Sunday, November 8, 2026
سعودی خبریں

سعودی عرب کے آٹھ علاقوں میں تیز گرج چمک کے ساتھ بارش اور سیلاب کا خدشہ

سعودی عرب کے آٹھ علاقوں میں تیز گرج چمک کے ساتھ بارش اور سیلاب کا خدشہ

ریاض، 8 نومبر 2026 — سعودی عرب کے آٹھ علاقوں یعنی جازان، عسیر، الباحہ، مکہ، مدینہ، القصیم، ریاض اور مشرقی علاقے کے بعض حصوں میں درمیانی سے تیز گرج چمک کے ساتھ بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے، جس کے نتیجے میں اچانک سیلاب آ سکتے ہیں۔ نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی کے مطابق ان بارشوں کے ساتھ اولے بھی پڑ سکتے ہیں اور گرد اڑانے والی ہوائیں چل سکتی ہیں۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے بیان کیا، یہ پیش گوئی اتوار کے دن کے موسم کے حوالے سے جاری کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق انہی علاقوں کے بعض حصوں میں دھند بھی چھا سکتی ہے، جبکہ تبوک، الجوف اور شمالی سرحدی علاقوں کے بعض حصوں میں بھی دھند بننے کا امکان ہے۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ اچانک سیلاب کا خطرہ ان علاقوں میں کیوں بڑھ جاتا ہے جہاں خشک وادیاں اور پہاڑی ڈھلوانیں ہوں؟ نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی نے جازان، عسیر، الباحہ، مکہ، مدینہ، القصیم، ریاض اور مشرقی علاقے کا ذکر کیا ہے۔ ان میں سے کئی علاقے ایسے ہیں جہاں پہاڑی سلسلے اور وادیاں موجود ہیں، جہاں تیز بارش کا پانی تیزی سے بہہ کر نشیبی علاقوں میں جمع ہو سکتا ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بحیرہ احمر کے اوپر ہوائیں شمالی حصے میں شمال مغربی سے شمالی سمت میں 20 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی۔ وسطی حصے میں ہوائیں شمال مغربی سے جنوب مغربی سمت میں 10 سے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی، جبکہ جنوبی حصے میں ہوائیں جنوب مشرقی سے جنوبی سمت میں 15 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی۔

کیا سمندری لہروں کی بلندی اور ہوا کی رفتار کا تعلق جاننا کشتی رانی اور ماہی گیری کرنے والوں کے لیے کتنا ضروری ہے؟ رپورٹ کے مطابق بحیرہ احمر میں لہروں کی بلندی ایک میٹر سے لے کر دو میٹر سے زیادہ تک رہے گی، اور سمندر پرسکون سے لے کر متلاطم تک رہے گا۔ یہ تفصیل ان لوگوں کے لیے خاص اہمیت رکھتی ہے جو سمندری سفر یا ماہی گیری کے پیشے سے وابستہ ہیں۔

خلیج عرب کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہوائیں جنوب مشرقی سے جنوبی سمت میں 15 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی، جو بتدریج شمالی حصے میں شمال مشرقی سے شمال مغربی سمت میں 10 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تبدیل ہوں گی۔ جنوبی حصے میں ہوائیں جنوب مشرقی سے جنوب مغربی سمت میں 10 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی۔

کیا آپ نے کبھی غور کیا کہ ایک ہی دن میں خلیج کے مختلف حصوں میں ہوا کی سمت اور رفتار اتنی مختلف کیوں ہو سکتی ہے؟ رپورٹ کے مطابق خلیج عرب میں لہروں کی بلندی آدھے میٹر سے لے کر دو میٹر سے زیادہ تک رہے گی، اور سمندر پرسکون سے لے کر متلاطم تک رہے گا۔

یہ موسمی پیش گوئی اتوار کے دن کے لیے جاری کی گئی ہے، اور اس میں بارش، اولے، گرد اڑانے والی ہوائیں، دھند اور سمندری حالات سمیت کئی پہلوؤں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی نے یہ معلومات ایس پی اے کے ذریعے جاری کیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ گرد اڑانے والی ہوائیں اور دھند ایک ہی موسمی نظام میں کیسے ساتھ ساتھ پیدا ہو سکتی ہیں؟ رپورٹ کے مطابق جن علاقوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے، وہیں گرد اڑانے والی ہوائیں بھی چل سکتی ہیں، جبکہ انہی علاقوں کے بعض حصوں میں دھند بھی بن سکتی ہے۔ اس کے علاوہ تبوک، الجوف اور شمالی سرحدی علاقوں کے بعض حصوں میں بھی دھند کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

کیا آپ نے کبھی سوچا کہ اچانک سیلاب کی وارننگ عام بارش کی پیش گوئی سے کس طرح مختلف ہوتی ہے؟ رپورٹ میں واضح طور پر کہا گیا ہے کہ درمیانی سے تیز گرج چمک کے ساتھ بارشیں اچانک سیلاب کا سبب بن سکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ محکمہ موسمیات کی جانب سے جاری کردہ اس طرح کے انتباہات کو سنجیدگی سے لینا ضروری سمجھا جاتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق بحیرہ احمر اور خلیج عرب دونوں میں سمندری حالات پرسکون سے متلاطم تک رہیں گے۔ بحیرہ احمر کے شمالی، وسطی اور جنوبی حصوں میں ہوا کی سمت اور رفتار مختلف بتائی گئی ہے، جبکہ خلیج عرب کے شمالی اور جنوبی حصوں میں بھی ہوا کے رجحان میں فرق بتایا گیا ہے۔

کیا سمندری ہواؤں کی رفتار میں یہ فرق جہاز رانی کے راستوں پر اثر ڈال سکتا ہے؟ رپورٹ میں بحیرہ احمر کے وسطی حصے میں ہوا کی رفتار 10 سے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ تک بتائی گئی ہے، جو دیگر حصوں کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ خلیج عرب میں بھی شمالی اور جنوبی حصوں میں ہوا کی رفتار 10 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کے درمیان بتائی گئی ہے۔

نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی کی یہ پیش گوئی ان علاقوں کے رہائشیوں، مسافروں، کسانوں اور سمندری پیشوں سے وابستہ افراد کے لیے یکساں اہمیت رکھتی ہے۔ بارش، اولے، گرد اڑانے والی ہوائیں، دھند اور سمندری لہریں سب ایک ہی موسمی رپورٹ کا حصہ ہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ دھند کی پیش گوئی عام طور پر ان علاقوں میں کی جاتی ہے جہاں نمی اور درجہ حرارت کا تناسب اس کے لیے سازگار ہو؟ رپورٹ کے مطابق دھند انہی آٹھ علاقوں کے بعض حصوں کے علاوہ تبوک، الجوف اور شمالی سرحدی علاقوں کے بعض حصوں میں بھی بن سکتی ہے۔

یہ رپورٹ ایس پی اے نے 8 نومبر 2026 کو ریاض سے جاری کی۔ رپورٹ میں مقامی وقت کے مطابق صبح 8 بج کر 20 منٹ اور جی ایم ٹی کے مطابق صبح 5 بج کر 20 منٹ کا وقت درج ہے۔

رپورٹ میں بارش کی مقدار، سیلاب کے متوقع علاقوں کی تفصیل، درجہ حرارت، یا پیش گوئی کے دورانیے کے بارے میں مزید معلومات نہیں دی گئیں۔

کس علاقے میں تیز بارش اور سیلاب کا خدشہ ہے؟ نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی کے مطابق جازان، عسیر، الباحہ، مکہ، مدینہ، القصیم، ریاض اور مشرقی علاقے کے بعض حصوں میں درمیانی سے تیز گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے جو اچانک سیلاب کا سبب بن سکتی ہے۔ ان بارشوں کے ساتھ اولے بھی پڑ سکتے ہیں اور گرد اڑانے والی ہوائیں چل سکتی ہیں۔ رپورٹ میں بارش کی مقدار یا سیلاب کے مخصوص علاقوں کی تفصیل نہیں دی گئی۔

دھند کہاں بن سکتی ہے؟ رپورٹ کے مطابق دھند انہی آٹھ علاقوں کے بعض حصوں میں بن سکتی ہے جن میں بارش کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ تبوک، الجوف اور شمالی سرحدی علاقوں کے بعض حصوں میں بھی دھند بننے کا امکان ہے۔ رپورٹ میں دھند کی شدت یا دورانیے کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی۔

بحیرہ احمر میں ہوا اور لہروں کی صورتحال کیا ہوگی؟ بحیرہ احمر کے شمالی حصے میں ہوائیں شمال مغربی سے شمالی سمت میں 20 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی۔ وسطی حصے میں 10 سے 60 کلومیٹر فی گھنٹہ اور جنوبی حصے میں 15 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار بتائی گئی ہے۔ لہروں کی بلندی ایک میٹر سے دو میٹر سے زیادہ تک رہے گی اور سمندر پرسکون سے متلاطم تک رہے گا۔

خلیج عرب میں ہوا اور لہروں کی صورتحال کیا ہوگی؟ خلیج عرب میں ہوائیں جنوب مشرقی سے جنوبی سمت میں 15 سے 40 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلیں گی، جو بتدریج شمالی حصے میں شمال مشرقی سے شمال مغربی سمت میں 10 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تبدیل ہوں گی۔ جنوبی حصے میں 10 سے 50 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار بتائی گئی ہے۔ لہریں آدھے میٹر سے دو میٹر سے زیادہ تک رہیں گی۔

یہ پیش گوئی کس نے اور کب جاری کی؟ یہ پیش گوئی نیشنل سینٹر فار میٹرولوجی کی جانب سے جاری کی گئی اور سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 8 نومبر 2026 کو ریاض سے شائع کی۔ رپورٹ میں مقامی وقت کے مطابق صبح 8 بج کر 20 منٹ اور جی ایم ٹی کے مطابق صبح 5 بج کر 20 منٹ کا وقت درج ہے۔ رپورٹ میں پیش گوئی کے دورانیے کا ذکر نہیں کیا گیا۔

رپورٹ میں کون سی معلومات شامل نہیں ہیں؟ رپورٹ میں بارش کی متوقع مقدار، سیلاب کے مخصوص علاقوں کی تفصیل، درجہ حرارت، نمی کے تناسب یا پیش گوئی کے دورانیے کے بارے میں کوئی معلومات نہیں دی گئیں۔ اسی طرح ہوا کی رفتار کے علاوہ دیگر موسمی پیمانوں کا ذکر بھی موجود نہیں ہے۔ رپورٹ صرف ان علاقوں، سمندری حالات اور دھند کے امکان تک محدود ہے۔