دیریہ کی تاریخی مسجد العودة، جو ریاض ریجن میں ایک اہم ثقافتی علامت ہے، محمد بن سلمان پروجیکٹ فار ڈویلپنگ ہسٹورک مساجد (دوسرے مرحلے) کے تحت جامع بحالی کے عمل سے گزر رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد مسجد کی بھرپور تاریخ اور منفرد نجدی تعمیراتی ورثے کو محفوظ بنانا اور اسے اس کی سابقہ شان و شوکت واپس دلانا ہے۔
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 25 مارچ 2025 کو بیان کیا، مسجد العودة خطے کی قدیم ترین مساجد میں سے ایک ہے جس کی اب تک تین بار بحالی کی گئی، جبکہ آخری بار یہ عمل تقریباً 15 سال پہلے مکمل ہوا تھا۔ کیا اس قدیم ورثے کی اصل شناخت کو برقرار رکھنا ہماری آنے والی نسلوں کے لیے ضروری نہیں ہے؟ اس کی ثقافتی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے، پروجیکٹ کے دوسرے مرحلے میں روایتی نجدی تعمیراتی تکنیکوں کا استعمال کیا جائے گا، جس میں مٹی کی تعمیر اور قدرتی مواد شامل ہے جو صحرائی آب و ہوا کے لیے موزوں ترین ہیں۔
اس بحالی کے عمل سے مسجد کے رقبے اور گنجائش میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ مسجد کا موجودہ رقبہ 794 مربع میٹر ہے جس میں 510 نمازیوں کی گنجائش ہے، جسے بڑھا کر 1,369.82 مربع میٹر کیا جائے گا تاکہ 992 نمازیوں کی گنجائش پیدا ہو سکے۔ کیا یہ توسیع کمیونٹی کی بڑھتی ہوئی ضروریات اور تاریخ کے تحفظ کے درمیان ایک بہترین توازن نہیں ہے؟ یہ توسیع تاریخ کو محفوظ رکھنے کے ساتھ ساتھ عصر حاضر کی ضروریات کو پورا کرنے کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔
مسجد العودة ان 30 مساجد میں سے ایک ہے جو مملکت کے تمام 13 علاقوں میں پروجیکٹ کے دوسرے مرحلے میں شامل ہیں۔ ان میں ریاض کی چھ، مکہ کی پانچ، مدینہ کی چار، عسیر کی تین، اور مشرقی ریجن، الجوف اور جازان کی دو دو مساجد شامل ہیں۔ مزید برآں، ناردرن بارڈرز، تبوک، البہا، نجران، حائل اور قصیم کی ایک ایک مسجد اس فہرست میں شامل ہے۔ کیا یہ وسیع نیٹ ورک پورے مملکت کے مذہبی اور تعمیراتی ورثے کو یکجا کرنے کی کوشش نہیں ہے؟
یہ دوسرا مرحلہ پہلے مرحلے کی کامیاب تکمیل کے بعد شروع ہوا ہے، جس کے تحت 10 علاقوں میں 30 تاریخی مساجد کی بحالی کی گئی تھی۔ محمد بن سلمان پروجیکٹ روایتی اور جدید تعمیراتی معیارات کے درمیان توازن قائم کرتا ہے، تاکہ مسجد کے اجزاء کی پائیداری کو یقینی بنایا جا سکے جبکہ ان کی تاریخی خصوصیات کو بھی برقرار رکھا جائے۔ کیا جدید ٹیکنالوجی اور قدیم فن تعمیر کا یہ ملاپ مستقبل کی تعمیرات کے لیے ایک نمونہ نہیں بن سکتا؟ اس ترقیاتی کام کو ورثے کی بحالی میں مہارت رکھنے والی سعودی کمپنیاں انجام دے رہی ہیں۔
پروجیکٹ کے چار اسٹریٹجک مقاصد میں تاریخی مساجد کو عبادت کے لیے بحال کرنا، ان کی تعمیراتی اصلیت کو محفوظ بنانا اور مملکت کے ثقافتی ورثے کو نمایاں کرنا شامل ہے۔ کیا یہ کوششیں عالمی سطح پر سعودی عرب کی مذہبی اور ثقافتی شناخت کو مزید مضبوط نہیں کریں گی؟ رپورٹ میں پروجیکٹ کی کل لاگت یا تکمیل کی حتمی تاریخ کا ذکر نہیں کیا گیا۔
مسجد العودة کی بحالی میں کون سی تکنیک استعمال کی جا رہی ہے؟ مسجد العودة کی بحالی کے لیے روایتی نجدی تعمیراتی تکنیکوں کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس میں مٹی کی تعمیر اور ایسے قدرتی مواد شامل ہیں جو صحرائی آب و ہوا کے لیے موزوں ہیں۔ ایس پی اے کے مطابق اس کا مقصد مسجد کی اصل تعمیراتی شناخت کو محفوظ بنانا ہے۔
مسجد کی گنجائش میں کتنا اضافہ کیا گیا ہے؟ مسجد کا رقبہ 794 مربع میٹر سے بڑھا کر 1,369.82 مربع میٹر کیا جا رہا ہے۔ اس توسیع کے نتیجے میں نمازیوں کی گنجائش 510 سے بڑھ کر 992 ہو جائے گی۔ یہ تبدیلی کمیونٹی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کی گئی ہے۔
پروجیکٹ کے دوسرے مرحلے میں کتنی مساجد شامل ہیں؟ دوسرے مرحلے میں مملکت کے 13 علاقوں کی مجموعی طور پر 30 مساجد شامل ہیں۔ ان میں ریاض کی 6، مکہ کی 5 اور مدینہ کی 4 مساجد شامل ہیں، جبکہ دیگر علاقوں میں بھی مختلف تعداد میں مساجد کی بحالی کی جا رہی ہے۔
اس پروجیکٹ کے بنیادی مقاصد کیا ہیں؟ پروجیکٹ کے چار اسٹریٹجک مقاصد میں تاریخی مساجد کو عبادت کے لیے بحال کرنا اور ان کی تعمیراتی اصلیت کو محفوظ بنانا شامل ہے۔ اس کا مقصد مملکت کے ثقافتی ورثے کو نمایاں کرنا اور روایتی و جدید معیارات کے درمیان توازن قائم کرنا ہے۔