مصنوعات تیار کرنے اور سفر کے تجربے کو ہموار بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ کیا یہ اقدامات چینی مسافروں کے لیے سعودی عرب تک رسائی کو مزید آسان بنائیں گے؟
وفد نے العلا، بحیرہ احمر، امالا، ریاض اور جدہ جیسے مقامات کی نمائش کی۔ کیا یہ مقامات چینی سیاحوں کی توقعات پر پورا اتریں گے؟ سعودی ٹورازم اتھارٹی کے مطابق مملکت میں بین الاقوامی کھیلوں، ثقافتی اور تفریحی تقریبات کا سال بھر کیلنڈر موجود ہے۔
عقیل الشیبانی نے کہا کہ سعودی ٹورازم اتھارٹی اور اس کے شراکت داروں نے ایک مربوط نظام قائم کیا ہے۔ اس نظام میں 10 سیاحوں کے لیے تیار مقامات، 30 سے زائد ڈیسٹینیشن مینجمنٹ کمپنیاں اور سفر، ادائیگی کے حل اور ٹیکنالوجی میں وسیع شراکت داریاں شامل ہیں۔ کیا یہ نظام چینی مسافروں کو بکنگ سے آمد تک بہتر معاونت فراہم کرے گا؟
بیجنگ میں سعودی سفارت خانے کی میزبانی میں سعودی قومی دن کی تقریبات میں وفد کی شرکت نے مضبوط دوطرفہ تعلقات اور باہمی ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے میں سیاحت کے بڑھتے ہوئے کردار کو اجاگر کیا۔ کیا ثقافتی تبادلہ دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید مضبوط کرے گا؟
سعودی ٹورازم اتھارٹی کے سی ای او اور بورڈ ممبر عقیل الشیبانی کی قیادت میں یہ وفد چین گیا۔ انہوں نے چین کو ایک اہم ترقی پذیر مارکیٹ قرار دیا اور 2025 میں چینی سیاحوں کی آمد میں 48 فیصد اضافے کا ذکر کیا۔ کیا یہ اضافہ آئندہ برسوں میں بھی جاری رہے گا؟
یہ دورہ 21 سے 24 ستمبر 2026 تک جاری رہا۔ اس دوران وفد نے چین کے معروف سفری، سیاحتی اور کاروباری ایگزیکٹوز کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔ کیا ان ملاقاتوں کے نتیجے میں نئی تجارتی شراکت داریاں قائم ہوں گی؟
سعودی ٹورازم اتھارٹی کا یہ پروموشنل دورہ چین میں سعودی سیاحت کے فروغ کے لیے ایک اہم قدم ہے۔ رپورٹ میں اس دورے کے دوران طے پانے والے معاہدوں کی رقم، شراکت داروں کے نام یا آئندہ دوروں کی تاریخ نہیں دی گئی۔
سعودی ٹورازم اتھارٹی کے اس دورے کا مقصد کیا تھا؟ اس دورے کا مقصد چینی سیاحوں کو راغب کرنا، تجارتی شراکت داریوں کو وسعت دینا اور سعودی مقامات، موسمی پیشکشوں اور تقریبات تک رسائی کو آسان بنانا تھا۔ ایس پی اے کے مطابق یہ دورہ 21 سے 24 ستمبر 2026 تک جاری رہا۔ وفد کی قیادت سعودی ٹورازم اتھارٹی کے سی ای او اور بورڈ ممبر عقیل الشیبانی نے کی۔
وفد نے چین میں کن سے ملاقاتیں کیں؟ وفد نے چین کے معروف سفری، سیاحتی اور کاروباری ایگزیکٹوز کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں کا مقصد تقسیم کے ذرائع کو بڑھانا، ہدف بنائے گئے مصنوعات تیار کرنا اور سفر کے تجربے کو ہموار بنانا تھا۔ ایس پی اے کے مطابق وفد نے بیجنگ میں سعودی سفارت خانے کی میزبانی میں سعودی قومی دن کی تقریبات میں بھی شرکت کی۔
کن سعودی مقامات کی نمائش کی گئی؟ اس مشن نے العلا، بحیرہ احمر، امالا، ریاض اور جدہ سمیت اہم مقامات کی نمائش کی۔ اس کے ساتھ ساتھ مملکت کے بین الاقوامی کھیلوں، ثقافتی اور تفریحی تقریبات کے سال بھر کے کیلنڈر کو بھی پیش کیا گیا۔ ایس پی اے کے مطابق یہ مقامات چینی سیاحوں کے لیے سعودی عرب کی پیشکش کو اجاگر کرتے ہیں۔
چینی سیاحوں کی آمد میں کتنا اضافہ ہوا؟ عقیل الشیبانی نے نوٹ کیا کہ 2025 میں سعودی عرب آنے والے چینی سیاحوں میں 48 فیصد اضافہ ہوا۔ انہوں نے اسے اسٹریٹجک تعاون کے لیے نمایاں صلاحیت قرار دیا۔ ایس پی اے کے مطابق الشیبانی نے چین کو ایک اہم ترقی پذیر مارکیٹ بھی قرار دیا۔
سعودی ٹورازم اتھارٹی کے مربوط نظام میں کیا شامل ہے؟ عقیل الشیبانی کے مطابق سعودی ٹورازم اتھارٹی اور اس کے شراکت داروں نے ایک مربوط نظام قائم کیا ہے۔ اس میں 10 سیاحوں کے لیے تیار مقامات، 30 سے زائد ڈیسٹینیشن مینجمنٹ کمپنیاں اور سفر، ادائیگی کے حل اور ٹیکنالوجی میں وسیع شراکت داریاں شامل ہیں۔ یہ نظام مسافروں کو بکنگ سے آمد تک معاونت فراہم کرتا ہے۔
اس دورے کے دوران کون سی تقریب منعقد ہوئی؟ دورے کے دوران وفد نے بیجنگ میں سعودی سفارت خانے کی میزبانی میں سعودی قومی دن کی تقریبات میں شرکت کی۔ ایس پی اے کے مطابق یہ تقریب مضبوط دوطرفہ تعلقات اور باہمی ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے میں سیاحت کے بڑھتے ہوئے کردار کی عکاسی کرتی ہے۔





