Tuesday, October 27, 2026
ثقافت

سعودی فلم کمیشن نے آسکرز کے لیے فلم ‘A Matter of Life and Death’ کا انتخاب کیا

سعودی فلم کمیشن نے آسکرز کے لیے فلم ‘A Matter of Life and Death’ کا انتخاب کیا

ریاض میں سعودی فلم کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ فیچر فلم ‘A Matter of Life and Death’ کو 99ویں اکیڈمی ایوارڈز میں بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کے زمرے میں سعودی عرب کی نمائندگی کے لیے سرکاری طور پر منتخب کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ سعودی آسکر سلیکشن کمیٹی کی نگرانی میں متعدد سعودی فلموں کے تفصیلی جائزے کے بعد کیا گیا ہے۔

جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 7 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، یہ کمیٹی معروف سعودی فلم سازوں اور صنعت کے ماہرین پر مشتمل ہے، جو جمع کرائی گئی فلموں کا جائزہ لیتی ہے اور اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز کے منظور شدہ معیارات کے مطابق ایک فلم کا انتخاب کرتی ہے۔ کیا یہ انتخاب سعودی سنیما کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی پذیرائی کا عکاس نہیں ہے؟ اس سال کے ایڈیشن میں کئی ممتاز سعودی فلموں نے شرکت کی، جس کے بعد کمیٹی نے وسیع مشاورت اور اتفاق رائے سے ‘A Matter of Life and Death’ کا انتخاب کیا۔

فلم ‘A Matter of Life and Death’ سعودی عرب کی ان سینیمیٹک پروڈکشنز میں شامل ہے جو رومانس اور ڈارک کامیڈی کے امتزاج پر مبنی کہانی پیش کرتی ہیں۔ کیا ایک ایسی کہانی جو تقدیر اور زندگی کے تضادات کو چھوتی ہو، عالمی سامعین کو متاثر نہیں کرے گی؟ فلم کی کہانی جدہ میں ترتیب دی گئی ہے، جس میں حیات نامی کردار ہے جس کا ماننا ہے کہ ایک موروثی بددعا اس کی زندگی کو 30 سال کی عمر میں ختم کر دے گی۔ دوسری طرف یوسف ہے، جو ایک ہارٹ سرجن ہے اور جس کے دل کی دھڑکن سست ہے۔

غیر متوقع حالات ان دونوں کرداروں کو ایک ساتھ لاتے ہیں، جہاں انہیں زندگی، موت، محبت اور تقدیر جیسے بنیادی سوالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کیا یہ کہانی انسانی جذبات کی گہرائیوں کو بیان کرنے میں کامیاب رہے گی؟ اس فلم کی ہدایت کاری Anas Ba-Tahaf نے کی ہے اور اس کی تحریر Sarah Taibah نے لکھی ہے۔ فلم میں Yagoub Alfarhan اور Sarah Taibah نے مرکزی کردار ادا کیے ہیں، جن کے ساتھ ابھرتے ہوئے سعودی ٹیلنٹ اور فلم انڈسٹری کی معروف شخصیات بھی شامل ہیں۔

اکیڈمی کے اہلیت کے معیارات کے تحت، بہترین بین الاقوامی فیچر فلم کے زمرے میں دنیا بھر کے ممالک کی جانب سے جمع کرائی گئی فلموں کو تشخیص اور انتخاب کے متعدد مراحل سے گزارا جاتا ہے۔ کیا یہ سخت طریقہ کار ہی آسکرز کی ساکھ کو برقرار رکھتا ہے؟ ان مراحل کے بعد شارٹ لسٹ کا اعلان کیا جاتا ہے اور پھر اکیڈمی کی جانب سے نامزدگیوں کی حتمی فہرست طے کی جاتی ہے۔

کیا سعودی عرب کی یہ فلم عالمی سطح پر اپنی شناخت بنانے میں کامیاب ہوگی؟ جیتنے والی فلم کا اعلان مارچ 2027 میں اکیڈمی ایوارڈز کی تقریب کے دوران کیا جائے گا۔ کیا یہ کامیابی مستقبل کے سعودی فلم سازوں کے لیے نئے راستے کھولے گی؟ رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ سلیکشن کمیٹی میں کل کتنے ارکان شامل تھے یا جمع کرائی گئی فلموں کی کل تعداد کیا تھی۔

فلم ‘A Matter of Life and Death’ کی کہانی کیا ہے؟ یہ فلم جدہ میں ترتیب دی گئی ہے اور رومانس اور ڈارک کامیڈی کا امتزاج ہے۔ اس میں حیات نامی کردار ہے جو 30 سال کی عمر میں موروثی بددعا کی وجہ سے موت کا خدشہ رکھتی ہے، جبکہ یوسف ایک ہارٹ سرجن ہے جس کے دل کی دھڑکن سست ہے۔ یہ دونوں کردار زندگی، موت اور تقدیر کے سوالات کا سامنا کرتے ہیں۔

اس فلم کے پیچھے کون سے تخلیقی لوگ شامل ہیں؟ فلم کی ہدایت کاری Anas Ba-Tahaf نے کی ہے اور اس کی کہانی Sarah Taibah نے لکھی ہے۔ فلم کے مرکزی کرداروں میں Yagoub Alfarhan اور Sarah Taibah شامل ہیں، جن کے ساتھ دیگر ابھرتے ہوئے سعودی ٹیلنٹ اور صنعت کے معروف ناموں نے بھی کام کیا ہے۔

سعودی آسکر سلیکشن کمیٹی کا طریقہ کار کیا ہے؟ کمیٹی میں سعودی فلم ساز اور صنعت کے ماہرین شامل ہوتے ہیں جو جمع کرائی گئی فلموں کا جائزہ لیتے ہیں۔ یہ انتخاب اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز کے منظور شدہ معیارات کے مطابق کیا جاتا ہے، جس کے بعد اتفاق رائے سے ایک فلم کا انتخاب کیا جاتا ہے۔

آسکرز کے نتائج کا اعلان کب ہوگا؟ اکیڈمی کے اہلیت کے معیارات کے تحت فلمیں مختلف مراحل سے گزرتی ہیں جس کے بعد شارٹ لسٹ اور نامزدگیوں کی فہرست آتی ہے۔ جیتنے والی فلم کا اعلان مارچ 2027 میں اکیڈمی ایوارڈز کی تقریب کے دوران کیا جائے گا۔