جدہ کے کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ویسٹرن حج ٹرمینل میں منعقدہ اسلامک آرٹس بینیلے کے دوسرے ایڈیشن میں AlMidhallah (دی کینپی) سیکشن کے ذریعے اسلامی تہذیب میں باغات کے تصور کو پیش کیا گیا ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 6 مارچ 2025 کو بیان کیا، یہ نمائش “And All that Is in Between” کے تھیم کے تحت منعقد کی گئی ہے۔ AlMidhallah سیکشن میں Diriyah Biennale Foundation کی جانب سے کمیشن کیے گئے تقریباً 20 جدید فن پارے شامل ہیں۔
یہ فن پارے عرب خیموں کی شکل سے متاثر کینپیوں کے نیچے رکھے گئے ہیں اور ان کی ترتیب روایتی اسلامی باغ ‘چارباغ’ سے متاثر ہے، جس میں پانی کی نالیوں کے ذریعے چار حصے تقسیم کیے گئے ہیں۔ یہ چار حصے انفرادی سوچ سے اجتماعی تجربے تک کے سفر کی عکاسی کرتے ہیں، جو غور و فکر، سیکھنے، تدبر اور سماجی ملاقاتوں کی ترغیب دیتے ہیں۔
یہ تجربہ آرٹ اور فطرت کے ملاپ کو اجاگر کرتا ہے اور فنکارانہ انداز میں انسانوں اور ان کے ارد گرد کے ماحول کے تعلق کے ذریعے عصری ماحولیاتی اور سماجی مسائل پر سوالات اٹھاتا ہے۔
AlMidhallah سیکشن کہاں واقع ہے؟ یہ سیکشن جدہ میں کنگ عبدالعزیز انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ویسٹرن حج ٹرمینل میں منعقدہ اسلامک آرٹس بینیلے کے دوسرے ایڈیشن کا حصہ ہے۔ یہ نمائش “And All that Is in Between” کے تھیم کے تحت منعقد کی گئی ہے۔
اس نمائش میں کتنے فن پارے شامل ہیں؟ AlMidhallah سیکشن میں تقریباً 20 جدید فن پارے شامل ہیں جنہیں Diriyah Biennale Foundation نے کمیشن کیا ہے۔ یہ فن پارے عرب خیموں کی شکل سے متاثر کینپیوں کے نیچے رکھے گئے ہیں۔
فن پاروں کی ترتیب کس تصور پر مبنی ہے؟ answer”:”فن پاروں کی ترتیب روایتی اسلامی باغ ‘چارباغ’ سے متاثر ہے، جس میں پانی کی نالیوں کے ذریعے چار حصے تقسیم کیے گئے ہیں۔ یہ حصے غور و فکر، سیکھنے، تدبر اور سماجی ملاقاتوں کے موضوعات پر مبنی ہیں۔
اس آرٹسٹک اسپیس کا مقصد کیا ہے؟ اس کا مقصد آرٹ اور فطرت کے ملاپ کو اجاگر کرنا ہے تاکہ انسانوں اور ان کے ماحول کے تعلق کو دکھایا جا سکے۔ یہ فنکارانہ انداز کے ذریعے عصری ماحولیاتی اور سماجی مسائل پر سوالات اٹھاتا ہے۔