ریاض میں منعقدہ پانچویں سالانہ بین الاقوامی کانفرنس کے دوران کنگ سلمان گلوبل اکیڈمی فار عربک لینگویج (KSGAAL) نے جرڈن اکیڈمی آف عربک کے ساتھ ایک مفاہمت کی یادداشت (MoU) پر دستخط کیے ہیں۔ اس کانفرنس کا تھیم “عربی زبان اور ثقافت: تقاطع اور جہتیں” رکھا گیا تھا۔ کیا یہ شراکت داری عربی زبان کی عالمی ترویج میں ایک نیا رخ متعین کرے گی؟
جیسا کہ سعودی خبر رساں ادارے ایس پی اے نے 7 اکتوبر 2026 کو بیان کیا، اس معاہدے کا مقصد عربی زبان اور اس سے منسلک علوم کی خدمت میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ یہ معاہدہ دونوں اکیڈمیوں کے درمیان مہارتوں کے تبادلے اور صلاحیتوں کے انضمام کے لیے مشترکہ عمل کا ایک فریم ورک قائم کرتا ہے۔
اس دستخطی تقریب میں KSGAAL کی نمائندگی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر عبداللہ بن صالح الوشمی نے کی، جبکہ جرڈن اکیڈمی آف عربک کی نمائندگی صدر ڈاکٹر محمد عدنان البخیت نے کی۔ یہ مفاہمت کی یادداشت ریموٹ طریقے سے سائن کی گئی۔ کیا ڈیجیٹل ذرائع سے کیے گئے یہ معاہدے مستقبل کے تعلیمی تعاون کو مزید تیز کریں گے؟
معاہدے میں تعاون کے ان شعبوں کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں عربی زبان اور اس کی سائنس سے متعلق تحقیق، مطالعہ اور علمی منصوبے شامل ہیں۔ اس کے علاوہ، اس میں مطالعہ کی اشاعت، ترجمہ، طباعت اور لسانی علوم میں خصوصی تربیتی پروگراموں کے نفاذ کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ کیا لسانی علوم میں تربیت کے یہ پروگرام نئی نسل کے محققین کے لیے مفید ثابت ہوں گے؟
مفاہمت کی یادداشت میں غیر native بولنے والوں کے لیے “Hamza” اکیڈمک عربی پروفیشنسی ٹیسٹ کے انتظام اور ڈیجیٹل لغت اور لسانی کارپرا (corpora) کی ترقی کا بھی ذکر ہے۔ یہ وسائل “SIWAR” لسانی لغت پلیٹ فارم اور “FALAK” لسانی کارپس پلیٹ فارم کے ذریعے دستیاب کیے جائیں گے۔ کیا ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا استعمال عربی زبان کی سیکھنے کی صلاحیت کو بہتر بنائے گا؟ دونوں اکیڈمیاں لسانی اور ثقافتی ڈیٹا کا تبادلہ بھی کریں گی۔
اس یادداشت میں عالمی عربی زبان کے دن کی تقریبات کے انعقاد اور نمائشوں، لسانی مقابلوں، تقریبات، تعلیمی پروگراموں، سیمینارز، تربیتی کورسز اور پینل مباحثوں کے انعقاد کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔ ان سرگرمیوں کا مقصد عربی زبان کی خدمت کرنا اور اس کی موجودگی کو بڑھانا ہے، جس کے ساتھ ساتھ دیگر شعبے بھی شامل ہیں جن پر دونوں فریقین اتفاق کریں گے۔ کیا ایسی بین الاقوامی تقریبات عربی ثقافت کے عالمی اثرات کو مزید مضبوط کریں گی؟
رپورٹ میں اس بات کا ذکر نہیں کیا گیا کہ ان پروگراموں کے لیے کتنا بجٹ مختص کیا گیا ہے یا ان کے نفاذ کی مخصوص ٹائم لائن کیا ہوگی۔
اس معاہدے کا بنیادی مقصد کیا ہے؟ اس معاہدے کا بنیادی مقصد عربی زبان اور اس سے منسلک علوم کی خدمت میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ یہ دونوں اکیڈمیوں کے درمیان مہارتوں کے تبادلے اور صلاحیتوں کے انضمام کے لیے ایک مشترکہ فریم ورک فراہم کرتا ہے۔
معاہدے میں کن تعلیمی اور تحقیقی شعبوں کو شامل کیا گیا ہے؟ معاہدے میں عربی زبان سے متعلق تحقیق، مطالعہ، علمی منصوبے، اشاعت، ترجمہ اور طباعت شامل ہیں۔ اس کے علاوہ لسانی علوم میں خصوصی تربیتی پروگراموں کے نفاذ پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
ڈیجیٹل وسائل کے حوالے سے کیا اقدامات کیے جائیں گے؟ غیر native بولنے والوں کے لیے “Hamza” پروفیشنسی ٹیسٹ کا انتظام کیا جائے گا اور ڈیجیٹل لغت تیار کی جائے گی۔ یہ وسائل “SIWAR” اور “FALAK” پلیٹ فارمز کے ذریعے دستیاب ہوں گے اور لسانی ڈیٹا کا تبادلہ کیا جائے گا۔
عربی زبان کی ترویج کے لیے کون سی سرگرمیاں منعقد ہوں گی؟ دونوں ادارے عالمی عربی زبان کے دن کی تقریبات، نمائشیں، لسانی مقابلے، سیمینارز، تربیتی کورسز اور پینل مباحثے منعقد کریں گے۔ ان کا مقصد عربی زبان کی موجودگی کو عالمی سطح پر بڑھانا ہے۔