Monday, September 7, 2026
Uncategorized

KSrelief کا غزہ میں معاشی بااختیار بنانے کے منصوبے کا تسلسل

KSrelief کا غزہ میں معاشی بااختیار بنانے کے منصوبے کا تسلسل

غزہ پٹی میں King Salman Humanitarian Aid and Relief Center (KSrelief) نے سب سے زیادہ کمزور گروہوں اور معذور افراد کے لیے اپنے معاشی بااختیار بنانے کے منصوبے پر عمل درآمد جاری رکھا ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 12 اگست 2026 کو بیان کیا، تربیت یافتہ افراد نے سلائی، مردوں کی حجامت، خواتین کی بیوٹی سروسز، لوازمات اور دستکاری، ترجمہ اور فری لانس کام کے ساتھ ساتھ لائف اسکلز کی تربیت میں عملی مہارتیں حاصل کرنے میں پیش رفت کی ہے۔

اس منصوبے کا مقصد آٹھ پیشہ ورانہ اور ڈیجیٹل ٹریکس کے ذریعے تقریباً 130 گھنٹوں کے خصوصی تربیتی پروگراموں کے ذریعے 1,000 سے زائد افراد کو تربیت دینا ہے۔ تربیت مکمل کرنے پر مستفیدین کو ڈپلومہ سرٹیفکیٹ اور ایک مخصوص پیشہ ورانہ ٹول کٹ دی جائے گی تاکہ وہ لیبر مارکیٹ میں داخل ہو سکیں۔

یہ منصوبہ غزہ پٹی میں کمزور گروہوں کی مدد اور انہیں معاشی و انسانی چیلنجوں سے نمٹنے کے قابل بنانے کے لیے سعودی عرب کی جاری کوششوں کا حصہ ہے۔ رپورٹ میں تربیت کے آغاز کی تاریخ یا ٹول کٹس کی مالیت کا ذکر نہیں کیا گیا۔

اس منصوبے کا بنیادی مقصد کیا ہے؟ اس منصوبے کا مقصد غزہ پٹی میں سب سے زیادہ کمزور گروہوں اور معذور افراد کو بااختیار بنانا ہے۔ اس کے لیے آٹھ پیشہ ورانہ اور ڈیجیٹل ٹریکس کے ذریعے 1,000 سے زائد افراد کو تقریباً 130 گھنٹوں کی تربیت دی جائے گی۔

تربیت کے دوران کون سی مہارتیں سکھائی جا رہی ہیں؟ تربیت کے ٹریکس میں سلائی، مردوں کی حجامت، خواتین کی بیوٹی سروسز، لوازمات، دستکاری، ترجمہ اور فری لانس کام شامل ہیں۔ اس کے علاوہ شرکاء کو لائف اسکلز کی تربیت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

تربیت مکمل کرنے والوں کو کیا ملے گا؟ تربیت مکمل کرنے والے مستفیدین کو ایک ڈپلومہ سرٹیفکیٹ دیا جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں ایک مخصوص پیشہ ورانہ ٹول کٹ بھی فراہم کی جائے گی تاکہ وہ لیبر مارکیٹ میں داخل ہو سکیں۔